Baaghi TV

Category: شوبز

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ بن کر بہت خوش ہوں گوہر رشید

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ بن کر بہت خوش ہوں گوہر رشید

    اداکار گوہر رشید جو کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ مجھے دو باتوں کی بہت خوشی ہے کہ ایک تو یہ کہ میں‌دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ ہوں دوسرا یہ کہ فلم فائنلی ریلیز ہونے جا رہی ہے . گوہر رشید نے کہا کہ فلم کو دیکھنے کے لئے شائقین خاصے پرجوش ہیں اس چیز کا اندازہ ایڈوانس بکنگ کو دیکھ کر بھی لگایا جا سکتا ہے. جب مجھے دا لیجنڈ آف مولا جٹ آفر ہوئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی بلال لاشاری چونکہ میرے بھائی بھی ہیں تو مجھے لگا کہ میں اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے جا رہا ہوں. لہذا میں نے ہاں کر دی اور میرا کردار ماکھا نت بھی بہت زبردست ہے . میں لاہور میں پلا بڑھا مجھے پنجابی بولنی آتی ہے لیکن فلم

    میں ٹھیٹھ پنجابی ہے اس لئے کبھی کسی لفظ پر اڑ جاتا تھا. لیکن سیٹ پر ٹرانسلیٹرز موجود ہوتے تھے وہ مطلب سمجھا دیا کرتے تھے. اس فلم میں ہم سب نے بہت محنت کی ہے لیکن بلال لاشاری کی بطور ڈائریکٹر بہت ہی زیادہ محنت ہے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلم پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں بنی . میں اپنے مداحوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ انتظار نہ کریں اور جا کر فلم دیکھیں یہ بڑی سکرین کی فلم ہے اس کا کسی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے کا انتظار مت کیجے. گوہر رشید نے اس انٹرویو میں اپنے مداحوں سے کہا کہ وہ فلم کو ضرور دیکھیں.

  • سینما بس آباد ہونے چاہیں چاہے ہالی بالی یا لالی وڈ کی فلمیں لگیں سید نور

    سینما بس آباد ہونے چاہیں چاہے ہالی بالی یا لالی وڈ کی فلمیں لگیں سید نور

    سید نور کہتے ہیں کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ متحرک رہی ہے اس ایسوسی ایشن کو بڑے بڑے لوگوں نے سنبھالا اور بہت کام کیا. ابھی جو باڈی منتخب ہوئی ہے اس کے دعوے بھی اچھے ہیں امید ہے کہ یہ باڈی بھی اچھا کام کریگی اور فلم انڈسٹری کے مسائل کا حل تلاش کریگی. سید نور نے مزید کہا کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن فلم انڈسٹری کے مسائل لیکر ایوانوں تک گئی وعدے وعید بھی ہوئے ڈسکشنز بھی ہوئیں. اب جبکہ ن لیگ کی حکومت آئی ہے اس نے فلم کو انڈسٹری کا درجہ بھی دیدیا ہے امید ہے کہ جو اعلانات کئے گئے ہیں ان

    ہر عمل در آمد کیا جائیگا. سید نور نے کہا کہ سینما گھر آباد رہنے چاہیں چاہے ہالی وڈ کی فلمیں لگیں بالی وڈ یا لالی وڈ کی . جہاں تک بلال لاشاری کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی بات ہے تو انہوں نے جدید تقاضوں کے مطابق فلم بنائی ہے اور ہمیں بہت امید ہے کہ فلم اچھا بزنس کریگی . بڑے بجٹ کی بڑی فلم ہے جس میں‌بڑے سٹارز ہیں لوگ فلم کے منتظر ہیں.پرانی مولا جٹ پرانے دور کی تھی لیکن نئی مولا جٹ نئے دور کے مطابق ہے. بلال لاشاری نے ایسی فلم تخلیق کی ہے کہ جو پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بھی نمائندگی کرسکتی ہے.

  • انڈین پنجابی فلموں کا پاکستان میں ریلیز ہونا خوش آئند ہے افتخاد ٹھاکر

    انڈین پنجابی فلموں کا پاکستان میں ریلیز ہونا خوش آئند ہے افتخاد ٹھاکر

    معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر جنہوں نے انڈین پنجابی فلم ماں دا لاڈلا میں کام کیا ہے یہ فلم گزشتہ دنوں ریلیز ہوئی. فلم کو پاکستان میں خاصا پسند کیا گیا. اس ھوالے سے افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ ہمارے فنکاروں‌کو بھارت میں بہت پسند کیا جاتا ہے اورمیرا انڈینز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کافی اچھا رہا ہے. بہت اچھی بات ہے کہ انڈین فلمز پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہیں میں امید کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے لیول پر دونوں طرف سے کچھ ایسا ضرور ہو گا کہ ہماری فلمیں بھی بھارت میں ریلیز کی جائیں گی. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ فنکاروں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے جہاں

    جس کو اچھا کام ملے کرنا چاہیے. انڈٰین پنجابی فلم ماں دا لاڈلہ کے بعد ا سہیل احمد کی پہلی انڈین پنجابی فلم پاکستان میں ریلیز ہونے جا رہی ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے . ہم سب کو ایک دوسرے کے کام کو سپورٹ کرنا چاہیے ہم ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے تو کام میں‌ ہہتری اور آسانیاں آئیں گی. ایک سوال کے جواب میں‌ افتخار ٹھاکر نے کہا کہ ایسا نہیں‌ ہے کہ انڈین فلمیں ہی میری ترجیحات میں ہیں جب جب پاکستانی اچھی فلمیں آفر ہوں گی میں ضرور کروں گا. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میرے مداح مجھے ہر روپ میں پسند کرتے ہیں.

  • انڈین فلمیں پاکستان میں لگ رہی ہیں تو پاکستانی فلمز انڈیا میں‌ کیوں نہیں‌ لگتیں؟ مسعود بٹ کا سوال

    انڈین فلمیں پاکستان میں لگ رہی ہیں تو پاکستانی فلمز انڈیا میں‌ کیوں نہیں‌ لگتیں؟ مسعود بٹ کا سوال

    کئی سپر ہٹ پنجابی فلموں کے خالق مسعود بٹ نے کہا ہے کہ انڈین فلمیں پاکستان میں اگر لگ رہی ہیں اور ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ پاکستانی فلمیں انڈیا میں‌کیوں نہیں‌لگتیں؟ کیوں ایسی کوششیں نہیں‌کی جاتیں؟ مسعود بٹ نے کہا کہ پاکستان میں جو اس وقت پنجابی فلمیں بن رہی ہیں ان کا بجٹ چند لاکھ ہوتا ہے جبکہ بھارت میں بننے والی فلموں کا بجٹ کروڑوں میں ہوتا ہے وہ باہر کے ملکوں میں شوٹ ہوتی ہیں. ہماری پنجابی فلموں کا موازنہ بالکل بھی انڈین پنجابی فلموں کے ساتھ نہیں کیاجانا چاہیے. گوگا لاہور یا اشتہاری ڈوگر جیسی فلمیں

    دیکھنے والا بھی ایک طبقہ ہے لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان فلموں کو دیکھنے والا طبقہ نہیں ہے. مسعود بٹ نے کہا کہ کراچی والے لوگ جو فلمیں بنا رہے ہیں وہ اچھی ہیں ان پر اعتراض کرنے والوں پر مجھے اعتراض ہے. ہمایوں سعید ماہرہ خان اور فہد مصطفی ہہت اچھا کام کررہے ہیں . میں سمجھتا ہوں کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ سپر ہٹ فلم ہے مجھے جب ناصر ادیب نے یہ آئیڈیا سنایا تھا بہت پسند آیا تھا میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ یہ فلم اگر بنی تو سپر ہٹ ہو گی . بلال لاشادی اچھا ڈائریکٹر ہے اس نے کام بھی اچھا کام کیا ہے.

  • شان شاہد فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب چھوڑ‌کر چلے گئے

    شان شاہد فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب چھوڑ‌کر چلے گئے

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب کا اہتمام آج لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا . تقریب میں شان شاہد بھی موجود تھے. تقریب تین بجے شروع ہونا تھی لیکن فلمسٹار شان شاہد ایک گھنٹہ قبل ہی پہنچ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے جیسے ہال میں‌ مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو شان شاہد تقریب چھوڑ کر چلے گئے . وہاں‌ موجود لوگ حیرانی میں مبتلا ہو گئے کیونکہ شان تقریب اٹینڈ کرنے آئے تھے لیکن تقریب کو ادھورا چھوڑ کر ہی چلے گئے. قیاس یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ شان شاہد اس لئے اٹھ کر چلے گئے کیونکہ

    وہ جانتے تھے کہ فلم کی تقریب کا مہمان خصوصی ن لیگ کا رہنما رانا مشہود تھا اور شان شاہد کسی بھی صورت ان کے ساتھ مل کر نہیں‌بیٹھنا چاہتے تھے. اس لئے شان نے تقریب کو ادھورا چھوڑ کر نکلنے کی کی ، تاکہ ان کا سامنا ن لیگ کے رہنما رانا مشہود سے نہ ہو . شان شاہد سے تقریب میں‌کچھ چینلز نے تقریب کے حوالے سے ساٹس دینے کو بھی کہا شان اس ریکویسٹ کو بھی نظر انداز کر گئے اور بولے میں بس ابھی آیا ، یوں شان باہر نکلے اور واپس نہیں آئے میڈیا ان کا ساٹ لینے کا منتظر رہا.

  • پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری کی تقریب آج مقامی ہوٹل میں کی گئی . ن لیگ کے راہنما رانا مشہود تقریب کے مہمان خصوصی تھے. رانا مشہود نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا اور اس کے بعد ایوارڈز کی تقسیم کی گئی. اس تقریب میں شوبز سے جڑے ستاروں نے شرکت کی جس میں‌شان شاہد ،افتخار ٹھاکر، سید نور ، نشو بیگم ، حسن عسکری ، مسعود بٹ و دیگر شامل تھے. اس موقع پر سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ نئی منتخب باڈی فلم انڈسٹری اور اس سے جڑے لوگوں‌ کے مسائل حل کرنے اور کروانے میں اہم

    کردار ادا کریگی. اداکار نشو بیگم نے بھی اس موقع پر کہا کہ ہمیں‌امیدیں کہ یہ نئی منتخب باڈی دیرینہ مسائل کو حل کریگی اور گورنمنٹ کی توجہ انڈسٹری کے مسائل کی طرف دلوائے. حسن عسکری نے کہا کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کو بہت زیادہ متحرک ہونا چاہیے تاکہ کچھ نہیں تو لاہور کی فلم انڈسٹری کو لگے تالے تو کھلیں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ہمیں نئے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو فلمیں لکھیں اور بنائیں، نئے اور پرانے لوگوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ فلمی صنعت کو فائدہ پہنچ سکے. ہم سب کا فرض ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں اور فلم انڈسٹری کو درپیش مسائل کو ہائی لائٹ کریں اور فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن سے مطالبہ کریں کہ ان مسائل کو حل کروایا جائے.

  • ولگر گانوں اور فلموں کی نمائش کی اجازت دینے والے مجرم ہیں سہیل احمد

    ولگر گانوں اور فلموں کی نمائش کی اجازت دینے والے مجرم ہیں سہیل احمد

    منجھے ہوئے اداکار سہیل احمد کی پہلی انڈین پنجابی فلم بابے بھنگڑا پائوندے نے کی گزشتہ روز لاہور میں‌سکریننگ تھی . سکریننگ میں منجھے ہوئے اداکار سہیل احمد موجود تھے انہوں نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اسکو اینٹرٹینمنٹ کہتا ہوں جو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی جا سکے. میں تو حیران ہوتا ہوں ان لوگوں‌پر جنہوں نے ولگر شاعری اور ولگر ڈانس والے گانے و فلموں کو نمائش کی اجازت دی، مجرم ہیں وہ جنہوں نے ایسا کیا. میں‌ نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ کہیں‌میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھوں کہ جس سے میرے مداح ناراض ہوں. اس لئے میں سوچ سمجھ کر بولتا ہوں اور کام کرتا ہوں. پاکستان میں اچھی فلمیں بن رہی ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ بھارتی فلمیں

    بھی یہاں ریلیز ہو رہی ہیں. بابے بھنگڑاپائوندے نے ایک صاف ستھری اینٹرٹیننگ فلم ہے مجھے جب یہ سکرپٹ سنایا گیا تو میں میں نے ایکدم سے ہاں‌ نہیں‌کر دی تھی لیکن بالاخر ہاں کرنی پڑی. سہیل احمد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ہاں جو کام ہورہا ہے اچھااور معیاری ہے اور میں بہت پر امید ہوں کہ بہت جلد ہماری انڈسٹری اپنے پائوں پر کھڑی ہو جائیگی. سہیل احمد نے کہا کہ مجھے جب بھی کسی فلم کا اچھا سکرپٹ ملے گا یقینا میں کروں گا.

  • شاہ رخ خان کے ساتھ آٹھ سالہ وکی کوشل کی تصویر شئیر کی انسٹاگرام پر ان کے والد نے

    شاہ رخ خان کے ساتھ آٹھ سالہ وکی کوشل کی تصویر شئیر کی انسٹاگرام پر ان کے والد نے

    بالی وڈ کی خوبصورت اداکارہ کترینہ کیف کے شوہر وکی کوشل کا شمار بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور ہیروز میں ہوتا ہے. نوجوان نسل ان کے کام کی دیوانی ہے . وکی کوشل نے اپنے ہر پراجیکٹ کے ساتھ ثابت کیا کہ وہ ورسٹائل اداکار ہیں. حال ہی میں وکی کے والد شام کوشل نے شیرشاہ ، شاہ رخ خان اور ڈائریکٹر وشنو وردھن کے ساتھ اپنے بیٹوں کی ایک تصویر شیئر کی۔ یہ تصویر شاہ رخ خان کی فلم اسوکا کے سیٹ کی ہے جس میں وکی کوشل شاہ رخ خان کے ساتھ کھڑے ہیں. وکی کوشل اس تصویر میں خاصے کم عمر ہیں . تصویر میں شاہ رخ خان کو سیاہ لباس میں‌دیکھا جا سکتا ہے . وکی کوشل کے بھائی سنی کوشل بھی اس تصویر میں‌ موجود ہیں. شام کوشل نے اس تصویر

    کو شیئر کرتے ہوئے لکھا’’خدا کے فضل سے یہ تصویر 2001 میں فلم سٹی میں اسوکا کی شوٹنگ کے دوران لی گئی تھی۔ وشنو وردھن اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے اور وکی آٹھویں جماعت میں پڑھ رہے تھے۔ کسی شخص نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن وکی فلم لائن میں شامل ہوں گے اور 2022 میں یہ دونوں شیرشاہ اور سردار ادھم کے لیے بالترتیب بہترین ہدایت کار اور بہترین اداکار کے ایوارڈز جیتیں گے۔ تقدیر اور خدا کی نعمتیں.یاد رہے کہ وکی کوشل اپنی بہترین اداکاری کی بدولت کئی اہم ایوارڈز بھی جیت چکے ہیں.

  • دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑدی:اب آخرت کی فکرہے:عبداللہ قریشی

    دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑدی:اب آخرت کی فکرہے:عبداللہ قریشی

    لاہور:دنیاکے مقابلے میں آخرت باقی رہنے والی اور بڑی ہی فائدے کی چیز ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے بڑے بڑے دنیا داروں نے شوبز چھوڑ کردین اسلام کی مکمل تابعداری کا اعلان کیا ، تازہ واقعہ میں معروف گلوکارنے دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑدی:اب آخرت کی فکرہے:اس سے پہلے جنید جمشید، رابی پیرزادہ، حمزہ علی عباسی اور نور بخاری کے بعد اب گلوکار عبداللہ گل نے بھی دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

    عبداللہ قریشی نے میوزک انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان انسٹاگرام پرکیا۔

    اپنی پوسٹ میں عبداللہ قریشی نے لکھا کہ میں نے میوزک انڈسٹری سے وقفہ لیا تھا، میں نے خود کو تلاش کرنے اور یہ سوچنے کے لیے وقفہ لیا کہ میں کون تھا ، کہاں سے آیا تھا اور کیا بننا چاہتا تھا۔

    عبداللہ قریشی نے کہا کہ میں میوزک انڈسٹری چھوڑ رہا ہو اور یہ فیصلہ صرف اور صرف مذہبی وجوہات کے باعث کیا ہے۔

    انڈسٹری سے متعلق عبداللہ قریشی نے کہا کہ میں نے اس انڈسٹری میں بہت اچھا وقت گزارا، جس میں موسیقی کی تخلیق، ہزاروں لوگوں کے سامنے کنسرٹ میں پرفارمنس ، محبت اور تعریفیں سمیٹنا ، تنازعات کا سامنا کرنا، غلط فیصلے کرنا ، اچھے دوست بنانا، رول ماڈل کے ساتھ کام کرنا اور وہ سب کرنا جو مجھے پسند ہے شامل ہے۔

    عبداللہ قریشی نے مزید کہا کہ میرے نزدیک زندگی کا اصل مقصد اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اپنی اگلی زندگی سنوارنے کے لیے ہم سب کے پاس اس دنیا میں بہت کم وقت ہے۔ الحمداللّٰہ میں اپنے فیصلے سے مطمئن ہوں اور بہتری کی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے سچ کھوج رہا ہوں۔ دعا ہے کہ یہ نیا سفر اللّٰہ میرے لیے آسان کرے۔انہوں نے کہا کہ اب میں کسی کنسرٹ میں پرفارم نہیں کروں گا، نہ ہی کبھی کسی اشتہار میں کام کروں گا۔ براہ مہربانی اس سلسلے میں کوئی مجھ سے رابطہ نہ کرے تاہم ہمارے دین کے دائرہ کار میں آنے والا ہر کام کرکے مجھے خوشی ہوگی۔

    عبداللہ قریشی پہلے گلوکار یا فنکار نہیں جس نے اسلام کی خاطر اپنا فنی سفر ختم کردیا ہو، ان سے پہلے جنید جمشید مرحوم، رابی پیرزادہ، نور بخاری ، سارہ چوہدری اور بھارتی اداکارہ ثنا خان سمیت کئی فنکار راہ ہدایت پاچکے ہیں۔

  • چاہتا ہوں بچے کی پیدائش کے بعد عالیہ جلد از جلد کام پر واپسی کریں رنبیر کپور

    چاہتا ہوں بچے کی پیدائش کے بعد عالیہ جلد از جلد کام پر واپسی کریں رنبیر کپور

    بالی وڈ اداکار رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ انڈسٹری کے خوبصورت جوڑوں میں سے ایک ہیں۔ یہ جوڑی فی الحال فلم براہمسٹرا کی کامیابی سے لطف اندوز ہو رہی ہے. پانچ سال تک ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنے کے بعد یہ دونوں 14 اپریل 2022 کو ممبئی میں شادی کے بندھن میں بندھے. اب جبکہ یہ دونوں والدین بننے والے ہیں یہ جوڑا اور ان کے خاندان والے کافی خوش ہیں ان کا کہنا ہےکہ میری خواہش ہے کہ میری اہلیہ عالیہ بھٹ بچے کی پیدائش کے بعد جلد از جلد کام پر وایسی کریں. ان کا ماننا ہے کہ وہ بچے کو سنبھال لیں گے لیکن عالیہ بھٹ کام پر ضرور جائیگی. رنبیر کپور کا کہنا ہے کہ اگر میں نے عالیہ بھٹ پر بچے کی تمام تر ذمہ داریاں ڈال دیں تو پھر ان کے مداح مجھ سے شکایت کریں گے اور کہیں گے کہ میں نے

    عالیہ کو گھر بٹھایا ہے. یاد رہے کہ عالیہ بھٹ کا حال ہی میں بے بی شاور بھی ہوا ہے اس میں ان کی بہن شاہین بھٹ، رنبیر کی والدہ نیتو کپور، بہن ردھیما کپور ساہنی، کزن کرشمہ کپور، اور شویتا بچن و دیگر نے شرکت کی۔ عالیہ کی قریبی دوست انوشکا رنجن اور اکانشا رنجن بھی اس موقع پر موجود تھیں۔اگر ہم ان کے آنے والے پراجیکٹس پر نظر ڈالیں تو عالیہ کے پاس بہت سی دلچسپ فلمیں ہیں جن میں وہ راکی ​​اور رانی کی پریم کہانی اور جی لے زرا قابل زکر ہیں. اس کے علاوہ عالیہ ہارٹ آف سٹون سے ہالی ووڈ میں بھی ڈیبیو کرنے جا رہی ہیں.