Baaghi TV

Category: شوبز

  • پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامور مصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : صادقین کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا . خطاطی ان کا خاندانی فن تھا، سادات امروہہ کے جس گھرانے میں انہوں نے 30 جون 1930ء کوآنکھ کھولی وہ فنِ خطاطی کےحوالےسے پہچانا جاتا تھاصادقین کی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی ہوئی، پھرآگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور جب ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آگئے۔

    طالب علمی کے زمانے ہی سے صادقین گھروں کی دیواروں پر نقاشی، تصویر کشی اور خطاطی کیا کرتے تھے۔ چوبیس برس کی عمر میں صادقین کے فن پاروں کی پہلی نمائش کوئٹہ میں ہوئی۔ 1960ء میں صادقین کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اکتیس برس کی عمر میں صادقین کو فرانس کے اعلیٰ سول اعزاز کا حقدار قراردیا گیا۔

    صادقین کی وجہ شہرت فن مصوری کے کسی ایک شعبے میں کمال دکھانے کے باعث نہیں تھی بلکہ انہوں نے مصوری کے کئی شعبوں میں ایسے کمالات دکھائے ہیں کہ اب شاید ہی کوئی ان کی جگہ اس قدر ہمہ جہت انداز میں اپنا فن پیش کرسکے۔ صادقین نے سینکڑوں فن پارے تخلیق کیے اور ان میں سے زیادہ تر اپنے مداحوں کو بطور تحفہ عنایت کردیے۔ صادقین کی تخلیقات کی مشرق وسطیٰ، امریکا اور یورپ میں کامیاب نمائشیں ہوئیں۔

    1970ء میں انہوں نے سورۂ رحمن کی آیات کو انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیا اور مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد ڈالی۔

    صادقین کے دوستوں کا کہنا تھا کہ اکثر فنکاروں کی طرح صادقین کی شخصیت میں یکسر مختلف اور متضاد رنگ موجود تھے۔ اٹھائیس فروری 2002ء کو موہٹّا پیلس میوزیم، کراچی میں ڈان میڈیا گروپ کے سربراہ حمید ہارون کے زیرانتظام صادقین کے فن پاروں کی نمائش منعقد کی گئی تھی، جس میں صادقین کے دو سو سے زائد نایاب شاہکار پیش کیے گئے۔

    اس نمائش کے ذریعے صادقین کے اندر چھپا وہ ہمہ جہت فنکار سامنے آسکا جو شاید فوجی آمر ضیاءالحق کی اسلامائزیشن کے نام پر فنون لطیفہ کو تباہ کرنے کی پالیسی کی بناء پر محض خطاطی کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا تھا۔ مذکورہ نمائش کے منتظمین نے بطور خاص یہ کوشش کی تھی کہ عام لوگ چونکہ صادقین کو صرف اسلامی خطاطی کے حوالے سے جانتے ہیں، اس لیے خطاطی کے فن پاروں کے بجائے صادقین کے فن کے اس شاندار رُخ کو عام لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو کہیں چھُپ گیا ہے۔ دو ہفتے جاری رہنے والی اس نمائش کو چھیاسی ہزار افراد نے دیکھا، جو صادقین کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔

    خود صادقین بھی خطاطی سے کہیں زیادہ مصوری کی دیگر جہتوں میں کیے گئے کام کو اہمیت دیتے تھے۔ ایک مرتبہ صادقین سے کسی نے پوچھا کہ کیا قرآنی آیات کی خطاطی کی وجہ سے انہیں اسلامی مصور کہا جا سکتا ہے؟ صادقین نے اختلاف کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ میرا اصل فن مصوری یعنی تصویریں بنانا ہے اور میری خطاطی بھی میری مصوری کے ہی زیرِ اثر ہے۔

    صادقین انڈیا گئے تو انہوں نے ایک بڑا عرصہ دہلی میں گزارا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی شہر امروہہ لے جانے کا اہتمام کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے پورا شہر ہی ان کے استقبال کے لیے اُمڈ آیا ہو۔ انہیں ہاتھی پر بٹھا کر جلوس کی شکل میں ان کے آبائی گھر لے جایا گیا۔ اُس وقت کی ہندوستانی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کی طرف سے اس گھر کی چابیاں بطورِ تحفہ پیش کی گئیں۔

    صادقین نے چابیاں یہ کہتے ہوئے واپس کر دیں کہ ‘میں اس گھر کو امروہہ کے باسیوں کی نذر کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ یہاں ایک کتب خانہ قائم کریں گے۔’

    صادقین اپنے فن پاروں میں میورالز کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میورالز بناتے ہوئے انہیں کچھ ایسا محسوس ہوا کرتا کہ وہ ان مناظرمیں اور ان لوگوں میں جن کی وہ تصویریں بنا رہے ہوتے ، گویا وہ ان کے چاروں اور زندہ ہیں اور وہ ان میں سانس لے رہے ہیں۔

    صادقین نے اپنا پہلا میورل کراچی ایئر پورٹ پر بنایا، کراچی میں جناح ہسپتال اور منگلا ڈیم کے علاوہ سینڑل ایکسائز لینڈ، کمشنر کلب اور سروسز کلب کی دیواروں پر موجود شاہکار صادقین کی تخلیقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1961ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی کی لائبریری میں وقت کے خزانے کے نام سے شاندار میورل تخلیق کیا، اس عظیم الشان فن پارے میں انہوں نے سقراط سے لے کر آئن اسٹائن تک ہر عہد کے علمی اور سائنسی ارتقائی ادوار کو اس قدر مہارت اور خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ دیکھنے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا ہے۔

    غالب کی صدسالہ برسی کے موقع پر 1969ء میں صادقین نے کلام غالب پر پچاس وسیع وعریض اللسٹریشنز تیار کیں۔

    صادقین کو کئی ملکی غیر ملکی ایوارڈز، انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے شاہکار ‘The Last Supper’ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان، منگلا ڈیم پاور ہاؤس، لاہور میوزیم، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جیولوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، فریئر ہال کراچی، ابو ظہبی پاور ہاؤس اور پنجاب یونیورسٹی جیسی اہم عمارتوں کے علاوہ بالخصوص پیرس کے مشہور زمانہ شانزے لیزے میں صادقین کے منقش فن پارے آنے والی نسلوں کو صادقین کی فنی عظمت کی یاد دلاتے رہیں گے۔

    بھرپور ستائش ملنے کے باوجود صادقین دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے کے بجائے اپنے فن کی دنیا میں ہی رات دن مگن رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا اس جوہر نایاب کو صحیح معنوں میں پہچان نہ سکی، وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا کو کیا دے رہے ہیں، لیکن ان کے ہم وطنوں کی بڑی تعداد ان کی صلاحیتوں سے بے خبر رہی۔

    شاید بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو کہ صادقین بہت اچھے شاعر بھی تھے، ان کی رباعیات بھی اسی قدر کمال کی ہیں جس قدر کہ ان کی مصوری کے شاہکار کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی رباعیات پر مشتمل دو کتابیں ‘رباعیاتِ صادقین خطّاط’ اور ‘رباعیاتِ صادقین نقّاش’ شائع ہوچکی ہیں۔

    صادقین کا انتقال 10 فروری 1987ء کو کراچی میں ہوا۔ انہیں سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، لیکن ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

  • برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن  پرکشش انسان قرار

    برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن پرکشش انسان قرار

    برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن کو 2020میں سائنس کے مطابق دنیا کا پرکشش ترین آدمی قرار دینے کے بعد اب پھر سے دنیا کے سب سے خوبصورت انسان قرار دے دئیے گئے ہیں. یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ برطانوی پبلشر لاڈ بائبل کی رپورٹ کہہ رہی ہے. رابرٹ پیٹنسن کو دنیا کے سب سے پرکشش انسان ہونے کا لقب ریان گوسلنگ، ادریس ایلبا، بریڈ پٹ اور ہنری کیول جیسے اداکاروں کے چہرے کی مختلف خصوصیات کا تجزیہ کرنے کے بعد دیا گیا ہے.کہا جا رہا ہے ہے کہ برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن کی خوبصورتی کو سائنسی پیمائش کے حساب سے ماپا گیا ہے. لاڈ بائبل سے بات کرتے ہوئے، سینٹر آف فیشل کاسمیٹک سرجری کے ڈاکٹر جولین ڈی سلوا نے کہا کہ’جب چہرے کے تمام عناصر کو جسمانی کمال کے لیے ناپا گیا تو اداکار رابرٹ پیٹنسن واضح طور پر فاتح تھے.

    برطانوی اداکار رابرٹ پیٹنسن کی خوبصورتی کا اندازہ قدیم یونانی حساب کے طریقہ کار، بیوٹی فائی کا گولڈن ریشیو استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جسے تاریخی طور پر جسمانی کمال کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جدید دور میں بھی اسی فارمولے کو خوبصورتی کے معیار کی پیمائش کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کےلئے اپنایا گیا ہے کہ کس شخص کی جسمانی خصوصیات کتنی پرفیکٹ ہیں۔

  • ہالی وڈ کی فلموں کی ریلیز کے حوالے سے ماہرہ خان کیا سوچتی ہیں؟

    ہالی وڈ کی فلموں کی ریلیز کے حوالے سے ماہرہ خان کیا سوچتی ہیں؟

    نامور اداکارہ ماہرہ خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ہالی وڈ کی فلمیں ریلیز ہونے سے پاکستانی سینما کو بالکل بھی فرق نہیں‌ پڑتا بلکہ ہر طرح‌کی فلمیں ریلیز ہونی چاہیں تاکہ شائقین گھروں سے نکلیں اور اپنے اپنے مزاج کے مطابق فلمیں دیکھیں اور لطف اندوز ہوں. جتنی زیادہ موویز ہوں گی چاہے وہ پاکستانی ہوں یا ہالی وڈ کی، اتنا ہی شائقین کےلئے بہتر ہے وہ کم از کم سینما گھروں کا رخ تو کریں گے. انہوں نے مزید کہاکہ ہالی وڈ کی فلموں‌کی ریلیز سے پاکستانی فلموں کو کوئی خطرہ نہیں ہے.ماہرہ خان پر اکثر ان کے ساتھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں جیسا کہ اداکار فردوس جمال نے

    ان کو اداکاری کے حوالے سے آڑھے ہاتھوں لیا تھا اور ان کو ماں کے کردار کرنے کی تجویز دی تھی اسی طرح سے رائٹر خلیل الرحمان قمر بھی ماہرہ خان کی اداکاری پر اکثر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں اپنے لکھے ہوئے ڈراموں میں ماہرہ کو کام دینے پر خود کو کوستے رہتے ہیں ماہرہ خان کسی بھی تنقید کرنے والے کو جواب نہیں دیتیں، اس حوالے سے جب ماہرہ سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو تنقید کرنے کا حق ہے کریں تنقید لیکن سوشل میڈیا پر اپنی اصلی شناخت کے ساتھ ایسا کریں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن جو اپنی شناخت تک ظاہر نہیں‌کرتے جب وہ ایسا کرتے ہیں تو عجیب ضرور لگتا ہے.

  • عامر خان بنے سیلاب متاثرین کے لئے مسیحا

    عامر خان بنے سیلاب متاثرین کے لئے مسیحا

    بالی وڈ کے بڑے سٹار عامر خان جن کی بہت زیادہ فین فالونگ ہے وہ نہ صرف اچھے انسان ہیں بلکہ درد دل رکھنے والے ایک انسان ہیں. وہ بھارت میں آنے والے سیلاب سے ہوئے پریشان اور اس سے بھی زیادہ پریشان سیلاب کے ہاتھوں مچی تباہی پر ہوئے . انہوں نے سیلاب متاثرین کے لئے 25 لاکھ روپے کا عطیہ دیا. یاد رہے کہ حال ہی میں بھارتی صوبے آسام میں سیلاب آیا ہے اور اس سیلاب نے بڑے پیمانے پر لوگوں کے گھر اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے. اسی چیز کو دیکھتے ہوئے عامر خان نے پچیس لاکھ روپے کا عطیہ دیا ہے. یہ رقم عامر خان نے آسام کے وزیراعلی کی طرف سے قائم کئے گئے ریلیف فنڈ میں جمع

    کروائی.وزیراعلی ہیمانتا شرما نے عامر خان کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بالی ووڈ اداکار عامر خان نے ریلیف فنڈ میں سیلاب متاثرین کے لیے 25 لاکھ روپے جمع کروائے ہیں۔ میڈیا نے اس خبر کو بہت چلایا.دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر سوشل میڈیا پر بھی چھا گئی اور عامر خان کے پرستار ان کے نرم دل اور انسانیت کا جذبہ رکھنے کو سراہتے رہے.
    یاد رہے کہ عامر خان کی فلم لگان کے حال ہی میں اکیس سال پورے ہوئے ہیں اور اس فلم کو نئے انداز سے برطانیہ میں ریلیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے.اس کے علاوہ ان کی لعل سنگھ چڈھا بھی ریلیز کے لئے تیار ہے اس کے لئے عامر خان کافی پر امید ہیں.

  • دس سال سے اپنی بچیوں سے نہیں ملی صوفیہ مرزا

    دس سال سے اپنی بچیوں سے نہیں ملی صوفیہ مرزا

    ماڈل صوفیہ مرزا نے کہا ہے کہ میں پچھلے دس سال سے اپنی بچیوں سے نہیں مل سکی ان سے دور رہنا بہت ہی زیادہ تکلیف دہ ہے. میرا شوہر مجھ پر جھوٹے اور غلط کیسسز بنوا رہا ہے وہ بہت زیادہ بااثر ہے. صوفیہ مرزا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا شوہر مجھ پہ دبئی میں بیٹھ کر جھوٹے پرچے درج کروا رہا ہے اور دھمکیاں دے رہا ہے. انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ میری مدد کی جائے اور میری بچیاں مجھے واپس دلانے کا انتظام کیا جائے. انہوں نے یہ بھی کہا میری بیٹیاں میرا شوہر دبئی لیکر چلا گیا ہے میں بہت پریشان ہوں مجھے ان سے ملنے نہیں‌ دیا جا رہا. قانون اور حکومت میری مدد کرے. یاد رہے کہ صوفیہ مرزا نے اپنے دوست سابق مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر اپنے سابق شوہر کے خلاف انتقامی مہم چلائی۔دبئی میں مقیم پاکستانی نژاد نارویجین شہری عمر فاروق ظہور کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ سچ ثابت نہ ہو سکی اور عدالت نے وہ مہم رد کر دی. تین ممالک کی عدالتوں نے عمر فاروق ظہور پر لگائے گئے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیسز خارج کر دئیے۔
    داکارہ صوفیہ مرزا کا اصل نام خوش بخت مرزا ہے اور ان کا شمار شہزاد اکبر کی بہترین دوستوں میں ہوتا ہے۔صوفیہ مرزا کی ان کے شوہر کے ساتھ 2008 میں طلاق ہو گئی تھی اس کے بعد سے اب تک بیٹیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں.

  • رہبرا کو کچھ سینما گھروں سے اتار دیا گیا جبکہ چوہدری کچھ سینما گھروں میں‌ چل رہی

    رہبرا کو کچھ سینما گھروں سے اتار دیا گیا جبکہ چوہدری کچھ سینما گھروں میں‌ چل رہی

    امین اقبال کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم رہبرا اور نیہا لاج کی فلم چوہدری چوبیس جون کو سینما گھروں کی زینت بنیں دونوں کو ریلیز ہوئے ایک ہفتہ سے زائد ہو چلا ہے لیکن ابھی تک دونوں نے خاطر خواہ بزنس نہیں‌کیا. رپورٹس کے مطابق فلم رہبرا نے ابھی تک چالیس لاکھ تک کا بزنس کیا ہے جبکہ فلم چوہدری نے ابھی تک پینتیس لاکھ تک کا بزنس کیا ہے. دونوں فلمیں شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہیں. چوہدری فلم کراچی کے کچھ سینما گھروں میں ابھی تک چل رہی ہے لیکن رہبرا کو تو بہت سارے سینما مالکان نے اتار دیا ہے یہی صورتحال لاہور میں بھی ہے.
    اگر دیکھیں تو ان دونوں کی پرموشن اس طرح سے نہیں کی گئی جس طرح سے باقی فلموں کی جاتی ہے. رہبرا فلم کی پرموشن میں اس کی کاسٹ نے خصوصی طور پر عائشہ عمر نے تعاون نہیں کیا، رہبرا کی پرموشنز کے دنوں میں عائشہ عمر بیرون ملک میں تھیں اور احسن خان لندن میں تھے فلم کے ڈائریکٹر امین اقبال اور پرڈیوسر

    سائرہ افضل کو کراچی میں‌ فلم کی ریلیز سے قبل عائشہ عمر کی عدم دستیابی کے باعث میڈیا میٹ اپ کینسل کرنا پڑا. اسی طرح سے فلم چوہدری کی پرموشن بھی بہت ڈھیلی رہی لاہور میں جو اسکا فنکشن ہوا اس میں شمون عباسی ، یاسر حسین و دیگر غائب تھے صرف ارباز خان اور ڈی ایس پی طارق اسلام موجود تھے یہاں تک کہ فلم کے ڈائریکٹر عظیم سجاد بھی تقریب میں موجود نہیں تھے،صحافیوں نے جب سوالات کئے کہ کاسٹ کہاں ہے فلم کی ،پرڈیوسر نیہا لاج کے پاس کوئی مناسب جواب نہیں تھا.اگر یہ کہا جائے کہ چوہدری فلم کو اسکی اپنی کاسٹ نے ہی اون نہیں کیا تو بے جا نہ ہوگا.

  • باکس آفس کوئین مہوش حیات لیکن پھر بھی نمرون ہیروئین ماہرہ خان کیوں؟

    باکس آفس کوئین مہوش حیات لیکن پھر بھی نمرون ہیروئین ماہرہ خان کیوں؟

    اداکارہ ماہرہ خان جنہوں نے ڈرامہ سیریل ہمسفر سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ان کی شہرت پاکستان سے نکل کر ہمسایہ ملک بھارت میں بھی پہنچی. یہاں تک کہ بالی وڈ کنگ کہلائے جانے والے شاہ رخ خان نے خود ان کو اپنے ساتھ فلم کرنے کی آفر کی اور ماہرہ خان نے رئیس نامی فلم کی بھی، ماہرہ خان کے کیرئیر اور زندگی کا یہ وہ موڑ تھا جس نے انہیں بڑی ہیروئین بنا دیا کیونکہ شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنا کوئی چھوٹی بات نہ تھی. ماہرہ خان کے کیرئیر پر نظر ڈالیں تو ان کی ایک آدھ فلم سپر ہٹ ہوئی اس کے علاوہ ان کی ہر دوسری فلم نے باکس آفس پر خاطر خواہ بزنس نہیں‌کیا دوسری طرف مہوش حیات کو دیکھیں تو

    ان کی تقریبا سبہی فلموں نے اچھا بزنس کیا ان کی اب تک کی فلموں‌کا بزنس اگر کل ملا کر دیکھیں تو دو ارب کے قریب بنتا ہے اور ماہرہ خان کی اب تک کی تمام فلموں‌کا بزنس مشکل سے ایک ارب بھی نہیں بنتا.اس کے باوجود ماہرہ خان کو نمبر ون ہیروئین کہا جاتا ہے اور ان کو ہر دوسرے پراجیکٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے. جتنے بھی بڑے بینرز ہیں وہ ماہرہ خان کو لیکر نہ صرف ڈرامہ،کمرشل ،فلم بنانے میں دلچپسی رکھتے ہیں بلکہ فلاپ فلمیں دینے کے باوجود وہ زیادہ چارج کرنے والے فنکاروں میں ماہرہ شامل ہیں. سمجھ سے بالا تر ہے کہ مہوش حیات جیسی اداکارہ جو باکس آفس کوئین ہے اس کی برابری میں فلاپ فلمیں دینے والی ماہرہ خان کو کھڑا کیوں کیا جاتا ہے.

  • گھبرانا نہیں  ہے نے 14 کروڑ کا بزنس کر لیا

    گھبرانا نہیں ہے نے 14 کروڑ کا بزنس کر لیا

    فلم گھبرانا نہیں ہے جو عید الطفر پر ریلیز کی گئی تھی ابھی تک سینما گھروں میں چل رہی ہے رپورٹس کے مطابق فلم نے ابھی تک 14 کروڑ کا بزنس کر لیا ہے. گھبرانا نہیں ہے کے ساتھ دیگر جتنی بھی فلمیں لگی تھیں ان میں سے کسی بھی فلم نے قابل زکر بزنس نہیں کیا. فلم گھبرانا نہیں ہے کو شائقین نے خاصا سراہا تھا کیونکہ اس میں کامیڈی ایسی تھی کہ بے ساختہ ہنسی آجائے. یہ فلم اداکار زاہد احمد اور سید جبران کی ڈیبیو تھی دونوں کو کافی سراہا گیا.خصوصی طور پر سید جبران کو تو بہت زیادہ سراہا گیا انہوں نے وکی کے کریکٹر میں اپنی جاندار اداکاری کے زریعے حقیقت کے رنگ بھرے.بہت سارے

    لوگوں نے تو گھبرانا نہیں ہے سید جبران کی فلم قرار دیا. جان ریمبو بھی کافی عرصے کے بعد کسی فلم میں دکھائی دئیے ان کے کامیڈی سٹائل نے شائقین کو ہنسنے پر مجبور کر دیا. فلم میں‌صبا قمر کی اداکاری کی بھی خاصی تعریف کی گئی.فلم کو ثاقب خان نے ڈائریکٹ کیا تھا جبکہ صبا قمر ، سید جبران، ریمبو اور زاہد احمد کے علاوہ سلیم معراج بھی تھے.صبا قمر اس فلم کے حوالے سے کہتی ہیں کہ جب میں نے یہ سکرپٹ‌پڑھا تو مجھے لگا کہ اگر پڑھ کر اتنا مزہ آرہا ہے تو کام کرکے کتنا مزہ آئیگا لہذا میں نے فورا سائن کر لی.

  • فلم لفنگےکے ٹریلرلانچ پر نازش جہانگیر کی بجائے حرامانی رہیں میڈیا کی توجہ کا مرکز

    فلم لفنگےکے ٹریلرلانچ پر نازش جہانگیر کی بجائے حرامانی رہیں میڈیا کی توجہ کا مرکز

    فلم لفنگے کا کراچی میں ہوا ٹریلر لانچ..تقریب میں سمیع خان، مانی اور حرامانی ،سلیم معراج ، نازش جہانگیر و دیگر نے شرکت کی. تقریب میں حرامانی رہیں میڈیا کی توجہ کا مرکز ، نازش جہانگیر جو کہ فلم کی ہیروئین تھیں وہ تقریب میں کافی دیر سے پہنچیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جیسے کہ اس تقریب کے لئے خصوصی طور پر تیار نہیں ہوئیں، میک اور ہئراسٹائل بلکل بھی تقریب کے حساب سے نہ تھا ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے نازش کسی دوسری مصروفیت کو چھوڑ کر ٹریلر لانچ میں صرف حاضری لگوانے آئی ہیں.نازش جہانگیر کی یہ پہلی فلم ہے اس سے وہ اپنا ڈیبیو کررہی ہیں.یاد رہے کہ فلم کو ڈائریکٹ

    عبد الخالق جبکہ فلم کو طارق حبیب نے پرڈیوس کیاہے. عبدالخالق اس فلم سے قبل سپر ہٹ ڈرامے بنا چکے ہیں جن میں کافر ،گھمنڈی ، بے باک ،محبت تجھے الوداع قابل ذکر ہیں.فلم ہارر کامیڈی ہے اور عید الاضحی پر ریلیز کی جا رہی ہےاس کے ساتھ دو بڑی فلمیں بھی ریلیز کی جا رہی ہیں جن میں‌قائداعظم زندہ باد اور لندن نہیں‌جائونگا.اب دیکھنا یہ ہے کہ مقابلے کی اس دوڑ میں فلم لفنگے اپنی جگہ بنا پاتی ہیں ہے یا نہیں .باوثوق زرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ فلم لفنگے میں چند ڈائیلاگز کافی بولڈ اور لچر تھے جن کو حذف کرنے کےلئے کہا گیا تھا.

  • شرمین عبید چنائے ہوئیں فواد خان کے کام کی معترف

    شرمین عبید چنائے ہوئیں فواد خان کے کام کی معترف

    آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے کہتی ہیں کہ ان کا فواد خان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. فواد خان ناقابل یقین حد تک ورسٹائل ہیں وہ اداکاری ایسی کرتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آپ متاثر ہوجاتے ہیں. شرمین عبید کہتی ہیں کہ فواد خان اور ان کی اداکاری یقینا لاجواب ہے. یاد رہے کہ شرمین عبید چنائے اور مارول سنیمیٹک یونیورس کے نئے پراجیکٹ مس مارول آج کل بہت چرچا میں ہے. اس سیریز میں مہوش حیات، نمرہ بچہ، ثمینہ احمد، اور فواد خان سمیت کچھ مشہور ایشیائی اداکار بھی شامل ہیں۔ شرمین عبید چنائے نے سیریز کی قسط نمبر 4 اور 5 کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان اقساط میں آپ سیریز میں کمالہ خان کی طاقتوں کی اصل میں گہرائی میں ڈوب جائیں گے، یہ دونوں اقساط سیریز کی دیگر اقساط سے تھوڑی مختلف ہیں.

    میڈیا نے جب ان سے فواد خان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ پوچھا تو انہوں نے دل کھول کر اداکار کی تعریف کی. یاد رہے کہ فواد خان ایک عرصے سے اداکاری کے کسی پراجیکٹ میں نظر نہیں آئے کہا جا رہا ہے کہ رواں برس ان کی مولا جٹ اور نیلوفر ریلیز کی جائیگی.شائقین فواد خان اور ماہرہ خان کو ایکساتھ دیکھنے کےلئے بے تاب ہیں.