Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا

    گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس برخواست کردیا. گورنر پنجاب نے کل پنجاب اسمبلی کا 41واں اجلاس سہ پہر 3 بجے ایوان اقبال میں طلب کر لیا ہے ایوان اقبال میں پنجاب کا بجٹ پیش کیا جائے گا.مسلم لیگ ن کے وزیر سردار اویس لغاری پنجاب کا بجٹ پیش کریں گے.

    دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے 40 واں اجلاس برخواست ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع کر دیا ، اجلاس میں شرکت کیلئے ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ بھی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں ایوان میں جاؤں گا کسی میں جرات نہیں کہ مجھے ایوان سے نکالے ۔ اس وفت بھی سردار اویس لغاری ،رانا مشہود اور صوبائی وزرا بھی پیجاب اسمبلی میں موجود ہیں.

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اجلاس کل ایک بجے دوپہر تک کیلئے ملتوی کر دیا ہے.پنجاب اسمبلی کا اجلاس اٹھ گھنٹے اکتالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا تھا. پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہی کر رہے تھے تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ریا اوع آج بجت اجلاس کے دوسرے روز بھی پنجاب اسمبلی میں بجت پیش نہ ہو سکا.
    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کا اجلاس کیلئے انتظار کیا گیا اور بیس منٹ انتظار کرنے کے بعد اجلاس کل تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا.

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

  • پنجاب کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہو سکا، حکومت اور اپوزیشن میں ڈید لاک برقرار

    پنجاب کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہو سکا، حکومت اور اپوزیشن میں ڈید لاک برقرار

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ خیز ہونے کاامکان ہے. جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے.پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا، پنجاب اسمبلی کااجلاس دوپہر ایک بجے سپیکر پرویز الہی کی زیر صدارت شروع ہونا تھا جو تاحال شروع نہیں ہو سکا،اجلاس میں پنجاب کے مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کیا جانا تھا.اجلاس میں فانشنل بل 2022 بھی متعارف کروایا جانا ہے.اجلاس میں پنجاب سیلز ٹیکس اون سروسز ایکٹ 2012 ترمیمی بل بھی پیش کیا جائے گا.

    . پنجاب اسمبلی پر یس گیلری اور سیکرٹریٹ کو میڈیا کے لیے بند کردیا گیا ہے اور پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے سحافیوں کو اندر جانے سے روک دیا

    صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا اور پنجاب اسمبلی کے احاطے پر صحافئوں کا دھرنا دیا،تاہم ترجمان پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کی کوریج پر کوئی پابندی نہیں ہے،صحافی اس وقت بھی میڈیا کیمپ میں کوریج کر رہے ہیں، صحافی ایوان کی پریس گیلری سے بھی اجلاس کی بلا روک ٹوک کوریج کر رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کی گزشتہ روز بھی مکمل کوریج کی تھی، صبج سے میڈیا کی کوریج اسمبلی کے میڈیا کیمپ سے جاری ہے .

    دوسری طرف اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ایماءپر سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلی کی سیکیورٹی کو بھی گیٹ پر روک لیا. اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود کا کہنا تھا کہ خوشی ہوتی کہ اپوزیشن پنجاب میں سستے آٹے کا کہتی ،لیکن یہ ذاتی بات کےلئے آئے،کسی کی ہٹ دھرمی نہیں چلنے دیں گ،عطا تارڑ کو ایوان سے باہر نکالنا زیادتی ہے

    رانا مشہود احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو صوبائی وزیر بنایا جاتا ہے تو چھ ماہ تک وقت ہوتا ہے ماضی میں مجتبی شجاع اور رانا ثنااللہ کی مثالیں موجودہیں, عطااللہ تارڑ آئے گا بیٹھے گا اگر پھر کوئی غیر قانونی حرکت کی تو جواب دیاجائےگا،پک اینڈ چوز نہیں ہونا چاہئیے ، بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں اس پر بات کریں گے، آج مونس الہی اگر بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بیٹھے تو اس کا بائیکاٹ ہوگا یا پھر اپنے بچے بھی ساتھ لائیں گے،

    رانامشہود احمد خان نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد بجٹ پاس کروانا ہے سپیکر کے دن گنے جا چکے ہیں عدم اعتماد سپیکر کے خلاف موجود ہیں انہیں باہر نکال دیں گے، بجٹ پاس کروانے کےلئے عدالت سمیت ہر آپشن کو استعمال کریں گے،پرویز الہی جیسے بزرگ کو اٹھائیس سال کا لالی پاپ مل چکا ہے انہیں چاہئیے اسی لالی پاپ پر گزارا کریں.

    سردار اویس لغارینے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو اسمبلی نہیں لائیں گے ،چیف سیکرٹری اور آئی جی سے کام لینا ہے،پرویز الہی اپنا غصہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پر نکالنا چاہتے ہیں، آئی جی اور چیف سیکرٹری کا بجٹ سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں ہیں آئین اور قانون کے مطابق جو ہوگا وہی ہوگا، پرویز الہی کی ڈیمانڈ ہے کہ میرے ساتھ سوگ میں حصہ لوں کہ میں وزیر اعلی کیوں نہیں بن سکا

    دوسری جانب ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ آئی جی کو بلا کر ان کی توہین کرنا چاہتے ہیں ،ہمارا کوئی ممبر ایسا نہیں جو ان سے غیر پارلیمانی بات کریں انہوں نے کہا کہ اصل میں آئی جی ان کی بات مانے کو اس لئے تیار نہیں کہ ان کی حکومت اس کی وجہ سے ہے، ہم ادارے کی توقیر کو بحال کرنے کے لئے کھڑے ہیں

    اپوزیشن لیدر پنجاب سبطین خان نے کہا کہ سولہ تاریخ کو جو بربریت اسمبلی میں کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی، ہم نے اجلاس میں آئی جی اور چیف سیکرٹری سے کچھ نہیں لینا ہے، ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس ایوان سےبجٹ پاس ہو کر آپ کو سیلری ملتی ہیں
    انہوں نے مزید کہا کہ پچیس تاریخ کو ان لوگوں نے کس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے پوچھنا ہے کہ آپ نے کیوں لاٹھی چارج کیا، حمزہ شہباز خود کہہ دے ہم ہار گئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو نہیں لا سکتے. ہم اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائے گے۔

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ اسمبلی میں اسپیکر کی رولنگ چلتی ہیں ، اسپیکر نے رولنگ دی کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلایا جائے،لگتا ہے یہ آئی جی کے ماتحت ہے جو ان کی بات نہیں مان رہے، اج ہاؤس کی بے توقیری جعلی وزیر اعلیٰ کر رہا ہے ، جب تک آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری نہیں آئیں گے ایوان نہیں چلے گا ،یہ حکومت امریکہ کے ایجنڈے پر آئی ہے۔امریکہ ان کے کیسز ختم کروا رہا ہے ،ان لوگوں نے امریکہ کے کہنے پر لاٹھیاں چلائی.

    مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عطا اللہ تاڑرکا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق ایوان میں بیٹھ سکتا ہوں،پہلے بھی ایسی مثالیں ملتی رہی ہیں،لیکن سپیکر کی ضد تھی, اس لیے باہر آ گیا،میں 12 کڑور عوام کے بجٹ میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا،ہم مقدمات پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، صحافیوں کے ساتھ زیادتی ہے،انہوں نے بڑی شرارتیں کیں، شرارتیں ہم نے بھی بڑی دیکھی ہیں، ہم بلیک میل بلکل نہیں ہونگے. میڈیا کو اندر جانے دیا جائے ہم بھی یہی چاہتے ہیں، 600 بندہ اپنی مرضی کا بھرتی کیا ہوا ہے،زاتی کمپنی بنائی ہوئی ہے.

    لیگی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کو وزیر اعلی نہ بننے کا غم ہے ، انہیں عقل اور تمیز نہیں آرہی ، بجٹ نے نہ حمزہ شہباز اور نہ ظہور الہی روڈ پر بٹنا ہے یہ پنجاب کی عوام کا بجٹ ہے،عوامی بجٹ کو پاس ہونا چاہیے.عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ پرویز الہی اپنی۔ بوٹی سیاست کیلیے اوچھی حرکتوں پر آیا ہوا ہے، پرویز الہی کا اچھا علاج ہے لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا،ان کا علاج ضرور کریں گے.

  • عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    عمران حکومت کی ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض فیملی کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل کے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی بن گئی جو مذکورہ ڈیل اور آے آر یو کی کارروائی کے حوالے سے حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    گزشتہ دور حکومت میں برطانیہ سے آنے والے 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ،وفاقی کابینہ نے این سی اے اور ملک ریاض خاندان کی خفیہ ڈیل کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے کابینہ نے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی،3،12،19 کو یہ سیٹلمنٹ سیل کی گئی تھی جسے آج ڈی سیل کیا گیا ہے

    ملک ریاض نے کونسے وکیل کی خدمات حاصل کر لیں؟

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نام نہاد مشیراحتساب تھے،شہزاد اکبر عمران خان دورحکومت میں معاملات مینج کرتے تھے ایک ڈاکومنٹ ترتیب دیاگیا جسے مصدق ملک شیئر کریں گے، گزشتہ دورحکومت میں کرپشن کے نئے طریقے دریافت کیے گئے پلان بنایا گیا کہ کس طرح 50 ارب روپے بچانا ہے اور حصہ نکالنا ہے،ڈاکومنٹ منظور کروا لیا گیا تو شہزاد اکبر وہاں گئے اور پورا عمل مکمل کروایا،وفاقی کابینہ نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ،کمیٹی ڈیل سے متعلق حقائق کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے 50 ارب روپے کو تحفظ فراہم کیا گیا، بحریہ ٹاؤن نے یہ زمین القادر ٹرسٹ کے نام ٹرانسفر کی،ڈونر بحریہ ٹاؤن اور دوسری جانب بشریٰ بی بی کے دستخط ہیں،خاتون اول خود اس کا حصہ تھیں اورخود سائن کیا،ٹرسٹی سابقہ خاتون اول اورعمران خان ہیں،بحریہ ٹاون کو پچاس ارب معاف کرنے پر بحریہ ٹاون کی طرف سے ساڑھے چار سو کنال زمین القادر ٹرسٹ کو دی گئی کاغذات میں مالیت 53 کروڑ روپے لکھی، اصل قیمت 10 گنا زیادہ ہے۔ روحانیت کے نام پر کوئی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، صرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کے نام کو القادر یونیورسٹی کا نام دے دیا۔ اور جب جب عمران خان وہاں گیا تو بحریہ ٹاؤن نے ہی فنکشنز کا انتظام کیا، اس کے علاوہ بھی تمام تعمیراتی اخراجات بحریہ ٹاؤن نے ہی کیے۔

