Baaghi TV

Category: شوبز

  • شہروز سبزواری اپنے گھر بے بی کی آمد کے منتظر

    شہروز سبزواری اپنے گھر بے بی کی آمد کے منتظر

    اداکار شہروز سبزواری آج کل بہت خوش ہیں ان کی خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں ہے انہوں نے اپنے مداحوں سے اہلیہ صدف کے لئے دعائوں کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بہت جلد والدین بننے والے ہیں اور میں بہت خوش ہوں کہ میں پاپا بننے جا رہا
    ہوں. شہروز سبزواری کہتے ہیں کہ وہ دن جلدی آئے جب میں کہوں کہ میں پاپا بن گیا ہوں اور بچے کی دیکھ بھال کے لئے مجھے کچھ چھٹیاں کرنی ہیں. اداکار نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کام سے پندرہ بیس کی چھٹیاں مل جائیں لیکن ساتھ ہی

    یہ بھی کہا کہ پرڈیوسرز وغیرہ شاید چار پانچ دن کی چھٹیاں دیں. اداکار نے کہا کہ میری اہلیہ چاہتی ہیں کہ میں پورا مہینہ کام سے چھٹی لیکر ان کو اور بے بی کو وقت دوں. شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ میں اپنی خوشی کا اظہار لفظوں میں نہیں‌کر سکتا کہ میں کس قدر خوش ہوں کہ ہم والدین بننے جا رہے ہیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہلیہ صدف بالکل ٹھیک ہے اور گھر پر آرام کررہی ہیں. یاد رہے کہ شہروز سبزواری کی صدف کنول کے ساتھ دوسری شادی ہے اور ان کی پہلی شادی سائرہ یوسف کے ساتھ ہوئی سائرہ اور شہروز کی ایک بیٹی بھی ہے. یوں شہروز دوسری بار پاپا بننے جا رہے ہیں. شہروز نے صدف سے محبت کی شادی کی اور ان کا ماننا ہے کہ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے صدف جیسی جیون ساتھی ملی.

  • کرن جوہر کو کیوں‌ لگتا ہے کہ کبھی خوشی کبھی غم آج کے دور میں بننا ناممکن ہے؟

    کرن جوہر کو کیوں‌ لگتا ہے کہ کبھی خوشی کبھی غم آج کے دور میں بننا ناممکن ہے؟

    بالی وڈ کے بڑے فلم میکر کرن جوہر جنہوں نے 2001 میں کبھی خوشی کبھی غم بنائی تھی اس کی کاسٹ کافی ہیوی تھی ،کاسٹ میں شاہ رخ خان، کاجول ، کرینہ کپور ، ہرتیک روشن ، جیا بچن اور امیتابھ بچن شامل تھے. اس فلم کے حوالے سے کرن جوہر کا کہنا ہے کہ آج ایسی فلم بنانا ناممکن ہے. اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کرن جوہر نے کہا کہ آج وقت بدل گیا ہے انڈسٹری کے طور اطوار بدل چکے ہیں اور اتنی بڑی سٹار کاسٹ کو ایک ساتھ اکٹھا کرنا ممکن نہیں رہا. کرن جوہر نے باقاعدہ یہ بھی کہا کہ آج کوئی بھی ‘کبھی خوشی کبھی غم’ جیسی فلم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک اداکار کو ایک فریم میں لینا اتنا مہنگا ہے

    تو چھ بڑے فنکاروں کو کیسے اکٹھا کیا جائے فلم کی لاگت تو بہت بڑھ جائیگی، معاشی طور پر ایسی فلم بنانا ایک امتحان ہو گا.انہوں یہ بھی کہا کہ یقینا شائقین ایسے فنکاروں کو ایکساتھ دیکھنا چاہتے ہں لیکن یہ فی الحال ممکن نظر نہیں آتا لیکن میری دعا ہے کہ شائقین ایک سے زیادہ سٹارز کو ایک فریم میں دیکھ سکیں.
    یاد رہے کہ فلم کبھی خوشی کبھی غم تین گھنٹے کے دورا نیے کی فلم تھی اس فلم میں ایکساتھ چھ چھ سٹارز دیکھنے کو ملے تھے فلم کا میوزک اور کہانی شائقین کو بہت پسند آئی تھی اس فلم کو کافی ایوارڈز بھی ملے تھے.

  • اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

    اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

    محمد رفیع بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ان کی طبیعت میں کسی قسم کی لالچ نہیں تھی ہوتی تو وہ لتا منگیشکر کے ساتھ رائلٹی کے حصول کے معاملے میں‌کھڑے ہوتے. اسی طرح سے کہا جاتا ہے کہ کانگریس سرکار کا رفیع کا بہت احترام کرتی تھی اور اس کی وجہ پنڈت جواہر لال نہرو سے رفیع صاحب کا پیار اور احترام کا رشتہ تھا، ایک بار جواہر لال نہر و نے کہا کہ رفیع صاھب بتائیے میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں تو رفیع نے کسی مالی فائدے کی بات کرنے کی بجائے کہا کہ ریڈیو پر میرا نام رفیع بلایا جاتا ہے برائے مہربانی مجھے محمد رفیع بلایا جائے بس اتنی پابندی کروا دیجیے. پھر ایک بار یوں ہوا کہ رفیع ایک گانے کی ریکارڈنگ کے لئے کسی سٹوڈیو پہچنے وہاں دیکھا کہ ایک سازندہ باہر کھڑا ہے رفیع نے اس سے پوچھا بھئی

    کیوں کھڑے ہو تو وہ بولا سر مجھے رات کو کہا گیا صبح تم آجانا میں آگیا ہوں تو اب کہا جا رہا ہے کہ ہمارے سازندے پورے ہو چکے ہیں میں اب کیا کروں. رفیع نے کہا کہ جب تک میں باہر نہ آجائوں تم کہیں نہ جانا وہ کھڑا رفیع کا انتظار کرتا رہا جب رفیع باہر آئے تو اپنے مینجر سے کہا اس کو آج کی ساری کمائی دیدو، مینجر نے دے تو دییے پیسے لیکن گاڑی میں جا کر کہا کہ رفیع صاحب یہ کیا کیا تو رفیع بولے جب وہ گھر سے نکلا ہو گا بیوی بچوں‌نے فرمائش کی ہوگی کہ یہ لیکر آنا وہ لیکر آنا، اگر یہ نہیں‌لیکر جا پائے گا تو وہ اداس ہوں گے، بیچارا بہت آس سے آیا تھا ہم نے مدد کر دی تو کیا فرق پڑتا ہے کوئی بات نہیں اور اس بات کو بھول جاو اب. رفیع کی سادگی اور انکی صلاحتیوں کے معترف ان کے حریف بھی تھے، کہا جاتا ہے کہ گلوکار طلعت محمود، محمد رفیع کے سینیئر تھے۔ لیکن محمد رفیع کے انتقال کے وقت وہ ان کے جسد خاکی سے لپٹ کر بین کر رہے تھے کہ پہلے تم نے میرا کریئر چھینا، اور پھر میرے حصے کی موت بھی چھین لی۔

  • دھرمیندر اور شمی کپور کے محمد رفیع بارے خیالات

    دھرمیندر اور شمی کپور کے محمد رفیع بارے خیالات

    بھارتی اداکار دھرمیندر اور شمی کپور جو اپنے وقتوں میں سپر ہٹ ہیروز تھے ان دونوں پر زیادہ تر محمد رفیع کے گانے ہی پکچرائز ہوئے اور ہر دوسرا گانا ہٹ ہوا. رفیع کی آواز اور دھرمیندر اور شمی کپور کی اداکاری گانے کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتی اور دیکھنے والوں کو یوں گماں ہوتا کہ یہ رفیع نہیں بلکہ دھرمیندر یا شمی کپور خود گا رہے ہیں. یہ دونوں اداکار
    بہت زیادہ اس چیز کا خیال رکھتے تھے کہ ان پر گانا رفیع کے علاوہ کسی اور سنگر کا پکچرائز نہ ہو. ایک بار دھرمیندر نے کہا کہ رفیع کے گیتوں کا میرے کیریر کو اوپر لیجانے میں بہت بڑا ہاتھ ہے ، میں باقاعدہ فلم سازوں سے کہا کرتے تھا کہ محمد

    رفیع کا گانا ہی مجھ پر پکچرائز ہو. جس دن ان کا انتقال ہوا اس روز مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے جسم سے جان نکل گئی ہو. اداکار شمی کپورکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک آدھ بار ایسا ہوا کہ محمد رفیع کی مصروفیت کی وجہ سے کسی دوسرے گلوکار سے گانا گوا لیا، تو شمی کپور کو جب پتہ چلا تو وہ زیادہ برہم ہوئے اور کہا کہ محمع رفیع کی فراغت کا انتظار کیوں نہ کیا گیا میں کسی دوسرے گلوکار کا گانا خود پر پکچرائز نہیں ہونے دوں گا. یوں فلمساز نے رفیع کی فراغت کا انتظار کیا اور گانا انہی سے گوایا تو شمی کپور نے پکچرائز کروایا اور تنبیہ کی کہ آئندہ ایسا نہ ہو.

  • محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع اور کشور کمار اپنی اپنی جگہ منفرد گلوکار تھے محمد رفیع کی آواز نہایت ہی سافٹ تھی یہی وجہ تھی کہ ہر دوسرے ہیرو کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی آواز میں گائے گیت ان پر فلمائے جائیں،. دوسری طرف کشور کمار بھی کم نہیں تھے ان کی بھی فین فالونگ تھی لیکن ظاہر ہے کہ اُن وقتوں میں محمد رفیع کا ڈنکا بج رہا تھا.کشور کمار فلموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری کرتے تھے. پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محمد رفیع کے گیت کم اور کشور کے زیادہ ہونے لگے لیکن رفیع کی مقبولیت مرتے دم تک قائم رہی وہ نمبر ون کی پوزیشن پر پہ رہے. اُس دور کے میڈیا نے بڑی کوشش کی کہ چوٹی کے ان دونوں

    گلوکاروں کے درمیان مقابلے کی فضا قائم کی جائے لیکن ایسا ہو نہ سکا. محمد رفیع کسی کے بھی ٹیلنٹ کو کھلے دل سے تسلم کرتے تھے. وہ کشور کمار کی گائیکی کی بھی تعریف کیا کرتے تھے.یہاں تک کہ جب کشور کمار پر برا وقت آیا تو محمد رفیع نے ان کا کیرئیر بچایا. ہوا یوں کہ 1975 میں جب کانگریس سرکار نے کشور کمار اور ان کے گیتوں پر آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر چلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ کانگریس سرکار اس وقت کی پرائم منسٹر اندرا گاندھی کی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی تھی جس کے لیے کشورکمار نے زیادہ پیسے مانگ لیے تھے۔جب یہ معاملہ بگڑا تو کشور کمار پر پابندی لگا دی گئی جس سے وہ بہت پریشان تھے۔ کانگریس میں چونکہ محمد رفیع کی سنی جاتی تھی انہوں نے رفیع کا مان رکھتے ہوئے کشور کمار پر سے پابندی اٹھا لی.محمد رفیع چاہتے تو موقع کا فائدہ اٹھا سکتے تھے کشور کمار کے کیرئیر کو اچھی خاصی بریک لگ سکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا. کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع انتقال پر کشور کمار ان کے پائوں پر سر رکھ کر کئی گھنٹے روتے رہے.

  • لتا اور رفیع نے پانچ سال تک ایکساتھ کیوں  نہیں گایا؟‌

    لتا اور رفیع نے پانچ سال تک ایکساتھ کیوں نہیں گایا؟‌

    رفیع اور لتا منگیشکر کی ایک ساتھ جوڑی کو بہت زیادہ پسند کیا جانے لگا. ان دونوں کی آواز میں ریکارڈ ہوا گیت کسی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا. ہر موسیقار کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ان کے ساتھ گیت ریکارڈ کرے. دونوں اعلی درجے کے گائیک تھے لیکن اپنی اپنی ذات میں شاید سٹارز بھی تھے.محمد رفیع نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے جبکہ لتا جب کسی بات پہ اکڑ جاتی تھیں تو پھر آسانی سے پیچھے نہیں ہٹتی تھیں. ایک بار ایسا ہوا کہ رائلٹی کی بات چھڑ گئی لتا منگیشکر نے اپنے ساتھ کچھ گلوکاروں‌کو ملا لیا اور ڈیمانڈ کی کہ ہمیں گیتوں کی رائلٹی ملنی چاہیے لیکن محمد رفیع

    نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ اس معاملے میں بہت واضح موقف اپنائے ہوئے تھے کہ جب ہم گانا گانے کا معاوضہ لے لیتے ہیں تو پھر رائلٹی کے چکر میں‌کیوں‌پڑیں، ادھر لتامنگیشکر پوری مہم چلا رہی تھیں. ایک دن مکیش لتا اور رفیع ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے گلوکار مکیش نے رفیع سے پوچھا کہ یہ رائلٹی کا سین کب تک چلے گا تو رفیع بولے اس مہارانی سے پوچھو جو بیٹھی ہوئی ہے لتا کو رفیع کی یہ بات بہت بری لگی انہوں نے کہا کہ یہ کس طرح بات کررہے ہیں، رفیع نے کہا لتا دیکھو اگر یہی سب چلتا رہا تو ہم دونوں ایکساتھ نہیں گا سکیں گے لتا نے کہا کہ آپ کیوں تکلیف کریں گے میں خود ہی آپ کے ساتھ نہ گانے کا اعلان کر دیتی ہوں لہذا اسی شام لتا نے سب موسیقاروں کو کال کرکے کہا کہ میں رفیع ایک ساتھ نہیں‌گائیں گے یوں پانچ سال تک ان دونوں‌ نے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں گایا اس کے بعد انڈسٹری کے کچھ لوگوں نے بیچ میں‌پڑ کے دونوں کی صلح کروانے کے ساتھ ساتھ ایک ساتھ گانے کی راہ کو بھی ہموار کیا.

  • صدیوں کے گلوکار محمد رفیع کی آج 42 برسی

    صدیوں کے گلوکار محمد رفیع کی آج 42 برسی

    ہر دلعزیز گلوکار محمد رفیع کی آج 42 ویں برسی منائی جا رہی ہے. ان کا انتقال یقینا موسیقی کو ایک بڑا دھچکہ تھا آج تک ان جیسا کوئی دوسرا گلوکار پیدا نہیں ہو سکا. محمد رفیع نے بالی وڈ کے تمام بڑے ہیروز کو اپنی آواز دی.محمد رفیع 24دسمبر 1924کو امرتسر کے کوٹلہ سلطان گاﺅں میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے لاہور ایک مجعمے میں پرفارم کیا وہاں موسیقار شیام سندر موجود تھے انہوں نے اس انمول ہیرے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں ممبئی آنے کی دعوت دی، محمد رفیع کا گائیکی کا کیرئیر یہیں سے شروع ہوا اور اس کے بعد انہوں نے بڑے سے بڑے موسیقار کے ساتھ کام کیا ایسے ایسے لازوال گیت گائے کہ جن کو آج بھی سنا جاتا ہے اور شاید رہتی دنیا تک رفیع کا نام اور ان کی گائیکی رہے گی. صدیوں کے اس فنکار کی آواز کے انہی کے دور کے ہیروز دیوانے تھے.ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ رفیع کا گایا ہوا گیت اس پر پکچرائز ہو. رفیع نے ہزاروں کے حساب سے گیت گائے.

    واضح رہے کہ محمد رفیع کے والد ان کی گائیکی کے بہت خلاف تھے وہ کبھی نہیں چاہتے تھےکہ ان کا بیٹا گلوکار بنے لیکن محمد رفیع کے بڑے بھائی نے رفیع کا ساتھ دیا اور وہی ان کو لیکر ممبئی بھی گئے 1980 میں 31 جولائی کا دن تھا جب صدیوں کے اس گلوکار کو صبح سوا دس بجے دل کا دورہ پڑا اور اسی رات کو وہ دنیا چھوڑ گئے.

  • جمائما کی فلم کی پہلی جھلک، سجل علی دوپٹہ اوڑھے نظر آرہی ہیں

    جمائما کی فلم کی پہلی جھلک، سجل علی دوپٹہ اوڑھے نظر آرہی ہیں

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جو بطور پرڈیوسر اپنی پہلی فلم وٹس گوٹ ٹو ڈو ود اٹ بنا رہی ہیں.فلم میں‌ پاکستانی اداکارہ سجل علی کے علاوہ بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی بھی ہیں. اس فلم کا جب اعلان کیا گیا تو چہ مگوئیاں جاری تھیں اور کہا جا رہا تھا کہ سجل علی جمائما کی فلم میں‌ کام کررہی ہیں سجل علی نے تو اس حوالے سے کسی قسم کی تصدیق نہیں‌کی تھی لیکن جمائما گولڈ سمتھ نے جب سجل علی کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا

    پر جاری کی تو سجل علی کے مداح بہت خوش ہوئے. اس فلم کی ریلیز کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے. اب حال ہی میں پروڈکشن ٹیم نے فلم کی پہلی جھلک دکھلا دی ہے سجل علی اس میں دوپٹہ اوڑھے ہنستی مسکراتی ہوئی نظر آرہی ہیں. سجل علی کے اس پہلے انٹرنیشنل پراجیکٹ کے لئے ان کے مداح ان کو بہت سراہ رہے ہیں اور فلم میں ان کی جھلک دیکھ کر اداکارہ کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں. کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ فلم کی کہانی عمران خان اور جمائما گولڈ‌سمتھ کی شادی اور محبت کی کہانی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے غیر ملکی ان رپورٹس میں‌ کتنی صداقت ہے یہ تو فلم کی ریلیز کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن فی الحال پاکستانی بھی اس فلم کی ریلیز کے منتظر ہیں.

  • محبت پر شنیرا اکرم کا تبصرہ

    محبت پر شنیرا اکرم کا تبصرہ

    عید الاضحی کے موقع پر ہمایوں سعید کی فلم لندن نہیں‌جائونگا ریلیز ہوئی ہے اس فلم کو عوامی سطح پر بہت پسند کیا جا رہا ہے.شائقین کی ایک بڑی تعداد اس فلم کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دے رہی ہے لیکن اداکارہ نور بخاری جنہوں نے شوبز کو خیرباد کہہ دیا ہوا ہے انہوں نے لندن نہیں جائونگا دیکھی اور اداکار و پرڈیوسر ہمایوں سعید پر برسا دئیے تنقید کے نشتر. انہوں نے ہمایوں سعید کو مشورہ دیا کہ اپنی عمر کے حساب سے کردار کریں اس عمر میں اس طرح کے

    کرار اچھے نہیں‌لگتے جو آپ نے لندن نہیں‌جائونگا میں‌کیا ہے. اداکارہ نور بخاری کے اس قسم کے مشورے پر رد عمل دیتے ہوئے وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کہا ہے کہ میں نہیں جانتی کہ نور کیا کہنا چاہ رہی ہیں لیکن میرے حساب سے محبت تو کسی بھی عمر میں‌ہوجاتی ہے، اور بعض لوگوں‌کو تو محبت بڑی عمر میں جا کر ملتی ہے.انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت سارے لوگ طلاق یافتہ ہیں، غیر شادی شدہ ، بیوائیں ہیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے. محبت کرنے کےلئے کوئی خاص عمر نہیں‌ہے. میرے تجربے کے مطابق زندگی کے دوسرے حصے میں ناقابلِ یقین محبت کی کہانیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

  • ریمبو کو کس چیز سے ملتی ہے خوشی ؟

    ریمبو کو کس چیز سے ملتی ہے خوشی ؟

    پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامہ گیسٹ ہائوس نے بہت سارے آرٹسٹوں کو راتوں رات سٹار بنا دیا تھا اور افضل خان عرف جان ریمبو کا شمار بھی انہی آرٹسٹوں میں‌ہوتا ہے جو رات رات سٹار بن گئے. جان ریمبو کہتے ہیں کہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب میں کہیں جائوں اور کوئی مجھے کہے کہ گیسٹ ہائوس کا فلاں ڈائیلاگ سنائیں. اس دور میں کیا جانے والا کام ایسا تھا کہ جو لوگوں کو آج تک یاد ہے. میرا اصل نام افضل خان ہے لیکن جان ریمبو نام میرے زندگی سے جڑ چکا ہے یہ میرا اثاثہ ہے.

    جان ریمبو نے اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن اس ٹیلنٹ کو ضائع کیا جا رہا ہے مجھے اس چیز کا بہت افسوس ہے. بہت سارے ملکوں میں ٹی وی کواصلاح کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور وہ اس پلیٹ فارم سے اسی قسم کا کام لے رہے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں‌کررہے . ٹی وی ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے اور اس میڈیم سے جو فائدے اٹھانے چاہیں تھے ان فوائد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے. ہمارے لکھاریوں‌کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی راہنمائی کرے. رائٹرز معاشرے میں‌تبدیلی لانے کا باعث بھی بنتے ہیں اور ہمارے ہاں بہت اچھے رائٹرز ہر دور میں ہی رہے ہیں