ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ جاسک کے قریب دو میزائلوں نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی جہاز نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے رکنے کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔
یہ مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس مشن کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز پر میزائل حملے میں نقصانات کی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی صہیونی ڈسٹرائزر کے داخلے کو روک دیا ہے۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک سخت اور فوری وارننگ کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے،دوسری جانب سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی جہاز کا ایرانی میزائل کا نشانہ بننے کی خبر کی تردید کر دی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ جائےیرانی افواج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔
ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے غیر ملکی بحری بیڑوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے بہا نے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہوں،ا مریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے نے عالمی تجارت اور معیشت کی سلامتی کو خطر ے میں ڈال دیا ہے۔
میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے کہا کہ شرپسند امریکا کے حامیوں کو محتاط رہنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ناقابلِ تلافی پچھتاوا ہو، کیونکہ امریکا کی جارحا نہ کارروائیوں کا نتیجہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے اور بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
