Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی  کا اجلاس ،مختلف وزارتوں، ڈویژنوں کیلئے  ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس  کی منظوری

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ،مختلف وزارتوں، ڈویژنوں کیلئے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصوولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر خزانہ و محصوولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس آج (پیر ) کوفنانس ڈویژن میں ہوا۔

    اجلاس میں وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پٹرولیم مصدق مسعود ملک، وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ،نے شرکت کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی، وفاقی سیکریٹریز، اور متعلقہ وزارتوں کے دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔

    کابینہ کمیٹی نے مختلف وزارتوں/ ڈویژنوں کے لیے درج ذیل ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دی:

    ای سی سی نے وزارت داخلہ کی فوجیوں کے اخراجات/گزارہ الاؤنس کی ادائیگی کے لیے 2.363 ملین روپے کی فراہمی کی درخواست کی منظوری دی ، انٹیلی جنس بیورو ڈویژن کی جانب سے200 ملین روپے کے فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی منظوری دی گئی، وزارت قانون و انصاف کی جانب سے 19.373 ملین روپے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کی ای سی سی نے اپنے اجلاس کے دوران منظوری دی۔

    کمیٹی نے سٹریٹجک پلانز ڈویژن / سپارکو کی "پاکستان ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ سسٹم” کے عنوان سے منصوبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 4,050.686 ملین روپے کی فراہمی کی درخواست کی بھی منظوری دی۔

    مزید برآں، اقتصادی رابطہ کمیٹی نےوزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ایس این جی پی ایل کی گیس سے چلنے والے پلانٹس کو 31 مارچ 2024 سے 30 ستمبر 2024 تک 6 ماہ کی مدت کے لیے کام کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی منظور کرلی تاکہ خریف سیزن کے لیے یوریا کھاد کی ہموار فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    دوسری جانب پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئے ایک مضبوط پارٹنر ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی جس میں پاک امریکا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کے اہم پہلووٴں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کیلئے جاری امریکی حمایت پر روشنی ڈالی، امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کےساتھ تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات میں کام کرنےکیلئے پرعزم ہے،امریکا پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ اور پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئے ایک مضبوط پارٹنر ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے احتصالات انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین عبدالرحمن الرحیم النوریانی نے بھی پیر کو ملاقات کی،وزارت خزانہ کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پی ٹی سی ایل /یو فون کے صدر اور سی ای او حاتم بما طرف بھی اس موقع پر موجود تھے، ملاقات میں دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا-

  • آج سچ بولنے کا وقت ہے، آج وقت ہے کہ سب سچ بولیں،علی محمد خان

    آج سچ بولنے کا وقت ہے، آج وقت ہے کہ سب سچ بولیں،علی محمد خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اور رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہمیں کوئی بروکر، ڈیلر نہیں چاہئے جو ہمیں آپس میں بٹھائے ،آج سچ بولنے کا وقت ہے، آج وقت ہے کہ سب سچ بولیں،اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ہم کسی کی زور زبردستی نہیں مانتے، چاہے وہ ہمارا باپ ہی کیوں نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم کسی کی زبردستی کی بات نہیں مانتے، ہمارے صوبے میں 18،18گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، کہا جاتا ہے کہ بجلی چوری ہو رہی ہے، وزیراعلی نے کہا بجلی چوروں کو پکڑو پولیس اہلکار دینے کو تیار ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے خواجہ آصف کی اسپیکر کے ساتھ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کل جس طرح خواجہ آصف نے اسپیکر کے ساتھ بات کی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، خواجہ آصف شاید 90 سال کے بزرگ اور سینئر پارلیمنٹیرین ہیں لہذا انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیئے اور انہیں کم از کم اس کو برداشت کرنا چاہیئے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    اسد قیصر نے فاٹا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے فاٹا بہت متاثرہوا، فاٹا کی پاکستان کے دیگرعلاقوں سے کوئی مماثلت نہیں، پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر فاٹا کو ٹیکس چھوٹ دی تھی اور یہ سہولت انہیں اس لیے دی گئی تھی تاکہ وہ ملک کے دیگر علاقوں کی برابری کرسکیں لیکن افسوس انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ فاٹا ایک جنگ زدہ علاقہ رہا ہے لیکن اب تک انہیں کوئی اسپتال یا کالج نہیں دیا گیا جب کہ اس علاقے میں کسی قسم کے ترقیاتی کام بھی نہیں ہورہے، جس کا مطلب وہاں بے روزگاری پیدا ہوگی اور عوام میں مایوسی پیدا ہوگی، ایسے میں وہ دیگر علاقوں کی برابری کیسے کرسکتے ہیں اور اب اگر ان پر ٹیکس لاگو کردیا گیا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی فاٹا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے حالانکہ میرے پاس تمام اعدادو شمار موجود ہیں، فاٹا سے تقریباً 70 بلین روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں لیکن فاٹا کو ضم کرتے وقت جو وعدہ کیا گیا تھا کہ 3 فیصد وفاق اور صوبہ دے گا جس میں سے ابھی تک ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر ایک کمیٹی بنائیں تاکہ اس پر بحث کی جاسکے اور اس میں فاٹا کی نمائندگی بھی شامل کی جائے۔

    رکن اسمبلی علی محمد خان کا اظہار خیال

    رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ کبھی ہتھکڑی ڈال کر نواز شریف کی طرح ملک سے دربدر کر دیا گیا،کبھی محترمہ بینظیر کو ماں سمیت ملک سے دربدر کردیا گیا،راولپنڈی میں لیاقت علی خان شہید ہوئے،ہم بھی پاکستان بنانے والے ہیں،آپ بھی پاکستان بنانے والے ہیں، بانی پی ٹی آئی چار گولیاں کھا کر اڈیالہ جیل بیٹھے ہیں، کل آزاد کشمیر میں کیا ہوا ہے، ہم وہ نظارے نہیں دیکھنا چاہتے، یہاں سے پالیسی بنے گی ، یہ قائداعظم نے کہا ہے، ہمیں کوئی بروکر، ڈیلر نہیں چاہئے جو ہمیں آپس میں بٹھائے-

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    علی محمد خان نے کہا کہ آج سچ بولنے کا وقت ہے، آج وقت ہے کہ سب سچ بولیں ، بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کی ایک انچ زمین کسی کو دینے سے انکار کیا،اس جرم کی پاداش میں بانی پی ٹی آئی جیل میں پڑے ہوئے ہیں ، میں اپنے کالے کوٹ پر فخر کرتا ہوں، ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھنا چاہتا ہوں مجھ سے کون معافی مانگے گا ، سیاسی جماعتیں مسائل کا حل نکالیں، پنڈی ضرور جائیں سری پائے کھانےجائیں ،گیٹ نمبر 4 سے پرہیز کریں-

    رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی کا اظہار خیال

    شرمیلا فاروقی نے کہا کہ جس دن صدر اپنا اہم خطاب کررہے تھے ، اس وقت اپوزیشن کے لوگ سننے کو تیار نہیں تھے، اگر وہ سن لیتے تو ان کو وہ چیزیں ملتی جو ان کی آگے کی راہ کو ہموار کرتیں، آج گردشی قرضہ 5.7 ٹریلین پر پہنچ گیا ہے، آج کسان گندم سمیت سڑک پر بیٹھا ہوا ہے، آج بھی ملک میں 19 ملین چائلڈ برائیڈز ہیں، سیلاب زدگان آج بھی بحالی کے لئے منتظر ہیں، آج تک ہم پولیو نہیں ختم کر پائے، صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،2014 کا دھرنا سب کو یاد ہے،اس وقت ملک کو 547 ارب کا نقصان پہنچا، آج عوام ہماری جانب دیکھ رہی ہے، آئیں مل کر بیٹھیں انتخابی اصلاحات کریں، جوڈیشل ریفارمز کریں-

    توانائی اور دوسرے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر یں گے،عالمی بینک

    دوران اجلاس 20سکول بسوں کی بندش اور انہیں پنک بس پراجیکٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا- توجہ دلاؤ نوٹس نوشین افتخار نے پیش کیا وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی پتہ چلا تو تشویش ہوئی، 50،60 کے قریب بسیں خراب تھیں، بہارہ کہو سے آنے والی بچیوں کو مشکلات تھیں ان کے لئے یہ پنک بسیں چلائی جائیں گی، 20 بسوں کو بچیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، کہیں سے بسیں کم نہیں کی گئیں، بہت ساری بسوں کی مرمت نہیں کی گئی تھی،اس میں سے ہم نے بسوں کی مرمت کی ہے-

    وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ کا اظہار خیال

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جمہوریت کا حسن یہ ہے ک ایک دوسرے کو دلیل کے کنونس کرتے ہیں، ہم اپنے کام کے ساتھ دیانت دار رہیں گے تو مسائل حل ہوں گے، مہنگائی پر بات کریں لیکن ان کا حل بھی تجویز کریں، بجلی کی چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے گردشی قرضہ پورے نظام کو کھانے کے لئے تیار ہے، جو فیڈرز بل دیتے ہیں وہاں لوڈ شیڈنگ کم ہے، اینٹی اسمگلنگ کے حوالے سے چینلجز الارمنگ ہیں، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر کرنے کے لئے نیا مکینزم دیا گیا-

    ہمیں اپنے دفاع کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے،اسرائیل کاا مر یکا …

    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ کل خواجہ آصف نے ذاتی ریمارکس دیئے صدر ایوب خان تاریخ کا حصہ ہیں خواجہ آصف نے میرے دادا کا نام لیا اور غیر پارلیمانی الفاظ ادا کئے،مارشل لاء سکندر مرزا نے لگایا تھا، میں عوام کے ووٹوں کے ساتھ ایوان میں آیا ہوں، ریحانہ ڈار سے خواجہ آصف نے شکست کھائی ہے

    صدر مملکت کے خطاب پر بحث پر رکن اسمبلی حمید حسین نے کہا کہ ہمیں پہلے دو گھنٹے بجلی ملتی ہےاب 48 گھنٹوں میں کبھی ایک گھنٹہ آتی ہے کبھی نہیں آتی، کم از کم ہمیں 12 گھنٹے بجلی دی جائے-

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

  • کشمیریوں کے مسائل کے حل کیلئے 23 ارب روپے کی فوری فراہمی کی منظوری

    کشمیریوں کے مسائل کے حل کیلئے 23 ارب روپے کی فوری فراہمی کی منظوری

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر خصوصی اجلاس کا انعقاد آج اسلام آباد میں ہوا.

    اجلاس میں وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر، آزاد حکومت کے وزراء اور اعلی سیاسی قیادت نے شرکت کی. اجلاس میں وفاقی وزراء اور اتحادی جماعتوں کے زعماء نے بھی شرکت کی.اجلاس میں حالیہ صورتحال کا مفصل جائزہ لینے کے بعد وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کشمیری عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے 23 ارب روپے کی فوری فراہمی کی منظوری دے دی. کشمیری قیادت اور جملہ شرکاء نے وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا.

    اجلاس میں صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود اور وزیرِ اعظم انوارالحق شریک ہوئے،مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر،وفاقی وزیرِ امور کشمیر امیر مقام اور وزیرِ توانائی اویس لغاری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب، وفاقی وزیر رانا تنویر، علیم خان، عطا تارڑ و دیگر بھی اجلاس میں شریک تھے،

    آزاد کشمیر، گھریلو استعمال 100 یونٹ تک بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ مقرر
    دوسری جانب آزاد کشمیر محکمہ توانائی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ،نئے نوٹفکیشن کے مطابق گھریلو استعمال کی بجلی کیلئے100 یونٹ تک بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے،100سے 300 یونٹ تک 5 روپے، 300 سے زیادہ یونٹ کے استعمال پر قیمت 6 روپے فی یونٹ ہو گی،کمرشل استعمال پر 300 یونٹ استعمال پر بجلی کی فی یونٹ قیمت 10 روپے ہو گی،300سے زائد یونٹ کے استعمال پر فی یونٹ بجلی کی قیمت 15 روپے ہو گی ،

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • فارن فنڈنگ،گھڑی بیچنے کا نوٹس نہ لیاجاتا تو شاید نومئی نہ ہوتا،وزیراعظم

    فارن فنڈنگ،گھڑی بیچنے کا نوٹس نہ لیاجاتا تو شاید نومئی نہ ہوتا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا،

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9مئی دوسوچوں کو الگ کرنےوالادن ہے، قوم اور پاکستان مجرموں کو بھولے ہیں نہ بھولیں گے، آنے والی نسلوں کو ایک روشن مستقبل دینا ہے،قوم اور تاریخ 9 مئی کے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرے گی، ہمیں آگے بڑھنا اور ترقی کی منازل طے کرنی ہیں، آج کے دن یہ بات رکھنی چاہیے کہ 9 مئی کے یہ حملے کیوں کیے گئے، 9 مئی کو ناصرف پاکستان کے خلاف بلکہ ریاست کےخلاف بغاوت کی گئی، جس طرح سے جتھے حملہ آور ہوئے کوئی اس کو برداشت نہیں کر سکتا، مئی 2023 میں پی ڈی ایم حکومت ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کی کوشش میں لگی تھی، پی ڈی ایم کی حکومت 190 ملین پاؤنڈ کے معاملے کا نوٹس نہ لیتی تو شاید یہ حملے نہ کیے جاتے، 190ملین پاؤنڈ میں بددیانتی کا نوٹس نہ لیا جاتا تو شاید یہ حملے نہ ہوتے، شاید یہ حملے نہ ہوتے اگر چیف الیکشن کمشنر کا آفس فارن فنڈنگ کا نوٹس نہ لیتا، یہ حملے شاید نہ ہوتے تو اگر ایک کٹھ پتلی حکومت کو نہ ہٹایا جاتا، شاید یہ حملے نہ ہوتے اگر پی ڈی ایم حکومت خانہ کعبہ کے ماڈل والی گھڑی بیچنے کا نوٹس نہ لیتی، ایسے فسادیوں کو قانون نے اپنی گرفت میں لیا، کوئی ملک اپنے ہیروز اور شہدا کے خلاف بدترین زبان برداشت نہیں کر سکتا،

    وفاقی کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے نگراں دور حکومت میں 9 مئی کی تحقیقات پر قائم کابینہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی۔ رپورٹ میں تحریک انصاف کے 9 مئی میں براہِ راست ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے،رپورٹ کی روشنی میں وفاقی کابینہ نے قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،وفاقی کابینہ اجلاس میں کابینہ اراکین نے متفقہ طور پر 9 مئی میں ملوث عناصر کے خلاف مقدمات جلد منتقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کردیا،کابینہ اراکین نے سوال کیا کہ کیپیٹل ہل میں ملوث عناصر کو سزا ہوئی تو 9 مئی کے مجرمان کو اب تک سزا کیوں نہ ہوئی؟

    پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نےاتحادی جماعتوں کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا واقع نہیں ہوا کہ ملک کے اثاثوں پر حملے کیئے گئے بلکہ شہداء کے یادگاروں تک کی بیحرمتی کی گئی، نو مئی کو ملک دشمنی کی گئی۔

    اعجاز الحق نے وفاقی کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کبھی ذہن میں یہ نہیں سوچا تھا کہ ہم اپنی ہی اسٹیبلشمنٹ کےخلاف محاذ آرائی کریں، 9 مئی کے ذمے داروں کو سزا ملنی چاہئے،جو کچھ 9 مئی کو ہوا ہم نے اپوزیشن بھی کی، حکومت میں بھی رہے، محاذ‌آرائی بھی کی، جلسے بھی کئے، اپوزیشن کے ساتھ لڑ سکتے تھے لیکن یہ کبھی ذہن میں نہیں آیا کہ اداروں کے خلاف محاذ آرائی کریں،یہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، اسکو کنٹرول کرنا ہے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں انکو سزائیں ملنی چاہئے،

    کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں شریک ہوئے، تمام ارکان نے 9 مئی کے مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا، ابھی تک 9 مئی کے مجرمان کو سزائیں کیوں نہ ہو سکیں، عدالتیں فیصلہ کیوں نہ کر سکیں؟ نگران دور میں کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کی گئی، تین رکنی کمیٹی کی سفارشات کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہیں وفاقی کابینہ نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے، پاکستان کے خلاف آئندہ سازش نہ ہونے دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    عمران خان سے ملنے اب اڈیالہ نہیں آؤنگا،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    عمران خان کے لیے معافی کی آفر،معافی مانگنا نہ مانگنا انکی مرضی ہے، خواجہ آصف
    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لئے معافی کی آفر موجود ہے،معافی مانگنا یا نا مانگنا بانی پی ٹی آئی کی مرضی ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ شہداء کو نشانہ بنایا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا 9 مئی واقعات میں ملوث افراد معافی مانگیں،1ومی ہیروز کے مجسموں کو مسمار کر کے کیا پیغام دیا گیا، 9 مئی کسی شخص کی انا نہیں ملک کی انا کی بات ہے، 9 مئی کو جو ہوا وہ پاکستان کی انا اور آبرو پر حملہ تھا

