Category: کھیل
-

PSL کی ٹکٹوں کی قیمت میں کمی ہوگی یا اضافہ ، اہم خبرآگئی
لاہور:پی ایس ایل کے ٹکٹوں کی قیمت میں کمی ہوگی یا اضافہ ، اہم خبرآگئی اطلاعات کےمطابق پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل )فائیو کے میچز کے لیے ٹکٹوں کی نئی قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز پیش کی گئی ہے۔
کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی )نے پہلی مرتبہ مکمل پی ایس ایل مکمل طور پاکستان میں ہونے کے سبب ٹکٹوں کی کمائی سے زیادہ اسٹیڈیمز بھرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔پی سی بی کے مجوزہ پلان کے مطابق ڈے میچز کے ٹکٹ کے نرخ کم رکھے جائیں گےتاہم نائٹ میچز کے لیے نرخوں میں دو سے تین سو روپے کا اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ اسی طرح میزبان شہر میں ہونے و الے اہم میچز کے ٹکٹ کی نرخوں میں بھی کچھ فرق تجویز کیا گیا ہے جبکہ جن میچز میں شائقین کی زیادہ دلچسپی نہیں ہوگی ان کے ٹکٹ سب سے کم ہوں گے۔ ٹکٹوں کے نرخوں کو چند روز میں فائنل کرکے پرنٹنگ کے لیے آرڈر دے دیاجائے گا۔ ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز بیس جنوری سے ہوگا ۔
ذرائع کےمطابق یہ بھی بتایا جا چکا ہےکہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب بیس فروری کونیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوگی جبکہ فائنل بائیس مارچ کو قذافی سٹیڈیم لاہورمیں کھیلا جائے گا۔لیگ کے میچز چار مختلف شہروں لاہور،کراچی ،راولپنڈی اور ملتان میں کھیلے جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہوگا جب پاکستان سپر لیگ مکمل طور پاکستان میں کھیلی جائے گی۔اس سے قبل لیگ یا تو مکمل طور پر متحدہ عرب امارات میں ہوئی ہے یا پھر کچھ میچز ہی پاکستان میں کھیلے گئے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے سیزن فائیو کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔
34 میچوں پر مشتمل ایونٹ کے 14 میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور ، 9 نیشنل اسٹیڈیم کراچی، 8 پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی اور 3 ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔پی ایس ایل 2020 کا افتتاحی میچ دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیموں کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا فائنل 22 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔
-

ٹانگوں سے محروم شخص کی کامیاب اسکائی ڈائیونگ دیکھنے والے خوف زدہ بھی حیران بھی
نیویارک:ٹانگوں سے محروم شخص کی کامیاب اسکائی ڈائیونگ دیکھنے والے خوف زدہ بھی حیران بھی ،ٹانگوں سے محروم شخص نے اسکائی ڈائیونگ کاخواب پورا کر لیا۔تفصیلات کے مطابق امریکا میں دونوں ٹانگوں سے محروم، 90 سالہ شخص نے اسکائی ڈائیونگ کاخواب پورا کر لیا۔
ملک میں سب ٹھیک چل رہا ہے، یہ کہنا بند کیجیے: عالیہ بھٹ
امریکی میڈیا کے مطابق اسٹین رورر اپنی عمر کے 90 سال پورے ہونے پر انہوں نے 13 ہزار فٹ کی بلندی سے جست بھری اور کامیابی سے زمین پر اترے۔امریکی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہےکہ اسٹین رورر ایک عرصے تک ریاضی اور طبعیات پڑھاتے رہے اور اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ کہ اسٹین رورر کی صاحب زادی نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی ہمت کریں اور ان کے ساتھ ہوائی جہاز سے اسکائی ڈائیونگ کریں۔بیٹی کی بات پر والد نے فوراً ہاں کہہ دیا، بیٹی نے بتایا کہ انہوں نے والد سے یہ سب مزاق میں کہا تھا لیکن ان کے والد نے اس بات کو پورا کردیکھایا۔اسٹین روررکے بارے میں بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد ٹینس کے بہترین کھلاڑی ہیں۔
فری کشمیرکا نعرہ کیوں ؟ دہلی پولیس نے طالبہ کے خلاف مقدمہ درج کردیا
اسٹین کی ٹنگوں کی محرومی کی وجہ بیٹی نے بتائی کے 80 کی دہائی میں خون کے لوتھڑوں کی وجہ سے دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئے تھے۔ان کی بیٹی کے مطابق اس عمر میں بھی ان کے والد کا حوصلہ بہت بلند ہے اور ان کا عزم کئی لوگوں کے لیے جذبہ ابھارنے کی اہم وجہ بھی ہے۔اس سے قبل وہ موٹرسائیکل کے بہترین ڈرائیور رہے ہیں۔اسٹین چھوٹی کشتی کے ذریعے کشتی رانی کے بھی ماہر ہیں۔
-

سعودی عرب بدل رہا ہے، تاریخ میں پہلی بار خواتین سائیکلنگ ریس کا انعقاد
ریاض:سعودی عرب بدل رہا ہے ، پاکستان میں تبدیلی آئے یا ناں آئے سعودی عرب میں آگئی ہے،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب میں پہلی بار مختلف شہروں میں خواتین سائیکلنگ ریس سیریز کا انعقاد کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سعودی اسپورٹ فیڈریشن(ایس ایف اے) کی جانب سے ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین سائیکلنگ ریس سیریز کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریس کی سیریز سعودی شہر جدہ، ریاض اور الخوبر میں منعقد کی گئی جس میں 1 ہزار خواتین سائیکلسٹ نے حصہ لیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی سائیکلنگ فیڈریشن کے تعاون سے ایس ایف اے نے یہ ریس منعقد کی جس کا مقصد مملکت میں سائیکلنگ کے کھیل کو فروغ دینا ہے۔ سائیکلنگ ریس 3 مرحلے پر مشتمل تھی جس کی فاتح نادیہ شوکدی قرار پائیں۔
کھیل کے پہلے مرحلے میں بھی نادیہ شوکدی نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور پہلے نمبر پر رہیں، جبکہ فلوریا مارٹیا دوسری اور الہم زید نے تیسرے پوزیشن حاصل کی۔ ریس کے دوسرے مرحلے کا کھیل بھی عمدہ رہا، فلوریا مارٹیا نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ عردہ الامودی اور سمر دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔
-

روحیل نذیر کا پہلے ٹرائلز میں ناکامی سے قومی انڈر 19 ٹیم کی قیادت تک کا سفر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رہنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین روحیل نذیر آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں قومی اسکواڈ کی قیادت کریں گے۔
ٹیپ بال سے کرکٹ کا آغاز کرنے والے روحیل نذیر نے اپنے بڑے بھائی طاہر نذیر کو دیکھتے ہوئے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ نوجوان کرکٹر نے کہا کہ اہل خانہ کی اسپورٹ کے باعث انہیں شوق کی تکمیل میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم پی سی بی پیپسی انڈر 16کرکٹ پروگرام 2015 میں ٹرائلز کے لیے منتخب نہ ہونے پروہ دلبرداشتہ ہوگئے تھے۔
آئندہ سال ٹرائلز میں کامیابی پر روحیل نذیر کو اسلام آباد انڈر 16 ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ پی سی بی پیپسی انڈر 16 دو روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2016 کے 4 میچوں میں اسلام آباد انڈر 16 کی جانب سے 394 رنزبنانے پر روحیل نذیر کو 2017 میں آسٹریلیا کے خلاف قومی انڈر 16 کرکٹ ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی سیریز میں بھی وکٹ کیپر بیٹسمین نے شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا۔
