Baaghi TV

Category: شوبز

  • فواد خان ٹی وی پرکب نظر آئیں گے؟

    فواد خان ٹی وی پرکب نظر آئیں گے؟

    پاکستان اور بالی وڈ میں یکساں مقبولیت رکھنے والے فواد خان کی 13 اکتوبر کو دا لیجنڈ آف مولا جٹ ریلیز ہونے جا رہی ہے. فلم میں فواد خان مولا جٹ کا کردار ادا کررہے ہیں. فواد خان نے اس فلم کےلئے اپنا وزن بھی بڑھایا اور وزن بڑھایا تو پھر بیمار بھی پڑ گئے. آج کل فواد اپنی فلم کی پرموشنز میں مصروف ہیں اور اسی دوران انہوں نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ ٹی وی پر کب نظر آئیں گے . فواد خان کا کہنا ہے کہ ابھی میرا مستقبل قریب میں تو ٹی وی پر آنے کا کوئی پلان نہیں ہے کیونکہ ابھی کوئی ایسا پراجیکٹ ہاتھ نہیں لگا کہ میں نے

    ہاں کی ہو یا اس کی شوٹنگ شروع ہوئی ہو . ہاں اگر اچھا پراجیکٹ‌ میرے پاس آیا اور میرا کردار بھی اس میں اچھا ہوا تو یقینا کروں گا میں جانتا ہوں کہ میرے مداح مجھے دیکھنا چاہتے ہیں. فواد خان نے کہا کہ ڈرامہ انڈسٹری نے تو میری زندگی بدل کر رکھ دی لہذا میرے دل میں ڈرامہ انڈسٹری کے لئے بہت زیادہ عزت ہے. اور جب بھی مجھے یہاں کام کرنے کا موقع مسیر آیا میں کروں گا. یاد رہے کہ فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی ایڈوانس بکنگ شروع ہو چکی ہے اور شائقین بے صبری سے اس فلم کی ریلیز کا انتظارکررہے ہیں.

  • نوری نت کا کردار کرنا اعزاز کی بات ہے حمزہ علی عباسی

    نوری نت کا کردار کرنا اعزاز کی بات ہے حمزہ علی عباسی

    حمزہ علی عباسی جنہیں ڈرامہ سیریل پیارے افضل نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا وہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں. حمزہ علی عباسی چار سال کے بعد کسی پراجیکٹ میں نظر آرہے ہیں اور وہ پراجیکٹ ہے فلم ” دا لیجنڈ آف مولا جٹ” حمزہ علی عباسی نے اس میں‌ نوری نت کا کردار اداکا کیا ہے. اس کردار کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ کردار کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے.ہیرو آنے والے حمزہ علی عباسی ولن کا کردار کرکے کافی خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ ولن کا کردار بہت زیادہ چلینجنگ بات ہوتی ہے. حمزہ علی عباسی کہتے ہیں کہ انہوں نے

    پرانی والی مولا جٹ دیکھی ہے اور مصطفی قریشی نے کس طرح سے نوری نت کے کردار کو ادا کیا ہے اسکو سٹڈی کیا ہے. حمزہ علی عباسی کہتے ہیں‌کہ میں فلمیں اور ڈرامے یقینا کروں گا لیکن اللہ نے جو دائرہ متعین کر دیا ہے اس میں رہتے ہوئے کروں گا اور میرا خیال ہے کہ یہ کوئی بری بات نہیں ہے. باقی میری ہمایوں سعید سے کسی قسم کی ناراضگی نہیں ہے ہمیں ایکساتھ کام کرنے کا اگر پھر سے موقع میسر آیا تو ضرور کروں گا. فلم کی ریلیز کے ھوالے سے نروس نہیں ہوں بلکہ ایکسائیٹیڈ ہوں امید ہے کہ شائقین کو ہماری کوشش ضرور پسند آئیگی.