    ملک ریاض ان دنوں خبروں میں ہیں، ملک ریاض کی آڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، ایک آڈیو مبینہ طور پر ملک ریاض اور انکی بیٹی کی بات چیت ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو ہیروں کا ہار دینے اورکام کے بارے میں ہے، دوسری آڈیو عمران خان کا آصف زرداری کو پیغام پہنچانے کی ہے،دونوں آڈیو کی اگرچہ ملک ریاض تردید کر چکے ہیں تا ہم دوسری جانب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک ریاض نے بنی گالہ کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح خان عرف فرح گوگی کے نام زمین بھی کروائی جس کی وجہ سے بھی وہ خبروں میں آئے


    شہزاد اکبر جو عمران خان کے دور حکومت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں، انہوں نے اسوقت ایک ٹویٹ کی تھی جس میں کہا تھا کہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے تصفیے کے بعد 19 کروڑ ملین پاؤنڈ (پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 ارب) سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جائیں گے 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ (ساڑھے 28 ارب روپے) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں سپریم کورٹ کو پیسے ملنے کے بعد حکومت کورٹ سے درخواست کرے گی کہ پیسے حکومت پاکستان کو دے دیے جائیں تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں

    شہزاد اکبر نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں حکومت نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں اور ہمیں کروڑوں ڈالر آنے کی امید ہے اس لیے ہم صیغۂ راز میں رکھنے کے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی

    بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی

    لاہور: بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا. پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : اسپیکر نے کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلا نے کا کہا اسپیکر نے کہا کہ کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلایا جائے اگر آئی جی چیف سیکرٹری نہ آئے تو کل دوپہر ایک بجے تک اجلاس ملتوی کردوں گا –

    اسپیکر نے کہا کہ حکومت سے ایک آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلانے کی ہمت نہیں ہورہی ،ملک احمد خان نے کہا کہ آج بجٹ پیش کرنے دیں اگلی بار آپکے حکم کے مطابق آئی جی چیف سیکرٹری کو ایوان میں پیش کردیں گے ۔

    اسپیکر نے کہا کہ میرے یا عثمان بزدار کی وزارت اعلی میں بجٹ کے وقت آئی جی چیف سیکرٹری ایوان میں موجود رہتے تھے بجٹ کے وقت آئی جی چیف سیکرٹری کا ایوان میں موجود ہونا ایوان کی عزت ہے ۔

    قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے کہا کہ یب اور مڈل کلاس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، بجلی اور ڈیزل پر سبسڈی دی جائے تو پاکستان زراعت میں خود کفیل ہوسکتا ہے۔

    راجہ ریاض نے کہا کہ حکومت نے امپورٹڈ اشیا پر پابندی لگائی لیکن اسمگلنگ نہیں روکی، پاکستان میں سگریٹ تک اسمگل ہو کر آتے ہیں حکومت نے امپورٹڈ اشیا پر پابندی لگائی لیکن اسمگلنگ نہیں روکی، پاکستان میں سگریٹ تک اسمگل ہو کر آتے ہیں۔

    بجٹ 23-2022 پر بحث کر تے ہوئے راجہ ریاض نے کہا کہ غریب اور مڈل کلاس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، بجلی اور ڈیزل پر سبسڈی دی جائے تو پاکستان زراعت میں خود کفیل ہوسکتا ہے سابقہ حکومت کے وزیر نے تسلیم کیا ہے کہ 4 سال میں 76 فیصد قرضہ لیا ہے، غریب کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنا ہے تو قرضوں کے چنگل سے باہر نکلنا ہوگا-

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سال میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے جس کے باعث آج پورا ملک لوڈشیڈنگ کے عذاب کا شکار ہے، 12/ 13 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے شہباز شریف حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا، بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے بھی خاطرخواہ فنڈز نہیں رکھے گئےلوگ سرکاری اسپتالوں میں مجبوری میں مرنے کے لیے جاتے ہیں بھارت پاکستان کے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو خشک کرنے کی سازش کر رہا ہے، بھارتی حکومت کے مسلمانوں پر ہو نے والے پرتشدد اقدامات کی مذمت کرتا ہوں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان کا عدالتی نظام تیزی سے تباہی کی جانب جا رہا ہے، پاکستان میں غریب اور امیر کے لیے انصاف کا معیار الگ ہے، پولیس میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، گزشتہ چند برسوں میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے، تمام سیاسی جماعتیں مل کر قوم کو مسائل سے نکالنے کے لیے راستہ بنائیں قومی اسمبلی کے اجلاس سے مختصر خطاب کے بعد راجہ ریاض ایوان سے باہر چلے گئے لیکن اس سے قبل ن لیگ کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قائد حزب اختلاف کی نشست پہ جا کر انہیں تھپکی دی۔

