Baaghi TV

ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

iran

ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے ، جنہیں ”چھپی محافظ“ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے بلومبرگ کے مطابق ایران کے پاس ”غدیر کلاس“ کی کم از کم 16 منی آبدوزیں موجود ہیں بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ہر آبدوز میں 10 سے کم اہلکار سوار ہوتے ہیں۔

ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ دو سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امن تجاویز پر اختلافات برقرار ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

More posts