Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ  میں داخلے پر پابندی

    دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ میں داخلے پر پابندی

    آئرلینڈ کے وزیر انصاف جم او کالگھن نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کی ہے۔

    آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کو بھی ان وزرا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنی چاہئیں فرانس، اسپین اور اٹلی پہلے ہی یورپی یونین سے بن گویر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور آئرلینڈ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا دونوں وزرا کا رویہ یورپی یونین کی سطح پر پابندیوں کا جواز فراہم کرتا ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ آیا اس مقصد کے لیے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی مطلوبہ حمایت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا پر سفری پابندیاں اس ہفتے کابینہ کے باضابطہ فیصلے کے بغیر آئرش حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کی گئی ہیں وزیر انصاف نے امیگریشن حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اگر اتمار بن گویر یا بیزالیل سموٹرچ آئرلینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ فرانس نے بھی بن گویر کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی یہ اقدام ایک ایسی ویڈیو کے بعد کیا گیا تھا جس میں بن گویر غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے سے گرفتار کیے گئے پابند کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے تھے اس واقعے پر امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی بن گویر کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں ہیں۔

    گزشتہ برس برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی بن گویر اور سموٹرچ پر فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں ان پابندیوں کے تحت دونوں وزرا کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مغربی ملک کی حکومت نے اسرائیلی وزرا کے خلاف اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

    اُس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا تھا کہ وزیر خزانہ سموٹرچ اور وزیر قومی سلامتی بن گویر نے انتہاپسندانہ تشدد کو ہوا دی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کی،جمعے کو مونٹی نیگرو میں یورپی یونین اور مغربی بلقان سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئر ش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا کے بیانات اور اقدامات فلسطینیوں کو فلسطین سے ختم کرنے کی خواہش کے مترادف ہیں۔

  • ایران جنگ کے دوران آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

    ایران جنگ کے دوران آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف

    ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان سمیت مشرق وسطیٰ اور خطے کے کئی ممالک میں خفیہ فوجی اور انٹیلی جنس اڈے قائم کیے تھے، جہاں سے ایرانی سرحد کے قریب نگرانی، انٹیلیجنس جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے گئے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان خفیہ تنصیبات نے اسرائیل کو ایران کی شمالی، جنوبی اور مغربی سرحدو ں تک غیر معمولی رسائی فراہم کی، تاہم آذربائیجان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر اپنی ایلیٹ فوجی اور انٹیلیجنس یونٹس آذربائیجان میں تعینات کی تھیں،یہ فورسز جنوبی آذربائیجان کے متعدد مقامات پر موجود تھیں جو ایران کی شمالی سرحد سے متصل ہیں اور بعض مقامات ایرانی شہر تبریز سے محض 60 میل کے فاصلے پر واقع تھے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈو دستوں، خصوصی آپریشن فورسز اور موساد اہلکاروں نے ان مقامات سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز انجام دیے، جس سے اسرائیل کو شمالی ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔

    سی این این کے مطابق آذربائیجان میں موجود یہ تنصیبات اسرائیل کے وسیع خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھیں، جس میں عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں قائم خفیہ اڈے بھی شامل تھے ابتدائی طور پر ان اڈوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تھا، تاہم بعد میں انہیں فوجی اور انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ان تعیناتیوں کے نتیجے میں اسرائیلی افواج ایران کی جنوبی، مغربی اور شمالی سرحدوں کے گرد موجود رہیں، جس سے انہیں ایرانی علاقوں کے اندر سینکڑوں میل تک کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی اور ایران بھر میں متعدد حملوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

    تاہم آذربائیجان نے سی این این کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کی سرزمین کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف فوجی، انٹیلی جنس یا دیگر دشمنانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ ”مکمل طور پر بے بنیاد“ ہے آذربائیجان نے ماضی میں بھی ایسے الزامات کی تردید کی ہے اور رپورٹ شائع ہونے سے قبل بھی اپنا مؤقف سی این این کو آگاہ کر دیا تھارپورٹ میں گمنام ذرائع پر انحصار کیا گیا جبکہ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    آذربائیجان کی میڈیا ڈویلپمنٹ ایجنسی نے بھی رپورٹ کو ”من گھڑت معلومات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا، بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا اور بین الریاستی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل  ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    امریکا اور اسرائیل ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اب وہ ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری پیغام میں لکھا کہ امریکا کی قیادت میں قائم ظالمانہ نظام ایک مضبوط اور خودمختار ایران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ انہوں نے اسرائیل کو اسی نظام کی ایک مصنوعی چوکی قرار دیا کہا کہ امریکہ کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ بنایا ہے۔ اور وہ "گریٹر اسرائیل” یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے-

    انہوں نے لکھا کہ دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی اور گہری رسوائی کا سا منا کرنے کے بعد اب ایک نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ ہائبرڈ جنگ کے ذریعے ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور حکام کی ممکنہ غلطیو ں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس مہم کا بنیادی ہتھیار عوام کے درمیان شکوک و شبہات، مایوسی، خوف اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن کی کوشش ہے کہ ایرانی معاشرے کے اندر اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو کمزور کیا جائے کوئی بھی ایسا اقدام جو عوام میں بددلی، بدگمانی یا مایوسی کو فروغ دے، درحقیقت ملک اور اس کے عوام کے دشمنوں کی مدد کے مترادف ہےانہوں نے تمام ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کا مقابلہ ثابت قدمی، بصیرت اور قومی اتحاد کے ذریعے کریں اور اندرونی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

  • اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے-

    اطلاعات کے مطابق نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر کیے گئے چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

    فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھیلوں کے عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ایسوسی ایشن نے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • حزب اللہ  اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی تجویز کے تحت جزوی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

    لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے رابطے کے بعد لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کی سفیر ندا معوض کو بتایا کہ نیتن یاہو بھی اس منصوبے پر آمادہ ہیں۔

    واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کے مطابق حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی جبکہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے بند کرے گا، منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو پورے لبنان تک توسیع دینے پر بات چیت کی جائے گی، اس سے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہےاعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا کہنا ہے کہ ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے-

    عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.

    مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے“ جبکہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“

    اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے،جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے،تاہم اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.

    اب یہ قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.

  • اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کی جانب سے لبنان میں تقریخی قلعے بیفورٹ پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جارحیت کو وسعت دینے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ایک ہنگامی اجلا س کرے گی، اجلاس کی درخواست فرانس کی طرف سے کی گئی تھی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں جاری بڑی کشیدگی کا کو ئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے لڑائی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ لبنان پر جنگ اُس وقت مسلط کی گئی جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بدلے میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے۔