Baaghi TV

Category: کھیل

  • پی سی بی کا اعلیٰ کارکردگی کا  مظاہرہ کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ  انعامات دینے کا اعلان

    پی سی بی کا اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ انعامات دینے کا اعلان

    پی سی بی کا اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ انعامات دینے کا اعلان

    باغی ٹی وی: پیشہ ورانہ فلسفے اور کارکردگی کے معیار کے درمیان ایک تعلق قائم کرنا ہی ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 21-2020کی حقیقی روح ہے ، اس ضمن میں تیس ستمبر سے شروع ہونے والے اس سیزن میں شریک کھلاڑیوں کو اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ انعامات فراہم کیے جارہے ہیں۔

    کبھی سب سے کم معاوضہ حاصل کرنے والے ڈومیسٹک کرکٹرز اب رواں سال زیادہ سے زیادہ 32 لاکھ روپے سے زائد کی رقم کماسکیں گے جوکہ سیزن 20-2019 کی نسبت 83 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال سب سے کم درجہ کٹیگری میں شامل کھلاڑی ڈومیسٹک سیزن 21-2020 میں مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے کی رقم کمائے گا جوکہ گذشتہ سال سب سے زیادہ کمائی کرنے والے کھلاڑی کی آمدن سے 7 فیصد زیادہ ہے۔

    ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 21-2020 کےشیڈول کے باضابطہ اعلان کے بعد ان کھلاڑیوں کی کمائی کا واضح حساب لگایا جاسکتا ہے، یہ سیزن پاکستان کے سب سے بہترین کھلاڑیوں کوقومی ٹی 20 کپ ، قائداعظم ٹرافی اور پاکستان کپ کے تمام یعنی دس دس میچوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کررہا ہے۔

    اے پلس کيٹيگری ميں شام 10 کھلاڑی ايک سال تک ڈیڑھ لاکھ روپے رقم ماہوار معاوضہ وصول کریں گے ۔اس کٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کومحدود طرز کی کرکٹ یعنی قومی ٹی 20 کپ اور پاکستان کپ میں میچ فیس کی مد میں 40ہزارروپے جبکہ قائداعظم ٹرافی میں فی کھلاڑی 60ہزار روپے کی میچ فیس وصول کرے گا۔اس طرح یہ کھلاڑی پورے سیزن میں مجموعی طور پر 32 لاکھ روپے کی رقم حاصل کرے گا۔

    یہ سلسلہ یہی ختم نہیں ہوتابلکہ اگر اس کٹیگری میں شامل کوئی کھلاڑی ان تینوں میں سے کسی بھی ایونٹ کے فائنل ميں رسائی حاصل کرنے ميں کامياب ہو جاتا ہے تو وہ اضافی ميچ فيس اور انعامی رقم کے ذریعے اپنی آمدن میں مزید اضافہ حاصل کرسکے گا۔

    دوسری طرف، ڈومیسٹک کرکٹ کی ڈی کٹیگری میں شامل کسی بھی کھلاڑی کی ماہانہ آمدن 40 ہزار روپے مقرر ہے تاہم میچ فیس کی مد میں انہیں بھی اے کٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کے برابررقم دی جائے گی۔ لہٰذا، ڈی کیٹیگری میں شامل اگر کوئی کھلاڑی فرسٹ الیون کے تمام 32 میچز کھیلتا ہے تو وہ اس سیزن میں 18 لاکھ روپے وصول کرے گا۔ اسی طرح اگر اس کٹیگری میں شامل کھلاڑی کسی بھی ایونٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلیتا ہے تو اضافی میچ فیس اور انعامی رقم کی مد میں اس کی آمدن میں بھی مزید اضافہ ہوجائےگا۔

    ڈی کٹیگری میں شامل کھلاڑی کی یہ آمدن ڈومیسٹک سیزن 20-2019 میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والے کھلاڑی کی آمدن سے بھی سات فيصد زيادہ ہے۔ گذشتہ سال ، فرسٹ الیون میں شامل تمام کھلاڑیوں کو ماہانہ 50 ہزار روپے کی رقم دی گئی تھی۔ ان کھلاڑیوں کو محدود طرز کی کرکٹ کھیلنے پر میچ فیس کی مد میں 40 ہزار روپےاورطویل طرز کی کرکٹ کھیلنے پر میچ فیس کی مد میں 75 ہزار روپے دئیے گئے تھے۔

    ندیم خان، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس:

    ڈائريکٹر ہائی پرفامنس نديم خان نے کہا کہ ڈوميسٹک کيلنڈر 21-2020 کو حتمی شکل ديتے وقت ہم نے نہ صرف وائٹ بال کہ تينوں عالمی مقابلوں کو مد نظر رکھا بلکہ اس بات کا بھی خيال رکھا کہ اپنے معاہدوں کو بہتر بنايا جائے جس سے کھلاڑيوں کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہو سکے اور وہ اپنی فٹنس اور فارم کے معيار کو بہتر بنا کر فرنچائز کرکٹ اور قومی ٹيم کے لیے مضبوط امیدوار بنیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو علم ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کا شمار دنيا ميں زيادہ معاوضہ کمانے والے کرکٹرز میں نہیں ہوتا لیکن ہماری کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ ان کے معاہدوں ميں بہتری لائی جائے تاکہ وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنےبہتر مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کر سکيں۔

    ندیم خان نے مزید کہا کہ پی سی بی اپنے فنڈز اور آمدن کرکٹ کے ذريعے ہی بناتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ اس آمدن کا ایک بڑا حصہ کرکٹرز اور کھیل ترقی پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا مجھے يقين ہے کہ ڈوميسٹک کرکٹرز کا اس اضافے سے ہمت اور حوصلہ بڑھے گا اور وہ نہ صرف گزشتہ سال کے مقابے ميں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کريں گے بلکہ ان میں مزید بہتر کنٹریکٹ کے حصول کا جذبہ بھی بڑھے گا۔

