Baaghi TV

Category: کھیل

  • کرکٹ کے میدان سے اہم خبرآگئی : محمد عامر اور حارث سہیل نے دورہ انگلینڈ کے لیے دستیابی سے معذرت کرلی

    کرکٹ کے میدان سے اہم خبرآگئی : محمد عامر اور حارث سہیل نے دورہ انگلینڈ کے لیے دستیابی سے معذرت کرلی

    لاہور:کرکٹ کے میدان سے اہم خبرآگئی : محمد عامر اور حارث سہیل نے دورہ انگلینڈ کے لیے دستیابی سے معذرت کرلی،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ تصدیق کرتا ہے کہ فاسٹ باؤلر محمد عامر اور مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل نے نجی مصروفیات کی بناء پر دورہ انگلینڈ پر روانگی سے معذرت کرلی ہے.

    محمد عامر نے اگست میں اپنے بچے کی پیدائش اور حارث سہیل نے فیملی وجوہات کی بناء پر دورے سے معذرت کی ہے.

    پاکستان 28 کھلاڑیوں اور 14 پلیئر اسپورٹ اسٹاف کو انگلینڈ بھیجے گا. پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز اگست اور ستمبر میں کھیلی جائے گی.

    سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان جلد کردیا جائے گا.

    ادھربھارتی کرکٹ ٹیم نے کرونا وائرس کی وجہ سے دورہ سری لنکا ملتوی کردیا ہے

  • بھارت کرکٹ ٹیم نے  دورہ سری لنکا کیوں ملتوی کیا،اہم وجہ سامنے آگئی

    بھارت کرکٹ ٹیم نے دورہ سری لنکا کیوں ملتوی کیا،اہم وجہ سامنے آگئی

    نئی دہلی : بھارت کرکٹ ٹیم نے دورہ سری لنکا کیوں ملتوی کیا،اہم وجہ سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق سری لنکا کرکٹ کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے خط لکھ کر دورے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں بھارتی ٹیم کا دورہ سری لنکا ممکن نہیں ہوگا۔

    سری لنکن بورڈکے مطابق کہ بھارتی ٹیم نے اس ماہ 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی کے لیےسری لنکا کا دورہ کرنا تھا تاہم ہمیں بتایا گیا ہے کہ کورونا کے باعث بھارتی ٹیم نے ابھی ٹریننگ کا آغاز بھی نہیں کیا اور وہ کرکٹ سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے اپنی حکومت اور صحت کے حکام کی ہدایات پر عمل کریں گے۔

    دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم مستقبل میں سری لنکا کے دورے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے اور بہتر موقع دیکھ کر سری لنکا کا دورہ کیا جائے گا۔بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں دورہ کرنا مناسب نہیں اور یہ کھلاڑیوں کی صحت کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں معاشی، تجارتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہیں جب کہ کئی بڑے میگا ایونٹس بھی ملتوی کردیے گئے ہیں جن میں ٹوکیو اولمپکس بھی شامل ہے۔رواں سال آسٹریلیا میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد بھی خطرے میں ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ ماہ ہوگا۔

  • جسٹس قیوم کمیشن سے تاحیات پابندی کا شکار ہونیوالے سابق فاسٹ بولر عطا الرحمن کی رپورٹ پر تنقید

    جسٹس قیوم کمیشن سے تاحیات پابندی کا شکار ہونیوالے سابق فاسٹ بولر عطا الرحمن کی رپورٹ پر تنقید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قیوم کمیشن سے تاحیات پابندی کے شکار ہونیوالے سابق فاسٹ بولر عطا الرحمن نے رپورٹ پر تنقید کی ہے

    سابق فاسٹ بولر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ کی سفارشات جھوٹ پر مبنی تھیں ،پی سی بی سے اپیل کرتا ہوں جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ کو جلادے ،جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ کی قانونی طور پر بھی اب کوئی حیثیت نہیں رہی

    جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ صرف سلیم ملک اور عطاالرحمن کی زندگی تباہ کرنے کیلئے بنائی گئی تھی

    قبل ازیں سابق فاسٹ بولر عطا الرحمان نے قومی ٹیم کے سابق کھلاڑیوں عامر سہیل اور راشد لطیف پر سوال اٹھا دیا۔ فاسٹ بولر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ راشد لطیف اور عامر سہیل نے ان سے حلف نامہ بنوایا اور میڈیا میں جاری کردیا۔ وسیم اکرم پر میچ فکسنگ کا الزام لگانے والے بتائیں جب ان کی کپتانی میں وسیم اکرم نے جنوبی افریقا کے خلاف میچ کھیلا تو کیا وہ ٹھیک ہوگئے تھے؟ جسٹس قیوم کمیشن میں اپنا بیان وسیم اکرم کے کہنے پر تبدیل کیا تھا۔ پی ایس ایل کو جوا لیگ کہنے والے خود پی ایس ایل سے منسلک ہوگئے

    خیال رہے کہ ملک میں ایک بار پھر میچ فکسنگ پر بحث جاری ہے اور ماضی کے کرکٹرز ایک دوسرے پر الزامات اور صفائیاں پیش کررہے ہیں۔

    دھمکیاں ملتی تھیں کہ عدالت میں بولے تو بوٹی بوٹی کردینگے،سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کا انکشاف

  • قومی ٹیسٹ کرکٹرز کا یونس خان اور مشتاق احمد کی تقرریوں پراظہار مسرت

    قومی ٹیسٹ کرکٹرز کا یونس خان اور مشتاق احمد کی تقرریوں پراظہار مسرت

    قومی ٹیسٹ کرکٹرز کا یونس خان اور مشتاق احمد کی تقرریوں پراظہار مسرت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے ستاروں نے دورہ انگلینڈ کے لیے یونس خان اور مشتاق احمد کی تقرریوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اگست-ستمبر میں پاکستان کو میزبان انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے۔

    مشتاق احمد کی بطور اسپن باؤلنگ کوچ اور مینٹور جبکہ یونس خان کی بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے تعیناتی نے پاکستان کی ٹیم منیجمنٹ کو مزید تقویت بخشی ہے۔ جہاں پہلے ہی مصباح الحق بطور ہیڈ کوچ اور وقار یونس باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ دورہ انگلینڈ کے لیے دونوں فارمیٹ میں مجموعی طور پر 25 کھلاڑیوں کی روانگی متوقع ہے۔

    اس سے قبل پاکستان نے 2016 اور 2018 میں انگلینڈ کا دورہ کیا۔ یہ دونوں سیریز ڈرا ہوئی تھیں جس کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل آئندہ سیریز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

    قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے یونس خان کے ہمراہ 48 اننگز میں 2628 رنز بنائے۔ اس موقع پر اظہر علی نے کہا کہ وہ یونس خان کے ہمراہ متعدد ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنا اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یونس خان وہ نان انگلش بیٹسمین ہیں جنہوں نے گذشتہ 2 دہائیوں میں انگلینڈ کی کنڈیشنز میں مسلسل رنز بنائے۔

    انہوں نے کہا کہ بہترین تکنیک، ذہنی پختگی اور میچ کے دوران ہر لمحہ بدلتی صورتحال کا جائزہ لینے کی صلاحیت کے سبب یونس خان نے میدان کے اندر اور باہر حریف ٹیموں پر اپنی دھاک بٹھائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونس خان کی تقرری درحقیقت نوجوان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتوں میں نکھار لانے کا بہترین موقع ہے۔

    اظہر علی نے کہا کہ انگلینڈ کی سیریزمیں دباؤ ہوگا، اس دوران وہ یونس خان کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ اسے قابل رشک عمل سمجھتے ہیں کہ ہماری رہنمائی کے لیے ڈریسنگ روم میں مصباح الحق، وقار یونس،یونس خان اور مشتاق احمد پر مشتمل 332 ٹیسٹ میچوں کا مشترکہ تجربہ موجود ہوگا۔

    قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان بابر اعظم بہترین فارم میں ہیں۔ انہوں نے گذشتہ 5 ٹیسٹ میچوں میں 102 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے۔ اپریل 2017 میں ان کی یونس خان کے ہمراہ 131 رنز کی شراکت آج بھی مداحوں کے ذہنوں میں نقش ہے۔

    کپتان قومی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا ہے کہ یونس خان ایک لیجنڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونس خان کی صلاحیتوں کے معترف ہیں خصوصاً جس طرح وہ اپنی اننگز کو طوالت دینے کے لیے منصوبہ بندی کیا کرتے تھے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان کے عزم، مزاحمت اور تحمل مزاجی سے بہت کچھ سیکھیں گے۔ بابراعظم نے کہا کہ یونس خان نے پاکستان کے لیے بہت سے کارنامے سرانجام دئیے ہیں اور وہ یونس خان کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔

    قومی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل گروپ کی حیثیت سے مصباح الحق اور یونس خان جیسے بڑے ناموں کو اپنے ہمراہ دیکھنا خوش آئند ہے جو ہمارے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

    قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے اوپنر شان مسعود نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری پالیکلے میں داغی جہاں ان کے اور یونس خان کے درمیان ایک مضبوط شراکت نے پاکستان کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    شان مسعود نے کہا کہ وہ یونس خان کی بطور بیٹنگ کوچ تعیناتی پر بہت پرجوش ہیں اور وہ اسے ایک نامور کھلاڑی کی خدمات کے حصول کا ایک بہترین انداز قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان کے ساتھ ہمیشہ استاد اور شاگرد والا تعلق رہا ہے، وہ ان کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کے لیے پرجوش ہیں اور اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

    شان مسعود نے کہا کہ یونس خان کیرئیر کے دوران بھی اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے، وہ اکثر خود سے زیادہ دوسرے کھلاڑیوں کی مدد کرنے میں وقت گزارتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان کو اس نئے کردار میں دیکھنے کا مطلب معلومات کا خزانہ ملنا ہے، جس سے بہت فائدہ ہوگا۔

    لیگ اسپنر یاسر شاہ ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد ان کے لیے ایک مینٹور کی حیثیت رکھتے ہیں، انہوں نے اسپن باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے بہت سے اسپنرز کی مدد کی ہے۔

    یاسر شاہ نے کہا کہ انہیں ادراک ہےکہ حالیہ ٹیسٹ میچوں میں ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں تھی تاہم انہیں موقع ملتا ہے تو وہ مشتاق احمد کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرموقع ملا تو وہ مشتاق احمد کی رہنمائی میں پاکستان کو 1996 کے بعد انگلینڈ میں پہلی ٹیسٹ سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کریں گے

  • دورہ انگلینڈ مشکل صورت حال میں ہو گا ، مل کر کام کریں گے تو کامیابی حاصل ہو گی، مشتاق احمد

    دورہ انگلینڈ مشکل صورت حال میں ہو گا ، مل کر کام کریں گے تو کامیابی حاصل ہو گی، مشتاق احمد

    دورہ انگلینڈ مشکل صورت حال میں ہو گا، مل کر کام کریں گے تو کامیابی حاصل ہو گی.، مشتاق احمد

    باغی ٹی وی ؛قومی کرکٹ ٹیم کے اسپن باولنگ کوچ مشتاق احمد کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز بالکل مختلف ماحول میں ہونے جارہی ہے ،،یہ ایک مشکل صورت حال ہے سب مل کر کام کریں گے تو کامیابی حاصل ہو گی
    ویڈیو لنک کانفرنس کرتے ہوئے مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ وہ پہلے پی سی بی کے ساتھ کنسلٹنٹ کام کررہے ہیں قومی ٹیم کے ساتھ منسلک ہونے پر وہ اللہ کے شکر گذار ہیں،،،مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ کرکٹ بالکل نئے انداز میں ہونے جارہی ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ویسٹ انڈیز سیریز کو بہت غور سے دیکھنا ہوگا ، اس وقت نوجوان فاسٹ باولرز ہی ہماری قوت ہیں تاہم انگلینڈ کے خلاف سیریز میں اسپنرز کا کردار بہت اہم ہوگا

    مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ یونس خان اور میری ذمہ داری مصباح اور وقار یونس کی مدد کرنا ہے ، اور اگر مل کر کام کریں گے تو کامیابی حاصل ہو گی مشتاق احمد کا کہنا تھاکہ طویل عرصے بعد کرکٹ میں واپسی پر کھلاڑیوں کے مسلز کی بحالی پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد کی بحالی پر کام کرنا ہوگا ٹیم کمبی نیشن پچز دیکھ کربنائیں گے،،

  • نسل پرستی صرف رنگ تک محدود نہیں ، کسی کو اسکے مذہب کی وجہ سے گھرنہ لینے دینا بھی نسل پرستی ہے، سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان

    نسل پرستی صرف رنگ تک محدود نہیں ، کسی کو اسکے مذہب کی وجہ سے گھرنہ لینے دینا بھی نسل پرستی ہے، سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان بھی نسل پرستی کے خلاف میدان میں آ گئے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے عرفان پٹھان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی صرف رنگ تک محدود نہیں ، کسی کو اسکے مذہب کی وجہ سے گھر تک نا لینے دینا بھی نسل پرستی ہے، سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان

    ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ڈیرن سیمی کے نسلی تعصب سے متعلق بیان کے بعد عرفان پٹھان نے ٹویٹ کی،عرفان پٹھان کے مطابق یہ صرف غیر ملکی کھلاڑیوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بھارت کے جنوبی حصے سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں اس طرح کی نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    عرفان پٹھان کا مزید کہنا تھا اس موضوع پر لوگوں کو تعلیم دلانا ضروری ہے۔میں 2014 میں سیمی کے ساتھ تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ واقعتا یہ ہوتا تو معاملہ ضرور زیر بحث آتا۔

    امریکہ میں جارج فلوئیڈ کی موت کے بعد سے نسل پرستی کا معاملہ زور پکڑ چکا ہے۔ اس معاملے میں امریکہ اور کئی دیگر ممالک میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ویسٹ انڈیز کے کچھ کرکٹرز بھی اس معاملے کو سامنے لائے ہیں۔ سابق کپتان ڈیرن سیمی نے کہا تھا کہ کہ انہیں اور تشارا پریرا کو آئی پی ایل کے دوران ‘کالو’ کہا جاتا تھا۔

    عرفان پٹھان نے واضح کیا کہ کیمپ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ایسا ضرور ہوا ہوگا اور لوگ اس کے بارے میں بات کرتے۔ تاہم سابق بھارتی آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسی نسلی کہانیاں اکثر سنائی دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی بھارت میں کرکٹرز اکثر ایسے الفاظ کا سامنا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ 25 مئی کو امریکی ریاست مینی سوٹا کے مینی پولیس شہر میں پولیس اہلکار کی جانب سے ایک سیاہ فام کا گلا گھونٹے جانے کے سبب 46 سالہ جارج فلائیڈ کی موت ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے اب تک امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں

    دوسری جانب جارج فلائیڈکےقتل میں ملوث تینوں ملزموں کوضمانت پررہاکردیاگیا،تینوں ملزموں کی ساڑھے7لاکھ ڈالرفی کس کے لحاظ سے ضمانت منظورکر لی گئی ہے،ضمانت کے بعد مقدمے کے فیصلے تک تینوں ملزمان ریاست مینیسوٹا سے باہر نہیں جاسکتے، قتل کے چوتھے مرکزی ملزم ڈیرک چووین کو40سال قید کی سزا ہوسکتی ہے

    سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں‌ قتل کے بعد جاری مظاہروں میں‌ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی

    امریکی مظاہرین وائٹ ہاؤس میں داخل ، ٹرمپ اہلخانہ سمیت فرار

    سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں موت ، احتجاج مظاہرے ، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو لگا دیا گیا

    امریکہ اپنے شہریوں پر تشدد بند کرے، ایران کا مطالبہ

    مظاہروں‌ کو روکنے کے لئے امریکی صدر کا فوج تعینات کرنیکا اعلان

    امریکی پولیس نے ایک اور سیاہ فام کو روکا تو وہ کون نکلا؟ ویڈیو وائرل

    امریکی شہریوں پر حکومتی بربریت پر یورپ خاموش کیوں؟ اسے ہمیشہ کیلئے منہ بند کرنا ہو گا،ایران

    امریکی پولیس کے تشدد سے ہلاک سیاہ فام کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خطرناک بیماری کا انکشاف

    جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں پر امریکی ڈیفنس چیف نے ٹرمپ کی ہدایت کے باوجود فوج کی تعیناتی کی مخالفت کر دی

    پولیس تشدد میں سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد نسلی امتیاز میں منظم طور پر اضافہ ہوا،اوبامہ

    امریکی پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے ساتھ ساتھ گرنیڈ پھینکنا شروع کر دئیے

    کچھ روز قبل امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس افسر متاثرہ شخص کی گردن پر کافی دیر تک گھٹنا رکھے بٹھا رہا جو اس کی موت کا باعث بنا۔

    امریکہ میں اس سے قبل بھی 2014 میں نیو یارک میں ایک سیاہ فام شخص پولیس کی زیرِ حراست ہلاک ہو گیا تھا۔ایرک گارنر نامی سیاہ فام شخص کو کھلے سگریٹوں کی غیر قانونی فروخت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا

     

  • دورہ انگلینڈ کا تیاری کیمپ کرونا وائرس کی وجہ سے متاثر

    دورہ انگلینڈ کا تیاری کیمپ کرونا وائرس کی وجہ سے متاثر

    دورہ انگلینڈ کا تیاری کیمپ کرونا وائرس کی وجہ سے متاثر

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : آئندہ آنے والے ہفتوں میں پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے لاجسٹک اور آپریشنل مسائل کی فراہمی ایک چیلنج ہوگا۔ لہٰذاپاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ روانگی سے قبل ٹریننگ کیمپ منعقدنہ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ قومی کرکٹ ٹیم کی جولائی کے اوائل میں انگلینڈ کے لیے مجوزہ تاریخ کو تبدیل کرکے جلد انگلینڈ روانگی پر ای سی بی سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کھلاڑیوں کو انگلینڈ میں ا ضافی پریکٹس سیشنز میں ٹریننگ کا موقع مل سکے۔

    علاوہ ازیں، کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کی کوویڈ 19 ٹیسٹنگ، انگلینڈ روانگی سے قبل لاہور میں اکھٹا ہونا اور ٹیم کی انگلینڈ میں ٹریننگ/میچ شیڈول کے حوالے سے جلد آگاہ کردیا جائے گا۔

    پی سی بی نے کھلاڑیوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کرکٹ گراؤنڈز میں ٹریننگ نہیں کرنی چاہیے اور انہیں سماجی فاصلوں کے پروٹوکلز پر سختی سے عملدرآمد کرنا چاہیے۔ یہ ہدایات ان کے اور ا ن کی فیملی کی بہتری کے لیے ہیں۔

  • ایشیا کپ کے سلسلے میں پی سی بی نے سری لنکن بورڈ کو  پیش کش کردی

    ایشیا کپ کے سلسلے میں پی سی بی نے سری لنکن بورڈ کو پیش کش کردی

    ایشیا کپ کے سلسلے میں پی سی بی نے سری لنکن بورڈ کو پیش کش کردی

    باغی ٹی وی : پاکستان اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈز ایشیا کپ 2020 کی میزبانی کا تبادلہ کرنے کیلئے رضا مند ہیں، ایونٹ کی میزبانی کا تبادلہ کرنے کی تجویز گزشتہ روز ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے اجلاس میں سامنے آئی۔

    ‏ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020 کی میزبانی پاکستان کو کرنی ہے لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے اب تک ایونٹ کے وینیو اور شیڈول کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔ ان ہی معاملات کو دیکھنے کیلئے گزشتہ روز اے سی سی ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں میزبانی کی تبادلے کی تجویز سامنے آئی۔

    اے سی سی نے اعلان کیا تھا کہ ایشیا کپ کے انعقاد کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایشیا کپ کی میزبانی کا سری لنکا کرکٹ سے تبادلہ کرنے کیلئے رضا مند ہے۔ایشیا کپ 2020 کا میزبان ملک پاکستان ہے لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے اس وقت ایشیا کپ کا انعقاد مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

    بھارت کے پاکستان آ کر نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان پہلے ہی دبئی یا کسی دوسرے وینیو پر ایونٹ کے انعقاد کا سوچ رہا تھا جو کہ اب کووڈ 19 کی وجہ سے اور بھی مشکل ہو گیا ہے
    ادھر یونس خان کے علاوہ پی سی بی نے پاکستان کی جانب سے 52 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرنے والے سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد کو دورہ انگلینڈ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اسپن باؤلنگ کوچ اور مینٹور مقرر کردیا ہے، تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز اگست، ستمبر میں کھیلی جائے گی۔ سیریز کے حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔

    مشتاق احمد اسپن باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کے ہمراہ انگلینڈ روانہ ہوں گے۔
    چیف ایکزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ مشتاق احمد کئی کھلاڑیوں کے لیے مینٹور کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ انگلش کنڈیشنز سے بخوبی واقف بھی ہیں لہٰذا وہ ہمارے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوں گے۔

  • اگر پاکستانی ٹیم یہ کام کرے تو انگلینڈ میں نتائج بہترہوں گے،دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر ہونے پر یونس خان کا پیغام

    اگر پاکستانی ٹیم یہ کام کرے تو انگلینڈ میں نتائج بہترہوں گے،دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر ہونے پر یونس خان کا پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کو دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر کردیا گیا ،مشتاق احمد اسپن باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کے ہمراہ انگلینڈ روانہ ہوں گے

    قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ میرے لیے اپنے ملک کی نمائندگی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے اور انگلینڈ کے ایک مشکل دورے کے لیے ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کا موقع ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو بلندیوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یونس خان نے کہا کہ مصباح الحق، وقار یونس، مشتاق احمد اور وہ مل کر کھلاڑیوں کی میدان کے اندر اور باہر ہر انداز میں بہترین تربیت کرنے کی کوشش کریں گے۔

    یونس خان نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے تجربے اور علم کو دوسروں تک پہنچانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی مگر دورہ انگلینڈ ان کے لیے ایک بہترین موقع ہوگا جہاں وہ بلے بازوں کی تکنیک بہتر بنانے، باؤلر کی قابلیت کو جانچنے اور ان کی ذہنی پختگی پر خصوصی توجہ دے سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں تکنیک کے ساتھ ساتھ تحمل مزاجی اور نظم وضبط درکار ہوتے ہیں اور اگر آپ ان تین شعبوں میں قابل ہوجائیں تو آپ انگلینڈ ہی نہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستان کرکٹ ٹیم اگر مؤثر ٹریننگ کرے گی تو بلاشبہ دورہ انگلینڈ میں نتائج بھی بہتر ہوں گے۔

    قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کے بیٹنگ کوچ مقرر

  • قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان  دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کے بیٹنگ کوچ مقرر

    قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کے بیٹنگ کوچ مقرر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کو دورہ انگلینڈ کے لیے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر کردیا گیا ،مشتاق احمد اسپن باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کے ہمراہ انگلینڈ روانہ ہوں گے

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹسمین اور سابق کپتان یونس خان کو دورہ انگلینڈ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا بیٹنگ کوچ تعینات کردیا گیا ہے۔

    یونس خان کے علاوہ پی سی بی نے پاکستان کی جانب سے 52 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرنے والے سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد کو دورہ انگلینڈ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اسپن باؤلنگ کوچ اور مینٹور مقرر کردیا ہے۔تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز اگست-ستمبر میں کھیلی جائے گی۔ سیریز کے حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔

    یہ فیصلہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کو ضروری اور اہم وسائل کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے جو انہیں ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

    جیسا کہ دورہ انگلینڈ کے لیے اضافی کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجا جارہا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے بہترین کوچز تعینات کیے جائیں تاکہ نوجوان کرکٹرز کے کھیل میں نکھار آسکے۔

    یونس خان نے 2000 سے 2017 تک محیط اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 118 میچوں میں 52 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 10ہزار 99 رنز بنائے۔ سری لنکا کے خلاف کراچی میں 313 رنز کی اننگز ان کے کیرئیر کی بہترین اننگز تھی جس کی بدولت انہیں آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن ملی۔

    خصوصاً انگلینڈ کے خلاف یونس خان کا ریکارڈ خاصا متاثر کن ہے۔ انگلینڈ میں کھیلے جانے والے 9 ٹیسٹ میچوں کی 16 اننگز میں یونس خان نے 50 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 810 رنز بنائے۔ اس دوران انہوں نے 2 سنچریاں (اوول 2016 میں 218 اور ہیڈنگلے 2006 میں 173 رنز کی اننگز) اور 3 نصف سنچریاں بنائیں۔

    حریف ٹیم کے خلاف پاکستان میں کھیلے گئے 2 اور متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے 6 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے مشترکہ طور پر 616 رنز بنائے۔ چیمپئن بیٹسمین نے یہاں 2 سنچریاں (دبئی میں 127 اور 118 رنز کی اننگز) اور 1 نصف سنچری بنائی۔

    اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 139 کیچز تھامنے والے یونس خان پاکستان کی تاریخ کے بہترین فیلڈر ہیں۔ دنیا کے دیگر فیلڈرز کی فہرست میں ان کا نمبر 13واں ہے۔

    اس کے علاوہ یونس خان نے 2007 میں انگلش کاؤنٹی چیمپئن شپ میں یارکشائر کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے 13 میچوں میں 48 سے زائد کی اوسط سے 824 رنز بنائے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہا مجھے خوشی ہے کہ یونس خان جیسے قد آور اور شاندار بیٹنگ ریکارڈ کے حامل کرکٹر نے اس اہم دورے کے لیے پاکستان کرکٹ کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وسیم خان نے کہا کہ انہوں نے جب اس حوالے سے یونس خان سے رابطہ کیا تو ان کا اس عہدے کے ذریعے ملک کی خدمت کرنے کا جوش اور جذبہ قابل دید تھا۔