انہوں نے سیریز میں شامل 3 ایک روزہ میچوں میں 2 سنچریوں کی مدد سے 258اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں میں ایک نصف سنچری کی بدولت99 رنز اسکور کیے۔انڈر 19انٹرریجنل ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2017 میں روحیل نذیر نے 8 میچوں میں 67.67 کی اوسط سے 406 رنز بنائے۔ وکٹ کیپر بیٹسمین نے اسی سال انڈر 19 انٹرریجنل تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے 5 میچوں میں 508 رنز بنائے۔4نصف سنچریاں اور 1 سنچری اسکور کرنے والے روحیل نذیر نے ایونٹ میں63.50 کی اوسط سے رنز اسکور کیے۔
دوہزار اٹھارہ میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کرنے والے نوجوان وکٹ کیپربیٹسمین نے رواں سیزن میں قائداعظم ٹرافی کے فائنل سمیت 6 میچوں میں 320 رنز اسکور کیے۔وکٹ کیپر بیٹسمین ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کریں گے۔ وہ گذشتہ سال اسلام آباد یونائیٹڈ کے اسکواڈ کا حصہ تھے۔
پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو، قومی ٹی ٹونٹی کپ اور قائداعظم ون ڈے کپ کھیلنے والے کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا کہنا ہےکہ ڈیبیوفرسٹ کلاس میچ میں سنچری اسکور کرنا ان کے کیرئیر کی بہترین اننگز ہے۔ انہوں نے گذشتہ سال قائداعظم ٹرافی میں اسلام آباد ریجن کی نمائندگی کرتے ہوئے ایچ بی ایل کے خلاف اپنے ڈیبیو میچ کی پہلی اننگز میں 130 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔وکٹ کیپر بیٹسمین کی اننگز میں15 چوکے اور 1 چھکا شامل تھا۔
روحیل نذیر کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹر عماد وسیم نے انہیں ہمیشہ اسپورٹ کیا ، دونوں کھلاڑیوں کا تعلق ایک ہی شہر سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عماد وسیم نہ صرف انہیں اہم ٹپس دیتے بلکہ عمدہ کارکردگی دکھانے پر ہمیشہ حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
روحیل نذیر نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ان کے پسندیدہ کرکٹر اے بی ڈویلیئرز ہیں اور وہ ان کی طرح آلراؤنڈ کارکردگی دکھانے کے خواہشمند ہیں۔انہوں نے کہاکہ قومی سطح پر احمد شہزاد ان کے آئیڈیل کرکٹر ہیں ۔ روحیل نذیر نے کہا کہ دوران بیٹنگ بک فٹ پنچ ان کا پسندیدہ اسٹروک ہے۔
وکٹ کیپر بیٹسمین اے سی سی یوتھ انڈر 19 ایشیا کپ 2017 اور 2018، آئی سی سی انڈر 19کرکٹ ورلڈکپ2018 اور اے سی سی ایمرجنگ کپ2019 میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ روحیل نذیر نےگذشتہ ماہ اے سی سی ایمرجنگ ایشیا کپ 2019 کےفائنل میں شاندار سنچری اسکور کرکے جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
روحیل نذیر کا کہنا ہےکہ وہ اس سے قبل بھی پاکستان کی جانب سےمیگا ایونٹ میں شرکت کرچکے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ مختلف ایج گروپس کرکٹ میں گذشتہ دو سالوں سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے کے باعث ان کے کھیل میں نکھار آیا ہے اور جنوبی افریقہ روانگی سے قبل وہ پراعتماد ہیں۔
روحیل نذیر نے کہا کہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے منتخب کردہ اسکواڈ میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اس سے قبل بھی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں لہٰذا قومی اسکواڈ ایونٹ میں بہتر کھیل پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایونٹ کے دوران حیدر علی اور مجھ پر اہم ذمہ داری ہوگی جس پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
اسکواڈ(یکم ستمبر 2000 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاسکتا تھا):
اوپنرز: عبدالواحد بنگلزئی (کوئٹہ)، حیدر علی (راولپنڈی) اور محمد شہزاد (ملتان)۔
مڈل آرڈرز: محمد حارث (پشاور)،محمد حریرہ (سیالکوٹ) اور محمد عرفان خان (لاہور)۔
وکٹ کیپر: روحیل نذیر(کپتان)۔
آلراؤنڈرز: عباس آفریدی( پشاور)، فہد منیر (لاہور)، قاسم اکرم (لاہور)۔
اسپنرز: عامر علی (لاڑکانہ) اور آرش علی خان (کراچی)۔
فاسٹ باؤلرز: عامر خان (پشاور)، محمد وسیم جونیئر (شمالی وزیرستان) اور طاہر حسین (ملتان)۔
ٹیم منیجمنٹ:
اعجاز احمد ( ہیڈ کوچ کم منیجر)، راؤ افتخار انجم (باؤلنگ کوچ)، عبدالمجید(اسسٹنٹ کوچ)، حافظ نعیم الرسول (فزیو تھراپسٹ)، صبور احمد (ٹرینر) ، عثمان ہاشمی( اینالسٹ) ،عماد حمید (میڈیا منیجر) اورکرنل (ر)عثمان رفعت انوری(سیکورٹی منیجر) ۔
شیڈول:
19جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ اسکاٹ لینڈ
22جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ زمباوے
24جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش
9فروری 2020: فائنل -

ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش نے پاکستان کو کیا جواب دیا
ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش نے پاکستان کو کیا جواب دیا
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : بنگلہ دیش ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ کو جواب دینے سے قاصر ہے ،پاک بنگلادیش ہوم سیریز میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، مہمان ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ٹیسٹ سیریز نہیں کھیل سکتے۔ترجمان بنگلادیش بورڈ کے مطابق وہ صرف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں لیکن ٹیسٹ سیریز کے لیے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ گیند پاکستان کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ہے، اسے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ کرنا ہے۔
دوسری جانب پی سی بی بھی اپنے موقف پر قائم ہے، اس کا مطالبہ ہے کہ بنگلادیش بورڈ ٹیسٹ کرکٹ پاکستان میں نہ کھیلنے کی وجوہات بتائے۔اس سے قبل بنگلہ دیش کے ایک خبر رساں ادارے نے بتایا تھا کہ بی سی بی کے صدر ناظم الدین نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں طویل عرصے تک کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتا۔ان کا کہنا تھا کہ کوچنگ اسٹاف پاکستان میں لمبا عرصہ رہنا نہیں چاہتا۔
اس سے پہلے خیال رہے کہ پی سی بی نے بنگلا دیش کو دو بار خط لکھ کر اس کی وجہ پوچھی ہے جس میں انہیں صدارتی لیول کی سیکیورٹی کی یقین دہانی کے ساتھ کہا گیا کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم کے کامیاب دورے کے بعد بنگلا دیش کے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
پی سی بی نے ٹیسٹ سیریز جب کہ بنگلا دیش نے پہلے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کا کہا ہے تاہم پی سی بی نیو ٹرل وینیو پر سیریز نہ کھیلنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔
-

بھارت کی پوری ٹیم 44 پرآؤٹ، تاریخی ریکارڈ قائم
نئی دہلی:بھارت کی پوری ٹیم 44 پرآؤٹ، تاریخی ریکارڈ قائم کرکے بھارت نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ، اطلاعات کے مطابق بھارت میں رانجی ٹرافی کے ٹیسٹ میچ میں پوری ٹیم پہلی اننگز میں 44 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
ذرائع کےمطابق بلے بازوں کی انتہائی ناقص کارکردگی نے بھارتی بیٹنگ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔نئی دہلی کے ایئرفورس کمپلیکس میں کھیلے جارہے میچ میں مہاراشٹرا کے کپتان نے سروسز کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بلے بازوں کی ناکامی کے باعث غلط ثابت ہوا۔
بھارتی میڈیا کےمطابق پہلے ہی اوورز میں اوپنرز پویلین لوٹ گئے، ابتدا سے وکٹیں گرنے کا شروع ہوا جو بے قابو ہوگیا اور پوری ٹیم 44 کے مجموعے پر ڈھیر ہوگئی، صرف دو بیٹسمین ڈبل فیگرز میں داخل ہو سکے۔سروسز ٹیم کے پیسر پی ایس پونیا نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے دس اوورز میں صرف 11 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ پانڈے 3 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔
-

والد اوربھائی تو لنڈے کی دکان پر کام کرتے ہیں مگر مجھے…نوجوان کرکٹر قاسم اکرم کیا کہتے ہیں؟
والد اوربھائی تو لنڈے کی دکان پر کام کرتے ہیں مگر مجھے…نوجوان کرکٹر قاسم اکرم کیا کہتے ہیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے اعلان کردہ 15 رکنی قومی اسکواڈ میں شامل آلراؤنڈر قاسم اکرم کا تعلق لاہور سے ہے، اپنے پسندیدہ کھیل میں ان کی انٹری ایک بال پکر کی حیثیت سے ہوئی۔ بچپن سے کھیل کے شوقین قاسم اکرم بلاناغہ اپنے گھر کے قریب موجود ایک مقامی کرکٹ کلب میں نوجوان کھلاڑیوں کی نیٹ پریکٹس دیکھنے جایا کرتے تھے۔
قاسم اکرم نے کہا کہ ایک روز کوٹ خواجہ سعید کرکٹ کلب کے کوچ نے انہیں بال پِکر کی حیثیت سے گراؤنڈ میں آنے کی اجازت دے دی، جس سے ان میں کرکٹ کی محبت اور بڑھنے لگی۔ اس دوران زیادہ دیر گھر سے باہر رہنے پر والد نے ڈانٹ ڈپٹ کی مگر بھائیوں کی مداخلت پرقاسم کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی۔ قاسم اکرم کے والد لنڈا بازار میں واقع ایک دکان پر پرانے کپڑوں کی فروخت کا کام کرتے ہیں۔ نوجوان کرکٹر کے بھائی بھی اسی دکان پر اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔
نوجوان کرکٹر کا کہنا ہے کہ ایک روز کلب کا میچ شیڈول تھا مگر اسکواڈ میں شامل ایک کھلاڑی کی عدم دستیابی کے باعث انہیں ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے میچ میں اچھی باؤلنگ کی تو وہ فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے اپنی کلب کرکٹ ٹیم کا مستقل رکن بن گئے۔
قاسم اکرم نے کہا کہ آہستہ آہستہ کوچ کی ہدایت پر انہوں نے بیٹنگ پریکٹس کا بھی آغاز کردیا اور مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنے لگے۔ چند ماہ بعد ہی نوجوان کرکٹر کو عمدہ کارکردگی کی بدولت لاہور انڈر 16 کرکٹ ٹیم میں بطور بیٹسمین شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے لاہور کی نمائندگی کرتے ہوئے پی سی بی پیپسی انڈر 16 دو روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2016 کے 8 میچوں میں 373 رنز بنائے۔ اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر انہیں لاہورانڈر 19 کرکٹ اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا جہاں آئندہ 2 سال انہوں نے انٹر ریجنل انڈر 19 تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹس میں لاہورکی نمائندگی کی۔
رواں سال قومی انڈر 19 تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے 5 میچوں میں 260 رنز بنانے والے قاسم اکرم قومی انڈر 19 ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2019 میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہے۔ انہوں نے پانچ میچوں میں 74 کی اوسط سے 296 رنز بنائے۔ ایونٹ میں 2 سنچریاں اسکور کرنے والے بلے باز کا بہترین اسکور 131 رنز تھا۔
وہ دورہ جنوبی افریقہ اور سری لنکا سمیت اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ 2019 میں بھی قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ نوجوان کرکٹر کا کہنا ہےکہ وہ دنیا کا بہترین بلے باز بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور دنیائے کرکٹ کے دو بہترین بیٹسمین، بابراعظم اور ویرات کوہلی، ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
نوجوان کرکٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد کی موجودگی، اسکواڈ میں شامل بلے بازوں کے لیے بہت مفید ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور آلراؤنڈر وہ جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں عمدہ کھیل پیش کرکے ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسکواڈ(یکم ستمبر 2000 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاسکتا تھا)
اوپنرز: عبدالواحد بنگلزئی (کوئٹہ)، حیدر علی (راولپنڈی) اور محمد شہزاد (ملتان)۔
مڈل آرڈرز: محمد حارث (پشاور)،محمد حریرہ (سیالکوٹ) اور محمد عرفان خان (لاہور)۔
وکٹ کیپر: روحیل نذیر(کپتان)۔
آلراؤنڈرز: عباس آفریدی( پشاور)، فہد منیر (لاہور)، قاسم اکرم (لاہور)۔
اسپنرز: عامر علی (لاڑکانہ) اور آرش علی خان (کراچی)۔
فاسٹ باؤلرز: عامر خان (پشاور)، محمد وسیم جونیئر (شمالی وزیرستان) اور طاہر حسین (ملتان)۔
ٹیم منیجمنٹ:
اعجاز احمد ( ہیڈ کوچ کم منیجر)، راؤ افتخار انجم (باؤلنگ کوچ)، عبدالمجید(اسسٹنٹ کوچ)، حافظ نعیم الرسول (فزیو تھراپسٹ)، صبور احمد (ٹرینر) ، عثمان ہاشمی( اینالسٹ) ،عماد حمید (میڈیا منیجر) اورکرنل (ر)عثمان رفعت انوری(سیکورٹی منیجر) ۔
شیڈول:
19جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ اسکاٹ لینڈ
22جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ زمباوے
24جنوری 2020: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش -

پی سی بی کا اعلان :سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی تیارہوجائیں، آئندہ ہفتےفٹنس ٹیسٹ ہوں گے
لاہور:پی سی بی کا اعلان :سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی تیارہوجائیں، آئندہ ہفتےفٹنس ٹیسٹ ہوں گے،پی سی بی کی طرف سے جاری کردہ اعلان کے مطابق سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ قومی کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ آئندہ ہفتے ہوں گے، ٹیسٹ کا چوتھا مرحلہ 6 اور 7 جنوری کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوگا۔
وزیراعظم نے پناہ گاہ کے پردیسیوں کےساتھ بیٹھ کرکھانا کھایا
فٹنس ٹیسٹ قومی کرکٹرز کے سنٹرل کنٹریکٹ کا حصہ ہیں لہٰذا سنٹرل کنٹریکٹ کے حامل تمام دستیاب کھلاڑی دو روزہ فٹنس ٹیسٹ میں شرکت کریں گے۔
ہوشیار ، خبردار ! پنجاب میں پرندوں میں خطرناک وائرس پھیل گیا
اس دوران بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں مصروف تین کرکٹرز محمد عامر، وہاب ریاض اور شاداب خان ابتدائی طور پر فٹنس ٹیسٹ میں شرکت نہیں کریں گے، جس کے باعث تینوں کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ 20 اور 21 جنوری کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں کیے جائیں گے۔
کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کی نگرانی قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ یاسر ملک کریں گے۔ ہر کھلاڑی کا فٹنس ٹیسٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہوگا جن میں فیٹ اینالسز، اسٹرینتھ، اینڈیورنس، اسپیڈ اینڈیورنس اور کراس فٹ شامل ہیں۔
اس دوران مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے والے کھلاڑی پر ماہانہ ریٹینر شپ کا 15 فیصد جرمانہ عائد کردیا جائے گا۔ یہ جرمانہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک وہ فٹنس کے طے کردہ کم سے کم معیار کو حاصل نہیں کر لیتا۔
بی جے پی مسلم مخالف قانون واپس لینے کاتصوربھی نہیں کرسکتی،امیت شاہ ڈٹ گئے
اسی طرح فٹنس ٹیسٹ میں مسلسل ناکامی کی صورت میں اس کرکٹر کا سنٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنا بھی خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ مقرر کردہ معیار حاصل کرنے میں مسلسل ناکامی پر مذکورہ کھلاڑی کو سنٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری میں تنزلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ قومی کھلاڑیوں کی فٹنس کا مسلسل جائزہ لینے پر ہمیشہ زور دیتا ہے لہٰذا پی سی بی نے اس مرتبہ فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے والے کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد قومی کھلاڑیوں میں فٹنس کے بہترین معیار میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی نے کہا کہ سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو گزشتہ ماہ فٹنس کے مطلوبہ معیار کے بارے میں بتادیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام کھلاڑیوں کو مطلوبہ معیار کے حصول میں ناکامی کی صورت میں جرمانوں کے بارے میں بھی آگاہ کرچکا ہے۔
ذاکر خان نے بتایا کہ یہ فٹنس ٹیسٹ صرف سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی مستقل بنیادوں پر لیے جائیں گے تاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مصروف کھلاڑیوں کی فٹنس کا بھی مسلسل جائزہ لیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی ٹیموں میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ ان کے کوچز اور ٹرینرز کی جانب سے ترتیب دئیے گئے شیڈول کے مطابق لیے جائیں گے تاہم ٹیسٹ میں مذکورہ بالا ناکامی کی صورت میں کھلاڑی کو پاکستان کپ ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت خطرے میں پڑجائے گی۔ ایونٹ 25 مارچ سے 19 اپریل تک جاری رہے گا۔
کٹیگری اے: بابر اعظم (سنٹرل پنجاب)، سرفراز احمد (سندھ) اور یاسر شاہ (بلوچستان)۔
کٹیگری بی: اسد شفیق (سندھ)، اظہر علی (سنٹرل پنجاب)، حارث سہیل (بلوچستان)، امام الحق (بلوچستان)، محمد عباس (سدرن پنجاب)، شاداب خان (ناردرن)، شاہین شاہ آفریدی (ناردرن) اور وہاب ریاض (سدرن پنجاب)
کٹیگری سی: عابد علی (سندھ)، حسن علی (سنٹرل پنجاب)، فخر زمان (خیبرپختونخوا)، عماد وسیم (ناردرن)، محمد عامر (ناردرن)، محمد رضوان (خیبرپختونخوا)، شان مسعود (سدرن پنجاب) اور عثمان شنواری (خیبرپختونخوا)۔
-

پاکستان میں کرکٹ پچزکا معیاربہتربنانے کیلئے عالمی شہرت یافتہ کیوریٹر کی آمد
کراچی :پاکستان میں کرکٹ پچزکا معیاربہتر بنانے کیلئےعالمی شہرت یافتہ کیوریٹر کی آمد، اطلاعات کےمطابق ملک میں کرکٹ پچز کو معیاری بنانے کیلئے غیر ملکی ماہر اور شہرت یافتہ کیوریٹراینڈی اٹکنسن کو پاکستان بلالیا گیا ہے،
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کےمطابق کراچی، ملتان، پنڈی اورلاہور سینٹرز کا دورہ کریں گے اورموجودہ پچز کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تفصیلی رپورٹ دیں گے کہ ان کی کوالٹی میں کس طرح بہتری لائی جاسکتی ہے۔
وہ مقامی کیوریٹرز کے ساتھ اپنے تجربات بھی شیئر کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ اگلے سیزن میں ملک کے بڑے سینٹرز کی وکٹیں اسپورٹنگ ہوں گی جس پر بولرز کو بھی مدد ملے گی۔
دنیا کے صف اول کے پچ ماہر اور آئی سی سی کے پچ کنسلٹنٹ اینڈی اٹکنسن جمعے اور ہفتے کی درمیان شب کراچی پہنچ رہے ہیں۔اینڈی اٹکنسن دو دن کراچی، ایک ایک دن ملتان اور پنڈی اور تین دن پی سی بی ہیڈ کوارٹر لاہور میں گزاریں گے۔
10 جنوری کو اینڈی لاہور سے جنوبی افریقا روانہ ہوں گے جہاں وہ آئی سی سی انڈر19ورلڈ کپ کی پچز تیار کریں گے۔
اینڈی اٹکنسن ایک ہفتے کے دورہ پاکستان میں کسی ورکشاپ کا انعقاد نہیں کریں گے بلکہ ملک کے چاروں ٹیسٹ سینٹرز کی پچوں، مٹی کی کوالٹی اور سہولتوں کا جائزہ لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کو تفصیلی رپورٹ دیں گے۔