    نوٹ ٹو ایڈیٹرز:

    ماہوار وظیفے کا نیا اسٹرکچر:

    کٹیگری اے پلس: 10 کھلاڑی،ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ
    کٹیگری اے: 38 کھلاڑی، 85 ہزار روپے ماہانہ
    کٹیگری بی: 48 کھلاڑی، 75 ہزار روپے ماہانہ
    کٹیگری سی: 72 کھلاڑی، 65 ہزار روپے ماہانہ
    کٹیگری ڈی: 24 کھلاڑی، 40 ہزار روپے ماہانہ

    ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو ماہوار وظیفے کے ساتھ ساتھ میچ فیس بھی دی جائے گی، جس کی تفصیلا ت مندرجہ ذیل ہیں(پاکستانی روپے میں رقم):

    چار روزہ کرکٹ (فرسٹ الیون، فرسٹ کلاس): پلیئنگ الیون، 60 ہزارروپے؛ ریزرو، 24 ہزار روپے
    تین روزہ کرکٹ (سیکنڈ الیون): پلیئنگ الیون، 25ہزارروپے؛ ریزرو، 10ہزارروپے
    پچاس اوورز کرکٹ (فرسٹ الیون): پلیئنگ الیون، 40ہزارروپے؛ ریزرو، 16ہزارروپے
    پچاس اوورز کرکٹ (سیکنڈ الیون): پلیئنگ الیون، 15ہزارروپے؛ ریزرو، 6ہزارروپے
    ٹی ٹونٹی کرکٹ (فرسٹ الیون): پلیئنگ الیون، 40ہزارروپے؛ ریزرو، 16 ہزارروپے
    ٹی ٹونٹی کرکٹ (سیکنڈ الیون): پلیئنگ الیون، 15 ہزارروپے؛ ریزرو، 6 ہزارروپے
    تین روزہ کرکٹ (انڈر 19): پلیئنگ الیون، 10 ہزارروپے؛ ریزرو، 4ہزارروپے
    پچاس اوورز کرکٹ( انڈر19): پلیئنگ الیون، 5ہزارروپے؛ ریزرو، 2 ہزارروپے

    ڈومیسٹک سیزن 21-2020:

    قومی ٹی ٹونٹی کپ (فرسٹ الیون): 33 میچز؛30 ستمبر تا 18 اکتوبر؛ملتان اور راولپنڈی
    قومی ٹی ٹونٹی کپ (سیکنڈ الیون): 15 میچز؛ یکم تا 8 اکتوبر؛ لاہور
    قومی انڈر19 ون ڈے ٹورنامنٹ: 31 میچز، 13 اکتوبر تا 2 نومبر؛لاہور، مریدکے اور شیخوپورہ
    قومی انڈر 19 تین روزہ ٹورنامنٹ: 16 میچز، 5تا29نومبر؛ لاہور، مریدکے اور شیخوپورہ
    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020: 4 میچز، 14، 15 اور 17 نومبر، لاہور
    قائداعظم ٹرافی (فرسٹ الیون): 31 میچز، 25 اکتوبر تا5جنوری، کراچی
    قائداعظم ٹرافی (سیکنڈ الیون): 30 میچز، 18 اکتوبر تا13 دسمبر، کراچی
    پاکستان کپ (فرسٹ الیون): 33میچز، 8تا 31جنوری، کراچی
    پاکستان کپ (سیکنڈ الیون): 33میچز، 16 تا 24 جنوری، کراچی

  • آسٹریلوی باؤلر مِچ کلائیڈن کو ہینڈ سینٹائزر سے بال چمکانے پر جرمانہ

    آسٹریلوی باؤلر مِچ کلائیڈن کو ہینڈ سینٹائزر سے بال چمکانے پر جرمانہ

    آسٹریلوی باؤلر مِچ کلائیڈن کو ہینڈ سینٹائزر سے بال چمکانے پر جرمانہ

    باغی ٹی وی : کورونا ایس او پیز میں جاری انگلش کاؤنٹی کے دوران ہینڈ سینٹائزر سے بال چمکانے یعنی بال ٹیمپرنگ الزام پر باؤلر مِچ کلائیڈن پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    سابق آسٹریلوی باؤلر مِچ کلائیڈن پر الزام تھا کہ انہوں نے گذشتہ ماہ سسکس کاؤنٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ہینڈ سینیٹائز سے بال کو چمکایا، مڈل سیکس کے خلاف اس میچ میں سینتیس سالہ مِچ کلیڈن نے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

    کوویڈ ایس او پیز کے تحت بال کو تھوک سے چمکانے پر پابندی ہے جبکہ سابق آسٹریلوی باؤلر نے گیند پر ہینڈ سینیٹائزر ہی لگا دیا، ضابطے کی اس خلاف ورزی پر انگلش کرکٹ بورڈ حکام نے انہیں معطل کرتے ہوئے باب ولس ٹرافی میں بھی نمائندگی سے روک دیا ہے

    فاسٹ باؤلر محمد عامر جرمانے سے بال بال بچ گئے


    واضح‌ رہے کہ اس سے پہلے کرکٹر محمد عامر جرمانے سے بچ گئے ،انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران پاکستانی پیسر محمد عامر گیند کو چمکانے کیلئے لعاب کا استعمال کرتے دیکھے گئے جس کی کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران ممانعت ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق جب محمد عامر میچ کا چوتھا اور اپنا پہلا اوور کرنے آئے تو انہیں کئی بار گیند پر لعاب لگاتے دیکھا گیا مگر امپائرز کو اس کا علم نہیں ہو سکا البتہ ان کے اگلے اوور میں امپائرز کو سینی ٹائزر سے گیند صاف کرنا پڑی لیکن انہوں نے قوانین کی خلاف ورزی پر محمد عامر کیخلاف کوئی پنالٹی نہیں لگائی۔

  • آئی سی سی کا اگلا چیئرمین بھارت، آسٹریلیا یا انگلینڈ سے نہیں ہونا چاہیے،یہ ماڈل ہمیں قبول نہیں‌ :احسان مانی

    آئی سی سی کا اگلا چیئرمین بھارت، آسٹریلیا یا انگلینڈ سے نہیں ہونا چاہیے،یہ ماڈل ہمیں قبول نہیں‌ :احسان مانی

    لاہور:آئی سی سی کا اگلا چیئرمین بھارت، آسٹریلیا یا انگلینڈ سے نہیں ہونا چاہیے،یہ ماڈل ہمیں قبول نہیں‌ :اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا اگلا چیئرمین بھارت، آسٹریلیا یا انگلینڈ سے نہیں ہونا چاہیے، بِگ تھری کی وجہ سے صرف مالی ماڈل ہی غلط نہیں بلکہ ان تین ممالک نے ایونٹس بھی آپس میں بانٹ لیے ہیں۔

    غیر ملکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کا اگلا چیئرمین بھارت، آسٹریلیا یا انگلینڈ سے نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عہدے کے لیے کچھ ڈائریکٹرز نے انہیں پیشکش کی تھی لیکن وہ کبھی اس کے خواہش مند نہیں رہے۔

    احسان مانی کا مزید کہنا تھا کہ ہم بھارت سے کرکٹ کھیلے بغیر بورڈ چلا رہے ہیں کیا کرکٹ آسٹریلیا ایسا کرسکتا ہے؟انہوں نے کہا کہ بگ تھری کی وجہ سے صرف مالی ماڈل ہی غلط نہیں بلکہ ان تین ممالک نے ایونٹس بھی آپس میں بانٹ لیے ہیں۔

    احسان مانی نے کہا کہ بہت سے کرکٹ بورڈ کے ساتھ باہمی سیریز پر بات کررہے ہیں، ورلڈ کپ سمیت آئی سی سی کے 4 ایونٹس کی میزبانی کی خواہش ظاہر کی ہے، پاکستان ٹیم رواں برس نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے لیے بھی تیار ہے کیونکہ ہم دوسرے ممالک کی مدد کرنا ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔

  • ڈمی چیئرمین ہوں ! خیرباد کہہ دینا اس سے بہترہے :اقبال قاسم کا استعفیٰ پی سی بی نے منظور کرلیا

    ڈمی چیئرمین ہوں ! خیرباد کہہ دینا اس سے بہترہے :اقبال قاسم کا استعفیٰ پی سی بی نے منظور کرلیا

    لاہور: ڈمی چیئرمین ہوں خیرباد کہہ دینا اس سے بہترہے :اقبال قاسم کا استعفیٰ پی سی بی نے منظور کرلیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اقبال قاسم کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

    اقبال قاسم نے گزشتہ روز پی سی بی کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ میں لکھا :(وہ ایک) ڈمی چیئرمین ہیں جو ایک مستحق میچ ریفری بھی تجویز نہیں کرسکتا، کرکٹ کھیلنے والے ایسے کرکٹرز جو اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں ان کےساتھ ناانصافی دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔

    پی سی بی نے اقبال قاسم کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعی افسوسناک ہے کہ اقبال قاسم جیسی صلاحیتوں کے حامل ایک نامور، تجربہ کار کرکٹر رضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

    پی سی بی کے مطابق بطور کھلاڑی اور ایک ایڈمنسٹریٹر کرکٹ کے لیے ان کی خدمات شاندار ہیں، پی سی بی ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اوران کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔

    پی سی بی نے کہا ہے کہ یہ مایوس کن ہے کہ کرکٹ کمیٹی کا چیئرمین میرٹ اور ایک آزادانہ پینل کے فیصلے کا احترام کرنے کی بجائے اپنی "تجویز” پر عمل نہ کیے جانے پر استعفیٰ دے رہا ہے۔

    پی سی بی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "پی سی بی کے لیے یہ سمجھنا بھی تکلیف دہ ہے کہ جب اقبال قاسم نے 31 جنوری 2020 کو کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا تو اس وقت پی سی بی کے نئے آئین 2019 ،جوکہ 19اگست 2019 سے نافذ العمل تھا،کے تحت اس میں ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کا کردار پہلے ہی ختم ہوچکا تھا۔

    اقبال قاسم کا کہنا تھا کہ لہٰذاجب انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تو وہ جانتے تھے کہ جس نئے نظام اور ڈھانچے کے تحت یہ نئی انتظامیہ اپنا کام کررہی ہے وہاں ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پی سی بی کو امید تھی کہ ایک کارپوریٹ ادارے میں کام کرتے ہوئے اقبال قاسم اس کے آئین کی پاسداری کریں گے۔”

  • پی سی بی کی اجازت کے بعد کراچی میں کرکٹ سرگرمیاں شروع

    پی سی بی کی اجازت کے بعد کراچی میں کرکٹ سرگرمیاں شروع

    پی سی بی کی اجازت کے بعد کراچی میں کرکٹ سرگرمیوں کا آغاز

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی اجازت کے بعد کراچی میں کرکٹ سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا۔ اکیڈمیز نے کام شروع کر دیا۔ نوجوان کھلاڑی ٹریننگ میں مصروف ہیں پریکٹس میچز بھی ہونے لگے۔

    تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے باعث چار ماہ بند کرکٹ کے ویران میدان آباد ہونے لگے۔ لاک ڈاون ختم ہو گیا، کرکٹ کی سرگرمیاں شروع ہو گئیں، پی سی بی کی اجازت کے بعد کرکٹ اکیڈمیزنے شہر قائد میں کام کا آغاز کردیا۔

    مستقبل کے سٹار کرکٹ ٹریننگ میں مصروف ہیں، میچ میں بھی ان ایکشن نظر آئے، صبح شام ٹریننگ کے سیشن جاری بچے اور کوچز بھی کھیل کی بحالی پر مسرور ہوئے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایس او پیز کے تحت تمام کرکٹ اکیڈمیز کو کھیل شروع کرنے کی اجازت دی تھی.
    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرونا وائرس پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے ملک بھر میں کرکٹ کی سرگرمیوں کی مرحلہ وار، بتدریج اور محتاط بحالی کا دوبارہ سے آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے پی سی بی نے پہلے مرحلے میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ کوویڈ 19 پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے فی الحال موجودہ کرکٹرز کے لیے سہولیات کھولنے اور تفریحی کرکٹ (غیر پیشہ ور) کی دوبارہ بحالی کی اجازت دی ہے۔

    آئندہ کرکٹ سیزن کی تیاری کے لیے ایلیٹ کھلاڑیوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اس عمل کی تیاری میں پی سی بی کے میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا ہے۔دوسرے مرحلے میں پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ سیزن سے متعلق اپنے پروٹوکولز جاری کرے گا۔ پی سی بی ملک میں کورونا وائرس کی بدلتی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور اس ضمن میں جب مناسب سمجھے گا پروٹوکولز میں تبدیلی کرسکے گا

  • شائقین کرکٹ کیلیے بڑی خوشخبری، ڈومیسٹک سیزن کا شیڈول جاری،ہوں گے 208 میچ

    شائقین کرکٹ کیلیے بڑی خوشخبری، ڈومیسٹک سیزن کا شیڈول جاری،ہوں گے 208 میچ

    شائقین کرکٹ کیلیے بڑی خوشخبری، ڈومیسٹک سیزن کا شیڈول جاری،ہوں گے 208 میچ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔ شیڈول کی تیاری اس انداز سے کی گئی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کرکٹرزکے لیے فرنچائز کرکٹ اور قومی ٹیموں میں جگہ بنانا مزید آسان ہوسکے۔

    گذشتہ سال کی نسبت حالیہ سیزن میں پی سی بی نے فرسٹ الیون ٹیموں کے مابین کھیلا جانے والا قومی ٹی ٹونٹی کپ اور پاکستان کپ کے میچوں کو ڈبل لیگ کی بنیاد پر کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح قومی انڈر 19 ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ بھی ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلا جائے گا۔اس بنیاد پر ہر ٹورنامنٹ میں تمام چھ ٹیموں کو 10 لیگ میچوں میں شرکت کا موقع ملےگا، جس کے بعد 4 بہترین ٹیموں کے درمیان سیمی فائنلز ہوں گے۔ ایونٹ کی 2 بہترین ٹیمیں فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔جونیئر ٹورنامنٹ میں سیمی فائنلز کی بجائے ایونٹ کی ٹاپ 2 ٹیمیں فائنل کھیلیں گی۔

    رواں سال ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا آغاز 30 ستمبر سے شروع ہونے والے قومی ٹی ٹونٹی کپ سے ہوگا۔کوویڈ 19 کے سبب ان غیرمعمولی حالات میں شیڈول ایونٹ کا پہلا مرحلہ ملتان اور دوسرا راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔ قومی انڈر 19 ایک روزہ ٹورنامنٹ کے میچز 13 اکتوبر سے 2 نومبر تک لاہور، مریدکے اور شیخوپورہ میں کھیلے جائیں گے۔

    قومی ٹی ٹونٹی کپ اور قومی انڈر19 ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کوستمبر، اکتوبر میں منعقدکروانے کی بڑی وجہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کی نومبر میں شیڈول ڈرافٹنگ کے لیے تمام فرنچائز مالکان کی توجہ ان ابھرتے ہوئے نوجوان اور باصلاحیت کرکٹرز کی طرف مرکوز کرنا ہے۔

    سیزن کا اختتام پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ سے ہوگا۔ یہ ایونٹ 8 سے 31 جنوری تک کھیلا جائے گا۔ جس کے بعد فروری، مارچ میں شیڈول ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021 کے مقابلوں کی تیاری کا آغاز ہوجائے گا۔

    کوویڈ19 سے متعلق ہدایات کے مطابق قائداعظم ٹرافی کے دوران تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کی نقل و حرکت محدود ہوگی، جس کے سبب ایونٹ کے تمام میچز کراچی میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، قائداعظم ٹرافی، کےرواں سال تمام میچز کراچی میں کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ کے نان فرسٹ کلاس میچز 18 اکتوبر سے 13 دسمبر تک کھیلے جائیں گے جبکہ فرسٹ کلاس میچز 25 اکتوبر سےپانچ جنوری تک کھیلے جائیں گے۔

    قائداعظم ٹرافی اور پاکستان کپ کے وینیو کے لیے کراچی کا انتخاب ملک بھر میں متوقع موسمی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ ان دنوں میں ملک کے دیگر شہروں کو عمومی طور پر دھند، اوس اور دیگر حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    شیڈول کی تیاری میں پی سی بی نے آئندہ سال 15 اپریل سے شروع ہونے والے ماہ مقدس، رمضان المبارک کی تاریخوں کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔

    انڈر13، انڈر16اور ویمنز ٹورنامنٹ سمیت ایچ بی ایل پی ایس ایل 2021 ، زمباوے اور جنوبی افریقہ کی سیریز کے میچوں کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    ندیم خان، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس پی سی بی:

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہےکہ کوویڈ19 کی اس غیریقینی صورتحال میں ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کی تیاری ایک مشکل اور چیلنج سے بھرپور مرحلہ تھا تاہم ہم نے کھلاڑیوں اورکھیل کے معیار کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے کی غرض سے اس شیڈول کو تیار کیا۔

    ندیم خان کا کہنا ہے کہ اس شیڈول کی تیاری میں ایک واضح حکمت عملی اپنائی گئی اور وہ یہ ہے کہ سینئر اور ایج گروپ ٹورنامنٹ میں وائیٹ بال میچز کی تعداد میں اضافہ کیا گیاہے کیونکہ آئندہ 2سے 3 سالوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو محدود طرز کی کرکٹ کے متعدد مقابلوں میں شرکت کرنی ہے، اس کے علاوہ ان ٹورنامنٹس سے پاکستان کو محدود طرز کی کرکٹ میں اپنی عالمی رینکنگ میں بہتری لانے کا موقع بھی مل جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ڈومیسٹک میچوں کی تعداد میں اضافے سے تمام کھلاڑیوں کو اس نئے ڈومیسٹک نظام کے تحت نہ صرف اپنی صلاحیتیں دکھانے کے برابر مواقع ملیں گے بلکہ زیادہ کرکٹ سے ان کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔

    ندیم خان نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے ہائی پرفارمنس اور ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز نے شیڈول اور ٹیموں کی تیاری کے علاوہ کوچز کی تقرری اور کھیل کی مرحلہ وار واپسی سمیت دیگر اہم امور کی تشکیل کے دوران مسلسل کام کیاجو قابل ستائش ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ اب جبکہ شیڈول کی تصدیق کی جاچکی ہےتو انہیں امید ہےکہ تمام ایسوسی ایشنز کے ہیڈ کوچز اپنے کھلاڑیوں کی دستیابی کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام کھلاڑیوں کو روٹیشن پالیسی کے تحت مواقع فراہم کرنے سے متعلق ایک واضح پلان تیارکرلیں گے جس سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہوگا۔

    ڈومیسٹک سیزن 21-2020:

    قومی ٹی ٹونٹی کپ (فرسٹ الیون): 33 میچز؛30 ستمبر تا 18 اکتوبر؛ملتان اور راولپنڈی
    قومی ٹی ٹونٹی کپ (سیکنڈ الیون): 15 میچز؛ یکم تا 8 اکتوبر؛ لاہور
    قومی انڈر19 ون ڈے ٹورنامنٹ: 31 میچز، 13 اکتوبر تا 2 نومبر؛لاہور، مریدکے اور شیخوپورہ
    قومی انڈر 19 تین روزہ ٹورنامنٹ: 16 میچز، 5تا29نومبر؛ لاہور، مریدکے اور شیخوپورہ
    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020: 4 میچز، 14، 15 اور 17 نومبر، لاہور
    قائداعظم ٹرافی (فرسٹ الیون): 31 میچز، 25 اکتوبر تا5جنوری، کراچی
    قائداعظم ٹرافی (سیکنڈ الیون): 30 میچز، 18 اکتوبر تا13 دسمبر، کراچی
    پاکستان کپ (فرسٹ الیون): 33میچز، 8تا 31جنوری، کراچی
    پاکستان کپ (سیکنڈ الیون): 33میچز، 16 تا 24 جنوری، کراچی

  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے لیے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے لیے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے لیے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی : ثمن ذوالفقار ڈویلمپنٹ پینل میں شامل واحد خاتون میچ ریفری، سابق انٹرنیشنل کرکٹر صباحت رشید بھی ویمنز میچ آفیشلز پینل میں شامل

    ایک جامع عمل کے تحت سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن برائے 21-2020 کے لیے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کردیا ہے۔ سیزن کا آغاز 30 ستمبر سے شروع ہونے والے قومی ٹی ٹونٹی کپ سے ہوگا۔ ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلےجانے والے اس ایونٹ کا پہلا مرحلہ ملتان اور دوسرا مرحلہ راولپنڈی میں ہوگا۔

    پی سی بی کے 6 رکنی ایلیٹ پینل برائے میچ ریفریز میں علی نقوی (لاہور)، افتخار احمد(کراچی)، محمد انیس (لاہور)، محمد اقبال شیخ (حیدرآباد)، ندیم ارشد (فیصل آباد)اور پروفیسر جاوید ملک (ملتان)شامل ہیں جبکہ پی سی بی کے 14 رکنی ایلیٹ پینل برائے امپائرزمیں احسن رضا (لاہور)، آفتاب حسین گیلانی (بہاولپور)، آصف یعقوب (اسلام آباد)، فیصل خان آفریدی (سرگودھا)، غفار کاظمی (لاہور)، عمران جاوید (کراچی)، ناصر حسین سینئر (لاہور)، قیصر وحید (لاہور)، راشد ریاض وقار (لاہور)، ثاقب خان (ایبٹ آباد)، شوزب رضا (لاہور)، سید امتیاز اقبال (کراچی)، ولید یعقوب (لاہور)اور ضمیر حیدر (لاہور) شامل ہیں۔

    ایلیٹ پینل میں شامل یہ 20 میچ آفیشلز سیزن کے دوران فرسٹ الیون کرکٹ کے مقابلوں اور ایچ بی ایل پی ایس ایل کے میچوں میں فرائض انجام دیں گے، جس کے لیے انہیں 12 ماہ پر مشتمل کنٹریکٹ جاری کیا جائے گا۔ اس سے قبل ڈومیسٹک سیزن 20-2019 میں 18 ایلیٹ میچ آفیشلز کو کنٹریکٹ جاری کیے گئے تھے۔

    پی سی بی نے سیزن 21-2020 کے لیے ایلیٹ میچ ریفریز کی فہرست میں محمد اقبال شیخ اور ندیم ارشد کو شامل کیا ہے۔ ایلیٹ امپائرز کی نئی فہرست میں شامل آفتاب حسین گیلانی اور ولید یعقوب (ڈویلمپنٹ پینل سے ترقی پائی) جبکہ عمران جاوید، ناصر حسین سینئر، قیصر وحید، سید امتیاز اقبال اور ضمیر حیدر کو بھی پہلی بار کنٹریکٹ پیش کیا جارہا ہے۔

    ایلیٹ پینل میں جگہ حاصل نہ کرنے والے 8 میچ ریفریز اور 15 امپائرز کے لیے پی سی بی نے پہلی مرتبہ سپلیمنٹری پینل متعارف کروادیا ہے۔ ان میچ آفیشلز کو سیزن کنٹریکٹ پیش کیا جائے گا، جس کے تحت انہیں میچ فیس اور ڈیلی الاؤنس دیا جائے گا۔ یہ پینل سیکنڈ الیون کرکٹ کے میچوں میں فرائض انجام دے گا اور اگر ضرورت پڑی تو انہیں فرسٹ الیون اور ایچ بی ایل پی ایس ایل کے میچوں میں بھی ذمہ داریاں دی جاسکیں گی۔

    72 امپائرز پر مشتمل پی سی بی ڈویلمپنٹ پینل کو دو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے گروپ میں شامل امپائرز پی سی بی کے زیرانتظام ایج گروپس میچز میں ذمہ داریاں نبھائیں گے جبکہ دوسرا گروپ کلب، گراس روٹ اور اسکول کرکٹ کے میچوں میں فرائض انجام دے گا۔ ان میچوں میں میچ ریفریز کی ذمہ داریاں پی سی بی ڈویلمپنٹ پینل میں شامل 15 میچ ریفریز ادا کریں گے۔

    ڈویلمپنٹ پینل برائے میچ ریفریز میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی ثمن ذوالفقار مسلسل تیسرے سال اس پینل کاحصہ بننے میں کامیاب رہی ہیں۔اسی طرح پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے لیے ویمنز امپائرز کی فہرست کو بھی حتمی شکل دے دی ہے۔ ان امپائرز کو سیزن کنٹریکٹ دئیے جائیں گے۔ یہ آفیشلز ویمنز ڈومیسٹک میچوں میں فرائض انجام دیں گی جس کا شیڈول مناسب وقت پر جاری کردیا جائے گا۔

    آٹھ خواتین پر مشتمل اس پینل میں سب سے نمایاں نام صباحت رشید کا ہے، جنہوں نے سال 2005 سے 2007 تک پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے 13 ایک روزہ میچوں میں شرکت کی۔ 37 سالہ صباحت رشید کا تعلق لاہور سے ہے اور انہوں نے آرٹس اور ایجوکیشن میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔

    بلال قریشی، منیجر امپائرز اور میچ ریفریز:

    منیجر امپائرز اور میچ ریفریز بلال قریشی کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک پینل21-2020 کا حصہ بننے پر وہ تمام میچ آفیشلز کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کے لیےیہ سیزن بہت اچھا رہے گا اور جہاں وہ اپنے ذمہ داریاں بہترین انداز میں ادا کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا ہےکہ اس سال آئی سی سی کے 2 سابق میچ آفیشلز نے آزادانہ طور پر تمام میچ آفیشلز کی کارکردگی کاجائزہ شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ایک جامع عمل کے تحت لیا، اس عمل میں اسسمنٹ، پریزنٹیشن، انٹرویوز، قوانین کے بارے میں علم اورفیصلہ سازی کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ان میچ آفیشلز کے فٹنس ٹیسٹ بھی لیے گئے۔

    بلال قریشی نے کہا کہ پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹ میں بہترین علم اور قوانین کے بارے میں اہم معلومات کے حامل میچ آفیشلز کی تقرری کے لیے اس مربوط عمل کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اسی طرح ہم نے ایلیٹ پینل میں شامل آفیشلز کی حوصلہ افزائی کرکے ڈویلمپنٹ اور سپلیمنٹری پینل میں شامل میچ آفیشلز کو آگے بڑھنے کا ایک واضح راستہ فراہم کیا ہے۔

    ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے لیے میچ آفیشلز کا پینل:

    پی سی بی ایلیٹ پینل برائے میچ ریفریز:

    علی نقوی (لاہور)، افتخار احمد(کراچی)، محمد انیس (لاہور)، محمد اقبال شیخ (حیدرآباد)، ندیم ارشد (فیصل آباد)اور پروفیسر جاوید ملک (ملتان)۔

    پی سی بی ایلیٹ پینل برائے امپائرز:

    احسن رضا (لاہور)، آفتاب حسین گیلانی (بہالپور)، آصف یعقوب (اسلام آباد)، فیصل خان آفریدی (سرگودھا)، غفار کاظمی (لاہور)، عمران جاوید (کراچی)، ناصر حسین سینئر (لاہور)، قیصر وحید(لاہور)، راشد ریاض وقار (لاہور)، ثاقب خان (ایبٹ آباد)، شوزب رضا (لاہور)، سید امتیاز اقبال (کراچی)، ولید یعقوب (لاہور)اور ضمیر حیدر (لاہور)۔

    پی سی بی سپلیمنٹری پینل برائے میچ ریفریز:

    احمر سعید (کراچی)، علیم خان موسیٰ (کراچی)، علی گوہر(کراچی)، عزیز الرحمٰن (لاہور)، کامران چوہدری (لاہور)، خالد جمشید (لاہور)، محمد اسلم (کوئٹہ)اور تنویز افضل (فیصل آباد)۔

    پی سی بی سپلیمنٹری پینل برائے امپائرز:

    عبدالمقیت (لاہور)، احمد شہاب (لاہور)، آلِ حیدر (کراچی)، اسلم باریش (کوئٹہ)، فاروق علی خان (ایبٹ آباد)، غلام سرور(سبی)، کاشف سہیل (خانیوال)، خالد محمود سینئر(کراچی)، ماجد حسین (آزاد جموں و کشمیر)، میر داد (اسلام آباد)، محمد آصف (لاہور)، محمد عمران (سرگودھا)، محمد ساجد (چارسدہ)، طارق رشید (لاہور) اور ذوالفقار جان (چارسدہ)۔

    پی سی بی ڈویلمپنٹ پینل برائے میچ ریفریز:

    ابولحسنات راؤ(لاہور)، اللہ دِتو(اسلام آباد)، اطہر لائق (کراچی)، بلال معین الحق خلجی(لاہور)، فضلِ اکبر شاہ (پشاور)، غلام مصطفیٰ (قصور)، انعام اللہ خان(لاہور)، مسعود انور(قصور)، محمد امیر الدین انصاری (کراچی)، محمد جاوید (کراچی)، مجاہد جمشید (لاہور)، ثمن ذوالفقار (شیخوپورہ)، سمیع الحق (فیصل آباد)، سہیل ادریس (لاہور) اور سہیل خان(لاہور)۔

    پی سی بی ڈویلمپنٹ پینل برائے امپائرز(ون):

    امیر عطاء (ڈیرہ غازی خان)، عبدالواسع (کوہاٹ)، احمد ندیم(پشاور)، اکمل حیات (فیصل آباد)، آصف فاروق اعوان (گوجرنوالہ)، فاروق انور باجوہ (فیصل آباد)، فاروق جان (چارسدہ)، غیور حسین (پشاور)، حسن محمود (لاہور)، عمران اللہ اسلم (بہاولپور)، عرفان حیدر (اسلام آباد)، جاوید اشرف(لاہور)، کامران خلیل (لاہور)، خالد محمود جونیئر (کوئٹہ)، میثم ترابی(گجرخان)،محمد فیاض (پشاور)، محمد عرفان دلشاد (لاہور)، محمد کلیم (لاہور)، محمد وقاص (لاہور)، ندیم غوری (لاہور)، ندیم اقبال (ملتان)، نصر خان (مردان)، قیصر خان (لاہور)، رفیق احمد (دادو)، رانا محمد ارشد (فیصل آباد)، راوید خان (چارسدہ)، رضا اصغر (شیخوپورہ)، سیف اللہ خان (سرگودھا)، سلیم بٹ (راولپنڈی)، شمیم انصاری (کراچی)، سہیل خان (چارسدہ)، سہیل زمان خٹک (پشاور)، سلطان محمود (لورالائی)، سید فہیم احمد بخاری (کراچی)، وقار احمد (اسلام آباد)اور وسیم الدین (کوہاٹ)۔

    پی سی بی ڈویلمپنٹ پینل برائے امپائرز(ٹو):

    عاصم علوی (کراچی)، عبدالکریم (نصیرآباد)، عبدالقیوم(کراچی)، ابرار احمد (قصور)، عدنان راشد (لاہور)، اطہر علی خان (کراچی)، امین عباسی (بہاولپور)، انصر محمود (پتوکی)، عقیل عادل خان(کراچی)، عزیز الرحمٰن (کراچی)، دلشاد علی (ملتان)، حمید خان (کوئٹہ)، ہارون ملک (سرگودھا)، ہاشم علی (لودھراں)، ہدایت اللہ (پشین)، جعفر حسین(پشاور)، جمشید اقبال (پشاور)، خلیل احمد صدیقی (قصور)، مقبول احمد (فیصل آباد)، محمد عامر شریف (کوہاٹ)، محمد عارف (ڈیرہ اسماعیل خان)، محمد باسط صدیقی (لاہور)، محمد نذیر بٹ (کراچی)، محمد یوسف (ڈیرہ غازی خان)، ممتاز علی (لورالائی)، منیر احمد (قصور)، نیک محمد (کوہاٹ)، نصیر احمد (چکوال)، نوشاد خان (پشاور)، نوید خان (نوشہرہ)، نور الحکم (بونیر)، صغیر احمد (لاہور)، سیف اللہ (لاہور)، شاہد قیوم (فیصل آباد)، وقاص زیب (لاہور) اور ذیشان عارف (میرپور)۔

    پی سی بی پینل برائے ویمنز امپائرز:

    عافیہ امین (لاہور)، حمیرہ فرح (لاہور)، نازیہ نذیر(لاہور)، نزہت سلطانہ(کراچی)، رفعت مصطفیٰ (قصور)، صباحت رشید(لاہور)، سلیمہ امتیاز (کراچی) اورشکیلہ رفیق (قصور)۔

  • فاسٹ  باؤلر محمد عامر جرمانے سے بال بال بچ گئے

    فاسٹ باؤلر محمد عامر جرمانے سے بال بال بچ گئے

    فاسٹ باؤلر محمد عامر جرمانے سے بال بال بچ گئے

    باغی ٹی وی : کرکٹر محمد عامر جرمانے سے بچ گئے ،انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران پاکستانی پیسر محمد عامر گیند کو چمکانے کیلئے لعاب کا استعمال کرتے دیکھے گئے جس کی کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران ممانعت ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق جب محمد عامر میچ کا چوتھا اور اپنا پہلا اوور کرنے آئے تو انہیں کئی بار گیند پر لعاب لگاتے دیکھا گیا مگر امپائرز کو اس کا علم نہیں ہو سکا البتہ ان کے اگلے اوور میں امپائرز کو سینی ٹائزر سے گیند صاف کرنا پڑی لیکن انہوں نے قوانین کی خلاف ورزی پر محمد عامر کیخلاف کوئی پنالٹی نہیں لگائی۔

    واضح رہے کہ گیند پر لعاب لگانے کا ارتکاب کرنے والے بالر کی ٹیم پر فی اننگز دو مرتبہ وارننگ دی جا سکتی ہے جبکہ لعاب کے متواتر استعمال پر بیٹنگ سائیڈ کو پنالٹی کے پانچ رنز بھی مل سکتے ہیں جبکہ امپائرز ہر بار کھیل شروع ہونے سے قبل گیند کو صاف کرانے کے پابند ہوں گے.
    دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور جارح مزاج بلے باز شاہد خان آفریدی نے سری لنکن پریمیئر لیگ کھیلنے کا معاہدہ کر لیا ہے جس کے بعد شاہد آفریدی گال گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلیں گے۔

    شاہد آفریدی اب ایکشن میں‌ نظر آئیں گے

    گال گلیڈی ایٹرز کی ملکیت پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر کے پاس ہے۔ اطلاعات ہیں کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد بھی سری لنکن پریمیئر لیگ میں گال گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلیں گے۔ندیم عمر نے کہا کہ شاہد آفریدی ٹیم کے آئیکون پلیئر ہوں گے، سری لنکا کی لیگ میں گال کی ٹیم پاکستان کی ایمبیسڈر ہوگی

  • عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کا سوتیلی بہن سے شادی کرنے کا اعلان،دنیا حیران

    عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کا سوتیلی بہن سے شادی کرنے کا اعلان،دنیا حیران

    پرتگال :عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کا سوتیلی بہن سے شادی کرنے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کا سوتیلی بہن سے شادی کرنے کا اعلان، موٹو جی پی اسٹار میگوئل اویلیویرا نے اپنی سوتیلی بہن سے منگنی کرلی، دونوں نے 11 سال کی دوستی کے بعد ایک دوسرے کو جیون ساتھی کے طور پر قبول کیا۔

    تفصیلات کے مطابق پرتگال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت ہافتہ موٹو جی پی اسٹار میگوئل اویلیویرا نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی سوتیلی بہن سے منگنی کر لی ہے۔بتایا گیا ہے کہ میگوئل اویلیویرا اور آندریا پیمینا گزشتہ 11 سال سے ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اویلیویرا اور آندریا پیمینا کی دوستی بچن میں ہوئی تھی۔ اب دونوں نے 11 سال کے طویل ساتھ کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ شادی کر لیں۔ اس حوالے سے ریسر میگوئل اویلیویرا کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی منگیتر آندریا پیمینا بچپن سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

    دونوں ہمیشہ سے ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہونے سے قبل ہم بہت ہی بہترین دوست تھے، اور پھر آہستہ آہستہ یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ میگوئل اویلیویرا کہتے ہیں کہ ان کی منگیتر اور انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ رواں سال ہی شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے، تاہم رواں سال ان کی ایک ریس شیڈول ہے، اس لیے اب دونوں اگلے برس شادی کریں گے۔ میگوئل اویلیویرا کے والد نے اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے بچوں کے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

  • کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک نے لنکا پریمیئر لیگ کی ٹیم خریدلی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک نے لنکا پریمیئر لیگ کی ٹیم خریدلی

    لاہور:کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک نے لنکا پریمیئر لیگ کی ٹیم خریدلی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے سری لنکا میں کھیلی جانے والی ’لنکا پریمیئر لیگ‘ کی ٹیم ’گال گلیڈی ایٹرز‘ خرید لی۔

    لنکا پریمیئر لیگ میں ’گال گلیڈی ایٹرز‘ کی شمولیت کے اعلان کے لیے کراچی میں تقریب کا انعقاد ہوا جس میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے باضابطہ طور پر گال گلیڈی ایٹرز کی اونرشپ کا اعلان کیا۔ندیم عمر نے کہا کہ شاہد آفریدی ٹیم کے آئیکون پلیئر ہوں گے، سری لنکا کی لیگ میں گال کی ٹیم پاکستان کی ایمبیسڈر ہوگی۔

    اس موقع پر لیگ منتظمین کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں کرکٹ کے انعقاد کے لیے حالات کافی بہتر ہیں، پاکستانی اونر شپ میں ٹیم کی شمولیت کافی خوش آئند ہے۔

    عبوری شیڈول کے مطابق لنکا پریمیئر لیگ 14 نومبر سے 6 دسمبر تک سری لنکا کے تین مقامات پر کھیلی جاِئے گی جس میں دنیا بھر کے متعدد ٹاپ کرکٹرز نے شرکت کی تصدیق کردی ہے۔ پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت قومی ٹیم کے شیڈول سے مشروط ہوگی۔