Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے،اعلامیہ

    پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں قومی پارلیمانی وسیاسی قیادت، چئیرمین سینٹ، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی ، دفاع سے متعلق قومی اسمبلی وسینٹ کی مجالس قائمہ کے اراکین، وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اعلی کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی ، وزیراعظم آزاد ریاست جموں وکشمیر اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

    اجلاس کو قومی سلامتی کے امور اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی حالیہ بات چیت سے متعلق آگاہ کیاگیا۔ شرکاءنے اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خلاف پاکستان نے غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا عالمی سطح پر اعتراف کیاگیا ہے۔ اجلاس نے قوم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں میں ریاستی عمل داری یقینی ہوئی۔

    اجلاس نے اعادہ کیا کہ دستور پاکستان کے تحت طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے۔ اجلاس نے سانحہ ’اے۔ پی۔ ایس‘ سمیت دہشت گردی کا نشانہ بننے اور اِس کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست پاکستان اپنے شہداءکی قربانیوں اور متاثرہ خاندانوں کی امین ومحافظ تھی، ہے اور رہے گی۔

    اجلاس نے بہادر قبائلی عوام کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اُن کی قربانیوں اورکلیدی حمایت سے شدید مشکلات اور مصائب کے بعد امن واستحکام کی منزل حاصل ہوئی ۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ سکیورٹی فورسز کی موثراور عملی کارروائیاں کلیر ،ھولڈ، تعمیر اور اختیارات کی سول انتظامیہ کو منتقلی*‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اجلاس نے زور دے کر کہاکہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ریاست ان علاقوں کو بااختیار بنانے اور اِن کی خوش حالی کے لئے پختہ عزم پر کاربند ہے۔

    افغان حکومت کی معاونت اور سول و فوجی حکام کی قیادت میں حکومت پاکستان کی کمیٹی کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کررہی ہے تاکہ علاقائی اور داخلی امن کو استحکام مل سکے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ حتمی نتائج پر عمل درآمددستور پاکستان کی حدود قیود کے اندر ضابطے کی کارروائی کی تکمیل اور حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد ہوگا۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے بات چیت کے اس عمل کو آگے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی جبکہ ایک ’پارلیمانی اوورسائیٹ کمیٹی‘ تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جوآئینی حدود میں اس عمل کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔اجلاس نے ’نیشنل ۔گرینڈ ۔ری کنسی لی۔ ایشن۔ ڈائیلاگ‘ کی اہمیت کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا کہ آج کی نشست اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

     

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ دونوں ایوانوں کے 140 اراکین کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی گذشتہ ماہ ایک قرارداد کے ذریعے قومی اسمبلی ہال کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے سلسلہ میں استعمال کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔

  • سینیٹرعرفان صدیقی کے خلاف پراپیگنڈا ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

    سینیٹرعرفان صدیقی کے خلاف پراپیگنڈا ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

    سینیٹرعرفان صدیقی کے خلاف پراپیگنڈا ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

    سینیٹ کی کمیٹی برائے قواعد، ضوابط و استحقاق کا اجلاس سینیٹر محمد طاہر بزنجو کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سابق ڈائریکٹر جنرل، ریڈیو پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل (سائبر ونگ) محمد عاصم کھچی کے خلاف سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے پیش کی گئی تحریک استحقاق کو زیر بحث لایا گیا۔ وزارت کے حکام نے سینیٹر عرفان صدیقی کے خلاف بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا مہم چلانے پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش کی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ "چونکہ درختوں کی کٹائی کا معاملہ وزارت اطلاعات کی قائمہ کمیٹی دیکھ رہی ہے اور اس نے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی ہے, اسلئے میں اپنی ذات کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک استحقاق پر زور نہیں دینا چاہتا.”

    کمیٹی نے طے کیا کہ ایف آئی اے سائبر ونگ کی فراہم کردہ رپورٹ ضروری کارروائی کیلئے وزارت اطلاعات کو بھیج دی جائے۔ جو کمیٹی کے آئندہ اجلاس تک آگاہ کرے کہ اس نے رپورٹ میں نامزد کیے گئے ملازمین کے خلاف کیا کاروائی کی ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ "میں درختوں کے استحقاق کو اپنے ذاتی استحقاق پر ترجیح دیتا ہوں۔” کمیٹی کے تمام حاضر ارکان نے سینیٹر عرفان صدیقی کی تجویز کی حمایت کی۔

    میں کبھی نہیں گھبراتی جوکچھ مرضی ہوجائے:حریم شاہ نےلندن سے یہ بیان کیوں دیا؟،

    شہزاداکبرنوازشریف کیس پرتوجہ دیں:جانتی ہوں کہ پاکستانی سیاستدان منی کی کتنی بلیک میلنگ کرتےہیں:معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ ن

    رمضان المبارک کے مہینے میں‌ حریم شاہ کی نئی ویڈیو وائرل 

    ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد عاصم کھچی نے تحریک استحقاق پر مزید زور نہ دینے پر سینیٹر عرفان صدیقی اور دیگر کمیٹی ارکان کا شکریہ ادا کیا۔چیئرمین کمیٹی نے ارکان کی متفقہ رائے کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ مزید کاروائی کیلئے وزارت کو بھیجتے ہوئے تحریک استحقاق کو نمٹا دیا۔ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹر سرفراز بگٹی، سینیٹر عرفان صدیقی اور وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام نے شرکت کی

  • پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

    پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

      پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

      باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذوالحج کے چاند کے حوالے سے رویت ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس کل بدھ کے روز 29 جون کو کراچی میں مولانا سید محمد عبدالخبیر کی زیر صدارت ہو گا۔

      مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں بہت سے نمائندگان شرکت کریں گے۔
      دراصل اس اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان اور زونل رویت ہلال کمیٹی کراچی کے ممبران، وزارت مذہبی امور، محکمہ موسمیات ،محکمہ سپارکو اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے نمائندگان شرکت کریں گے۔
      اس حوالے سے ملک بھر میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس ان کے متعلقہ ہیڈ کوارٹرز میں کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور یہ ہیڈ کوارٹرز لاہور،اسلام آباد،پشاور ،اور کوئٹہ میں منعقد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • پنجاب اسمبلی کا ایوان اقبال میں اجلاس، ارکان کی بحث جاری

    پنجاب اسمبلی کا ایوان اقبال میں اجلاس، ارکان کی بحث جاری

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفہ کے بعد ایوان اقبال مین دو گھنٹے 49 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کی صدارت پینل آف چئیرمین خلیل طاہر سندھو نے کی.

    مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رانا محمد اقبال نے زراعت پر بحث کا آغاز کیا ان کا کہنا تھا کہ قومی زبان میں ایوان میں بات کی جائے ، ہمیں قومی زبان کو پروموٹ کرنا چاہئیے،رولز کو معطل کرنے والی بات بھی اردو میں بولنی چاہئیے.

    رکن اسمبلی طاہر جمیل نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایگری کلچر آلات پر پہلے حکومت سبسڈی دیتی تھی آج بجٹ میں زراعت پر سبسڈی کےلئے جو رقم رکھی گئی وہ بہت کم ہے۔ کھاد پر وزیراعلی نے ایک ہفتہ میں شارٹیج ختم کرنے کی بات کی لیکن عملی طورپر کچھ نہیں ہے، پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں بات تو ہورہی ہے لیکن کھاد کےلئے لمبی لائن لگی ہوئ ہیں۔

    طاہر جمیل کا کہنا تھا کہ کھاد کی سپلائی کو بڑھایا جائےٗتاکہ زمیندار کھاد سے بھرپور فصل پیدا کر سکیں۔ دالوں کی کاشت کےلئے ایوب ریسرچ پرفارمنس پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، ایوب ریسرچ کی پرفارمنس زیرو ہے جو دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیوں نہیں زمینداروں کو رہنمائی کرتے کہ دالیں پاکستان میں پیدا کریں، ایوب ریسرچ کے لوگ کام نہیں کرتے.

    لیگی ایم پی اے مرزا محمد جاوید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹھوکر نیاز بیگ شاہ پور کانجراں میں ناجائز ٹیکس لیاجارہاہے، ٹرک سے پچیس سو روپے لئے جا رہے ہیں،بکروں پر بھی ایک سو روپے فی کس ٹیکس لیاجارہاہے،ڈی سی او اوراے سی کا کام ہے وہ چیک کریں کہ کون بھتہ خوری کررہاہے، ایم پی اے کسی آفیسر کو کال کریں تو جواب نہیں آتا، اگر سو روپے سرکاری ریٹ ہے تو پانچ سو روپے کیوں مانگے جا رہے ہیں.اس پر پینل آف چئیرمین خلیل طاہر سندھو نے حکم دیا کہ آج رات تک شاہ پور کانجراں میں ریٹ سے متعلق فلیکسز لگی ہونی چاہئیے.

    شیخ علائو الدین نے ایوان کو بتایا کہ چونیاں سکول میں مسیحی بچوں کو داخلہ نہیں دیاجاتا وہاں جو بھی مسئلہ ہے اسے حل کیاجائے۔ چونیاں کے مسیحی بچے تعلیم سے محروم رہ جائیں گے یا تو فنڈز دیں یا داخلہ کروائیں۔ پینل آف چئیرمین خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ زکوتہ نان مسلم پر لاگو نہیں ہوتی تو انہیں فنڈز دئیے جائیں ، کمیٹی بناکر چونیاں سکول میں مسیحی بچوں کو داخلہ سے متعلق سب سامنے لائیں گے.

    جلیل احمد شرقپوری نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے محکموں میں بدانتظامی ہے صرف شور شرابا اور پروٹوکول ہوتاہے، کسی کا بھی کام ہوتا نہیں ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں شٹل کوک بنایاجاتاہے، سولر پینل تجویز پر سنجیدگی سے غور کیاجائے، بجلی کی چوری بھی سولر پینل سے ختم ہوجائے گی، حکومت دو دو ہزار روپے کسانوں کو دینے کے بجائے سولر پینل کے پیسے بینکوں کو دے، گندم چاول دال کی ضرورت باہر سے پڑنی ہی نہیں چاہئیے.

    رکن اسمبلی مہوش سلطانہ نے ایوان میں کہا کہ ایگری کلچر بینک کسانوں کے مسائل کوُحل کرنا چاہئیے، بدلتے موسم کا سب سے زیادہ اثر زراعت پر پڑتاہے، کاشتکار کےلئے پانی ، فصل کٹائی اور گندم کی کاشت کےلئے کسانوں کی رہنمائی ہونی چاہئیے، زراعت پر سبسڈی دی جائے بنجر زمین کو قابل کاشت کےلیے رہنمائی دی جائے،بھارت میں کسانوں کو بجلی فری دی جاتی ہے ہمیں بھی کسانوں کو سولر پینل کے ذریعے بجلی فری دی جائے،اولیو آئل پر ری سرچ کرکے اس میں بھی خود کفیل ہونا چاہئیے، خوبانی لوکاٹ آلو بخارہ کےلئے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، چکوال میں چھوٹے کاشتکاروں کو منڈی فراہم کی جائے. پنجاب اسمبلی کا اجلاس جمعرات تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا.

  • قومی اسمبلی اجلاس: مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ شیری رحمان

    قومی اسمبلی اجلاس: مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ شیری رحمان

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ: ہمیں آئی ایم ایف کے اس مشکل بجٹ کے ساتھ باندھنے کے اصل ذمہ داری تباہی سرکار پر عائد ہوتی ہے جو آئے تھے سو دن میں تبدیلی لانے اور جنہوں نے کشکول توڑنے کی بات کی تھی۔ لیکن سارا مسئلہ ان کی شاہ خرچیاں، تقسیم کی سیاست اور ان کی اپنی انا کی وجہ سے ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا: جو سیاست دان ایک دن بھی اپنی انا سے ذرا ہٹ جائے تو وہ مشکل فیصلے کرتے ہیں۔ اور آپ کا کیا خیال ہے کہ اس صورتحال میں ہمیں حکومت کرنا اور کسی کے ساتھ بندھ جانا ہمیں پسند ہے؟ نہیں ایک ہمارا یہ فیصلہ ہے اور دوسرا وہ تھا کہ ہم اپنے ملک کو دیوالیہ ہونے دیتے عمران خان جیسے نااہل حکمران کے ہاتھ میں لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ بھلے ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑیں مگر ملک کو بچانا ہے۔ سری لنکا کی آپ کے سامنے ہے جو دیوالیہ کی طرف جا چکا ہے۔

    شیری رحمان اپنے خطاب میں کہتی ہیں: تحریک انصاف کی حکومت کو آلو اور ٹماٹر کی قیمت سے کوئی سروکار نہیں جو اصل مسئلہ ہے اس ملک کا اور یہ حکومت اگر مشکل فیصلے نہ کرتی اور اپنی سیاسی ساکھ کو داو پر نہ لگاتی تو پاکستان سیدھا دیوالیہ ہونے جارہا تھا۔

    شیری رحمان نے الزام عائد کیا کہ: عمران خان پڑھے لکھے لوگوں کو گمراہ کررہا ہے لہذا اب ہماری اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی کیونکہ غریب نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں اور اس قربانی سے ملک کو بچانا ہوگا۔

    ان کا تقریر کے آخر میں کہنا تھا کہ: ہمیں ایک غریب آدمی کیلئے انکی ضروری اشیاء خوردونوش جیسے دال، روٹی اور پٹرول کیسے سستا کرنا ہے اور ان کے گھروں میں صاف پانی کیسے آئے گا  اس سب پر مل جل کوئی حل نکالنا ہوگا اور یہ بحران تب ہی ختم ہوگا جب ہم آپس میں مل بیٹھیں گے۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزیراعظم کی انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارکباد

    وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزیراعظم کی انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارکباد

    اسلام آباد: وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا معاملہ زیرغور آیا۔

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف، وزارت خارجہ اور ایف اے ٹی ایف سیل کو مبارک باد دی وفاقی کابینہ کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر بھی بریفنگ دی گئی وفاقی کابینہ کو ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت اپیل پر بھی وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔

    آج کا دن سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    وزیراعظم نے انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارک باد دی،ان کا کہنا تھا کہ خوردنی تیل کی کمی کی وجہ سے بحران پیدا ہوا، خوردنی تیل کی فراہمی کے لیے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی تھی، وزارت صنعت اور وزارت خارجہ کے حکام نے اہم کردار ادا کیا، امید ہے کہ خوردنی تیل کی آمد کے بعد معاملات بہتر ہوجائیں گے۔

    شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی وفاقی کابینہ کو مختلف امور پر ویزہ پالیسی میں تبدیلی سے متعلق آگاہی دی گئی اجلاس میں سکوک بانڈ کے اجراء اور ائیر پورٹس پر انسداد منی لانڈرنگ پولیس اسٹیشن بنانےکی منظوری متوقع ہے-

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج بروز منگل کو طلب کر رکھا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی سکوک بانڈز کے اجرا کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل تھی۔

    سعودی سرمایہ کار پاکستان کی افرادی قوت سے فائدہ اٹھائیں،شہباز شریف

    کورونا سے بچاؤ کے انجیکشن ریمیڈیسور کی قیمت میں کمی بھی ایجنڈے کا حصہ تھی وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان ایئرپورٹس پر انسداد منی لانڈرنگ پولنگ اسٹیشنز بنانے کی منظوری ہونی تھی۔

    کراچی:مردوں اور خواتین کی باکسنگ ٹیم کے اوپن ٹرائلز کا انعقاد

  • ایوان اقبال میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس، بجٹ پر بحث

    ایوان اقبال میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس، بجٹ پر بحث

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے حکم پر بلایا گیا پنجاب اسمبلی کا 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں اجلاس شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت پینل آف چیئرمین خلیل طاہر سندھو کررہے ہیں

    اجلاس ایک گھنٹہ 30 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ہے.اس اجلاس میں صرف حکومتی ارکان اسمبلی شرکت کریں گے.پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی نے ایوان اقبال میں جاری ہنجاب اسمبلی کے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیا تھا اور کزشتی اجلاس جس میں حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیا گیا تھا میں شرکت نہیں کی تھی بلکہ اپورزیشن کی جانب سے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے اجلاس میں شرکت کی تھی.

    اجلاس میں بجٹ پر بحث کا آغازکیا توپینل آف چیئرمین نے اپوزیشن لیڈر سبطین خان کوبجٹ پر بحث کی دعوت دی تاہم اپوزیشن لیڈرسبطین خان کے ایوان میں موجود نہ ہونے پر اجلاس پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کردیا گیا .پینل آف چیئرمین خلیل طاہر سندھو کے مطابق اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے کہا تھا کہ میں اجلاس میں آوں گا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شاید راستے میں ہیں تب تک پندرہ منٹ انتظار کرلیتے ہیں ۔

    زرائع کے مطابق ایوان اقبال میں ہونے والا حکومتی پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری ہے تاہم اجلاس میں حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود حکومتی اراکین پنجاب اسمبلی کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے. حکومتی اراکین پنجاب اسمبلی نے ایوان اقبال کے اجلاس کو سنجیدہ نہیں لیا زعائر کے مطابق حکومتی اراکین پنجاب اسمبلی کی تعداد نہ ہونے کے باعث پینل آف چئیرمین طاہر خلیل سندھو نے پندرہ منٹ کے لیے اجلاس منعقد کیاجبکہ ایوان میں کہا ہم اپوزیشن لیڈر کا انتظار کر رہے ہیں سبطین خان آرہے ہیں

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی دعوت یا رابطے کی بھی تردید کردی ہے سبطین خان کا کہنا ہے کہ جعلی اجلاس میں ہمارا کیا کام ؟حکومت پیر کے روز پنجاب اسمبلی کے آئینی اجلاس میں آئے.

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایوان اقبال پہنچ گئے .

  • ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو چار برس بعد ایف اے ٹی ایف آج گرے لسٹ سے نکال سکتا ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا برلن میں اجلاس جاری ہے، آج اجلاس کا آخری روز ہے اور آج شام پریس کانفرنس میں ایف اے ٹی ایف حکام پاکستان کے بارے میں اعلان کریں گے، حکومت پاکستان کو امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف آج کے اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کرے گا،

    حکومت سے منسک ایک ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حق میں فیصلہ جائے گا ،پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالے گا اسکے بعد بھی معاملات حل ہونے میں سات آٹھ ماہ لگ جائیں گے، ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور خود جائزہ لے گی کہ پاکستان نے تمام سفارشات پر کام مکمل کیا ہے

    ایف اے ٹی ایف حکام کی جانب سے آج شام پریس کانفرنس ہو گی تا ہم پاکستان کی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے اعلان کرنا شروع کر دیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے، حالانکہ ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،شہباز گل کہتے ہیں کہ مبارک پاکستان۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کی خصوصی توجہ سے ان کی ٹیم نے وہ کام کر دکھایا جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔ میں نے چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ اب ارسطو اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گا۔ان چوروں نے ہی ہمیں گرے لسٹ میں ڈلوایا تھا

    شہباز گل حقیقت میں ابھی جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلان ہونا باقی ہے، شہباز گل کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے تمام سفارشات پر کام پاک فوج کے سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر نگرانی ہوا،

    وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس برلن میں جاری ہے،ایف اے ٹی ایف آج رات اجلاس ختم ہونے کے بعد بیان جاری کرے گا،نتائج یا قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے، معاملے پر کل صبح دفتر خارجہ میں میڈیا بریفنگ دی جائے گی

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

  • پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع ہو گیا.جبکہ دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کر رہے ہیں .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی ایوان اقبال پہنچ گئے ہیں .قبل ازیں گورنر پیجاب نے 40 واں اجلاس برخواست کر دیا تھا اور 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا .

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا طلب کردہ اجلاس 1 گھنٹہ 41 منٹ کی تاخیر سے پنجاب اسمبلی میں شروع ہوا جس میں تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔تاہم کوئی بھی حکومتی رکنِ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

    ایوان اقبال میں گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے بجٹ اجلاس صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ چوردروازے سے آنے والوں کےعزائم ناکام ہوئے، سابق دورمیں صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں تھی،عوام نے شہبازشریف سے متحرک لیڈر نہیں دیکھا، سفاک حکمرانوں نے عوام کے ساڑھے 3سال ضائع کیے، گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ریکارڈقائم کیے،3سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیاگیا،(ن) لیگ کے دور میں ترقی کی شرح بڑھ رہی تھی ،چوربازاری سےآنےوالےشعبدہ بازوں کو(ن)لیگ نےناکام بنادیا، سی پیک کےتحت 51ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ا ہم نے گزرنے والے کل کوبدلا، آنے والاکل بھی بدلیں گے، توانائی کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا،متعدد توانائی منصوبے(ن)لیگ کے دورمیں لگائے گئے، گزشتہ حکومت نےاسپتالوں میں مفت ادویات کانظام لپیٹ دیا،مسلم لیگ کےصحت کارڈ کوانصاف صحت پروگرام کانام دیا گیا.
    وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کا مالی سال برائے 2022-23 کا میزانیہ 3226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا میزانیہ ٹیکس فری ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد اضافہ، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔ مقامی حکومتوں کے لئے 528 ارب روپے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 685 ارب روپے، تنخواہوں کے لئے 435 ارب روپے ، پینشن کے لئے 312 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کےلیے مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

    آمدن کا تخمینہ 2521 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، جس میں وفاقی محاصل سے 2020 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے اور صوبائی محصولات کا تخمینہ 500 ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 24 فی صد اضافے سے 163 ارب روپے، ایکسائز کے محاصل کی وصولی کے اہداف 2 فی صد اضافے سے 43 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کے محاصل 44 فی صد اضافے کے ساتھ 96 ارب روپے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فی صد اضافے سے 190 ارب روپے مقرر ہے۔

    آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں، 312 ارب روپے پنشن، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں ۔ 685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ شعبہ صحت پر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم پر 428 ارب 56 کروڑ روپے صحت کارڈ کے لئے 125 ارب رکھے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکیج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ 650 روپے والا 10 کلو آٹے کا تھیلہ اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز میں ٹیکس ریلیف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ رحمت اللعالمین پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف کے لیے 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لئے 239 ارب 79 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا.
    پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ3 ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں۔غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے۔آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنینا ری پبلک بن جاتا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران وردی میں ملبوس افسروں کو ٹھڈے اور مکے مارے گئے۔سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی سپیکر کی طرف لپکے تھے۔احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں۔چار سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے۔ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا۔عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں۔حمزہ شہباز
    ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ مصالحت کی ہرممکن کوشش کی گئی، بچگانہ حرکتوں سے بجٹ زیر التوا رکھا گیا۔ایسے شخص سے مقابلہ ہے جو واضح ہار بھی ماننے کو تیار نہیں۔آئینی اور قانونی طور پر گورنر کو اجلاس کے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا اختیار ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اختتام پر دعائے خیر بھی کی گئی

    پرویز الہٰی کے طلب کردہ اسمبلی کے اجلاس میں عطاء تارڑ کے خلاف متفقہ طور پر تحریکِ استحقاق منظورکر لی گئی۔ تحریکِ استحقاق پی ٹی آئی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں جمع کرائی۔ تحریکِ استحقاق کے متن کے مطابق صوبائی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ نے ایوان میں نازیبا اشارہ کیا، خواتین کی موجودگی میں ایوان کے اندر غلط اشارے کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عطاء تارڑ کے نازیبا اشارے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ میں آئینِ پاکستان کی کتاب، دوسرے سے اشارہ ناقابلِ برداشت ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ڈاکٹر مراد راس نے اپیل کی کہ مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے۔ پنجاب اسمبلی میں مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    اسپیکر کے حکم پر سیکریٹری پارلیمانی امور عنایت اللّٰہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی، میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے عطاء تارڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سوچ کے لوگوں کا وزیر بننا لمحۂ فکریہ ہے، وکلاء برداری ان کا لائسنس منسوخ کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریکِ استحقاق کو فوری کمیٹی کے سپرد کریں، ایسے افراد کے ایوان میں آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

    ایوان میں پی ٹی آئی رکن میاں اسلم اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف پرچے کاٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، عطاء تارڑ کی حرکت سے پوری قوم کا استحقاق مجروح ہوا۔

    سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اسمبلی پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس پیش نہیں ہو سکتا، ابھی پہنچا ہوں، دیکھنا پڑے گا کہ اسمبلی کے اختیارات کیسے محدود کیے گئے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے اپنا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کا اسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے،ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں، آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے،کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.

  • پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، ایک طرف گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا رواں ا40 واں اجلاس برخواست کر دیا اور 41 واں اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا تو اس کے ساتھ ہی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے برخواست کیا گیا اجلاس شروع کر دیا اور صوبائی وزیر خزانہ سردار اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی۔وزیر خزانہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ جناب سپیکر! گورنر پنجاب یہ اجلاس ختم کر چکے ہیں لہذا اس اجلاس کی کاروائی غیر قانونی و غیر آئینی ہو گی۔ اس پر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ گورنر کے احکامات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں.بعدازاں سپیکر نے اجلاس کل مورخہ 15 جون 2022 کو دوپہر 1 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔

    پجٹ اجلاس دو روز میں پیش نہ ہو سکا .حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز سے ڈیڈ لاک برقرار ہے ،حکومت بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن اپنے اوپر قائم مقدمات کا خاتمہ اور آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں طلب کر کے معافی کے خواہاں ہیں. تاہم اب پیجاب اسمبلی کے دو اجلاس بلائے جاچکے ہیں ،گورنر ارواں اجلاس نرخواست کر چکے ہیں جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ گورنر کے احکامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو اس صورت میں کل دو اجلاس منعقد ہوں گے. حکومت ایوان اقبال میں بجٹ پیش کرے گی جبکہ اپوزیشن کل پیجاب اسمبلی میں اجلاس میں شرکت کرے گی.

    صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ میں پچھلے دو دن سے تقریر تیار کرکے بار بار ایوان کے اندر آیا، ہمارے اوپر بے جا تنقید کی گئی لیکن ہم نے راجہ بشارت کی طرح بدتمیزی نہیں کی،اسپیکر نے ہمارے وزیر اعلی کو ایوان کے اندر بلوایا اور پھر کہا گیا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلاؤ،ہمارا اور عوام کا استحقاق مجروح ہوا ، ہماری بجٹ کی تقریر کو ڈسٹرب کیا گیا، آج پھر پورا دن ہمارے ایم پی ایز کو انتظار کروایا گیا،یہ ہمارا رائٹ تھا جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا،ہم نے کل کہا تھا آئین پانی کی طرح ہوتا ہے،پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے قبضے میں لی ہوئی ہے، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ اجلاس پروووگ ہوگیا ہے تو انھوں نے کہا کہ بجٹ پیش کریں ، کل ہم انشاء اللہ بجٹ پیش کریں گے

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ میں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ،کہا گیا مجھے سارجنٹ اینڈ آرمڈ کے ذریعے باہر نکالا جائے،آج کابینہ کا اجلاس رات آٹھ بجے ہوا اور کابینہ نے سمری گورنر کو بھیجی گئی،گورنر پنجاب نے نیا اجلاس کل بلایا ہے، میاں محمود الرشید ، مراد راس ، میاں اسلم اقبال کہتے ہیں ہمارے پرچے ختم کریں،یہ بادشاہ کی طرح ایوان کو چلاتے ہیں،یہاں گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے لوگ بھرتی کی ہوئے ہیں، پچیس مئی پچیس مئی ظلم اور قہر ہوگیا ، آپ کو تو ابھی ہاتھ نہیں لگایا آپ کی چیخیں نکل رہی ہیں ، انھوں نے میڈیا کی انٹری بند کردی، کیا پرویز الہی بادشاہ سلامت ہیں کہ جو دل کرے گا کریں گے، اپنی نگرانی میں پرویز الہی غنڈوں کو اندر لائے،مونس الہی دو دن بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں کیوں بیٹھا ہے.

    انہوں نے کہا کہ میرے سے آپ اتنا خوف زدہ کیوں ہیں ،آپ کے بیٹےکے جب قصے نکلے گے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، محمد خان بھٹی کیا کام کرتا ہے کہ ارب پتی ہے ،ساتویں سکیل میں لگا کر بائیسواں گریڈ دے دیا،یہ چار دن کی اسپیکری پر خود کو کیا سمجھتے ہیں ، آپ ایوان اقبال آئیں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں، آپ ہر پارٹی کے ساتھ شراکت میں رہے ہیں آپ صرف اقتدار کے پجاری ہیں، ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، آپ آئیں کل ایوان اقبال میں اپنے اسٹاف کو لے کر آئیں آپ آئیں آپ کو عزت دیں گے،اس ملک نے صدا رہنا ہے ہم نہیں ہوں گے یہ ملک ہمیشہ رہے گا ،آئینی اور قانونی معاملہ پیدا نہیں ہوگا، پہلے خبر چلی پھر اسپیکر کی رولنگ آئی ،جو انھوں نے دو دن کیا ہے اب ان کو وہاں آنا پڑے گا،ابھی فوکس بجٹ ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اسمبلی اجلاس جاری تھا
    تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی ،اگر گورنر اجلاس ملتوی کرے تو سیکرٹری اسمبلی کو تحریری اطلاع آتی ہے. پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نہ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،جب اجلاس ملتوی کرتے ہیں تو سیکرٹری اسمبلی کو گورنر کہے گا ،کسی اور جگہ رکھ کر اجلاس چار بندے بیٹھ جائیں یہ مذاق ہے غیر قانونی ہے ،سپیکر کے ہوتے ہوئے ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتا ،انہوں نے دوسرا بدنما داغ اپنے ماتھے کا حصہ بنایا ہے.خواتین اراکین کی طرف سے تحریک استحقاق آئی ہے ،جس پر سب سے پہلے کاروائی ہوگی ،عطا تارڈ نے غلط اشارے کئیے

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت نے کہا کہ ابھی تک تحریری طور پر اجلاس برخاست ہونے کا نوٹیفیکیشن نہیں ملا ،سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس کی صدارت کا نہئں کہا جاسکتا .اسمبلی کی عمارت کو ہوتے ہوئے کسی دوسری عمارت کو اسمبلی ڈکلئیر نہیں کیا جاسکتا ،ہم نے جب فلیٹئز ہوٹل میں اجلاس کیا تو ایوان سے اجازت لی تھی ،بجٹ اسمبلی سے پاس ہوتا ہے اور یہاں سارا سٹاف موجود ہے ،اگر گورنر غیر قانونی کام کرنا چاہتا ہے تو یہ بدقسمتی ہے ،کل اسمبلی کا ممبر نہ ہونے والے کو ایوان میں بٹھا دیا گیا .کل اجلاس ایک بجے اسمبلی بلڈنگ میں ہوگا.

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کا کہا ،جو کچھ انہوں نے بجٹ بنایا پنڈورا بکس کھلے گا تو پتہ چلے گا ،ان واقعات میں حق ابھر کر سامنے آتا ہے ،اراکین کو ہراساں کیا جارہا ہے،میاں اسلم اقبال نے کہا کہ بتیس سو ارب کا بجٹ ہے ،اسمبلی بلڈنگ چھوڑ کر غیر آئینی طور پر کہیں اور بجٹ پیش کرنا غیر قانونی ہے،گورنر نے غیر آئینی حکم دیا ہے ،یہ غیر آئینی اقدام پر بغلیں بجاتے ہیں ،پہلے ہوٹل میں اجلاس منعقد کرکے حمزہ کو وزیر اعلی بنا لیا ،یہ نکمی اور نااہل حکومت کے کام ہیں.