Baaghi TV

Category: کھیل

  • جاپانی بیس بال کوچ دوروزہ دورے پرپاکستان پہنچ گئے، پاکستانی کھلاڑیوں کےساتھ کیا سلوک کریںگے،خبرآگئی

    جاپانی بیس بال کوچ دوروزہ دورے پرپاکستان پہنچ گئے، پاکستانی کھلاڑیوں کےساتھ کیا سلوک کریںگے،خبرآگئی

    اسلام آباد :جاپانی بیس بال کوچ دوروزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے،پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ،خبر آگئی ،اطلاعات کےمطابق کازویایاگی جاپان میں نوجوان بیس بال کھلاڑیوں کو تربیت دیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے حوالے سے اپنی دلچسپی ظاہر کی جس پر انہیں فیڈریشن کی طرف سے باقاعدہ پاکستان مدعو کیا گیا ہے۔

    جاپانی بیس بال کوچ کازویایاگی اپنے دورہ پاکستان میں پہلے اسلام آباد بیس بال اکیڈمی پہنچے۔ اور کھلاڑیوں کے ٹریننگ سیشن کا جائزہ لیا اور کھلاڑیوں خاص طور پر پچرز کو گیم کے حوالے سے مفید ٹپس بھی دیں۔ انہوں نےیہ بھی امید ظاہر کی کہ پاکستانی کھلاڑی بھی عالمی مقابلوں میں نمایاں کھیل پیش کرسکتے ہیں‌

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جاپانی کوچ کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان آکر بہت خوشی ہوئی۔ پاکستان میں بیس بال کا قدرتی اور بہترین ٹیلنٹ موجود ہے جس کو باقاعدہ ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ ملک ہے۔ دوسرے مرحلے ميں جاپانی کوچ بیس بال اکیڈمی صوابی کا دورہ کریں گے۔

  • پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی 2019 کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی 2019 کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی 2019 کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی رپورٹ : قومی انڈر 19 ٹیم نے سری لنکا اور جنوبی افریقہ کو شکست دی. مجموعی طور پر 2019 قومی انڈر 19 ٹیم کے لیے بہتر سال ثابت ہوا، 2020 کا آغاز ورلڈکپ جیت کر کرنا چاہتے ہیں، کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم روحیل نذیر

    سال 2019 درحقیقت قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کی تیاریوں کا سال تھا۔ رواں سال پاکستان نے دو مختلف ممالک کی انڈر 19 کرکٹ ٹیموں کے خلاف سیریز کھیلنے کے ساتھ ساتھ اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں بھی شرکت کی۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے ورلڈکپ 2020 کی تیاریوں کا آغاز سری لنکا کے خلاف پانچ میچوں پر مشتمل سیریز سے کیا۔ 26 مئی سے 5 جون تک جاری رہنے والی سیریز میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے 2-3 سے کامیابی حاصل کی۔

    دورہ سری لنکا کے بعد قومی انڈر 19 اسکواڈ جنوبی افریقہ روانہ ہوا جہاں پچاس اوورزپر مشتمل 7 میچوں کی سیریز کا آغاز 22 جون سے ہوا۔ 7 جولائی تک جاری رہنے والی سیریزکے تمام میچز پاکستان نے جیتے۔

    رواں سال ستمبر میں قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں شرکت کی، 5 سے 14 ستمبر تک جاری رہنے والے ایونٹ میں پاکستان نے افغانستان، بھارت اور کویت کی انڈر 19 کرکٹ ٹیموں کے خلاف میچز کھیلے جہاں فتح کی دیوی صرف کویت کے خلاف میچ میں ہی پاکستان پر مہربان ہوئی۔

    اس کے علاوہ قومی انڈر 19 کرکٹرز روحیل نذیر اور حیدر علی نے 14 سے 23 نومبر تک جاری رہنے والے ایونٹ میں قومی ایمرجنگ ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ دونوں کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے بنگلہ دیش میں منعقدہ اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ جیتا ۔

    روحیل نذیر، کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم:

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان روحیل نذیر کا کہنا ہے کہ سال 2019 مجموعی طور پرقومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے بہتر سال ثابت ہوا، رواں سال میگا ایونٹ کی تیاریوں کاآغاز سری لنکا کے خلاف سیریز سے ہوا۔ روحیل نذیر نے کہا کہ سیریز میں کامیابی کے باوجود ٹیم منیجمنٹ کی جانب سے بیٹنگ میں چند خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

    کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریزمیں بلے بازوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں ٹیم کلین سوئیپ کرنے میں کامیاب رہی۔ روحیل نذیر نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں قومی بلے بازوں کو میچ فنش کرنے میں دشواری کا سامنا تھا تاہم جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بیٹنگ لائن اپ نے اس خامی پر قابو پالیا۔

    روحیل نذیر نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز انتہائی اہم تھی کیونکہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 بھی ادھر ہی کھیلا جانا ہے لہٰذاقومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں کنڈیشنز سے ہم آہنگی انتہائی ضروری تھی۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان روحیل نذیر نے کہا کہ اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف میچ میں شکست سے ٹیم کےمورال میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں ناکامی کے باعث ٹورنامنٹ میں ٹیم کا اعتمادبحال کرنے میں وقت لگا جس کے باعث کویت سے کامیابی کے باوجود قومی انڈر 19 ٹیم ٹورنامنٹ کے اگلے راؤنڈ میں کوالیفائی نہیں کرسکی۔

    روحیل نذیر نے کہاکہ اعجاز احمد کی نگرانی میں قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم بہتری کی جانب گامزن ہے ، حیدر علی کے ہمراہ اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں شمولیت سے بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایونٹ کے فائنل میں سنچری اسکور کرنے کے بعد جو اعتماد ملا ہے اس کا فائدہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ میں ہوگا۔

    روحیل نذیرنے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ رواں سال ان کی انفرادی کارکردگی میں تسلسل رہا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدر علی، نسیم شاہ سمیت دیگر کھلاڑیوں نے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم پرعزم ہیں کہ سال بھر جاری رہنے والی تیاریوں کا فائدہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم سرفراز احمد اس ٹیم کو بہترین قرار دے چکے ہیں، انہیں امید ہے کہ اسکواڈ میں شامل ہر کھلاڑی ایونٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    روحیل نذیر نے کہا کہ آئندہ ورلڈکپ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شامل بیشتر کھلاڑیوں کا آخری ایونٹ ہوگا، انہیں امید ہے کہ آئندہ سال قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شامل نئے کھلاڑی کامیایبیوں کا تسلسل برقرار رکھیں گے۔

  • کرکٹ کے فخر  بابر اعظم کی سال 2019 میں نمایاں کارکردگی

    کرکٹ کے فخر بابر اعظم کی سال 2019 میں نمایاں کارکردگی

    کرکٹ کے فخر بابر اعظم کی سال 2019 میں نمایاں کارکردگی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دنیائے کرکٹ کے واحد بیٹسمین، تینوں فارمیٹ میں آئی سی سی پلیئرز رینکنگ کے 6 بہترین بلے بازوں میں شامل
    سال 2019 قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹسمین بابراعظم کے لیے بہترین سال رہا۔ رواں سال قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے تینوں فارمیٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے باؤنسی ٹریکس سے لے کر آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 میں اپنی دھاک بٹھانے والے بیٹسمین نے ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ، تینوں فارمیٹ میں عمدہ کھیل پیش کرکے شائقین کرکٹ کے ذہنوں پر انمنٹ نقوش قائم کردئیے۔

    مڈل آرڈر بلے باز نے 6 ٹیسٹ میچوں میں 68.44 کی اوسط سے 616 رنز بنائے۔ سال 2019 میں تین سنچریاں اور تین نصف سنچریاں اسکور کرنے والے بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں 72.30 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز اسکور کیے۔

    بیس ایک روزہ میچوں میں 60.66 کی اوسط سے 1092 رنز بنانے والے بابراعظم نے تین سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں اسکور کیں۔ رواں سال ایک روزہ کرکٹ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 93.30 رہا۔

    بابراعظم نے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں رواں سال 10 میچز کھیلے جہاں انہوں نے 136.99 کے اسٹرائیک ریٹ سے 374 رنزبنائے۔ رواں سال ٹی ٹونٹی کرکٹ میں چار نصف سنچریاں اسکور کرنے والے بابر اعظم نے 41.55 کی اوسط سے رنز بنائے۔

    رواں سال کے اختتام پر بابراعظم دنیائے کرکٹ کے وہ واحد بیٹسمین ہیں جن کا شمار تینوں فارمیٹ میں آئی سی سی پلیئرز رینکنگ کے 6 بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ بابراعظم ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے، ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے اور ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے نمبر براجمان ہیں۔

    بابر اعظم کا کہنا ہے کہ سال 2019 ان کے لیے ایک شاندار سال رہا، اس دوران انہوں نے تمام کنڈیشنز میں بہترین کارکردگی دکھانے کا ہنر سیکھا۔مڈل آرڈر بلے باز نے کہا کہ اس سے قبل بھی ان کا بلا رنز اگل رہا تھا تاہم وہ میچ وننگ پرفارمنس دینے میں کامیاب نہیں ہورہے تھے لہٰذا رواں سال انہوں نے اس خامی پر قابو پاکر بہترین نتائج دینے کی کوشش کی۔

    بابر اعظم نے کہا کہ رواں سال انہیں پہلی بار ورلڈکپ کھیلنے کا موقع ملا جس پر وہ بہت مسرور ہیں۔ ایونٹ میں 67.71 کی اوسط سے 474 رنز بنانے والے بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بچپن میں وہ ورلڈکپ کے میچز دیکھنے کے شوقین تھے۔ مڈل آرڈر بیٹسمین نے کہا کہ میگا ایونٹ کے لیے قومی اسکواڈ میں منتخب ہوتے ہی انہوں نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے کا عزم کرلیا تھا۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کا بہترین بیٹسمین بننا ان کا ہدف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں متاثر کن کارکردگی کے باعث انہیں پذیرائی ملی۔ بابراعظم نے کہا کہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 101 رنز کی ناقابل شکست اننگز میگا ایونٹ میں ان کی یادگار کارکردگی ہے، جس سے پریشر صورتحال میں انہیں قابل دید نتائج دینے کا موقع ملا۔

    قومی کرکٹر نے کہا کہ رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ان کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے وہ ٹیسٹ کرکٹ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپائے تاہم رواں سال وہ خامیوں پر قابو پا کر طویل طرز کی کرکٹ میں لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں ایک کھلاڑی طویل فارمیٹ کھیلتا رہتا ہے اس کی کارکردگی میں بہتری کے امکانات روشن ہوتے جاتے ہیں۔

    مڈل آرڈر بیٹسمین نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی سرزمین پر ڈیل اسٹین جیسے باؤلر کے خلاف لمبی اننگز کھیلنے پر ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں نصف سنچری کو سنچری میں بدلنے کی صلاحیت بھی رواں سال بہتر ہوئی، آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچز میں کارکردگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بابراعظم نے آسٹریلیا کے خلاف سنچری کو رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بہترین اننگز قرار دیا۔

    پچیس سالہ بلے باز نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ کھیلنے کا احساس ہی جداگانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور میچ جیتنے پر خدا کے شکرگذار ہیں۔ بابر اعظم نے کہا کہ اسٹیڈیم میں موجود شائقین کرکٹ کے نعروں میں اپنے نام کی گونج سننا ناقابل بیان لمحہ ہوتا ہے، ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ کھیلنے پر ان پر کوئی اضافی دباؤ نہیں تھا بلکہ اس دوران شائقین کرکٹ کی اسپورٹ کے باعث انہیں اپنی بیٹنگ پر مزید فوکس کرنے کا موقع مل گیا۔

    بابراعظم نے کہا کہ ایک اچھا کھلاڑی اپنے کیرئیر کے دوران بہتر سے بہتر کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال اچھا ثابت ہو تو آئندہ سال اس معیار کو برقرار رکھنے کے لئے مزید بہتری درکار ہوتی ہے۔

    بابر اعظم نے کہا کہ اعلیٰ کارکردگی سے جہاں اعتماد میں بڑھتا ہے تو وہیں کھلاڑی کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی ٹیم کی کپتانی کرنا ان کے لیے اعزاز ہے، گو کہ آسٹریلیا کے خلاف قومی ٹیم خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی تاہم وہ پرامید ہیں کہ پاکستان آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں شاندار نتائج دینے میں کامیاب ہوگی

  • 2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحالی کا سال،گرین شرٹس نے کیا کیا کامیابی سمیٹی

    2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحالی کا سال،گرین شرٹس نے کیا کیا کامیابی سمیٹی

    2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحالی کا سال.، گرین شرٹس نے کیا کیا کامیابی سمیٹی

    باغی ٹی وی رپورٹ 2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کا سال ثابت ہوا، اس سال پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا آغاز تو شکست سے ہوا، لیکن اختتام شاندار کامیابی پر ہوا۔

    پاکستان پورے سال ٹیسٹ میں پہلی کامیابی کی تلاش میں رہا، جنوبی افریقا میں کامیابی ہاتھ آئی، نہ آسٹریلیا میں جیت قریب آئی۔پاکستان ٹیسٹ ٹیم نے جنوبی افریقا کے خلاف اس سال دو ٹیسٹ کھیلے دونوں میں شکست ہوئی۔ آسٹریلیا گئے تو وہاں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    لیکن دس سال بعد جب پاکستان میں ٹیسٹ میچز کا آغاز ہوا اور سری لنکا نے دو ٹیسٹ کھیلنے کے لیے پاکستان کا رخ کیا، تو پہلا ٹیسٹ بارش کی نذر ہوگیا، لیکن عابد علی نے راولپنڈی ٹیسٹ میں ڈیبیو پر سنچری بنائی، وہ ون ڈے اور ٹیسٹ میں ڈیبیو پر سنچری بنانے والے دنیا کے پہلے بلے باز بن گئے۔

    سال کے اختتام پر سیریز کا دسرا ٹیسٹ نیشنل اسٹیدیم کراچی میں ہوا، جو ریکارڈ ساز ثابت ہوا، جہاں پر عابد علی نے پھر سنچری داغ دی اور ابتدائی دو ٹیسٹ میں سنچریاں بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین بن گئے۔

    شان مسعود اور عابد علی نے سری لنکا کیخلاف 278 رنز کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت بنائی۔ اٹھارہ سال بعد پاکستان کے دونوں اوپنرز نے سنچریاں بنائیں۔
    کراچی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان کے ابتدائی چار بیٹسمینوں نے سنچریاں بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔پھر نسیم شاہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے والے سب سے کم عمر فاسٹ بولر بن گئےیوں پاکستان نے سری لنکا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ جیت کر سال کی پہلی کامیابی حاصل کی۔اس سال پاکستان کے چار فاسٹ بولرز نے ڈیبیو کیا جس میں نسیم شاہ، عثمان شنواری موسیٰ خان اور عابد علی شامل ہیں۔
    بابر اعظم نے تین سنچریوں کی مدد سے سال میں سب سے زیادہ 546 رنز بنائے تو شاہین شاہ آفریدی نے چھ ٹیسٹ میں سب سے زیادہ 17 وکٹیں حاصل کیں

  • سال 2019: قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے جائزے کا سال، حقائق کے پیش کرکےحقیقی تبدیلی ثابت کردی

    سال 2019: قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے جائزے کا سال، حقائق کے پیش کرکےحقیقی تبدیلی ثابت کردی

    لاہور:سال 2019: قومی خواتین کرکٹ کی ترقی کا سال ، جائزے کا سال ، پہلی مرتبہ حقائق کے پیش کرکےحقیقی تبدیلی ثابت کردی،اطلاعات کے مطابق سال 2019 قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے ایک بہترین سال رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سال بھر خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے۔

    رواں سال قومی خواتین کرکٹ ٹیم نےآئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ پاکستان نے سال دوہزار انیس کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلا ف سیریز میں کامیابی سے کیا۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز 1-1 سے برابر رہی۔

    سال 2019 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی خواتین کرکٹ ٹیموں کی میزبانی ہوم گراؤنڈز پرکی تاہم انگلینڈ کے خلاف قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے ہوم سیریز ملائیشیا میں کھیلی۔ رواں سال سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل خواتین کرکٹرز کی آمدن میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ پی سی بی کی جانب سے ملک بھر میں گرلز اکیڈمیز کو فعال کرکے خواتین کرکٹ کو فروغ دیا گیا۔

    آئی سی سی انڈر 19 ویمنز کرکٹ ورلڈکپ 2021 کی تیاریوں کے لیے پی سی بی نے لاہور میں اسکلز ٹوشائن انڈر 18 ویمنز ٹی ٹونٹی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی 25 کرکٹرز پر مشتمل کیمپ کراچی میں لگایا گیا ہے۔

    کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم بسمہ معروف کاکہنا ہےکہ سال 2019 مجموعی طور پر قومی خواتین کرکٹ کے لیےایک ا چھا سال رہا۔انہوں نے کہا کہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے سال کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں کھیلی گئی ٹی ٹونٹی سیریز سے کیا، ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کے باعث ٹیم اضافی دباؤ کا شکار تھی جس کی وجہ سے پہلے ٹی ٹونٹی میچ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

    بسمہ معروف نے کہا کہ پہلے ٹی ٹونٹی کے بعداسکواڈ میں شامل تمام کرکٹرز کے درمیان ایک مثبت ٹیم میٹنگ ہوئی جس میں ہر کھلاڑی نے ملک میں ویمنز کرکٹ کی پذیرائی کےلیے عمدہ کارکردگی دکھانے کےعزم کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں شائقین کرکٹ کو آئندہ میچوں میں بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملی۔

    کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم کاکہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز برابر کرنا قومی ویمنز کرکٹرز کےاعتماد میں اضافہ کا سبب بنا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ بسمہ معروف نےکہا کہ سال کے اختتام پر کھیلی گئی انگلینڈ کے خلاف سیریز میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم خاطر خواہ کھیل پیش نہ کرسکی تاہم سیریز کے اختتام پر پاکستان کے لیے کئی مثبت پہلو سامنے آئے جس میں ایک یہ کہ فی الحال قومی خواتین کرکٹ ٹیم آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں چوتھی پوزیشن پر موجود ہے۔

    بسمہ معروف نےکہا کہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو آئندہ سال آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنا ہے، امید ہے کہ پاکستان ایونٹ کا اختتام ٹاپ فور ٹیموں میں کرے گا۔

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کی رکن اسماویہ اقبال کاکہنا ہےکہ یہ سال آن اور آف دا فیلڈ دونوں اعتبار سے قومی خواتین کرکٹ کے لیے سازگار رہا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پی سی بی نے بہت سے ڈویلمنٹ پروگرامز کا انعقاد کیا جبکہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی سال بھر مجموعی طور پر خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    اسماویہ اقبال نے کہا زونل اکیڈمیز کے مستقل بنیادوں پر فعال ہونے سے قومی خواتین کرکٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر ٹریننگ کے مواقع میسر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زونل اکیڈمیزمیں خواتین کھلاڑیوں کے لیے علیحدہ سہولیات کی دستیابی اور بہترین کوچز کی زیرنگرانی تربیت سے نئی کھلاڑیوں میں کھیل کا شوق بڑھ رہا ہے۔اسماویہ اقبال نے کہا کہ انہیں اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران یہ سہولیا ت میسر نہیں تھیں۔

    قومی خواتین کرکٹ سلیکشن کمیٹی کی رکن کاکہنا ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں انڈر 18 ویمنز ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جبکہ قومی ویمنز ایمرجنگ ٹیم نے گذشتہ ماہ ایشیا کپ میں شرکت کی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مستقل بنیادوں پر ڈومیسٹک ویمنز ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے جس سے خواتین کرکٹرز کے کھیل میں نکھار آرہا ہے، یہی وجہ ہےکہ رواں سال کئی خواتین کرکٹرز نے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا ہے۔

  • مصباح الحق کی نظر میں سال 2019 قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کیسا رہا؟

    مصباح الحق کی نظر میں سال 2019 قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کیسا رہا؟

    قومی ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے، مصباح الحق نے پریس کانفرنس کرکے سال 2019 میں ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے رکھ دیا ہے،انہوں نے مزید کہا ہےکہ پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پہلی کامیابی سال کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں حاصل کی تاہم اس سے قبل قومی ٹیسٹ ٹیم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

    قومی ٹیم نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے گروپ مرحلے میں مسلسل چار میچز جیتے تاہم وہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔ ایک روزہ کرکٹ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف شکست کھانے والی قومی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔

    رواں سال پاکستان نے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی تاہم اس دوران پاکستان کو جنوبی افریقہ، انگلینڈ، سری لنکا اور آسٹریلیا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے بعد مصباح الحق نے قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالا۔ اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے 2 ایک روزہ، 5 ٹی ٹونٹی اور 4 ٹیسٹ میچز کھیلے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہےکہ سال 2019 قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے لیے ایک مشکل سال تھا، گو کہ پاکستان کرکٹ ٹیم رواں سال کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب رہی مگر اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے دوروں پر متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ رواں سال قومی کرکٹ ٹیم محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی زیادہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکی، جس کی ایک بڑی وجہ اہم میچز سے قبل قومی کرکٹرز کا آؤٹ آف فارم ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک روزہ کرکٹ میں فخر زمان قومی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کا اہم ہتھیار تھے مگر ورلڈکپ سے قبل انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔

    چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ باؤلرز میں حسن علی اور شاداب خان کی فارم خراب ہونے کے باعث قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم رواں سال آئی سی سی ٹی ٹونٹی ٹیمز رینکنگ میں تو اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی مگر اس فارمیٹ میں بھی ٹیم کی جیت کا تناسب کم رہا۔ پاکستان ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم رواں سال صرف ایک ٹی ٹونٹی میچ ہی جیت سکی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ سال بھر کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اس دوران قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی شاندار رہی، جس میں سب سے بڑا نام بابراعظم کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابراعظم نے تینوں فارمیٹ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ٹی ٹونٹی کرکٹ کے صف ِ اول کے بلے باز بابراعظم نے ایک روزہ کرکٹ میں بھی عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا جس کی ایک مثال آئی سی سی ورلڈکپ 2019 میں ان کی بیٹنگ رہی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ بابراعظم نے رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں بھی جو کارکردگی دکھائی وہ ان کی کلاس کے عین مطابق ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں سنچری اسکور کرنا اور سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے دونوں میچوں میں سنچریاں جڑنا بھی بابراعظم کی صلاحیتوں کا عملی نمونہ رہا۔

    چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کو سال 2019 میں قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین باؤلرز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کی آئی سی سی ورلڈکپ 2019 سے لے کر آسٹریلیا کی پچز اور پھر سری لنکا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی شاندار رہی۔ مصباح الحق نے کہا کہ نسیم شاہ کی آسٹریلیا اور پھر سری لنکا کے خلاف باؤلنگ میں ایک بہتر فاسٹ باؤلر کی جھلک نظر آئی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کو جتنے زیادہ میچز ملیں گے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ طویل طرز کی کرکٹ میں محمد رضوان کی کارکردگی نمایاں رہی، اسی طرح افتخار احمد کی آسٹریلیا میں کارکردگی متاثر کن رہی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ رواں سال ٹیم کے انتخاب اور فائنل الیون کے چناؤ کے حوالے سے جو فیصلے لیے گئے وہ آسان نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان فاسٹ باؤلرز کو آسٹریلیا میں کھیلانا مشکل فیصلہ تھا۔ مصباح الحق نے کہا کہ فخر زمان، حسن علی اور یاسر شاہ کی فارم خراب ہونے کے باعث ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد اور شعیب ملک کی فارم کا نہ ہونا سمیت کئی اہم ایشوز عہدہ سنبھالتے ہی ان کے سامنے کھڑے تھے۔

    مصباح الحق نے کہا کہ مستقبل میں بہترین نتائج کے حصول کے لیے کام جاری ہے جس کے رزلٹ آہستہ آہستہ سب کے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ہدف قومی کرکٹ ٹیم کو تینوں فارمیٹ میں وننگ ٹریک پر گامزن کرنا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ قومی ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے۔

  • 2019 پاکستان نےکرکٹ کےمیدان میں کیا کھویا،کیا پایا؟ احسان مانی نے جائزہ رپورٹ پیش کردی

    2019 پاکستان نےکرکٹ کےمیدان میں کیا کھویا،کیا پایا؟ احسان مانی نے جائزہ رپورٹ پیش کردی

    لاہور:2019 پاکستان نےکرکٹ کےمیدان میں کیا کھویا،کیا پایا؟ احسان مانی نے جائزہ رپورٹ پیش کردی،باغی ٹی وی کےمطابق چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ سال 2019 قومی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سال کا اختتام ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی سے ہوا۔ دسمبر میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ راولپنڈی اور دوسرا کراچی میں کھیلا گیا۔

    احسان مانی نے ٹیم کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل رواں سال مارچ میں کراچی نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 8 میچوں کی میزبانی کی، اسی طرح ستمبر/اکتوبر میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ سیریز کراچی جبکہ ٹی ٹونٹی سیریز لاہور میں کھیلی گئی۔ اس دوران نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے ذریعے معیاری کرکٹ کو فروغ دینے کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک شفاف کارپوریٹ ادارہ بنانے کے لیے بھی کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے۔

    کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ علاوہ ازیں مختلف میدانوں میں سال بھر جاری رہنے والی کرکٹ سرگرمیوں میں پاکستان کے نتائج بھی مختلف رہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کو جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں چار ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم قومی ٹیسٹ ٹیم نے سال 2019 کا اختتام سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں فتح سمیٹ کرکیا۔آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی رنرزاپ ٹیم نیوزی لینڈ سے پوائنٹس برابر کرنے کے باوجود قومی کرکٹ ٹیم ایونٹ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل نہ کرسکی۔

    دوسری جانب رواں سال قومی ایمرجنگ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل دیکھا گیا۔ قومی انڈر 19 ٹیم نے سری لنکا اور جنوبی افریقہ میں سیریز جیتیں جبکہ قومی ایمرجنگ ٹیم، بنگلہ دیش میں کھیلے گئے اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ کی فاتح بننے میں کامیاب رہی۔ادھر انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست کا سامنا کرنے والی قومی خواتین کرکٹ ٹیم، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں متاثر کن کھیل کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی، چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور سینئر لیگل کونسل بیرسٹر سلمان نصیر کو رواں سال انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی پانچ اہم کمیٹیوں میں شامل کیا گیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کا نفاذ اور ادارے میں شفافیت کو فروغ دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی کے اخراجات کی تمام تر تفصیلات کو عوام کے لیے متواتر ویب سائٹ پر شائع کرنا، انتظامی اعتبارسے رواں سال پاکستان کرکٹ بورڈ کی بڑی کامیابی ہے۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں انہوں نے اپنے لیے چار اہداف مقرر کیے تھے جنہیں سال کے اختتام پر مکمل طور پر حاصل کرلیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ اہداف آئین میں اصلاحات لانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننس اسٹرکچر کو شفاف بنانے اور کارپوریٹ اسٹرکچر کو فروغ دیتے ہوئے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کو ممکن بنانے پر مشتمل تھے۔

    چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانا بہت ضروری ہے لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے مختصر وقت میں شاندار ڈومیسٹک اسٹرکچر دیا جس کے نتیجے میں شائقین کرکٹ کو ایک کامیاب قائداعظم ٹرافی دیکھنے کو ملی۔

    احسان مانی نے کہا کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر میں کی گئی چند تبدیلیاں قومی کرکٹ کے لئے مفید ثابت ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ کے مقابلے چوتھے دن تک پہنچے، اسی طرح پیسرز کی اضافی مدد کا سلسلہ ختم ہوا جس سے میچ کے دوران اسپنرز کے کردار میں اضافہ ہوا جو مستقبل میں قومی کرکٹ ٹیم کے کام آئے گا۔

    چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ دنیائے کرکٹ میں پاکستان کے کردار کو اہمیت دی جارہی ہے جس کا ثبوت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی پانچ اہم ترین کمیٹیوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے نمائندگان کی شمولیت ہے۔

    احسان مانی نے کہا کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے کہاکہ مہمان بورڈ نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے پہلے محدود اوورز کی کرکٹ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تاہم سری لنکا کرکٹ ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان لانا رواں سال ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

    چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ سری لنکا ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی آمد سے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کے لیے ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو مزید مؤثر ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی سی بی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو فروغ دینے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھایں گے۔ احسان مانی نے کہا کہ ہمیں بہترین نتائج دینے کے لیے کارکردگی میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ نوجوان قومی کرکٹرز بہت باصلاحیت ہیں اور یہی ہمارے مستقبل کا روشن اثاثہ ہیں۔

  • پاکستانی امپائر علیم ڈار کیوں‌ آئے تنقید کی زد میں

    پاکستانی امپائر علیم ڈار کیوں‌ آئے تنقید کی زد میں

    پاکستانی امپائر علیم ڈار کیوں‌ آئے تنقید کی زد میں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے دوران پاکستانی امپائر علیم ڈار تنقید کی زد میں آ گئے
    رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے دوران پاکستانی امپائر علیم ڈار تنقید کی زد میں آ گئے ۔کھیل کے تیسرے روز مچل اسٹارک کے باؤنسر پر کیوی بیٹسمین مچل سینٹنر کیخلاف کیچ کی اپیل کی گئی جسے فیلڈ امپائر نے ناٹ آؤٹ قرار دیا۔آسٹریلیا نے اس فیصلے کیخلاف ریویو لیا تاہم ٹی وی امپائر علیم ڈار نے متعدد مرتبہ ری پلے دیکھنے کے بعد فیلڈ امپائر کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس موقع پرسابق لیگ اسپنر شین وارن نے علیم ڈار کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ گیند گلووز سے قبل آرم گارڈ کو ٹچ کر گئی تھی لہٰذا علیم ڈار کو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہئے تھا۔ مارک وا نے بھی تھرڈ امپائر کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے

  • دہائی کی بہترین ویمن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا اعلان قیادت کا اعزاز پاکستانی کھلاڑی لے اڑی

    دہائی کی بہترین ویمن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا اعلان قیادت کا اعزاز پاکستانی کھلاڑی لے اڑی

    دہائی کی بہترین ویمن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا اعلان قیادت کا اعزاز پاکستانی کھلاڑی لے اڑی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق معروف جریدے وزڈن نے گذشتہ روز ایک دہائی کی بہترین ویمن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا اعلان کیا، ٹیم میں بڑے بڑے ناموں کی موجودگی کے باوجود اس کی کپتانی پاکستانی کھلاڑی ثنا میر کے سپرد کی گئی ہے۔

    وزڈن کی دس سالوں کی بہترین ویمن ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں اوپننگ کی ذمہ داری نیوزی لینڈ کی سوزی بیٹس اور انگلینڈ کی شارلوٹ ایڈورڈز کے ذمہ سونپی گئی ہے، تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آسٹریلیا کی میگ لیننگ کو شامل کیا گیا ہے، چوتھے نمبر پر بھارتی کھلاڑی متھالی راج کو ٹیم میں رکھا گیا ہے۔پانچویں نمبر پر ویسٹ انڈین آل راونڈر سٹیفنی ٹیلر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ چھٹے نمبر پر آسٹریلین آل راونڈرالیزے پیری ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ٹیم میں وکٹ کیپر کی ذمہ داریاں نیوزی لینڈ کی سارہ ٹیلر کو سونپی گئ ہیں۔

    ٹیم میں آٹھواں نمبر جنوبی افریقی آل راونڈر ڈین وین نیکرک کا ہے، نویں نمبر پرانگلینڈ کی فاسٹ باولر کیتھرین برنٹ کو ٹیم میں لیا گیا ہے۔ بھارتی باولر جولین گوسوامی اگرچہ 2018 میں ریٹائر ہو چکی ہیں تاہم ان کی گذشتہ دہائی کے دوران پرفارمنسز کی بنیاد پر انہیں ٹیم مییں شامل کیا گیا ہے۔ٹیم میں شامل کی جانے والی واحد پاکستانی کھلاڑی ثنا میر ہیں، وزڈن کی طرف سے ٹیم کی کپتانی بھی ثنا میر کو سونپی گئی ہے۔ دائیں ہاتھ سے آپ اسپن باولنگ کرنے والی ثنا میر 2018 میں آئی سی سی کی رینکنگ میں نمبر 1 باولر رہ چکی ہیں۔

    بطور کپتان ٹیم میں شمولیت کے بعد برطانوی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ثنا میر کا کہنا تھا کہ اس دہائی کی بہترین کھلاڑیوں کی ٹیم کی کپتان منتخب ہونا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے، وزڈن کی اعلان کردہ ٹیم کو ساتھ لے کر انھیں لگتا ہے وہ دنیا کی کسی بھی بہترین ٹیم کو چیلنج کر سکتی ہیں، یہ ٹیم چاہے عورتوں کی ہو یا مردوں کی۔
    واضح‌رہے کہ اس سے پہلے آسٹریلیا کی کھیلوں کی معروف ویب سائٹ فوکس اسپورٹس نے ایک دہائی کی بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔

    گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم میں دو آسٹریلوی، دو بھارتی اور تین جنوبی افریقن کھلاڑی شامل ہیں جبکہ ایک ایک کھلاڑی کا تعلق سری لنکا اور بنگلہ دیش سے ہے۔ان میں کسی بھی پاکستانی مرد کھلاڑی کا نام نہیں ہے .. اس بار خواتین بازی لے گئی ہیں.

  • آسٹریلوی فاسٹ بالر کاا نٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان

    آسٹریلوی فاسٹ بالر کاا نٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان

    آسٹریلوی فاسٹ بالر کاا نٹر نیشنل کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی فاسٹ بالر پیٹر سڈل نے فوری طور پر انٹر نیشنل کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا ہے، وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

    پیٹر سڈل نیوزی لینڈ کے خلاف باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے 13 رکنی اسکواڈ میں شامل ہیں، انہوں نے ساتھی کھلاڑیوں کو اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے آگا ہ کیا ۔

    فاسٹ بالر نے اعلان کیا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے فوری طور پر ریٹائر ہو رہے ہیں لیکن جب تک فٹنس برقرار رہی وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