    لاہور،پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 گھنٹے سے زائد کی تاخیرکے بعد بالآخر شروع ہو ا اسپیکر چودھری پرویز الہٰی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اپوزیشن لیڈر سبطین خان اسمبلی میں پہنچے حکومتی ارکان نےوزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے ایوان میں پہنچے پر استقبال کیا-

    پنجاب اجلاس کے آغاز میں راجہ بشارت نے ایوان میں وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کے موجود نہ ہونے پر اعتراض کیا تھا راجہ بشارت نے کہا کہ یہ ایوان کی روایت کے خلاف ہے جب تک وزیر اعلی اور بیورو کرسی ایوان میں نہیں آتی بجٹ ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    میاں اسلم اقبال نے بھی صورتحال کو روایت کے خلاف قرار دے دیا جب تک وزیر اعلی نہیں آتے بجٹ پیش نہ ہونے دیا جائےسپیکر اسمبلی چودھری پرویز الہی نے اپوزیشن کے ارکان کے موقف کو درست قرار دے دیا-

    حکومتی رکن اور وزیر ملک احمد خان نے اپوزیشن کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایوان میں بجٹ پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی تو وزیر اعلی اور اعلی بیورو کرسی بھی آجائے گی-

    اجلاس میں اپوزیشن کے رکن چودھری ظہیر الدین نے ایوان میں عطاء اللہ تارڑ کی موجودگی پر اعتراض کیا عطاء اللہ تارڑ کی ایوان میں موجودگی حیران کن ہے۔وہ رکن اسمبلی نہیں ہیں چودھری ظہیر الدین نے اعتراض کیا کہ چودھری ظہیر الدین کے اعتراض پر عطاء اللہ تارڑ اپنی نشست پر ٹہلملا اٹھے-

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سارجنٹ اینڈ آرمڈ کو عطاء اللہ تارڑ کو ایوان سے باہر لیجانے کا کہہ دیاایوان میں ن لیگی ایم پی اے عطاء اللہ تارڑ کے اردگرد کھڑا ہوگئے عطاء اللہ تارڑ کے خلاف گو تارڑ گو کے نعرے شروع ہو گئے –

    ملک احمد خان نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ بالکل ٹھیک کہے رہے ہیں جب بجٹ پیش کیا جائے گا وزیر اعلی ایوان میں ہوں گے –

    چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ آج بجٹ پیش نہیں کررہے، سر اگر آپ بجٹ کا ٹائم نو بجے مختص کردیں تو وزیر اعلی پانچ منٹ پہلے یہاں ہوں گے ہم بارہ بجے تک یہاں بیٹھے ہیں-

    رانا مشہود نے سپیکر سے استدعا کی کہ سارجینٹ ایٹ آرمز اگر پیچھے ہٹ جائیں تو وہ پانچ منٹ میں خود چلے جائیں گے۔

    چودھری پرویز الہی نے چودھری پرویز الہی کے اعتراض پر سارجینٹ ایٹ آرمز کو طلب کرلیا صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کو ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا گیا عطاء اللہ تارڑ کو ایوان ے نکالنے کی کارروائی میں حکومتی ارکان نے مزاحمت کی تمام حکومتی ارکان نے عطاء اللہ تارڑ کو اپنے حصار میں لے لیا سارجینٹ ایٹ آرمز کو عطاء اللہ تارڑ تک جانے سے روک دیا جس کے بعد ایوان میں ایک مرتبہ پھر شدید ہنگامہ ۔شور شرابہ شروع ہو گیا ایوان مچھلی منڈی بن گیا-

    عطاء تارڑ کو ایوان سےباہر جانے کیلئے حکومت نے سیف راستہ مانگ لیا حکومت نے اسپیکر سے10 منٹ کی مہلت پر اسمبلی اجلاس 10منٹ کیلئے ملتوی کردیااسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمزکو عطا تارڑ کو باہر نکالنے کا حکم دیا-

    بجٹ اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی ندیم قریشی کے والد کی وفات پر دعا مغفرت کی گئی

    واضح رہے کہ قبل ازیں بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوتے ہی نا کام ہو گیا تھا جبکہ اپوزیشن اپنے مطالبات پر ڈٹ گئی تھی وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کردیاتھا۔

    کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،عمران خان

    واضح رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی کیے جانے والے مطالبات تسلیم کرنے کی شرط رکھ دی تھی پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری اسپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے آئی جی پنجاب سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اراکین اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا ہے جس پر آئی جی پنجاب کو معافی مانگنا ہو گی۔

    آئی سی سی کی ون ڈے کی نئی رینکنگ جاری،پاکستان نے بھارت سے چوتھی پوزیشن چھین لی

  • پیپلز پارٹی کا تمام فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کرکرنے پر اتفاق

    پیپلز پارٹی کا تمام فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کرکرنے پر اتفاق

    سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی پی کی کور کمیٹی کا اعلی سطح کا ہائبرڈ اجلاس منعقد ہوا جس میں دہشت گردی بالخصوص کابل میں تحریک طالبان افغانستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق حالیہ پیش رفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پیپلزپارٹی کورکمیٹی کے اعلی سطح کے اجلاس میں اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے پارلیمان میں اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئے.