  • سلمان خان کے باڈی ڈبل ساگر پانڈے انتقال کر گئے

    سلمان خان کے باڈی ڈبل ساگر پانڈے انتقال کر گئے

    نئی دہلی: بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے باڈی ڈبل ساگر پانڈے دل کا دورہ پڑنے سے 50 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ساگر پانڈے جم میں ورزش کر رہے تھے کہ اس دوران وہ اچانک بے ہوش ہو گئے۔ جس کے بعد انہیں ممبئی کے جوگیشوری ایسٹ میں واقع ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں استعمال ہونے والا گنڈاسہ کتنے کلو کا تھا؟

    50 سالہ ساگر پانڈے نے کئی فلموں میں سلمان خان کے لیے باڈی ڈبل کا کردار ادا کیا اور انہیں سلمان خان کا ہم شکل بھی کہا جاتا تھا-

    واقعے کے بعد سلمان خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ساگر پانڈے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی اور لکھا کہ میرے ساتھ رہنے کے لیے دل سے شکریہ ادا کر رہا ہوں، ساگر بھائی تمہاری روح کو سکون ملے، شکریہ۔

    واضح رہے کہ ساگر کا تعلق اترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ سے تھا۔ ساگر بھی اداکار بننے ممبئی آئے تھے لیکن جب انہیں اداکاری میں کوئی خاص کام نہیں ملا تب انہوں نے سلمان خان کے لیے باڈی ڈبل کے طور پر کام کیا۔

    ساگر پانڈے 50 سے زائد فلموں میں باڈل ڈبل بنے 1998 میں ساگر پہلی بار فلم “کچھ کچھ ہوتا ہے” میں سلمان کے لیے باڈی ڈبل کرتے نظر آئے تھے۔

    اس کے بعد انہوں نے "پریم رتن دھن پائیو،بجرنگی بھائی جان، ٹیوب لائٹ، دبنگ، دبنگ 2 اور دبنگ 3” سمیت دیگر فلمیں کیں ا ور ‘بگ باس’ جیسے ٹی وی شوز میں باڈی ڈبل کے طور پر کام کیا تھا۔ ایک پرانے انٹرویو میں ساگر نے بتایا تھا کہ وہ 50 سے زائد فلموں میں باڈی ڈبل بن چکے ہیں۔

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں استعمال ہونے والا گنڈاسہ کتنے کلو کا تھا؟

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں استعمال ہونے والا گنڈاسہ کتنے کلو کا تھا؟

    فواد خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں جو گنڈاسہ استعمال کیا گیا ہے اس کا وزن چھ سے سات کلو تھا. انہوں نے کہا کہ گنڈاسہ چلانا آسان کام نہیں ہے اسے چلانا مکمل ایک فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا. اس کو پکڑنے کا ایک خاص انداز ہے وہ انداز میں‌نے سیکھا. ہمیں گنڈاسے کو اٹھانا اور چلانا تھا لہذا اسکو اس طرح سے چلایا اور اٹھایا کہ ماڈرن بھی لگے. فواد خان نے کہاکہ اصلی گنڈاسہ اسلئے استعمال کرنا پڑا کیوںکہ

    پلاسٹک کا گنڈاسہ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا وہ ویسا تاثر نہیں دے رہا تھا جیسا ہمیں چاہیے تھا اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ اصلی گنڈاسہ ہی استعمال کیا جائیگا. گنڈاسہ وزنی ہونے کی وجہ سے چلانا آسان نہ تھا لیکن ہم نے کوشش کی اور یہ کوشش کیسی رہی وہ آپ فلم دیکھ کر محسوس کر سکتے ہیں. یاد رہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو بننے اور پھر ریلیز ہونے میں‌ کافی سال لگے ہیں. فلم کی کہانی ، کردار ہر چیز پر بہت زیادہ کام کیا گیا ہے کرداروں کے گیٹ اپس پر بہت وقت لگا. بلال لاشاری ویسے بھی نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر ہیں اس لئے نوجوان نسل دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھنے کےلئے بےتاب ہے.

  • ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے فواد خان

    ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے فواد خان

    ”فواد خان” نے حال ہی میں ایک انڑویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا پسند کرتا ہوں. ایک سے زیادہ کام میں مینج ہی نہیں‌ کر پاتا شاید کیرئیر کے آغاز میں دو پراجیکٹ ایک ساتھ کئے تھے لیکن اس کے بعد کبھی نہیں کئے. فواد خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے پنجابی بولی نہیں آتی تھی جب ڈائیلاگ بولنے ہوتے تھے تو میری ٹانگیں کانپ جاتی تھیں، نروس ہو جاتا تھا لیکن سکرین پر آپ کو یہ چیز نظر نہیں آئیگی. انہوں نے اس انٹرویو میں‌ یہ بھی کہا کہ میں کردار یا کوئی بھی پراجیکٹ کرنے میں سست ہوں، کافی وقت لگ جاتا

    ہے مجھے یہ فیصلہ کرنے میں‌ کہ میرے پاس جو پراجیکٹ آیا ہے کرنا ہے یا نہیں کرنا. انہوں نے کہا کہ میں کراچی میں پیدا ہوا لیکن میری سکولنگ اور پرورش لاہور میں ہوئی ، گھر کا ماحول ایسا تھا کہ اس میں پنجابی بولی نہیں جاتی تھی اس لئے مجھے پنجابی بولنے اور سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے لیکن فلم کے لئے بہت محنت کی اور بہت سارے لفظوں‌ کے مطلب پوچھتا رہا اور مجھے لگتا ہے کہ مجھے اب ان کے معنی بھی بھول چکے ہوں گے. یاد رہے کہ فواد خان کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے. فلم کی ایڈوانس بکنگ کامیابی سے جاری ہے.

  • سلطان راہی کو غلام محی الدین سے چڑ تھی انجمن

    سلطان راہی کو غلام محی الدین سے چڑ تھی انجمن

    اداکارہ انجمن کا کہنا ہے کہ سلطان راہی کو اداکار غلام محی الدین سے تھوڑی چڑ تھی. چڑ کی وجہ بتاتے ہوئے انجمن نے کہا کہ میرا سلطان راہی کے بعد پئیر غلام محی الدین کے ساتھ بہت پسند کیا جا رہا تھا. سلطان راہی کی عادت تھی کہ ان کی جو ہیروئین ہوتی تھی ان کو لگتا تھا کہ بس میری ہی ہیروئین ہے وہ کسی اور کی بات نہ کرے. ایک بار ہم کسی فلم کے سیٹ پر تھے وہاں غلام محی الدین آئے اور میں‌نے ان کو کہا کہ آپ کا اور میرا گانا عوام بہت پسند کررہی ہے اس پر غلام محی الدین نے کہا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے سلطان راہی یہ سب سن رہے تھے ان کو اتنا

    غصہ آیا کہ وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور ڈائریکٹر سے کہا کہ جب میرا شاٹ ریڈی ہو مجھے بلا لینا میں کمرے میں جا رہا ہوں. یوں سلطان راہی غصہ کر جاتے تھے. انجمن نے کہا کہ میڈم نورجہاں میری بہت تعریف کیا کرتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ انجمن تم میرے گانوں کے ساتھ صحیح انصاف کرتی ہو، وہ مجھے بہت زیادہ دعائیں دیتی تھیں جب میں نے گانا تیرے باجرے کی راکھی گایا تو انہوں‌نے تعریف کی بس مجھے تو لگا کہ ساری دنیا کی خوشیاں سمٹ کر میرے دامن میں آ گئی ہیں کیونکہ میڈم نور جہاں کی تعریف بہت بڑی بات تھی.

  • اجے دیوگن نے کیریئر میں تیسری بار بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ جیت لیا

    اجے دیوگن نے کیریئر میں تیسری بار بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ جیت لیا

    اجے دیوگن کا شمار بالی وڈ کے باصلاحیت اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ، پھول اور کانٹے ، دل والے ، سنگھم، گول مال، دریشیام، آکروش اور دیگر جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔ وہ صرف ایک اداکار کے طور پر کام نہیں کر رہے ہیں بلکہ فلم سازی کے مختلف سلسلے جیسے پروڈکشن، پوسٹ پروڈکشن، ڈائریکشن بھی کررہے ہیں. اب کہا جا رہا ہے کہ اجے دیوگن نے کیریئر میں تیسری بار ‘بہترین اداکار’ کا قومی ایوارڈ جیت لیا ہے. انہیں یہ ایوارڈ فلم تانہا جی کےلئے بہترین اداکار کا ایوارڈ 68 ویں نیشنل فلم ایوارڈز میں دیا گیا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ تانہاجی نے بہترین اور پاہولر فلم

    ایوارڈ بھی اپنے نام کیا.اجے دیوگن کایہ تیسرا قومی ایوارڈ ہے جو انہیں ملا ہے فلم تانہاجی میں انہوں‌نے ایک زبردست جنگجو کا کردار ادا کیا۔ فلم نے ناقدین سے پذیرائی حاصل کی اجے دیوگن اس خوشی پر ہیں بہت زیادہ خوش، انہوں نے اپنی تین ایوارڈ یافتہ پرفارمنسز کا جشن مناتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ریل شیئر کی جس میں زخم، دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ، اور تانہاجی شامل ہیں۔ اس وڈیو کا کیپشن لکھا کہ "جیتوں یا نعمتوں کو گننا نہیں، صرف ان سب کے لیے شکرگزار ہوں” ۔ سب سے اہم بات آپ کی محبت ہے جو مجھے مسلسل مل رہی ہے. یاد رہے کہ اجے دیوگن نے ایکشن ہیرو کے طور پر کیرئیر کا آغاز کیا بعد ازاں انہوں نے کامیڈی کردار بھی کئے.

  • رانی مکھرجی مصنفہ بن گئیں

    رانی مکھرجی مصنفہ بن گئیں

    اداکارہ رانی مکھرجی دو دہائیوں سے بالی وڈ انڈسٹری پر راج کررہی ہیں.فلم ” راجہ کی آئے گی بارات” سے انہوں‌ نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا تاہم ان کی پہلی سپر ہٹ فلم غلام تھی جو کہ 1998 میں ریلیز ہوئی تھی اس کے بعد انہوں نے کچھ کچھ ہوتا ہے میں بھی کام کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا. رانی مکھر جی کا شمار دیکھتے ہی دیکھتے صف اول کی اداکارائوں میں ہونے لگا. رانی مکھر جی اداکارہ کے ساتھ ساتھ اب مصنفہ بھی بن گئی ہیں اور وہ بہت جلد اپنی سوانح عمری ریلیز کریں گی.کہا جا رہا ہے کہ ان کی سوانح عمر ان کی سالگرہ 21 مارچ 2023

    کے موقع پر جاری کی جائیگی. سوانح عمری کے بارے میں رانی مکھر جی کا کہنا ہے کہ میں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں اتنے پیار سے گزارے 25 سالوں میں کبھی بھی اپنی زندگی اور سینما میں اپنے سفر کے بارے میں اپنے دل کی بات نہیں کی۔ سینما میں خواتین کے طور پر، ہم مسلسل پرکھے جاتے ہیں اور کتاب میری ذاتی آزمائشوں اور مصیبتوں اور اس کے مجھ پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہے جو کہ پڑھنے والوں کے لئے یقینا متاثر کن ہو گی . را نی مکھر جی مزید کہتی ہیں‌ کہ میری یہ کتاب میری سالگرہ پر ریلیز ہو گی جس طرح‌میری فلموں‌کو پسند کیا گیا یقینا اس کتاب کو بھی پڑھا جائیگا اور میری سالگرہ کے دن کو مزید خاص بنایا جائیگا. یاد رہے کہ رانی مکھر جی آخری بار فلم بنٹی اور ببلی میں نظر آئیں تھیں اب وہ فلم مسز چٹرجی بمقابلہ ناروے میں نظر آئیں گی۔

  • مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف کی پہلی برسی، اہلیہ زریں کی دعا کی درخواست

    مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف کی پہلی برسی، اہلیہ زریں کی دعا کی درخواست