    9 مئی کے ملزمان کو اب تک سزا مل جانی چاہیے تھی، رانا ثناء اللہ
    وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سانحۂ 9 مئی کے ملزمان کو اب تک سزا مل جانی چاہیے تھی، انہیں سزائیں اب تک نہ ہونا ہمارے نظام پہ سوالیہ نشان ہے، اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں، جن لوگوں نے یہ مجرمانہ عمل کیا انہیں اب تک سزا نہیں ہوئی، جب کسی کو جیل میں رکھنا مقصود ہے تو یہی کافی ہے، سہولت دینا نہ دینا معنی نہیں رکھتا،پہلے برسرِ اقتدار لوگ جیل جانے والوں کو اذیت دینے کا کہتے تھے وہ قابلِ مذمت ہے، جیل میں بانیٔ پی ٹی آئی کو جو سہولتیں دی گئی ہیں ان پہ قطعی کوئی اعتراض نہیں، بانیٔ پی ٹی آئی کے پاس جو منصب رہا ہے اس کے مطابق اگر سہولتیں ہیں تو اعتراض نہیں،

  • کسی صورت زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دوں گا،صدر مملکت

    کسی صورت زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دوں گا،صدر مملکت

    کراچی: صدر مملکت آصف زرداری کی زیر صداعت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صدر آصف علی زرداری کی وزیراعلیٰ ہاؤس آمد پراستقبال کیا ،اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سمیت انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی، اجلاس میں کراچی اور سندھ بھر خاص کر کچے کے علاقے میں امن اومان کی صورتحال پر آئی جی سندھ نے بریفنگ دی،صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کچے میں جو بھی اغوا میں ملوث ہیں اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، پولیس افسران کو اس صورت تبدیل کریں جب وہ امن امان کی صورتحال میں ناکام ہوں،صدر مملکت نے وزیر اعلیٰ سندھ کو واضح احکامات دیئے کہ زمینوں پر قبضوں پر میری زیرو ٹالرنس ہے ،صدر مملکت کا کہنا تھا کہ میں کسی صورت زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دوں گا، کراچی سیف سٹی پروجیکٹ جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے

    صدر آصف زرداری کی زیر صدارت سندھ میں امن و امان پر اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی آئی ہے ،ایرانی صدر کا دورہ، انٹرنیشنل میچز امن و امان کی دلیل ہیں ،2014 میں کرائم انڈیکس میں کراچی چھٹے نمبر پر تھا اب 82 پر اگیا ہے

    امن و امان کی بحالی میں ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،صدر مملکت
    قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایم کیو ایم کے وفد نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں کراچی میں ملاقات کی۔ ایم کیوایم پاکستان کے وفد میں مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار بھی شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے صدر آصف علی زرداری کو دوبارہ صدر مملکت منتخب ہونے پر مبارکباد دی جس پر صدرمملکت نے انکا شکریہ ادا کیا۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ امن و امان کی بحالی میں ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ایم کیو ایم وفد نے اس حوالے سے صدر مملکت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پاکستان کوسٹ گارڈز کے ہیڈ کوارٹر میں اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے اعلیٰ حکام اور افسران بھی شریک ہوئے، محسن نقوی نے پاکستان کوسٹ گارڈز کو اپ گریڈ کرنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے گا، کم وسائل کے باوجود کوسٹل گارڈز کی کارکردگی بہترین ہے لیکن کوسٹل ایریاز سے اسمگلنگ روکنے کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز کو مزید متحرک کردار ادا کرنا ہے۔

    وزیر داخلہ کا پاکستان کوسٹ گارڈز کو اپ گریڈ کرنےکا اعلان

    سابق انگلش کپتان کی ٹی20 ورلڈکپ 2024 میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں سے متعلق …

    قانون کے تحت وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑے ہیں،وزیر قانون

  • آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی،وزیراعظم

    آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے انسداد اسمگلنگ کے حوالے سے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد نئی حکومتیں بن چکی ہیں،چیلنجز کو سمجھنا ہے تاکہ معیشت کو سنبھالا جاسکے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے سیاسی افراتفری کا خاتمہ کرنا ہوگا،وفاق، صوبے اور ادارے سب مل کر یکسو ہوجائیں،گزشتہ 24 دنوں میں معیشت کے حوالے مختلف اجلاس کیے،پاکستان میں غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ نے بے پناہ نقصان پہنچایا،اتحادی حکومت نے 2022میں اڑھائی لاکھ ٹن چینی برآمد کی اجازت دی تھی،جو چینی بیچ کر ہم ڈالر کما سکتے تھے وہ افغانستان اسمگل ہونے سے نقصان ہوا،بجلی چوری سے سالانہ 400 تا 500ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،پیٹرولیم کے شعبے میں بھی گیس کی چوری سے نقصان ہو رہا ہے،رواں سال محصولات کا 9کھرب کا تخمینہ ہے،2700ارب روپے کے محصولات سے متعلق کیسز عدالتوں میں زیرالتوا ہیں،نگران دور حکومت میں توانائی کے شعبے میں 58ارب روپے کی چوری ریکور ہوئی،نگران حکومت میں اسمگلنگ کے خاتمے سے متعلق ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے،آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی،تمام صوبوں نے انسداد اسمگلنگ مہم میں وفاق کا ساتھ دیا،ملکی ترقی کے لیے صنعت اور زراعت کا فروغ ناگزیر ہے،بشام واقعہ سے چین پاکستان تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی،دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے.

    چین کا پاکستان سے دہشت گردانہ حملے کی جلد از جلد جامع تحقیقات کا مطالبہ

    بشام واقعہ تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر اتفاق ہوا،عطا تارڑ

    امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے،

    چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    پاک فوج نے بشام میں چینی شہریوں سمیت 6 بے گناہ افراد کی ہلاکت کی مذمت کی 

    شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملہ، 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک

  • ججز کے خط کی انکوائری کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب

    ججز کے خط کی انکوائری کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: وزیراعظم نے ججز کے خط کی انکوائری کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے ججز کے الزامات کی انکوائری کیلئے کمیشن کے قیام کی منظوری سمیت دیگر معاملات کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا وفاقی کابینہ کا اجلاس 30 مارچ بروز ہفتہ دن بارہ بجے ہوگا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے الزامات کی انکوائری کیلئے کمیشن کے قیام کی منظوری لی جائے گی۔

    قبل ازیں 6 ججز کے خط پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے اعلامیہ جاری کیا ، اعلامیے کے مطابق ‏چیف جسٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا خط 26 مارچ کو موصول ہوا، ‏ہائیکورٹ کے ججز کی جانب سے خط 25 مارچ کو لکھا گیا،‏ چیف جسٹس نے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ اور دیگر ججز کے ساتھ افطار پر ملاقات کی، ‏ججز سے ملاقات چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ پر ہوئی-

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    ‏اعلامیے کے مطابق تمام ججز کے تحفظات کو ڈھائی گھنٹے تک ایک، ایک کر کے سنا گیا، 27مارچ کو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون سے ملاقات کی ، ‏ چیف جسٹس نے صدرسپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کے سینئر ممبرز سے ملاقاتیں بھی کیں، 27مارچ کو شام 4 بجے چیف جسٹس نے فل کورٹ میٹنگ طلب کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے دوران انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی، انکوائری کمیشن کسی نیک نام ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کرنے کی تجویز دی گئی، ‏ طے پایا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ذریعے انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی جائیگی-

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    ‏ وزیراعظم نے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ چیف جسٹس، سینئر جج اور رجسٹرار سے ملاقات کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ ‏ ججز کے معاملات اور عدالتی امور میں ایگزیکٹو کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،‏ کسی بھی صورتحال میں عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا-

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم ہو ا، سپریم کورٹ ججز کا فل کورٹ اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ہائی کورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اجلاس دو گھنٹے بعد ختم ہوا اور یہ بیٹھک آج دوبارہ ہوگی،جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی آئینی و قانونی حیثیت پر غور کیا جائے گا-

    واضح ہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے ججز شریک ہوئے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کا جائزہ لیا گیا، فل کورٹ اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا ذرائع کے مطابق اجلاس میں معاملہ فل کورٹ بنچ اور سپریم جوڈیشل کونسل میں لے جانے پر غور کیا گیا، فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ کچھ دیر میں جاری ہونے کا امکان ہے۔

    واضح رہےکہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خفیہ اداروں کے عدالتی معاملات میں مداخلت سے متعلق خط پر فل کورٹ اجلاس طلب کیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی تھی، بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور عثمان نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ججز کے خط کا معاملہ سنجیدہ ہے، جس کی تحقیق ہونی چاہیئے۔

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کے معاملے پر پاکستان بار کونسل نے بھی 5 اپریل کو ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا، جس میں پاکستان بار کونسل موجودہ صورتحال پر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

    عدالتی امور میں خفیہ اداروں کی مداخلت پر خط

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہم جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو انڈر ما ئن کرنے والے کون تھے؟ ان کی معاونت کس نے کی؟ سب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نہ جا سکے، ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔

    خط میں ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہ نمائی مانگی ہے، پوچھا ہے کہ ایگزیکٹو بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز ارکان کی کارروائیوں پر رپورٹ اور ردعمل سے متعلق جج کی کیا ڈیوٹی ہے؟ یہ کارروائیاں ایک جج کے سرکاری کام میں مداخلت کے برابر ہیں۔

    محکمہ موسمیات میں اصلاحات کیلئے ورلڈ بینک نے پہلی قسط جاری کر دی

    خط میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اہل کاروں کی عدالتی امور میں مداخلت اور ججز کو دھمکاناعدلیہ کی آزادی کم کرتی ہے، درخواست ہے انٹیلیجنس اہلکاروں کی مداخلت اور ججز کو دھمکانے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے، ایسی ادارہ جاتی مشاورت عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے طریقہ کار اور عدلیہ کی آزادی کم کرنے والوں کا تعین کرنے کے میکزم بنانے میں معاون ہوسکتی ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ یہ جاننا اور تعین کرنا ضروری ہے ریاست کی ایک ایگزیکٹو برانچ سے جاری پالیسی ابھی وجود رکھتی ہے، جاری پالیسی پر انٹیلی جنس اہلکار عمل درآمد کرتے ہیں جو ایگزیکٹو برانچ کو رپورٹ کرتےہیں، ہائی کورٹ کے ایک جج کے بیڈ روم کی خفیہ کیمرے سے ریکارڈنگ کی گئی۔

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست …

  • وزیراعظم  نےریکوڈک منصوبے   پر اگلے ہفتہ تفصیلی بریفنگ طلب کرلی

    وزیراعظم نےریکوڈک منصوبے پر اگلے ہفتہ تفصیلی بریفنگ طلب کرلی

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے ریکوڈک روڈ و ریل کنکٹیویٹی پر اگلے ہفتہ تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم اجلاس لاہور میں منعقد ہوا،اجلاس میں بیرک گولڈ کمپنی کے وفد نے چیف ایگزیکٹو افسر مارک برسٹوو کی سربراہی میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والوں اور ریکوڈک سے بندرگاہ تک لاجسٹکس اور آمدورفت کے حوالے سے سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، منصوبے کے حوالے سےسرکاری سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز سےمشاورت کی جائے گی اور جہاں جہاں رکاو ٹیں ہیں وہ دور کی جائیں گی بلوچستان میں معدنیات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مواصلات کے انفرااسٹرکچر، خصوصاً ریلوے لائن کے حوالے سے منصوبہ سازی کی جائے گی۔

    قیدیوں کی سزا میں 90روز کی کمی کا نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریکوڈک منصوبے کو بذریعہ سڑک گوادر سے جوڑنے کے لیے موجودہ روڈ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کا کام جلد از جلد کیا جائے، جہاں جہاں نئی سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں ان کی تکمیل کا کام تیز تر کیا جائے، ریکوڈک کی گوادر بندر گاہ تک ریل روڈ نیٹ ورک کی فزیبیلٹی کے حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک سے گوادر ریلوے لائین منصوبے سے بندرگاہ تک رسائی آسان اور کم وقت میں ہوگی اور بن قاسم پورٹ کے مقابلے فاصلہ بھی کافی حد تک کم ہوگانئی ریلوے لائین سے معدنیات سے بھرپور ضلع چاغی مستفید ہو سکے گا اور کان کنی کی صنعت کو فروغ ملے گا۔

    رواں سال کا پہلا چاند گرہن کل ہو گا

    شہباز شریف نے ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے انوائرمنٹ اینڈ سوشل ایمپیکٹ اسیسمنٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام تر رکاوٹیں دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ریکوڈک منصوبے کی فزیبیلٹی دسمبر 2024 تک مکمل کرلی جائے گی، ریکوڈک سے ہر مہینے 6 ہزار کنٹینرز بندر گاہ تک جائیں گے، منصوبے کی کنسنٹریٹ پائپ لائن دنیا کی دوسری طویل سلری پائپ لائین ہوگی اجلاس کو بتایا گیا کہ ریکوڈک سے قومی شاہراہ 40 تک کی لنک روڈ مائیننگ کمپنی تعمیر کرے گی، ریکوڈک کو گوادر سے ملانے کے حوالے سے نوکنڈی سے ماشخیل تک 103 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا کام 58 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔

    جماعت اسلامی کا غزہ مارچ،ڈی چوک پر دھرنا،پولیس اور شرکاء میں بحث

    وزیراعظم نے ریکوڈک روڈ اینڈ ریل کنیکٹوٹی پر اگلے ہفتے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی،اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم مصدق ملک، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن محمد جہانزیب اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔

  • سرحد پار سے دہشتگردی اب برداشت نہیں کر سکتے،وزیراعظم

    سرحد پار سے دہشتگردی اب برداشت نہیں کر سکتے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی اب برداشت نہیں کر سکتے-

    باغی ٹی وی : کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل سے تمام کابینہ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے، وفاقی کابینہ آج پہلا اجلاس تھا، امید ہے کابینہ عوام کے اعتماد پرپورا اترے گی، پاکستان کی سرحدیں دہشت گردی کے خلاف ریڈ لائن ہیں، سرحد پار سے دہشت گردی اب برداشت نہیں کرسکتے، ہمسائیہ ملک کی زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو گی تو یہ قابلِ قبول نہیں ہو گا، خطے میں امن کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قوم نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں، پاک فوج کے جوانوں کی وطن کے ساتھ والہانہ محبت انمول ہے،شہدا اور ان کے اہلخانہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، شہدا کے والدین نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھر تک سروسز فراہم کرنے دستک پروگرام …

    وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھائیں، آئی ایم ایف کی شرط ہےکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں ہمیں آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی ضرورت ہے ،کیونکہ قرضوں کے بغیر ہمارا گزارا نہیں، معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر کے ملک کو قرضوں سے نجات دلانی ہے، کوشش کریں گے کم سے کم قرض لیں، پچھلی حکومت میں ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ہم نے ملک کے لیے اپنا سیاسی اثاثہ بھی داؤ پر لگا دیا-

    احتجاج، توڑ پھوڑ، عمران خان ،شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر بری

    انہوں نے کہا کہ 2400 ارب کے محصولات کے کیسز ٹربیونلز یا عدالتوں میں ہیں، چیف جسٹس سے درخواست ہے تمام ہائیکورٹس کو ہدایت دیں کہ تمام کیسز پر میرٹ پر فیصلہ دیں، نوٹس لینے پر چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں گامافیاز قوم کے اربوں کھربوں روپے کھا رہی ہے، 400 سے 500 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہو رہی ہے، اب بجلی اور گیس کی چوری برداشت نہیں کریں گے، بجلی اور گیس کی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے پلان لانا ہوگاچیئرمین ایف بی آر، وزیر خزانہ کو کہا ہے فرض شناس، دیانتدار افسران کی فہرستیں بنائیں، ٹربیونلز سے میٹنگ کریں اور جلد از جلد انصاف پر مبنی فیصلہ کریں۔

    پاکستان کو اس وقت معاشی لانگ مارچ کی ضرورت ہے ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی

    کفایت شعاری پالیسی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے شاہانہ اخراجات میں کمی انتہائی ضروری ہے، کئی ایسے محکمے ہیں جن کی ضرورت نہیں اور جو محکمے رہ گئے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حوالے کریں، قبل ازیں، کابینہ اجلاس میں وزیراعظم سمیت اراکین نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا۔