Baaghi TV

Category: شوبز

  • آپ بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں کرسکتے،احمد علی بٹ

    آپ بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں کرسکتے،احمد علی بٹ

    پاکستان کے نامور اداکار احمد علی بٹ نے بھارتی مصنف وشاعر جاوید اختر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں کرسکتے۔

    حال ہی میں احمد علی بٹ نے اپنے پوڈکاسٹ میں بھارتی اداکار جاوید اختر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بھارتی فنکاروں میں شامل ہیں جو اپنی قدر و وقار کھوچکے ہیں،احمد علی بٹ نے کہا کہ ایک اور بھارتی فنکار جو اپنی عزت کھو چکا ہے وہ جاوید اختر ہے، اب مجھے لگتا ہے کہ وہ فن کے لیے ایک داغ بن چکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جاوید اختر پچھلے سال پاکستان آئے تھے، ہم نے ان کی بہت عزت کی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پاکستان کے خلاف بہت کچھ کہا میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں کر سکتے، اور وہ ہماری عزت کے مستحق بھی نہیں ہیں میں ایک پُرسکون انسان ہوں، لیکن جب آپ کسی کو اتنی عزت دیں اور وہ اس کے جواب میں نفرت دے، تو پھر وہ اس ٹرولنگ کا مستحق ہوتا ہے۔

    جویریہ عباسی کے شوہر کیساتھ بولڈ فوٹو شوٹ وائرل،سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

    واضح رہے کہ احمد علی بٹ نے اپنے کیریئر کا آغاز ’جٹ اینڈ بانڈ‘ اور ’انسپکٹر کھوجی‘ جیسے سِٹ کامز سے کیا، بعد ازاں وہ بینڈ ’ای پی‘ کے ساتھ گلوکاری میں بھی متحرک رہے، ان کے مقبول ڈراموں میں ’جینٹل مین‘ اور ’جھوٹی‘ شامل ہیں، جب کہ وہ ‘جوانی پھر نہیں آنی‘ ، ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ اور ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ جیسی کامیاب فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھاچکے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

  • جویریہ عباسی کے شوہر کیساتھ بولڈ فوٹو شوٹ وائرل،سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

    جویریہ عباسی کے شوہر کیساتھ بولڈ فوٹو شوٹ وائرل،سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

    جویریہ عباسی کے شوہر کیساتھ بولڈ فوٹو شوٹ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے-

    معروف اداکارہ جویریہ عباسی نے بیٹی کی شادی کے بعد خود دوسری شادی کی ہے اور اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں بیٹی کی شادی کے بعد وہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکی ہیں اور اب سیرو سیاحت میں مصروف رہتی ہیں،حال ہی میں انسٹاگرام پر انہوں نے دبئی سفر کی تصاویر شیئر کی ہیں جہاں وہ کروز پر سمندر کی سیر کے مزے لے رہی ہیں۔

    جویریہ نے سرخ رنگ کا مغربی لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور ان کے شوہر عدیل حیدر جینز کی پینٹ، کوٹ اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہیں۔ جوڑے نے ساتھ کئی تصاویر بنوائیں،گو اداکارہ نے ان تصاویر کے ساتھ کیپشن لکھا کہ یہ سال کا سب سے بہترین دن تھا –

    سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا

    سوشل میڈیا صارفین کو جویریہ کا مغربی لباس ایک آنکھ نہ بھایا اور انھوں نے اسے کسی فیشن میگزین کے لیے بولڈ فوٹو شوٹ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ 52 سالہ جویریہ عباسی نے گزشتہ سال اپنے قریبی دوست عدیل حیدر سے دوسری شادی کی تھی،اس سے قبل وہ اداکار شمعون عباسی کی اہلیہ رہ چکی ہیں اور ان کی ایک بیٹی عنزیلہ عباسی بھی ہیں جو خود بھی شوبز سے وابستہ ہیں۔

    بیٹے کی شادی پرمریم نواز کے ساتھ تصویر نہ ہونے کے سوال پر کیپٹن صفدر نے کیاجواب دیا؟

  • ٹی وی شو میں خواتین ٹک ٹاکرز کا جھگڑا، ہاتھا پائی اور بال کھینچنے کی ویڈیو وائرل