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے پارلیمان میں اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئیں۔ پیپلزپارٹی کے اعلی سطح کے اجلاس میں اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانے کا فیصلہ بھی کیا۔

    بلاول بھٹو نے قرنطینیہ میں ہونے کی وجہ سے کورکمیٹی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ فریال تالپور اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی کورکمیٹی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا ہے جس میں دہشت گردی سے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا، پی پی پی کے اعلی سطح کے اجلاس میں بالخصوص تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بات ہوئی، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمان میں تمام فیصلے ہونے پر یقین رکھتی ہے، ہم اتحادی جماعتوں سے رابطہ کرکے آگے بڑھنے کے لئے اتفاق رائے پیدا کریں گے.

    اجلاس میں سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، خورشید شاہ اور فیصل کریم کنڈی، نجم الدین خان، چوہدری یاسین، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، ہمایون خان، اخوند زادہ چٹان، ندیم افضل چن ، رخسانہ بنگش شریک ہوئے جبکہ نیربخاری، شازیہ مری، نثار کھوڑو، پلوشہ خان اور امجد ایڈووکیٹ نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی.

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے.

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کابینہ کو بجٹ کے نکات پر بریفنگ دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

    بجٹ تقریر کے اہم نکات سامنے آئے ہیں ،بجٹ تقریر کے نکات کے مطابق دفاع پر 1450 ارب روپے خرچ ہوں گے حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ریونیو میں صوبوں کا حصہ 35 سو 12 ارب روپے رہا ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص ہیں رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اب ایک کروڑ افراد کو فنڈز دے گا بجٹ کا حجم 9 ہزار500 ارب روپے ہوگا، صنعت کے لیے رعایتی گیس کی سہولت دی جائے گی صنعتوں کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے گوادر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کرینگے نیشنل یوتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات 530 ارب روپے ہیں گرین یوتھ مومنٹ کا آغاز کیا جائے گا،سابق حکومت نے پونے 4 سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا،

    نئے مالی سال کیلئے 9 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقررکیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں کسانوں کےلئے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں مقامی خیراتی اسپتالوں کو امپورٹ پر چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہاز شریف نے حکومتی اتحادیوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، حکومتی اتحادیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی، اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس 13 جون کو طلب کر لیا.پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا تاہم
    یہ بجٹ کون پیش کرے گا؟ اس حوالے سے ابھی نوٹفکیشن ہونا باقی ہے.زرائع کے مطابق اسمبلی میں بجٹ وزیر خزانہ پیش کرتے ہیں مگر پنجاب کی نئی حکومت ابھی تک وزیر خزانہ کا تقرر نہیں کر سکی.اور نہ ہی ابھی تک کابنیہ کی تشکیل مکمل کی جا سکی ہے،زرائع کے مطابق پنجاب کابنیہ کیلئے میاں مجتبی شجاع الرحمان کا نام بطور وزیر خزانہ پنجاب زیر غور ہے.مگر ابھی تک ان سے وزارت کا حلف نہیں لیا گیا ،توقع ہے کہ آئیندہ 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب کابنیہ کی تشکیل مکمل کر لی جائے گی اور نئے وزراء حلف اٹھا لین گے.

    دوسری طرٍف پنجاب اسمبلی میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 25ہزار پر عملدرآامد کے مطالبے کی قرارداد جمع کرائی گئی ہے.قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ متعدد فیکٹریاں مزدور کو 18سے 20ہزار ماہانہ تنخواہ دے رہی ہیں ، مہنگائی کے دور میں مزدور کےلئے بیس ہزار میں گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے.

    قرارداد کے متن میں میں کہا گیا کہ مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہورہا ہے ، قرارداد میں وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ نجی فیکٹریوں میں مزدور کی کم از کم اجرت ماہانہ 25ہزار پر عملدرآمد کرایا جائے اورجو فیکٹری مالک مزدور کو 25ہزار سے کم تنخواہ دے اس کو بھاری جرمانہ کیا جائے.

    پنجاب اسمبلی میں آج ہی کے دن ایک اور قرارداد جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں کوفعال کیا جائےاور مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پرئس کنٹرول کمیٹیاں اور مجسٹریٹ کی قلت کی باعث ناجائز منافع خور من مرضی کے ریٹ وصول کررہے ہیں ، دکاندارمارکٹیوں میں سبزیاں اور پھل اپنے ریٹس پر فروخت کررہے ہیں، سادہ لوح شہری ناجائز منافع خوروں کی رحم و کرم پر ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فوری فعال کیا جائےاورلاہور سمیت صوبے بھر میں مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے.

  • وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لئے ہفتے کی چھٹی بحال کردی

    وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لئے ہفتے کی چھٹی بحال کردی

    اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور اس پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری لاہور پہنچ گئے،حمزہ شہباز کو ظہرانے پر دعوت

    ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم توانائی بحران پر قابو پانے کےلیے مارکیٹوں کی شام 7 بجے بندش کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کابینہ نے وزرا اور سرکاری ملازمین کے پیٹرول میں 40 فیصد کٹوتی کی منظوری بھی دے دی ہے۔

    توانائی کی بچت کا پلان کابینہ اجلاس میں پیش کردیا گیا وزارت توانائی کی جانب سےبجلی بچت کیلئے8 نکاتی فارمولا تیار کیا گیا بجلی بچت سےمتعلق تجاویزوزیراعظم کےقائم ورکنگ گروپ نےتیارکیں-

    اجلاس میں سرکاری تیل کے کوٹے میں 33 فیصد کمی کرنے کی تجویز دی گئی ہفتے میں ایک دن گھرسے کام کرنے کی تجویزبھی پلان کا حصہ تھا تجویز میں کہا گیا نجی شعبہ بھی ایک دن گھرسے کام کرنے کو ترجیح دے، گلیوں،شاہراہوں پرلگی لائٹس جزوی طورپرآن رکھنے کی تجویز بھی دی گئی-

    ،وزارت توانائی کی تجویز میں کہا گیا کہ مارکیٹس،شادی ہالزرات 10 بجےبند کیےجائیں توانائی کی بچت کیلئے بھرپورآگاہی مہم چلانے کی بھی تجویز دی گئی-

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا میرا پکا ارادہ ہے،یہ آدمی نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے،رانا ثناءاللہ

    دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ہفتے میں دو تعطیلات کی تجویز دی ہے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں سارے مللک میں ہفتہ میں ہفتہ اتوار پور ی تعطیل اورجمعہ کےروز آدھادن یعنی ہفتہ میں 4 سے 5 دن کام ہوکام کےدنوں میں ایک گھنٹہ دفاتر کا دورانیہ بڑھا دیا جائے.سڑکوں پہ ٹریفک کم ہو گی.تیل اور بجلی دونوں کی بچت ہو گی.کفایت شعار ی کے کلچر کو فروغ ملے گا-

    عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان پر قرارداد پیش

  • صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کئے گئے ایکسز ٹو میڈیا (ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل2022 زیر بحث آیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ممبران کو بل میں ورڈنگ کے حوالے سے معمولی خدشات تھے جن کو دور کردیا گیا ہے۔خصوصی افراد کیلئے یہ بل لایا گیا ہے۔ایسے لوگ ڈرامہ نہیں دیکھ سکتے، خبریں نہیں دیکھ سکتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔بل میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ معمولی نوعیت کی ہے۔آپ اس قانون پر عمل درآمدکرانے میں مدد کریں گے۔بل میں لفظ ”ڈمپ“کو نکال دیا گیا ہے۔ممبران میں سننے کی حس سے محروم ایک فرد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔دو سینیٹرز اور دو قومی اسمبلی کے اراکین بھی ممبران میں شامل ہوں گے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کو بل پر کوئی اعتراض نہیں۔چیئرمین پیمرا نے بھی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پیمرا کو بھی بل کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ہم اس بل کو متفقہ طور پر پاس کرتے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ایکسز ٹو میڈیا(ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل 2022 کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
    سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے ریڈیو پاکستان کے راولپنڈی کے دفتر میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بحث ہوئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ معلومات کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ متعلقہ حکام کے مطابق مالی بحران کے باعث درخت کاٹے گئے ہیں لیکن وجہ نہیں بتائی گئی۔درختوں کے معاملے میں تو پی ٹی آئی چیمپئین ہیں اور درخت لگانا عمران خان کا بہتر اقدام تھا۔درختوں کے رقبے کے لحاظ سے پاکستان دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے۔قائمہ کمیٹی کا فرض ہے کہ اس معاملے کی جانچ کرے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ درخت کٹنے کے قابل تھے، اگر عمران خان وزیراعظم ہوتے تو ان کو بھی لکھتا کہ اس معاملے کا وہ نوٹس لیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پی بی سی کی طرف سے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کتنے درخت کاٹے گئے، درخت جو کاٹے گئے وہ کن اقسام کی تھے اور ان کی مارکیٹ ویلیو کیا تھی یہ سب تفصیلات کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنا ضرروری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے اگلی میٹنگ میں ای پی اے اور پنجاب کے ماحولیاتی ادارے کے حکام کو طلب کرلیا۔ ڈی جی پی بی سی نے کہا کہ ابھی دو ہفتے پہلے ڈی جی پی بی سی کا چارج سنبھالا ہے۔اس وقت ادارے کا مالی بحران 1922 ملین کا ہے جبکہ 22 ملین کا اس سال کا شارٹ فال ہے۔کچھ درخت بہت پھیل گئے تھے، ٹرانسمیشن اور سیکیورٹی کے مسئلے تھے اس وجہ سے درخت کاٹے گئے۔اس وقت پی بی سی کے 58 یونٹس ہیں جس میں 25 یونٹس نے جواب دیا اور آکشن کیلئے 21 یونٹس کیلئے اشتہار دیا گیا ہے۔پی بی سی راولپنڈی دفتر میں 100 درخت کاٹے گئے جن کی مالیت 7 لاکھ ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینئراینکرپرسنز اور صحافیوں کے خلاف مقدمات کامعاملہ بھی زیربحث آیا ہے۔ اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ آزادی صحافت پر حملے ہو رہے ہیں قد غن لگائی جا رہی ہے۔چینلز کے نمبر تبدیل ہو رہے ہیں مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔صحافیوں کے تحفظ کیلئے بل پاس کیا گیا ان رولز پر عمل درآمد ابھی تک کیوں نہیں ہوا۔اینکر پرسن عمران ریاض نے کہا کہ مجھے نوٹسز مل رہے ہیں پیشی کے، 28 تاریخ کو پیش ہونا تھا اور نوٹس 31 کو ملا تاکہ میں پیش نہ ہو سکوں اور میرے خلاف ایکشن لیا جائے۔ڈرون کیمرے سے میرے گھر کی ویڈیوز بنائی گئیں۔پولیس نے بھی میرا گھر گھیرا لیکن میں نکل گیا، پولیس والے نے مجھے کہا کہ آپ نکل جائیں ورنہ گرفتار کرلیں گے۔ٹھٹھہ میں 502 کی دفعہ لگائی گئی جو کہ صرف حکومت لگا سکتی ہے، مدعی عاشق علی ہے جس کے خلاف منشیات کے 16 مقدمات ہیں اور عدالت نے اسکا شناختی کارڈ بلاک کرایا ہے۔مقدمہ وہ درج کیا گیا جو صرف ریاست کرا سکتی ہے۔نواب شاہ میں میرے خلاف دوسرا مقدمہ ہے، تیسرا مانسہرہ میں،کسی صوبائی حکومت نے ا نکوائری نہیں کرائی کہ یہ جعلی مقدمات کون کروا رہا ہے۔ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے، جمعہ کو پیشی ہے، مجھے کہا گیا کہ اسلام آباد نہیں چھوڑنا ورنہ گرفتار کر لیں گے۔عالمی تنظیمیں ہم سے تفصیلات مانگ رہی ہیں، پاکستان کا امیج متاثر ہوگا ہمیں مجبور نہ کریں کہ یو این میں جائیں۔
    اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے آئی جیز کو کمیٹی میں بلائیں کہ 505 کی دفعات کیوں لگائی گئی پینل کوڈ کے تحت۔سیالکوٹ، لاہور، ملتان میں اے آر وائے کو بند کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی، کیبل آپریٹر نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔کمیٹی سے گزارش ہے کہ آپ منتخب نمائندے ہیں آپ فیصلہ کریں، آپ سے انصاف کی امید ہے۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کسی کا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے لیکن کیا اپنی رائے کیلئے دوسرے کا گلا گونٹ دیا جائے یہ جبر ہے۔رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے جب مجھے پکڑا گیا یہ سارے میرے ساتھ کھڑے تھے کیونکہ سوال اظہار رائے اور قلم کا تھا۔اس مسئلے پر میں صحافیوں اور ان اینکر پرسنز کے ساتھ ہوں۔نائب صدر پی ایف یو جے نے کہا کہ اے ار وائے کے اینکرز کے خلاف کل 8 مقدمات ہیں۔باہر ممالک میں چینلز کسی نہ کسی پارٹی کی سائیڈ لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں ایسے مقدمات لگائے جا رہے ہوں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کے مطابق ان صحافیوں کے خلاف کوئی ایکشن ہی نہیں لیا گیا جس پر چیئرمین پیمرا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس سے پیمرا کا تعلق نہیں ہے، پیمرا چینلز کے اندرونی انتظامیہ کے معاملات میں عمل دخل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔جو ذمہ دار ہیں تو ان کو بلائیں۔نائنٹی ون کیبل کا ہمیں بتایا گیا اور ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پیمرا سے گزشتہ تین ماہ کی چینلز کی نمبرنگ کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    اینکر پرسن صابر شاکر نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کیبل آپریٹرز کو چینل کی بندش کاحکم نہیں دے سکتے۔ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ جہاز سے اٹھا لیں گے، ارشد شریف، اے آر وائے اور چینل کے مالک سلمان کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔ میری اور ارشد شریف کی زندگی خطرے میں ہے۔سینیٹرعرفان صدیقی کو بھی اس وقت کی حکومت نے نہیں اٹھایا تھا۔ کل تک محب وطن تھے آج دشمن ہو گئے۔مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ کس ملک میں رہ رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے۔
    سینیٹرعون عباس نے کہا کہ پیمرا بھی اس معاملے میں بے بس ہیں، سیکریٹری اطلاعات کا بھی کوئی کام نہیں۔اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں ہر ہفتے کمیٹی بلائیں، آئی جیز اور ہوم سیکریٹریز کو بلائیں۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ جمہوریت آزاد صحافت کے بغیر پروان نہیں چھڑتی۔ارشد شریف کا معاملہ میرے لئے حیران کن نہیں ہے۔بلوچستان میں سیاست دانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔صحافی کا بھی کسی جماعت کی طرف جھکاؤ ہو سکتا ہے۔ہر چینل کی اپنی پالیسی ہوتی ہے یہ ان کا حق ہے۔ شائستہ زبان میں تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے۔چاروں صوبوں کے آئی جیز کو بلائیں، معلومات کرائیں کہ جس شخص نے ایف آئی آر کاٹی وہ کون ہیں؟ کس کے کہنے پر یہ کیا ہے؟ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو انصاف اور حفاظت فراہم کریں۔جو بھی اقدامات اٹھائیں گے ہم ساتھ ہیں۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس ایشو کے اوپر میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ساتھ ہوں یہ قومی مسئلہ ہے۔ہم ان کا دفاع کریں گے، جو بھی کمیٹی طے کرے گی ہم ساتھ ہیں۔ اپنے آپ کو خوش کرنے کیلئے سب کو بلائیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ نہیں کرسکتے۔اصول بنائے کہ ہم ہر آواز کو سنیں، آواز کو بند کرنے کی بات نہیں ہونی چاہئے۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ان کا پرسان حال کون ہے؟ پیمرا کو بھی نہیں پتہ، وزارت کا کیا جواب ہے، صحافیوں پروٹیکشن بل کے رولز ابھی تک نہیں آئے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کہا کہ ہیومن رائٹ نے اس بل کے حوالے اے ایکشن لینا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آزادی صحافت پر جو حملہ ہے اس میں وزارت کیا کرے گی۔ اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ شکایت کنندہ کو کمیٹی میں بلائیں ہم اخراجات برداشت کریں گے اور ان سے یہ کمیٹی پوچھے۔اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرنی چاہئے، تاکہ کل کو صحافیوں کو تحفظ حاصل ہو۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 5.5 سیکشن تو حکومت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔چیئرمین کمیٹی نے طویل بحث کے بعد معاملے کو اگلی میٹنگ تک موخر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی میٹنگ میں وزیر اطلاعات بھی آئیں اور دیگر متاثرین کو بھی آکر سنیں گے اس کے بعد کمیٹی فیصلہ دے گی۔
    چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ صحافیوں کے معاملے کا تعلق وزارت اطلاعات سے ہے،کیا آپ لوگ اس زیادتی کو تسلیم کرتے ہیں؟۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو لکھنا چاہئے کہ اس حوالے سے ایکشن لیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جو بھی اقدام اٹھائیں گے اس پر مشاورت کریں گے۔وزارت اطلاعات بتائیں کہ جو چینلز بندہیں ان کو بحال کریں گے۔جس پر چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کوئی چینل بند نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کے معاملے میں کچھ چینلز اور اخبارات کو زیادہ نوازا جارہا ہے۔جو چینلز ایک ہی کیٹیگری میں ہیں ان کے اشتہارات میں اتنی تفریق کیوں ہے۔چینلز کی بندش کی تحقیقات کروائیں۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے وزارت اطلاعات سے سات دن کے اندر 2008-2013، 2013-2018، 2018 -اپریل 2022 اور اپریل 2022 سے اب تک ٹی وی چینلز اور اخبارات کو دئیے گئے اشتہارات کا ڈیٹا طلب کرتے ہوئے وزیراعظم کے دورہ ترکی کے حوالے سے اشتہارات کی تفصیلات بھی چیئرمین کمیٹی نے طلب کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس پئیر کا پیسہ ہے صحیح جگہ خرچ ہونا چاہئے۔صحافیوں کے تحفظ کے بل پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا۔چیئرمین کمیٹی نے صحافیوں کے تحفظ کے بل پر جلد سے جلد عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی۔ابھی صحافیوں والا معاملہ عدالت میں ہے۔رولز کے مطابق زیر سماعت کیسز سے متعلق کمیٹی کوئی ہدایات نہیں دے سکتی۔چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری اطلاعات و نشریات سے اگلی میٹنگ میں اینکر پرسنز اور دیگر صحافیوں کے خلاف ایف آئی آرز کی تمام تفصیلات کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ لوگ اپنے صحافیوں کو تحفظ دیں، وزارت داخلہ کے ساتھ صحافیوں کے تحفظ کا معاملہ اٹھائیں۔اینکرپرسنز کے معاملے کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا، بلیم گیم ہو رہی ہے۔صحافیوں کے تحفظ کی ذمہ داری وزارت اطلاعات کی ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان صدیقی، عون عباس بپی، انور لعل دین، چاہر بزنجو اجلاس میں شریک ہوئے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے- چیئرمین پیمرا، چیئرمین پی سی بی، سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات،اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا توسختی سے نمٹا جائے گا.وفاقی کابینہ کا فیصلہ

    ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا توسختی سے نمٹا جائے گا.وفاقی کابینہ کا فیصلہ

    ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا توسختی سے نمٹا جائے گا.وفاقی کابینہ کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ نے عوام کو عمران خان کے 25 مئی کے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر مبارکباد دی ،کابینہ نے کہا کہ میڈیا اور وزارتِ اطلاعات کی عوام کے لئے مسلح جتھوں اور اِن کے اصل چہرے کے حقائق پر مبنی رپورٹنگ قابلِ ستائش ہے – وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہئے۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اجلاس کو بتایا کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔وفاقی کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے تمام اہلکاروں کو اپنے فرائض بخوبی انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا ,وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ سمیت پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ،وزیر داخلہ نے اجلاس کو باور کرایا کہ ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ مولانا اسعد محمود نے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر قوم کو مبارکباد دی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے 25 مئی کے خونی مارچ کے اعلان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے اسلحہ کے ساتھ اسلام آباد پر حملے کا سختی سے نوٹس لیا اور تشویش کا اظہار کیا

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر عوام اور لانگ مارچ کے دوران خدمات انجام دینے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا ،رانا ثناء اللہ نے کابینہ کو بتایا کہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ریاست مخالف سوچی سمجھی سازش تھی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پی ٹی آئی نے ایک دن پہلے کے پی ہائوس میں مسلح جتھوں کو جمع کیا، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے بھی پولیس پر حملہ کیا ،رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ واضح طور پر ریاست پر حملے کی کوشش تھی ،وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کا بھی نوٹس لیا اور شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ہم پوری قوت کے ساتھ ریاست اور وفاقی دارالحکومت پر حملہ کریں گے۔

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں