Baaghi TV

Category: شوبز

  • آنے والے دنوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں

    آنے والے دنوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں

    کورونا کے بادل چھٹنے کے بعد اس سال پاکستانی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں. عید الفطر پر چاراوردو فلمیں (پردے میں رہنے دو ، چکر ، دم مستم ، گھبرانا نہیں‌ ہے) اور ایک پنجابی (تیرے باجرئ دی راکھی) ریلیز ہوئی. ان پانچوں فلموں نے خاطر خواہ بزنس نہ کیا پرڈیوسرز نے بزنس نہ کرنے کی وجہ ہالی وڈ فلم ڈاکٹر سٹرینج کی ان کے ساتھ ریلیز بتائی. سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم کملی بھی ریلیز ہوئی اس نے اچھا بزنس کیا. اس کے بعد عید الاضحی پر دو بڑی فلمیں ریلیز ہوئی جن میں لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ بعد شامل تھیں ان کے ساتھ فلم لفنگے بھی ریلیز ہوئی لفنگے کا بزنس مایوس کن رہا. جبکہ ان فلموں کے ساتھ ہالی وڈ تھار بھی ریلیز ہوئی لیکن لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد نے تھار کی موجودگی میں

    اچھا بزنس کیا. اب سال ختم ہونے میں صرف چاہ ماہ باقی ہیں اور ان چار ماہ میں جو فلمیں‌ریلیز ہونے جا رہی ہیں ان کے نام کچھ یوں‌ہیں.انتظار ، دا لیجنڈ آف مولا جٹ ، نیلوفر ، شاٹ کٹ ، ڈوڈا ، کارما ، ضرار ، یارا وے ، ٹچ بٹن ، آسمان بولے گا. ان میں‌ سے زیادہ تر فلمیں بڑے بجٹ کی بڑی کاسٹ کے ساتھ ہیں امید کی جا رہی ہے کہ یہ سب فلمیں‌باکس آفس بہت اچھا بزنس کریں گی. مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ سال فلموں کی ریلیز کے حوالے سے کافی حوصلہ فزاء رہا ہے.

  • ہمایوں سعید ہوئے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ٹریلر کے دیوانے

    ہمایوں سعید ہوئے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ٹریلر کے دیوانے

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ابھی تک تین ٹریلر ریلیز ہو چکے ہیں. پہلے ٹریلر سے ہی لوگوں‌ نے اسے بہت پذیرائی دی. جہاں ہر کوئی دیوانہ بنا بیٹھا ہے فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ٹریلر کا وہیں ہمایوں سعید بھی پیچھے نہیں ہیں. وہ بھی بن گئے ہیں اس فلم کے ٹریلر کے دیوانے اور اس کا اظہار انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر بھی کیا ہے. ہمایوں سعید نے کہا ہے کہ ” مجھے مولا جٹ کا ٹریلر پسند آیا ہے۔ واقعی بہت زبردست ہے ، پوری ٹیم کے لیے میری نیک تمنائیں ہیں اور امید ہے کہ یہ باکس آفس پر پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دے گی اس سے مزید فلم سازوں کو ایسی شاندار فلمیں بنانے کی ترغیب ملے گی. یاد رہے کہ فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ

    13 اکتوبر کو ریلیز ہونے جا رہی ہے، فلم کی کاسٹ کافی پرجوش ہے. فلم کی ایگیزیکٹیو پرڈیوسر عمارہ حکمت اور ڈائریکٹر بلال لاشاری کا کہنا ہےکہ ان کی یہ کوشش سب کو ضرور پسند آئیگی. فلم کے ٹریلر میں فواد خان اور حمزہ علی عباسی کے دو ڈائیلاگز جو یقینا سننے والوں‌کو بہت پسند آئے ہیں. امید کی جا رہی ہے کہ فلم باکس آفس پر اچھا بزنس کریگی. ماہرہ خان ، فواد خان ،حمزہ علی عباس و دیگر نے پہلی بار کسی پنجابی فلم میں کام کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سب شائقین کا دل جیتنے میں‌کتنا کامیاب ہوتے ہیں.

  • نیرہ نور کے انتقال پر شوبز انڈسٹری سوگوار

    نیرہ نور کے انتقال پر شوبز انڈسٹری سوگوار

    بلبل پاکستان کا خطاب پانے والی گلوکارہ نیرہ نور کے انتقال کی خبر سے شوبز انڈسٹری کے لوگ ہیں کافی اداس، شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر کچھ ان الفاظ کے ساتھ اپنے دکھ کا اظہار کیا .اداکار عمران عباس نے کہا ہے کہ ” افسوس کہ بلبل پاکستان اب ہم میں‌ نہیں رہیں ہم نے ایک خوبصورت آواز کو کھو دیا ہے. اداکارہ ریما خان نے گلوکارہ کی مغفرت کی دعا کی. یوسف صلاح الدین نے گلوکارہ کے انتقال پرغزل کے اشعار لکھ کر یاد کیا” سب کہاں‌کچھ لالہ و گل میں نمایاں‌ہو گئیں، خاک میں‌کیا صورتیں ہوں‌کہ پنہاں‌ہو گئیں”.سجل علی نے لکھا ” وطن کی مٹی گواہ رہنا ‘ .عثمان پیرزادہ نے لکھا کہ نیرہ نور ہمیں‌چھوڑ گئی ہیں ان کی آواز اور یادیں

    ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی.اداکار شاہنواز صدیقی نے لکھا ” میری پیاری بھابھی نیرہ نور اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں. ثانیہ سعید نے لکھا” ہمیں‌ ماتھے پر بھوسہ دو کہ ہم نے جگنوئوں کے تتلیوں کے دیس جانا ہے ”. فیشن ڈیزائنر بی جی نے لکھا ” پاکستان کی عظیم گلوکارہ انتقال کر گئیں. جویرا سعود نے لکھا ”روٹھے ہو تم تم کو کیسے منائیں پیا”. اداکار احسن خان نے بھی لکھاکہ” گلوکارہ کی اللہ مغفرت کرے” . اداکار احمد علی بٹ نے لکھا کہ ” بلبل ہمیں آج رات چھوڑ گئی آنٹی اللہ آپکی مغفرت کرے” . گلوکار احمد جہانزیب نے لکھا کہ ” نیرہ نور کی آواز نسلوں تک ان کے ساتھ رہے گی.گلوکارہ مہک علی نے لکھا کہ ” مجھے ابھی بھی یاد ہے میں نیّرہ نور جی کے گائے ہوئے مِلی ترانے سکول کے مُقابلوں میں گایا کرتی تھی ،نیّرہ جی آواز کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھی شخصیت کی مالک تھیں .نیّرہ جی اور ان کی آواز ہمیشہ ہمارے دِلوں میں زندہ رہیں گی”.

  • مشی خان نے نیرہ نور کے انتقال کو بڑا نقصان قرار دیدیا

    مشی خان نے نیرہ نور کے انتقال کو بڑا نقصان قرار دیدیا

    اداکارہ مشی خان جنہوں نے نوے کی دہائی میں کیرئیر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں وہ ایک عرصے سے اداکاری سے دور ہیں اور سوشل میڈیا پر زیادہ تر سیاسی پوسٹیں کرتی نظر آتی ہیں. انہوں نے حال ہی میں گلوکارہ نیرہ نور کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ” بہت ہی خوفناک خبر ہے یقینا اسے سن کر دل ٹوٹ گیا ہے اور یہ پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہے، ان کی روح کو سکون ملے. مشی خان کے اس ٹویٹ کے بعد ان کے چاہنے والوں‌ نے کمنٹس باکس میں‌ گلوکارہ کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ان کے کام کو یاد کیا اور انہیں ایک بہترین گلوکارہ قرار دیتے ہوئے پاکستان میوزک انڈسٹری کو ایک دھچکا قرار دیا.

    یاد رہے کہ مشی خان پچھلے کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر صرف پی ٹی آئی کے حق میں‌پوسٹیں کرتی ہیں اور عمران خان کے علاوہ دیگر سیاسی جماعت کے لیڈروں کا نہ صرف تمسخر اڑاتی ہیں بلکہ ان کے خلاف بولتی بھی ہیں، مشی خآن عمران خان کے جلسوں میں بھی شریک ہوتی ہیں اور ان کو پاکستان کا مسیحہ گردانتی ہیں. مشی خان کا شمار ان اداکارائوں‌میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی اداکاری میں کمائی ہوئی عزت اور نام شہرت کو سیاسی وابستگی پر قربان کر دیا ہے.

  • علی ظفر نے نیرہ نور کے ساتھ آخری ملاقات کو کیا یاد

    علی ظفر نے نیرہ نور کے ساتھ آخری ملاقات کو کیا یاد

    اس وقت پاکستان میں سوگ کا عالم ہے کیونکہ بلبل پاکستان نیرہ نور ہم میں‌ نہیں‌ رہی ہیں. اپنی منفرد گلوکاری اور عاجری سے بھرپور شخصیت و لہجہ رکھنے والی گلوکارہ کے انتقال نے ہر کسی کو افسردہ کر دیا ہے. نوجوان نسل کے نمائندہ گلوکار علی ظفر بھی ہیں اداس. انہوں‌ نے گلوکارہ نیرہ نور کے انتقال پر ایک ٹویٹ کیا اور لکھا کہ ” دل کو توڑ دینے والی خبر ہے.مجھے ان کے ساتھ اپنی آخری ملاقات یاد ہے جو ان کے ہی گھر میں‌ہوئی تھی وہ دنیاوی خواہشات سے بالاتر ہو کر ایک پُرسکون اور روحانی جگہ پر چلی گئی ہیں۔ وہ ہماری بلبل تھی۔ ان کی روح کو سکون ملے۔ علی ظفر نے رات گئے یہ ٹویٹ کیا ان کے ٹویٹ کے کمنٹس باکس میں ہر کسی نے افسوس کا اظہار کیا اور لوگ ان کے گانے اور ملی نغمے یاد کرتے رہے.پی

    ٹی آئی کے رہنما فیصل جاوید خان نے بھی افسوس کا اظہار کرتےایک ٹویٹ کیا انہوں نے لکھا کہ ”ایک اور نیرہ نورپیدا نہیں ہو سکتی، پاکستان نے ایک لیجنڈ اسٹار کو کھو دیا.انہوں نے فیض احمد فیض کی غزلوں‌ کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ان کا کام اور ان کا پروفیشنلزم یقینا دوسروں کے لئے مشعل راہ ہے” .
    یاد رہے کہ نیرہ نور چند روز سے علیل تھیں اور گھر پر ہی زیر علاج تھیں ان کا نماز جنازہ آج کراچی ڈیفنس کراچی میں ادا کیا جائیگا.

  • وزیراعظم شہباز شریف کا نیرہ نور کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    وزیراعظم شہباز شریف کا نیرہ نور کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    ‏پاکستان کی عظیم گلوکارہ نیرہ نور کے انتقال کی خبر میوزک سے محبت کرنے والوں پر بجلی بن کر گری ہے.وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی نیرہ نور کے انتقال پر ہیں رنجیدہ، انہوں نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر گلوکارہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ” نامور گلوکارہ نیرہ نور کا انتقال موسیقی کی دنیا کے لیے ایک نا قابل تلافی نقصان ہے۔ وہ اپنی آواز میں ترنم اور سوز کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی تھیں۔ غزل ہو یا گیت جو بھی انہوں نے گایا کمال گایا۔ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہوگا۔ اللہ تعالی مرحومہ کو جنت میں جگہ دے”

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے لئے یقینا آج ایک سوگوار دن ہے. گلوکارہ نیرہ نور کا پورا کیرئیر اٹھا کر دیکھا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ وہ نہایت ہی پروفیشنل تھیں .صرف اپنے کام سے کام رکھتی تھیں وہ بہت زیادہ سوشل نہیں وہ بہت زیادہ ٹی وی پر نظر نہیں آتی تھیں. دل اور روح میں اتر جانے والی ان کی گائیکی یقینا ہمارا اثاثہ ہے. نیرہ نور کے مداح ہمسایہ ملک میں بھی پائے جاتے ہیں سرحد پار سے بھی نیرہ نور کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے.نیرہ نور کے انتقال کی خبر اس وقت ٹویٹر پر ٹرینڈ کررہی ہے.پاکستان میوزک انڈسٹری کے اس نقصان پر ہر کوئی رنجیدہ ہے.بلاشبہ ان جیسی گلوکارائیں صدیوں‌ میں‌پیدا ہوتی ہیں.

  • نیرہ نور کی نماز جنازہ آج کراچی ڈیفنس میں ادا کی جائیگی

    نیرہ نور کی نماز جنازہ آج کراچی ڈیفنس میں ادا کی جائیگی

    صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والی باکمال گلوکارہ نیرہ نور کی نماز جنازہ آج سہہ پہر 4 بجےمسجدوامام بارگاہ یثرب ڈیفنس کراچی میں ادا کی جائےگی اور تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں کی جائےگی۔ نیرہ نور چند روز سے بیمار تھیں اور زیر علاج تھیں.71 برس کی عمر میں انتقال کرنے والی گلوکارہ نیرہ نور کے بھتیجے نے ٹویٹ کے زریعے گلوکارہ کے مداحوں کو یہ افسوسناک خبر دی اور لکھا کہ ” میری تائی جہانِ فانی سے رخصت ہوگئی ہیں” . بلبل پاکستان کا خطاب پانے والی اس گلورہ نے فیض احمد فیض کے کلام کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا. انکی آواز میں گائے جانے والے نغمے ، غزلیں ، فلمی گیت اور ملی نغمے آج بھی پسند کئے جاتے ہیں۔

    ان کا گایا ہوا یہ ملی نغمہ ” اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں” کو بھلا کون بھول سکتا ہے. نیرہ نور نے 2012 میں پیشہ وارانہ گائیکی کوخیر باد کہا ، ان کی منفرد آواز پاکستانی موسیقی کی پہچان ہے۔ ” روٹھے ہو تم تم کو کیسے منائوں پیا” ایسا سدا بہار گیت ہے جسے آج کی نوجوان نسل بھی سنتی ہے.نیرہ نور نے متعدد ٹی وی سیریلز کے لیے بھی گیت گائے.گلوکارہ گزشتہ ایک دہائی سے موسیقی سے بےشک دور تھیں لیکن انکے چاہنے والے ان کو سننے کے لئے ہر دم بےتاب رہتے تھے.نیرہ نور کا انتقال یقینا میوزک انڈسٹری کا ایک بڑا نقصان اور خلاء جو کبھی بھی پورا نہیں ہو سکے گا.

  • مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    لاہور:وطن کی مٹی گواہ رہنا جیسا شہرہ آفاق ملی نغمہ گانے والی نیرہ نور انتقال کر گئیں، انا لله و انا الیه راجعون، نیرہ نورپاکستان کی ایک معروف شخصیت تھیں جن کا ہرکوئی دل سے احترام کرتا ہے،

    نیرہ نور،شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست آسام کے گوہاٹی شہرمیں3نومبر 1950کو پیدا ہوئیں۔ یہیں پلی بڑھیں اور بیگم اختر کے نغموں،علی الصبح مقامی مندروں کے لاؤڈ اسپیکر س سے گونجنے والے بھجنوں اور شہر میں منعقد ہونے والے کنسرٹس سے محظوظ ہوتی رہیں۔ پھر کشاںکشاں ان کی آواز اور وجود میں یہ فن لطیف داخل ہوہی گیا۔دوسری جانب نیر ہ کے تجارت پیشہ اہل خانہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان ہجرت تحریک پر، آسام سے رخت سفر باندھنا شروع کردیا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ نیرہ کے والد محترم اور چند دیگر اہل خانہ، آل انڈیا مسلم لیگ(اے آئی ایم ایل)کے ممبر اور آسام اکائی کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔چنانچہ یہ کارواں پہلے پہل امرتسر واردہوا ،پھر 1958میںوہاں سے سیدھا کراچی پلائن کرگیا۔نیر ہ نور کی گنگناہٹ سب کا دل موہ لیتی تھی ۔ پاکستان میں ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلی ویژن ،لالی ووڈ فلم انڈسٹری،پاکستان فلمس کارپوریشن جیسے ادارے وجود میں آچکے تھے اور تب تک ان کا مرکزی کراچی ہی تھا۔چنانچہ موقع اور دستور کے مطابق نیرہ نور نے اپنا پہلا نغمہ پی ٹی وی سے ہی نشر کیا ۔

    نیرہ کی گلوکارانہ صلاحیتوں کو سب سے پہلے جس شخص اور شخصیت نے دریافت کیا،اس کا نام نامی ہے پرو فیسر اسرار احمد ،جو اس وقت اسلامیہ کالج ،لاہور میں مدرس تھے۔یہ1968کی بات ہے،ایک دن نیرہ نیشنل کالج آف آرٹس،لاہور میں منعقدہ سالانہ ڈنر کے موقع پر اپنی کالج فرینڈس اور اساتذہ میں گھری میڈم نور جہاں،بیگم اختراور ناہید اختر کی آوازوں میںگارہی تھیں۔وہیں پرو فیسر موصوف نے اس جوہر قابل کو پرکھا اور یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں واقع،ریڈیو پاکستان،لاہور کے اسٹوڈیو لے آئے ۔اب نیر ہ نور کی آواز،ہواکے دوش پر سوار ہو کرکراچی سے خیبر تک،لاہور سے پشاور تک اور اسلام آباد سے گوادر تک پورے ملک میں سُروں کی عطربیزی کرنے لگی۔ پھر محض دوسال بعد ہی انھیں پی ٹی وی،نیشنل اسٹوڈیو ،اسلام آباد سے دعوت نامہ موصول ہوا اور نیرہ کچھ اپنے پروں اور کچھ فن کے پروں پر اڑتی ہوئی’کانسٹی ٹیوشن اوینیو‘ جاپہنچی ۔نیرہ نے پی ٹی وی کے لیے مرزا غالب ،فیض احمد فیض اور احمد فراز کی غزلیں گا کر آواز و ساز عطا کیا ۔اس وقت پی ٹی وی مہدی حسن،احمد رشدی جیسے لیجنڈ اور اساتذہ سے موسوم تھا،نیرہ کو ان کے ساتھ گلوکاری کے مواقع میسر آئے۔

    نیرہ نور بہت جلد پاکستان شوبز انڈسٹری کے افق کا ستارہ بن گئی ۔اب وہ ریڈیو اور ٹی وی گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی پلے بیک دینے لگیں۔ان کی پہلی فلم1973میں کے ۔خورشید کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”گھرانہ“ہے۔جس میںانھوںنے رونا لیلیٰ علی اوراحمد رشدی کے ساتھ ’تیراسایہ جہاں بی ہو سجنا‘نغمہ گایا ۔شائقین و فلم بینوں کی پسند پر وہ اس نغمے کے لیے لالی ووڈ کے باوقار ایوارڈ”نگار ایوارڈ “ سے سرفرازکی گئیں،علاوہ ازیں انھیں تین مرتبہ ”آل پاکستان میوزیکل کانفرنس“ کی جانب سے گولڈ میڈل ملے۔لالی ووڈ کے آگے کے سفر میں نیرہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں’ایم اشرف‘،’روبن گھوش‘،’کمال احمد‘اور ’نثار بزمی‘نے کلیدی کردار اداکیا۔

    بہزاد لکھنوی کی غزل ”اے جذبہ دل گر میں چاہوں“اس وقت مراد ِشاعر بنی، جب نیرہ نور نے اسے ارشد محمود کی موسیقی میں پی ٹی وی کے پرو گرام ’سخن ور‘ میں گایا ۔آج بھی نیرہ کے البم’میری پسند‘ کاسب سے بہترین اور زیادہ سناجانے والا نغمہ ہے۔جدید شاعروں کے نائب امام ،ناصر کاظمی کی روح بھی اس وقت مسرت سے جھوم اٹھی جب نیرہ نے ان کی’رنگ برسات نے بھرے کچھ تو‘ اور ’پھر ساون رُت کی پون چلی‘غزلیں گائیں ——- اور اختر شیرانی کے رومان پر رنگ اس و قت چڑھا جب نیرہ نے ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘غزل کو اپنا ساز دروں دیا۔فیض احمد فیض،ابن انشا،تسلیم فاضلی،کلیم عثمانی،مسرور انور وغیرہ دیگر شعرا و سانگ رائٹرس ہیں جنھوں نے نیرہ کے لیے نغمے تحریر کیے اور نیرہ نے انھیں سازو آواز کی روح پھونکی۔

    یہ بات کس قدر متاثر کن اور زندگانی ساز ہے کہ حکومت پاکستان کے باوقار اعزاز’صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔2005‘کی مالک نیرہ نور، انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انھوں نے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ان کے چہرے پر گلوکاری کے وقت بھی کسی قسم کے تاثرات کی جھلک نہ ہوتی تھی اور عام زندگی میں بھی ان کی شرافت و نجابت مثالی تھی۔ان کا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔آج بھی پاکستان میں ان کی وہی شخصی قدرو منزلت۔ہاں البتہ 2012کے بعد سے انھوں نے شوبز کی دنیا سے منہ موڑلیا

  • لوک فنکار سائیں ظہور لندن میں کنسرٹ کے دوران سٹیج پر گر گئے

    لوک فنکار سائیں ظہور لندن میں کنسرٹ کے دوران سٹیج پر گر گئے

    پاکستان کے معروف لوک فنکار سائیں ظہور لندن میں کنسرٹ کے دوران سٹیج پر گر گئے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسٹ لندن میں ایک کنسرٹ جاری تھا جس میں سائیں ظہور پرفارم کررہے تھے کہ اچانک وہ سٹیج پر گر گئے تاہم منتظمین کی جانب سے انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والی جیا خان کی والدہ کا نیا انکشاف

    ہسپتال ذرائع کے مطابق شاید شدید تھکاوٹ کے باعث سائیں ظہور بے ہوش ہوکر گرے تاہم ڈاکٹرز ابھی ان کا معائنہ کررہے ہیں، لوک فنکار اب تک ہوش میں نہیں آئے۔

    صوفی گلوکار سائیں ظہورکا تعلق پاکستان کےسب سے بڑے صوبہ پنجاب کےشہراوکاڑہ سےہےانہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت درباروں اور درگاہوں پر گزارا ہے 2006ء سے پہلے ان کا کوئی کلام ریکارڈ نہیں ہوا تھا جبکہ وہ عوامی گلوکار ہونے کے وجہ سے بی بی سی ورلڈ میوزک ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوئے تھے سائیں ان کا نام نہیں ہے بلکہ یہ سندھی قوم کا ایک لقب ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی کا کارٹونسٹ ارشاد حیدر زیدی کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    انہوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی گانا شروع کر دیا تھا۔ دس سال کی عمر میں انہوں نے گھر کو خیر آباد کہہ کر درباروں اور خانقاہوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔

    2006ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام آوازیں کے نام سے متھیلا ریکارڈز کے ذریعے منظر عام پر آیا۔ 2007ء میں انہوں نے ایک پاکستانی فلم خدا کے لیے کے لیے ایک گانا بھی گایا۔ 2011ء میں انہوں نے ایک برطانوی فلم ویسٹ از ویسٹ کے لیے گانا گایا اس کے علاوہ انہوں نے اس فلم میں اداکاری بھی کی۔

    شفالی شاہ کورونا کا شکار ہو گئیں

  • عامر خان کی لال سنگھ چڈھا  کے بعد شاہ رخ کی فلم پٹھان کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ

    عامر خان کی لال سنگھ چڈھا کے بعد شاہ رخ کی فلم پٹھان کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ

    حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم لال سنگھ چڈھا بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی ہے اور کہا جا رہا ہےکہ ناکامی کی دیگر وجوہات میں ایک وجہ اس کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ تھا. عامر خان کی ایک پرانی وڈیو کے بیان کو بنیاد بناتے ہوئے عامر خان اور ان کی فلم کے خلاف جم کر ٹرینڈ چلایا گیا اور اس اثر باکس آفس بزنس ہر ہوا.عامر خان کو اس فلم کی ناکامی سے بھاری نقصان ہوا ہے.عامر خان کے بعد شاہ رخ خان کو نشانے پر دھر لیا گیا ہے ان کی فلم پٹھان جو کہ اگلے سال جنوری میں ریلیز ہونے جا رہی ہے اس کے خلاف بھی ٹرینڈ بنا گیا ہے . اس وقت بائیکاٹ پٹھان کا ٹرینڈ زور و شور سے چل رہا ہے. شاہ رخ خان کی ایک پرانی وڈیو جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے اسکو بنیاد بنایا گیا ہے اور کہا جا

    رہا ہے کہ شاہ رخ خان کی فلم کا بائیکاٹ کیا جائے. ارجن کپور ، ہرتیک روشن اور اکشے کمار جیسے دیگر سٹارز فلموں کے بائیکاٹ کے ٹرینڈ سے کافی ہیں پریشان. سب کا ماننا ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے ورنہ یہ چیز بڑھتے بڑھتے بہت بڑھ جائیگی اور نفرت پر مبنی اس طرح‌کے ٹرینڈز بالی وڈ کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں. یاد رہے کہ اکشے کمار کی فلم رکشا بندھن کے بائیکاٹ کا بھی ٹرینڈ چلا نتیجہ یہ ہے کہ رشکا بندھن بھی ناکامی سے دوچار ہو گئی.