    ٹی وی شو میں خواتین ٹک ٹاکرز کا جھگڑا، ہاتھا پائی اور بال کھینچنے کی ویڈیو وائرل

    ٹی وی شو میں خواتین ٹک ٹاکرز کا جھگڑا ہو گیا ،نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    مقبول ٹیلی ویژن پروگرام 21 ایم ایم شو میں خواتین ٹک ٹاکرز عالیہ ستار اور آسیل لارنس کے درمیان جھگڑا ہوا ، یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب آسیل نے دعویٰ کیا کہ عالیہ نے ان کے گانے کو چلنے نہیں دیا اور ایک دوسرے کو کہا کہ ان کو حسد ہو رہا ہے بات بڑھتے بڑتھے ہاتھا پائی تک جا پہنچی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں ٹک ٹاکرز میں لڑائی ہو رہی ہے عالیہ ستار نے آسیل لارنس کے بال پکڑ لیے اور بعد میں جوتا بھی اتار کر پھینکا یہاں تک کہ میزبان کو لڑائی روکنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی،جبکہ صارفین نے اسے سستا پبلسٹی اسٹنٹ قرار دیا۔

    ایک صارف نے لکھا کہ یہ مکمل ڈرامہ ہےصرف لوگوں کو شو دیکھنے پر مجبور کرنے کے لیے جھوٹی لڑائی کی گئی ہے،ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ آپ کا شو وائرل نہیں ہو رہا تو ان طریقوں کا استعمال بند کریں ایک اور نے لکھا کہ یہی ہوتا ہے جب آپ شو میں گلی محلوں کے لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس شو کی میزبانی کئی سالوں تک متھیرا نے کی تھی لیکن اب یونس خان اس کو ہوسٹ کر رہے ہیں جو حال ہی میں خبروں میں اس لیے آئے ہیں کہ وہ لائیو ٹی وی پر جھگڑوں اور تنازعات کو ہوا دیتے ہیں۔

  • لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کا گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کا 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

    عدالت نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،میشا شفیع نے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں،میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جاسکتا، عدالت کے پاس اختیار ہے وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔

    ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو 24 جنوری 2019 کو ہتک عزت کے کیس پر بیان دینے سے روکا تھا ا،داکارہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ،عدالت نے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت دعویٰ پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے۔

    عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی وہ رِٹ پٹیشن خارج کر دی ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع کو چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھا ہے اور واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ میشا شفیع کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر آپ کے خلاف عوامی بیانات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت عالیہ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار ایک مطلق حق نہیں ہے اور اس کا دائرہ اختیار اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ اس کے تحت لاپرواہ، بار بار دہرائے جانے والے یا غیر ثابت شدہ الزامات لگائے جائیں جو کسی دوسرے شخص کی عزت، وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں، بالخصوص اس صورت میں جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو۔

    فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانی وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ایسے الزامات کی مسلسل تشہیر ایک متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہوگی، جو کہ ناقابلِ قبول ہے، اور یہ کہ ساکھ کا تحفظ ایک بنیادی آئینی قدر ہے۔مزید برآں، عدالت نے اس امر کی بھی توثیق کی ہے کہ ہتکِ عزت کے معاملات میں عبوری پابندی غیر معمولی حالات میں جائز ہے، جیسا کہ موجودہ معاملہ، جہاں ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان محض مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے معزز ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ میشا شفیع کے خلاف آپ کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے اصل مقدمے کو تیزی سے نمٹایا جائے اور ترجیحاً تیس (30) دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔

  • ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر  شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف گلوکار، سماجی کارکن اور ایجوکیشن ایکٹیوسٹ شہزاد رائے نے ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر تعلیمی نظام پر طنز کرتے ہوئے نیا گانا “لیٹ ہو گئے” ریلیز کر دیا۔

    “لیٹ ہو گئے” گانے کی ویڈیو میں شہزاد نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے والدین سے سوال کیا “کیا آپ نے ابھی تک اپنے بچے کو اسکول میں داخل کروا دیا ہے؟” جس پر والدین حیران ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک جو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا، اس کا داخلہ کیسے ممکن ہے، جواب میں شہزاد رائے کہتے ہیں “لیٹ ہوگئے” یہ منظر بچوں پر ابتدائی عمر سے ڈالے جانے والے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ویڈیو میں شہزاد رائے مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں، اور بار بار جملہ “لیٹ ہو گئے” دہراتے ہیں اس انداز نے گانے کے پیغام کو مزید مؤثر اور طنزیہ بنایا ہے،ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اعلیٰ طبقے کے اسکولوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کے لیے سخت انٹرویوز اور معیارات قائم کیے جاتے ہیں ، اور بچوں پر اسکول جانے سے قبل ہی دباؤ ڈالنا شروع ہو جاتا ہے ایک منظر میں چھوٹی لڑکی والدین اور نظام سے التجا کرتی ہے کہ اسے صرف جینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے، قبل اس کے کہ توقعات اور معیار کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔

    سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    گانے میں تعلیمی نظام کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے زبان کا فرق اور انگریزی تعلیم کا دباؤ، جہاں بچے گھر میں اپنی مادری زبان بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی میں پڑھائی ہوتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور الجھن بڑھتی ہے علاوہ ازیں، ٹیوشن کلچر اور بھرپور پڑھائی کے باعث بچوں کے لیے آرام اور کھیل کود کا وقت نہ ہونا بھی واضح کیا گیا ہے، جو بچوں کی ذہنی تھکان اور روزمرہ کے دباؤ کو اجاگر کرتا ہےشہزاد رائے کا پیغام واضح ہے کہ تعلیم صرف مقابلہ بازی اور بوجھ کا ذریعہ نہیں بن سکتی، بلکہ بچوں کی فکری نشونما، خوشی اور مجموعی ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے۔

    پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ  کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں آزادی سے کام نہیں کر سکتیں اس لیے وہ اپنی ہدایتکاری کے کیریئر کے لیے یورپ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    چند ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس کا مقصد فلم سازی کو امریکا تک محدود کرنا تھا اداکارہ نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو انٹرویو میں اس پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کے احکامات کی اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتیں خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔

    کرسٹن اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث وہ امریکا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں جس کی وجہ سے انہوں نے یورپ میں فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے،انہوں نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس کے تصور کو فلم انڈسٹری کے لیے خوفناک قرار دیا۔

    اپنی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم ’دا کرنولوجی آف واٹر‘ کے حوالے سے کرسٹن اسٹیورٹ نے بتایا کہ یہ فلم لاتویا میں شوٹ کی گئی کیونکہ امریکا میں اس منصوبے پر کام کرنا ممکن نہیں تھاٹرمپ کے دور میں حقیقت بکھرتی جا رہی ہے مگر ہمیں اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنی چاہیے، میں وہاں آزادی سے کام نہیں کر سکتی لیکن مکمل طور پر ہار بھی نہیں ماننا چاہتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اداکارہ نے کہ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام کے گلے اتارنا چاہتی ہوں،

  • فلم دھرندر کے اداکار  گھریلو ملازمہ سے زیادتی  کے الزام میں گرفتار

    فلم دھرندر کے اداکار گھریلو ملازمہ سے زیادتی کے الزام میں گرفتار

    پاکستان مخالف فلم دھرندر کے اداکار ندیم خان کو پولیس نے گھریلو ملازمہ سے زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 41 سالہ خاتون نے شکایت درج کروائی کہ وہ مختلف اداکاروں کے گھروں میں کام کر چکی ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے ندیم خان کے گھر میں بھی کام کر رہی تھیںدونوں کے درمیان قربت بڑھی اور اداکار نے شادی کا وعدہ کیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ شادی کے وعدے پر اداکار نے گزشتہ 10 برس کے دوران متعدد بار ان کے ساتھ زیادتی کی اب اداکار نے شادی سے انکار کردیا جس پر انہوں نے پولیس سے رجوع کیا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس کے مطابق ندیم خان کو اس شکایت پر 22 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

  • بروکلین بیکہم اور نکولا پیلٹز میں اختلافات , بیکہم خاندان میں تنازع

    بروکلین بیکہم اور نکولا پیلٹز میں اختلافات , بیکہم خاندان میں تنازع

    ‎شوبز اور فٹ بال کی دنیا میں ’بیکہم فیملی‘ ہمیشہ ایک مثالی خاندان کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے، لیکن 2026 کے آغاز تک، ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکہم کے بڑے بیٹے بروکلین بیکہم اور ان کی اہلیہ نکولا پیلٹز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے ایک سنگین خاندانی جنگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔
    ‎برطانوی میڈیا اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، یہ تنازع صرف "ساس بہو کی لڑائی” تک محدود نہیں رہا بلکہ انا، کاروباری مفادات اور ذاتی آزادی جیسے پہلو بھی شامل ہو گئے ہیں۔
    ‎تنازع کی جڑ: شادی سے شروع ہونے والی سرد جنگ
یہ کہانی 2022 میں بروکلین اور نکولا کی پرتعیش شادی سے شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وکٹوریہ بیکہم اور نکولا کے درمیان شادی کے جوڑے کو لے کر پیدا ہونے والی غلط فہمی نے اس تنازع کو بڑھاوا دیا۔ نکولا کا دعویٰ ہے کہ وکٹوریہ نے وقت پر جوڑا تیار کرنے سے معذرت کی، جبکہ بیکہم خاندان ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
    ‎2026 کے بڑے انکشافات: بروکلین کا دو ٹوک مؤقف
حالیہ مہینوں میں بروکلین نے اپنے والدین سے فاصلے اختیار کیے اور چند بیانات دیے جو سوشل میڈیا پر تنازع کا سبب بن گئے:
    * برانڈ بیکہم کا دباؤ: بروکلین کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن سے ہی "بیکہم برانڈ” کی چمک برقرار رکھنے کے لیے ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کیا گیا، اور والدین کی سخت نگرانی میں رکھا گیا۔
    * تجارتی حقوق کا تنازع: رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ بیکہم اور ان کی ٹیم نے دباؤ ڈالا کہ بروکلین اپنے نام کے تجارتی حقوق والدین کے پاس رہنے دیں، تاکہ پیلٹز خاندان اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
    * بیوی کی حمایت: بروکلین نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے نئے سفر میں اپنی اہلیہ نکولا کے ساتھ کھڑے ہیں اور والدین کی مداخلت مزید برداشت نہیں کریں گے۔
    ‎والدین کا ردعمل: خاموشی یا حکمتِ عملی؟
دوسری جانب ڈیوڈ اور وکٹوریہ نے عوامی سطح پر شرافت کا دامن تھامے رکھا ہے۔ ڈیوڈ کے مطابق بروکلین جذباتی فیصلے کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، جبکہ اندرونی ذرائع کے مطابق وکٹوریہ بروکلین کی بغاوت پر شدید رنجیدہ ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ نکولا نے ان کے بیٹے کو ان سے دور کر دیا ہے۔

  • انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارت نے ایک اور پاکستان مخالف فلم “بارڈر 2” بنائی ہے، جس میں سنی دیول مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق فلم میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور ٹیزر میں سنی دیول کو ایک بار پھر جنگی نعروں اور جارحانہ مکالموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،فلم کی پروموشن کے دوران سنی دیول نے ایک پاکستان مخالف ڈائیلاگ دیتے ہوئے کہا کہ “آواز کتنی دور تک جانی چاہیے؟ سیدھی لاہور تک!”

    ویڈیو میں سنی نے یہ ڈائیلاگ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،پاکستانی اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے سنی دیول کے پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر طنزیہ ردعمل دیا اور اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے”۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو دنیا بھر میں 23 جنوری 2026 کو ریلیز کرنے کا شیڈول تھا، تاہم ادیتیہ دھر کی فلم ‘دھریندر’ کی طرح بارڈر 2 بھی بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سینما ہالز میں نمائش کی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

  • بھارتی  اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

    بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

    بالی ووڈ کے معروف اداکار، فلم ساز اور متنازع تبصروں کے لیے مشہور کمال رشید خان المعروف کے آر کے کو رہائشی عمارت میں فائرنگ کرنے کے الزام میں ممبئی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ 18 جنوری 2026 کو آندھیری کے اوشیواڑہ علاقے میں نالندا سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں دو گولیاں رہائشی عمارت کی دیواروں میں لگی پائی گئیں ان میں سے ایک گولی دوسری منزل کے فلیٹ سے اور دوسری چوتھی منزل کے فلیٹ سے برآمد ہوئی، تاہم عمارت میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج سے گولیاں چلانے کے ماخذ کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم فارنزک تجزیے سے ظاہر ہوا کہ یہ گولیاں ممکنہ طور پر کے آر کے کے قریب واقع بنگلے سے چلائی گئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں جمعہ کی شب تفتیش کے لیے حراست میں لیا۔

    پولیس کے مطابق بیان کے دوران کے آر کے نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے لائسنس یافتہ ہتھیار سے دو گولیاں چلائیں پولیس نے اس ہتھیار کو ضابطے کے مطابق قبضے میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے،تفتیش ابھی جاری ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ حادثاتی تھی یا دانستہ۔ پولیس نے معاملے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