    انہوں نے کہا کہ یونس خان کا کام کرنے کے اصول، میچ کی تیاری کا عزم اور انگلش کنڈیشنز میں کھیل کی آگاہی اور حکمت عملی پر مکمل عبور ہمارے لیے بہت قیمتی ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونس خان بہت سے موجودہ کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی بہت عزت کی جاتی ہے، بلاشبہ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی میدان کے اندر اور باہر، ہر انداز میں یونس خان کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

    چیف ایگزیکٹیو پی سی بی نے کہا کہ مشتاق احمد انگلش کنڈیشنز سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپنرز کی معاونت اور کھلاڑیوں کی مینٹورشپ کے ساتھ ساتھ میچ سے متعلق حکمت عملی کی تیاری کے لیے مصباح الحق کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔

    وسیم خان نے کہا یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آئندہ سیریز کے لیے مصباح الحق، وقار یونس ، یونس خان اور مشتاق احمد کی موجودگی کھلاڑیوں کے لیے انگلینڈ کی کنڈیشنز سے واقفیت میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان تقرریوں کا مقصد مصباح الحق کی مدد کرنا اور بہترین کارکردگی کی بدولت پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنانا ہے۔

    قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ میرے لیے اپنے ملک کی نمائندگی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے اور انگلینڈ کے ایک مشکل دورے کے لیے ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کا موقع ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو بلندیوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یونس خان نے کہا کہ مصباح الحق، وقار یونس، مشتاق احمد اور وہ مل کر کھلاڑیوں کی میدان کے اندر اور باہر ہر انداز میں بہترین تربیت کرنے کی کوشش کریں گے۔

    یونس خان نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے تجربے اور علم کو دوسروں تک پہنچانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی مگر دورہ انگلینڈ ان کے لیے ایک بہترین موقع ہوگا جہاں وہ بلے بازوں کی تکنیک بہتر بنانے، باؤلر کی قابلیت کو جانچنے اور ان کی ذہنی پختگی پر خصوصی توجہ دے سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں تکنیک کے ساتھ ساتھ تحمل مزاجی اور نظم وضبط درکار ہوتے ہیں اور اگر آپ ان تین شعبوں میں قابل ہوجائیں تو آپ انگلینڈ ہی نہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ یونس خان نے کہا کہ بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستان کرکٹ ٹیم اگر مؤثر ٹریننگ کرے گی تو بلاشبہ دورہ انگلینڈ میں نتائج بھی بہتر ہوں گے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کےچیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ وہ یونس خان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ ایک بار پھر ان کے ہمراہ پاکستان کی کرکٹ کے رنگوں میں ڈھلنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور کرکٹرز ہم دونوں کھلاڑیوں کے کیرئیرز ایک ساتھ ہی جاری رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور ہم دونوں نے مل کر پاکستان کرکٹ ٹیم کو کئی ٹیسٹ میچوں میں تاریخی کامیابیاں دلائی ہیں۔

    مصباح الحق نے کہا کہ 2010 میں جب انہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی تو اس دوران یونس خان نے ان کی بہت حمایت کی اور انہیں یقین ہے کہ دورہ انگلینڈ میں بھی انہیں یونس خان کی مکمل اسپورٹ حاصل ہوگی کیونکہ ان دونوں کا مشترکہ مقصد پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک مرتبہ پھر کامیابیوں کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

    مصباح الحق نے کہا کہ ایک محنتی بیٹسمین کی حیثیت سے یونس خان کا ریکارڈ، بطور ایک منظم کھلاڑی ان کی ساکھ اور ایک نمایاں فیلڈر کی حیثیت سے ان کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے صلاحیتیں نکھارنے اور بہترین کرکٹرز بننے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد کئی ممالک کے کھلاڑیوں کی تربیت اور مینٹورنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد کی موجودگی ہمیں سیریز سے قبل تیاریوں میں بھی مدد کرے گی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز بہت مشکل ہوگی، اس دوران بہترین دماغ اور صلاحیتوں کے حامل معروف کرکٹرز کی اسکواڈ کے ہمراہ موجودگی معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے ہم یونس خان اور مشتاق احمد دونوں کی موجودگی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے