Baaghi TV

Category: کھیل

  • یورو ٹی ٹونٹی سلام کرکٹ ٹورنامنٹ: کون کون سے پاکستانی کھلاڑی دھوم مچائیں گے؟ خبر آگئی

    یورو ٹی ٹونٹی سلام کرکٹ ٹورنامنٹ: کون کون سے پاکستانی کھلاڑی دھوم مچائیں گے؟ خبر آگئی

    ایمسٹرڈیم (اے پی پی) یورو ٹی ٹونٹی سلام کرکٹ ٹورنامنٹ 30 اگست سے 22 ستمبر تک کھیلا جائے گا۔ یورو ٹی ٹونٹی سلام آرگنائزرز کے مطابق ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لئے تیاریاں عروج پر ہیں۔

    ایونٹ کےلئے پلیئرز ڈرافٹنگ گزشتہ ماہ لندن میں ہو چکی ہے جس میں 22 ممالک سے 700 کے قریب کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی ہوئی تھی۔ پاکستان کے فخر زمان، سرفراز احمد، محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی بھی فہرست میں شامل تھے، تمام چھ فرنچائزز کم سے کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 7 غیرملکی کھلاڑیوں کا چناﺅ کرنے کی اہل تھیں۔ تمام آئیکون کھلاڑی 1 لاکھ 35 ہزار اور ہر مارکیو کھلاڑی 1 لاکھ 15 ہزار ڈالرز حاصل کرے گا۔ ٹورنامنٹ میں فائنل سمیت کل 33 میچز کھیلے جائینگے۔ ایونٹ میں 6 ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لئے پنجہ آزمائی کرینگی جن میں ایمسٹرڈیم نائٹس، بلفاسٹ ٹائٹنز، ڈبلن چیفس، ایڈن برگ راکس، گلاسگو جینٹس اور روٹرڈیم رہینوس شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ کی میزبان آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ہالینڈ کرینگے۔ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنلز 21 ستمبر کو کھیلے جائینگے جبکہ دو فائنلسٹ ٹیموں کے درمیان ایونٹ کا فائنل میچ 22 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیا چیف سلیکٹر کون؟ اہم خبر آگئی

    پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیا چیف سلیکٹر کون؟ اہم خبر آگئی

    لاہور (اے پی پی ) انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر کے عہدے کی معیاد ختم ہوگئی۔ اب قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کا عہدہ خالی ہوگیا اور پی سی بی کے حکام نئے چیف سلیکٹر کی تقرری کرینگے۔ اس حوالے سے معین خان، محسن حسن خان اور دیگر سابق کرکٹرز کے نام زیر غور ہیں.

    انضمام الحق کا کنٹریکٹ 31 جولائی تک تھا۔ انضمام الحق نے اپریل 2016ءمیں قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انضمام الحق نے پاکستانی ٹیم کی آخری سلیکشن ورلڈ کپ کےلئے کی تھی لیکن پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کرسکی۔ انضمام الحق کے دور میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم نےمجموعی طور پر 28 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں میں 10جیتے ،17 ہارے اور ایک برابر رہا جبکہ 68 ون ڈے میچز میں سے 32 میں فتح ،34 میں ناکامی اور 2 کا نتیجہ نہیں نکلا۔ انضمام الحق کے دور میں پاکستان نے بھارت کو چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ہرایا۔ ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم ساتویں، ون ڈے میں چھٹے اور ٹی ٹونٹی میں پہلے نمبر پر رہی

  • پی سی بی کا اہم ترین اجلاس طلب، کون سے فیصلے ہونے جارہے ہیں؟ بڑی خبر آگئی

    پی سی بی کا اہم ترین اجلاس طلب، کون سے فیصلے ہونے جارہے ہیں؟ بڑی خبر آگئی

    لاہور (اے پی پی) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوگا۔ اجلاس کی سربراہی پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کریں گے۔
    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم، مصباح الحق، عروج ممتاز، ذاکر خان ( ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ اور سیکرٹری کمیٹی)، مدثر نذر (ڈائریکٹر اکیڈمیز) اور ہارون رشید ( ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ) اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قومی مینز اور ویمنز کے ساتھ ساتھ انڈر۔19 اور انڈر۔16 کرکٹ ٹیموں کی کارکردگی کی روشنی میں سفارشات مرتب کرکے چیئرمین پی سی بی کو بھجوانا اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ انضمام الحق، مکی آرتھر اور سرفراز احمد کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ وسیم اکرم ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ دیگر تمام اراکین اجلاس میں شرکت کےلئے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور پہنچیں گے۔ کرکٹ کمیٹی ایک ایڈوائزری پینل ہے جس کی ذمہ داری سفارشات مرتب کرکے چیئرمین پی سی بی کو بھجوانا ہے۔ اجلاس کے بعد کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی ۔ ٹیم کی گزشتہ تین سال اور ورلڈ کپ میں کارکردگی کے بارے میں ٹیم مینجمنٹ اپنی رپورٹ پی سی بی کو جمع کرواچکی ہے جس کا کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں ہے تاہم وہ ٹیموں کی گزشتہ کئی سالوں کی پرفارمنس کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرکے چیئرمین پی سی بی کو بھجوائے گی جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کریں گے ۔ سرفراز احمد کے مستقبل کا فیصلہ کرکٹ کمیٹی اجلاس میں نہیں ہوگا۔ پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان کا کہنا ہے کہ ابھی ٹیموں کی اور ٹیم مینجمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور کپتان کی تقرری کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں۔ کپتان کے بارے میں سری لنکاکے خلاف سیریز سے چند روز قبل فیصلہ کر لیا جائے گا۔2 اگست کو کرکٹ کمیٹی اجلاس میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر،کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کے ساتھ کارکردگی پر سوالات ہوں گے اور کمیٹی کے اراکین ہیڈکوچ، سپورٹنگ سٹاف اور سلیکشن کمیٹی کے بارے میں مشاورت کرنے کے بعد سفارشات تیار کرکے چیئرمین پی سی بی کے حوالے کریں گے۔

  • ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان پہلا ٹی ٹونٹی میچ کب اور کہاں کھیلا جائے گا؟ شیڈول جاری

    ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان پہلا ٹی ٹونٹی میچ کب اور کہاں کھیلا جائے گا؟ شیڈول جاری

    کنگسٹن (اے پی پی) ویسٹ انڈیز اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ ہفتہ سے لاﺅڈرہل میں کھیلا جائے گا۔

    بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل، تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے علاوہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں شرکت کریگی۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 3 اگست کو کھیلا جائے گا۔ دوسرا 4 اگست جبکہ تیسرا اور آخری ٹی ٹونٹی میچ 6 اگست کو کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 8 اگست کو کھیلا جائے گا، دوسرا میچ 11 اگست کو کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا اور آخری ون ڈے کرکٹ میچ 14 اگست کو کھیلا جائے گا۔ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل بھارتی ٹیم 17 سے 19 اگست تک ایک ٹور میچ میں شرکت کریگی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 22 سے 26 اگست تک کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ 30 اگست سے شروع ہوگا۔

  • بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز: کرس گیل سے متعلق اب تک کی سب سے بڑی خبر آگئی

    بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز: کرس گیل سے متعلق اب تک کی سب سے بڑی خبر آگئی

    جمیکا (اے پی پی) کرکٹ ویسٹ انڈیز سلیکشن کمیٹی نے بھارت کے خلاف ہوم ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان کر دیا۔

    کرس گیل ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور وہ بھارت کے خلاف ہوم ون ڈے سیریز میں ٹیم کی نمائندگی کرینگے۔ گیل نے رواں سال فروری میں کہا تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے لیکن ورلڈ کپ کے دوران ہی انہوں نے اپنے فیصلے پر یو ٹرن لیتے ہوئے بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور سلیکٹرز نے بھی ان کی خواہش کا احترام کیا۔ جان کیمپ بیل، روسٹن چیس اور کیموپال کو بھی دوبارہ سکواڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے جبکہ سنیل ایمبرس، ڈیرن براوو اور ایشلے نرس کو ڈراپ کر دیا گیا۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز 8 اگست سے ہو گا۔
    اعلان کردہ سکواڈ کپتان جیسن ہولڈر، کرس گیل، جان کیمپ بیل، ایون لیوس، شائی ہوپ، شمرون ہٹمائر، نیکولاس پوران، روسٹن چیس، فابین ایلن، کارلوس بریتھویٹ، کیموپال، شیلڈن کوٹریل، اوشین تھامس اور کیمر روچ پر مشتمل ہے۔

  • سینٹرل کنٹریکٹ : پاکستان کرکٹ بورڈ کا اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

    سینٹرل کنٹریکٹ : پاکستان کرکٹ بورڈ کا اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس بے نتیجہ ختم ، قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ معاملات طئے نہ پاسکے ۔ چیف سلیکٹر کی عدم موجودگی کے باعث کمیٹی کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہناہے کہ کرکٹرز کی تعداد اور میچز کے معاوضے بھی نہ طے ہوسکے۔ ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے اجلاس کی صدارت کی۔

    ڈائریکٹر کرکٹ اکیڈمیز مدثر نذر، ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید اورڈائریکٹر انٹر نیشنل کرکٹ ذاکر خان اجلاس میں شریک ہوئے۔ کوچ مکی آرتھر نے بھی اجلاس میں اپنی رائے دی ۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس کل شام 5 بجے قذافی اسٹیڈیم میں ہو گا۔قومی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ کرکٹ کمیٹی کا ایڈوائزری پینل سفارشات مرتب کرکے چیئرمین پی سی بی کو پیش کرے گا۔

  • پارلیمانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور رکن قومی اسمبلی مخدوم  زین قریشی کا ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ  تقریب سے خطاب

    پارلیمانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور رکن قومی اسمبلی مخدوم زین قریشی کا ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب

    سلام آباد ۔ یکم اگست (اے پی پی) پارلیمانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور رکن قومی اسمبلی مخدوم زین قریشی نے کہا ہے کہ جس طرح پارلیمانی کرکٹ ٹیم نے مل کر برطانیہ میں کھیلے گئے عالمی پارلیمانی کرکٹ کپ میں کامیابی حاصل کی ہے اس طرح ہم سارے مل کر پارلیمنٹ میں کام کریں تو پاکستان میں بہتری آسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گذشتہ روز نیشنل پریس کلب میں پارلیمانی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نیشنل پریس کلب صدر شکیل قرار، سابق صدر شہریار خان کے علاوہ ارکان قومی اسمبلی بھی موجود تھے۔ انہوں نے پارلیمانی کرکٹ ٹیم کے عزاز میں تقریب منعقد کرنے پر نیشنل پریس کلب صدر شکیل قرار اور دیگر اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سیاسی طور پر بہت اہم دن ہے اس کے باوجود وقت نکال کر ہمیں عزت اور حوصلہ افزائی بخشی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ کہنے کو تو ہم کرکٹ ولڈ کپ کھیلنے گئے تھے مگر ہم پاکستان کے سفیر بن کر گئے تھے دیگر ممالک کے پارلیمنٹیرین سے اچھی انٹریکشن ہوئی اور پاکستان کا موقف دینے کا موقع ملا، انہوں نے کہاکہ پاکستان فرنٹ لائن پر دہشتگری کا نشانہ بنتا رہا ہے، دہشتگردی کی خلاف ہم نے ہمت نہ ہاری بلکہ 70 ہزار سے زائد جن میں عوام، افواج پاکستان اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز شامل تھیں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کو پاکستان میں آکر کرکٹ کھیلنے کی دعوت دی جبکہ بنگلہ دیش نے ہمیں بنگلہ دیش میں کرکٹ کھیلنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے باہر ملک جا کر کرکٹ کھیلی اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر پاکستان کیلئے کھیلا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کپ میں ہم نے تمام اخراجات خود برداشت کئے ہیں نہ کہ حکومت سے لئے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے فیصلے کو بھی سراہا کہ ہر ٹیم کا رکن اپنے اخراجات خود کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کا انتخاب بالکل میرٹ پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل شیخ کا اسلام آباد میں سہولیات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں کرکٹ زیادہ کھیلی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں میدانوں کو آباد کرنے کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کو پاکستان لانا ہوگا اور آئندہ پی ایس ایل کے میچز بھی پاکستان میں منعقد ہونگے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل قرار نے کہاکہ پارلیمانی کرکٹ ٹیم کی عالمی کرکٹ کپ میں کامیابی پر میڈیا نے ان کی اتنی حوصلہ افزائی نہیں کی جتنی کرنی چاہئے تھی۔ پیپلز پارٹی کے مرتضی محمود نے کہاکہ ٹیم کا انتخاب میرٹ پر ہوا، مخدوم زین قریشی نے میرٹ پر سب کو کھلایا اور اگر پارلیمنٹ اسی طرح مل کر آگے بڑھے گی تو پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب کھلاڑیوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کیلئے کھیلا اور ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے ہمیں مل کر ان حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ نائب کپتان اور مسلم لیگ (ن) کے علی زاہد نے کہاکہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کبھی کرکٹ ٹیم نہیں بنی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اس اقدام پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ کرکٹ تو بچپن سے کھیلا لیکن فٹنس لیول اتنا بہتر نہیں تھا اور فٹنس پر کافی توجہ دی گئی۔ فٹنس بہتر ہونے کے بعد پرفارمنس میں بھی بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ بہت اچھی ٹیموں کے ساتھ ہمارے میچز ہوئے۔ پہلا میچ بنگلہ دیش سے ہارے لیکن پھر لگاتار پانچ میچ جیت کر ہم نے ورلڈ کپ جیتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اگلا ٹی 20 ورلڈ کپ آسٹریلیا میں کھیلے گا، کوشش ہے پارلیمانی کرکٹ ٹیم بھی جائے۔ عمران خٹک نے کہاکہ ہمارا ایک ہی مقصد تھا کہ عالمی کپ میں کامیابی حاصل کی جائے۔ ٹیم کی چار ماہ کی پریکٹس میں آپس میں دوستی اور رابطے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں سیاست نہیں ہونی چاہئے بلکہ کھیلوں میں کھویا مقام دوبارہ حاصل کریں گے۔ تمام اراکین پر مشتمل ٹیم نے ٹیم کے کوچ ایاز اکبر کی ٹیم کیلئے کاوشوں کو سراہا، ایاز اکبر نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا پارلیمانی کرکٹ ٹیم کا ٹیم کے کوچ مقرر کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس کے اہل سمجھا اور وہ اس کو ہمیشہ کیلئے زیادہ رکھیں گے –

  • مجھ سمیت پی سی بی کا کوئی بھی عہدیدار کارکردگی کے بغیر بورڈ میں اپنے عہدے پر رہنے کا حقدار نہیں ہوگا ، پی سی بی ایم ڈی وسیم خان

    مجھ سمیت پی سی بی کا کوئی بھی عہدیدار کارکردگی کے بغیر بورڈ میں اپنے عہدے پر رہنے کا حقدار نہیں ہوگا ، پی سی بی ایم ڈی وسیم خان

    لاہور ۔ یکم اگست (اے پی پی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا اس وقت تک پاکستانی ٹیم کو کارکردگی میں عدم تسلسل اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، پی سی بی اسی لئے ڈومیسٹک کرکٹ کو ری سٹرکچر کر رہا ہے جس کے بعد پاکستانی کرکٹ میں کافی بہتری آئے گی ۔ قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم خان نے کہاکہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اس معیار کی نہیں ہے جو ہونی چاہئے۔ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہیں ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ پاکستانی ٹیم پر لگا یہ لیبل اتر جائے اور کھلاڑی تسلسل کے ساتھ پرفارمنس دکھائیں۔ ماضی میں باب وولمر اور وقار یونس جیسے بہترین کوچز بھی ٹیم کی کوچنگ کرچکے ہیں لیکن ڈومیسٹک کرکٹ کے سسٹم کے ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی میں عدم تسلسل برقرار رہا ۔ اس لئے ڈومیسٹک سسٹم کو ٹھیک اور مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے مجوزہ ڈرافٹ کی منظوری ملنے پر اس پر فوری عمل در آمد شروع ہوجائے گا۔ ڈومیسٹک سسٹم کے نئے ڈھانچہ میں صوبوں کی 6 ٹیموں کے کھلاڑیوں کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ ملیں گے۔ ملک میں اچھی وکٹیں بنا رہے ہیں، کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کرکٹرز کو قومی ٹیم میں شمولیت سے قبل ہی اچھی کوچنگ اور ایجوکیشن مل جائے اس کیلئے 15، 16، 17 سال کی عمر کے کھلاڑیوں کو نہ صرف بہترین کوچنگ، فٹنس، نیوٹریشن، اینٹی ڈوپنگ اور ڈسپلن کی تعلیم دی جائے گی بلکہ ان کیلئے سپورٹ سائیکالوجسٹ بھی موجود ہوں گے جو ان کو پریشر کو ہینڈل کرنے کیلئے تیار کریں گے۔ کھلاڑیوں کو بتایا جائے گا کہ آن دی فیلڈ اور آف دی فیلڈ کیسا رویہ رکھنا ہے ۔ صوبوں میں 6 ہائی پرفارمنس سینٹر کے قیام سے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوگا۔ ہمارے کوچز ہر سال انگلینڈ میں کوچنگ ایکسینج پروگرام کیلئے جائیں گے جبکہ آسٹریلیا سے بھی اسی سلسلہ میں بات چیت کی جا رہی ہے۔ کوشش ہوگی کہ آئندہ دو سال میں کوچنگ سٹاف پاکستان سے ہو، اس کیلئے ہمارے مقامی کوچز قومی ٹیم کے غیر ملکی کوچز سے تجربہ حاصل کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ پی سی بی کو دنیا کا نمبر ون پروفیشنل بورڈ بنائیں۔ پی سی بی میں شفاف طریقہ کار، میرٹ اور احتساب کا سسٹم لاگو ہوچکا ہے۔

    پی سی بی میں پہلے ڈائریکشن اور منصوبہ بندی کا فقدان تھا لیکن ہم نے آئندہ پانچ سال کیلئے پلان سیٹ کر دیا ہے۔ کمرشل ڈائریکٹر مقرر ہوچکا ہے، میڈیا، کمرشل، انٹرنیشنل کرکٹ، ڈومسیٹک کرکٹ سمیت ہر ڈیپارٹمنٹس کے گول طے کر دیئے گئے ہیں۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کو کارکردگی دینا ہوگی ۔ مجھ سمیت پی سی بی کا کوئی بھی عہدیدار پرفارمنس نہیں دے گا ( ڈلیور نہیں کرے گا) تو اسے بورڈ میںملازمت کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ سال کے بعد ہر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کی تفصیل بتائی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وسیم خان نے بتایا کہ انضمام الحق پاکستان کا لیجنڈ کرکٹر ہے اور انہوں نے دیانت داری سے چیف سلیکٹر کے فرائض سر انجام دیئے تاہم غلطیاں کسی سے بھی ہوسکتی ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کیلئے بہترین چیف سلیکٹر کا تقرر کیا جائے گا جبکہ سلیکشن کمیٹی کیلئے دو ماڈل زیر غور ہیں ایک تو چیف سلیکٹر کے ساتھ تین سلیکٹرز کا تقرر اور دوسرا چیف سلیکٹر کے ساتھ صوبوں کے 6 کوچز کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنا ہے تاہم ابھی کسی ماڈل کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ وسیم خان نے کہا کہ میرا فوکس صرف کرکٹ کی طرف ہے اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ ایمانداری سے پاکستان کرکٹ کی خدمت کرنے آیا ہوں اور پاکستان کرکٹ کو بہتر سے بہتر مقام تک پہنچنانے کی پوری کوشش کروں گا۔ میڈیا میری کارکردگی پر ضرور تنقید کرے لیکن ذاتیات کو نشانہ نہ بنائے۔ میں انگلینڈ ہالی ڈے کیلئے نہیں جاتا بلکہ پاکستانی کرکٹ کی بہتری کیلئے جاتا ہوں۔

    امید ہے کہ ستمبر میں سری لنکا کی ٹیم دو ٹیسٹ کیلئے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ ای سی بی اور کرکٹ آسٹریلیا کے عہدیداران بھی ستمبر کے بعد پاکستان آئیں گے جنھیں پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی جبکہ ایم سی سی کے سنگا کارا بھی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے پی سی بی کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔ آئی سی سی کی کمیٹیوں میں پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی اور مجھ سمیت پی سی بی کے کئی عہدیداران شامل ہیں۔ وسیم خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ٹیسٹ چیمپیئن شپ، انڈر۔19 ورلڈ کپ اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ہمارا ٹارگٹ ہے اور ان ٹورنامنٹس میں کامیابی حاصل کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن کے تمام میچز کا انعقاد پاکستان میں ہونا ضروری ہے اور ہماری کوشش ہے کہ آئندہ پی ایس ایل کے تمام میچز کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں ہوں۔ انٹرنیشنل کرکٹرز سے رابطہ میں ہیں اور متعدد انٹرنیشنل کرکٹرز کی طرف سے مثبت جواب ملا ہے۔ وسیم خان نے کہاکہ پی ایس ایل کی فرنچائز نے پاکستانی کرکٹ میں سرمایہ کاری کی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ان کے ساتھ لانگ ٹرم کنٹریکٹ ہو تاکہ ان کو بھی پی ایس ایل سے معقول فائدہ مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ پی ایس ایل کو فیل کرنے کی کوشش کرنے والے ناکام ہوچکے ہیں۔ پی ایس ایل کامیاب انٹرنیشنل برانڈ بن چکاہے۔

  • پی سی بی نے پاکستان میں نئے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے پر کام شروع کر دیا

    پی سی بی نے پاکستان میں نئے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے پر کام شروع کر دیا

    پی سی بی نے متوقع کرکٹ سٹرکچر کے تحت سینئر و جونئیر ٹیموں کی تشکیل پر کام شروع کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سابق سلیکٹرز توصیف احمد ، وسیم حیدر ،اور وجاہت اللہ واسطی کوچز کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔

    اجلاس میں انڈر 19 کےلئےچھ صوبائی ٹیموں کے لئے کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا۔چھ ڈویژن ٹو انڈر 19 ٹیموں کے لئے بھی کھلاڑی شارٹ لسٹ کئے جائیں گے ۔

    قائد اعظم ٹرافی فرسٹ کلاس اور نان فرسٹ کلاس کے لئے بھی چھ چھ صوبائی ٹیموں کے لئے بھی کھلاڑی شارٹ لسٹ کئے جائیں گے ۔

    قومی ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کےلئے بھی کھلاڑیوں کے نام شارٹ لسٹ ہوں گے ۔

    صوبائی ٹیموں کا اعلان پی سی بی کے نئے آئین کی منظوری کے ساتھ ہی کردیا جائے گا ۔

    کھلاڑیوں کا انتخاب گذشتہ برس ہونے والے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا ۔

    انڈر 19 ٹیموں کے لیے ریجنل اکیڈمیز بھی بہترین کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا .

  • وسیم اکرم کو قومی ٹیم کا کوچ بنایا جائے، جاوید میانداد نے پی سی بی سے مطالبہ کردیا

    وسیم اکرم کو قومی ٹیم کا کوچ بنایا جائے، جاوید میانداد نے پی سی بی سے مطالبہ کردیا

    اسلام آباد:میرے خیال میں‌تو وسیم اکرم سب سے بہتر کوچ ثابت ہوں گے ، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد نے کہا ہے کہ وسیم اکرم قومی ٹیم کے کوچ کے لئے سب سے موزوں انتخاب ہوں گے۔

    جاوید میاںداد نے کہا کہ دنیا بھر میں کرکٹ کھیلنے والی ٹیمیں وسیم اکرم سے مشورے لیتی رہتی ہیں اور ان مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ان کے کھیل میں بہتری بھی نظر آئی ہے، اگر وہ لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں اٹھاتے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب کوئی کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو سب اس کا کریڈیٹ لینے کے لئے آ جاتے ہیں مگر وہی کھلاڑی بری فارم میں ہو تب کوئی نہیں بولتا۔جاوید میانداد نے کہا کہ یہ فیصلے وقت پر کرلیے جائیں تو بہتر ہوتا ہے

    غیر ملکی کوچ کے حوالے سے سابق کپتان جاوید میانداد نے کہا کہ آپ تب ہی غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرتے ہیں جب ملک میں کوئی تجربہ کار کوچ موجود نہ ہو، مگر جب اتنے سارے لوگ یہاں موجود ہیں تو کسی باہر کے کوچ کو رکھنے کا کیا جواز ہے۔

    جاوید میانداد نے سابق کوچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں اکثر کھلاڑیوں کا تعلق گاؤں اور دیہاتوں سے ہوتا ہے انہیں لیپ ٹاپ کے ذریعے کوچنگ نہیں کی جا سکتی۔