    ہر فن مولا فنکار عمر شریف کے وفات سے شوبز انڈسٹری میں جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی بھی پورا نہیں ہو سکے گا. 2 اکتوبر 2021 کو وفات پانے والے اس فنکار کی کل پہلی برسی منائی جائیگی. عمر شریف عارضہ قلب ، گردے اور دیگر مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔عمر شریف نے تھیٹر، سٹیج، فلم اور ٹی وی کے لئے یادگار کام کیا. پاکستان اور ہندوستان میں یکساں مقبول اس فنکار کے سٹیج ڈرامے بہت مشہور تھے یہاں تک کہ بالی وڈ اداکار عامر خان نے بھی ایک بار کہا تھا کہ انہوں‌نے اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھ کر کیسٹ منگوا کر سٹیج ڈرامہ بکرا قسطوں پر دیکھا اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ عمر شریف کے کریڈٹ پر بہت سارے کام ہیں مثال کے طور پر انہوں نے 1980ء میں پہلی بار

    آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے.عمر شریف نے کم عمری میں ہی اداکاری کا آغاز کر دیا تھا. عمر شریف نے فلموں میں‌کام بھی کیا اور انہیں بنایا بھی.فلموں میں شکیلہ قریشی کے ساتھ ان کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ان کی مقبول فلموں میں مسٹر 420، مسٹر چارلی، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔ عمر شریف کو ہر میڈیم میں بہت سراہا گیا. وہ پاکستان کے ایسے فنکار رہے جنہیں عوامی سطح پر پورے کیرئیر کے دوران آخر تک یکساں‌مقبولیت حاصل رہی. عمر شریف نے بھارتی پروگرام لافٹر چیلنج میں بطور جج فرائض سر انجام دئیے. پانچ دہائیوں پر مشتمل کیرئیر رکھنے اور تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے عمر شریف دنیا سے تو جا چکے ہیں لیکن ان کے کام نے ان کو زندہ رکھا ہوا ہے.

  • اگر میں شادی شدہ ہوتی تو فخر سے کہتی میں میرڈ ہوں سعیدہ امتیاز نے ایسا کیوں کہا؟‌

    اگر میں شادی شدہ ہوتی تو فخر سے کہتی میں میرڈ ہوں سعیدہ امتیاز نے ایسا کیوں کہا؟‌

    معروف ماڈل و اداکارہ سعیدہ امتیاز نے کہا ہے کہ اگر میں شادی شدہ ہوتی تو فخر سے کہتی کہ میری شادی ہوئی ہے میں‌یہ نہ کہتی کہ میرا منگیتر ہے. بھئی جب شادی ہوئی ہے تو فخر سے بولیے کہ شادی ہوئی ہے شادی شدہ ہوں ،منگیتر کیوں کہنا ، شادی دو انسانوں‌کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ ہوتا ہے. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ میں چیزوں کو نہیں چھپاتی نہ ہی اپنے معاملات دوسروں سے مخفی رکھتی ہوں. سعیدہ امتیاز نے یہ بات اپنی ساتھی کنٹیسنٹ( تماشاگھر) مریحا صفدرکو سنائی. سوشل میڈیا پر سعیدہ امتیاز کا یہ بیان سرکولیٹ کررہا ہے سوشل میڈیا صارفین طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں۔ مصطفی نامی ایک صارف نے لکھا کہ عمر اور مریحہ اچھے دوست

    ہیں اور سعیدہ ان میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ سعیدہ ان دونوں کی دوستی سے جیلس ہے اور ان دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے میں لگی رہتی ہے۔ جبکہ رابعہ سلطان نامی ایک صارف نے لکھا کہ سعیدہ صرف مریحہ سے جیلس ہے اور کچھ نہیں، انہیں اپنے جھوٹ اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں فکرمند ہوناچاہیے۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ آپ اتنی ظالم نہ بنیں اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں خدا آپ کے لئے آسانیاں پیدا کریگا۔ یاد رہے کہ اے آر وائی پر چلنے والے رئیلٹی شو تماشا گھر میں اس وقت تماشا زوروں پر ہے۔ سعیدہ امتیاز کا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