Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    تعلیم کے بین الاقوامی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج تعلیم کے بین الاقوامی دن کے موقع پر، ہم ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے افراد اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانے میں تعلیم کے اہم کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس سال کے تعلیم کے بین الاقوامی دن کا موضوع "مصنوعی ذہانت اور تعلیم: خودکاری کی دنیا میں انسانی عوامل کا تحفظ،” کے تحت ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت میں پیش رفت ہماری انسانیت کی خدمت کے لئے ہماری مشترکہ کوششوں میں ہماری مدد کرے۔جیسے جیسے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام تیزی سے ہماری زندگیوں میں ضم ہو رہے ہیں، انسانی مداخلت اور مشین سے چلنے والے اعمال کے درمیان کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ یہ صورتحال ہماری لئے مواقع اور چیلنجز دونوں فراہم کر رہی ہے۔ یہاں یہ اہم سوال انتہائی اہم ہے کہ آٹومیشن کی بڑھتی ہوئی لہر کے درمیان ہم انسانی عوامل کو کیسے برقرار رکھ اور بڑھا سکتے ہیں؟ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ تعلیم کی تبدیلی کا اصل محرک ہے طاقت کو جو نوجوانوں کو ترقی پذیر تکنیکی منظر نامے میں ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ تنقیدی سوچ، اختراع، اور اخلاقی ذمہ داری کو فروغ دے کر، ہم اپنے شہریوں کو نہ صرف تکنیکی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے آلات سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ انھیں ایسے طریقے تشکیل دینا چاہتے ہیں جو ہماری اقدار کو برقرار رکھیں، ہماری آزادیوں کی حفاظت کریں، اور ہمارے معاشرے کو آگے بڑھائیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو تکنیکی ترقی کو قبول کرنے کے لیے تیار کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کی تعلیم دینے والے کالجوں میں ہائی-امپیکٹ آئی ٹی لیبز کا قیام، دیہات میں موجود آئی سی ٹی اسکولوں میں ڈیجیٹل ہب، گوگل سینٹر آف ایکسی لینس، اسمارٹ کلاس رومز، اور ای۔ -تعلیم پورٹل وغیرہ شامل ہیں،مزید برآں، ہم نے اختراع کو فروغ دینے کے لیے ایک روزگار مراکز، سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارکس ، روبوٹکس اینڈ مائینڈ گیمز، اور اسٹیم لیبز جیسے منصوبے شروع کئے ہیں ۔ یہ ضروری ہے کہ ہمارے اسکول ہمارے بچوں کو مطلوبہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوں۔آج کے دن جب کہ ہم ایک ایسے تعلیمی نظام کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جو انسانی تخلیقی صلاحیتوں، ہمدردی اور مقصد کے جوہر کی حفاظت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے نظام کو اپنا رہا ہے ، میں اپنے معلمین اور شراکت داروں کی محنت کا اعتراف کرنا چاہوں گا جو کہ اپنی کوششوں سے ہماری زندگیوں کو منور کر رہے ہیں۔آئیے ہم سب مل کر علم کی روشنی کے اس نیک مقصد کو آگے بڑھاتے رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔

    انضمام الحق کے بیٹے ابتسام الحق کا نکاح

    انجینئرنگ یونیورسٹی،ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹا لیکن جمع نہ کروایا

  • سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے اس پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ نے چھ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی جسٹس جمال خان مندو خیل کر رہے ہیں۔ اس بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 27 جنوری کو مقرر کر دی ہے۔ اس سماعت کے دوران چھ رکنی لارجر بینچ 27 جنوری کو دن ایک بجے اس اپیل پر غور کرے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو ایک سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کا عہدہ ختم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے معاملے کو دیکھیں۔اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

    نذر عباس کی جانب سے چیلنج کیے جانے والے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس اور اس پر جاری قانونی کارروائی کی اہمیت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سپریم کورٹ کا موقف معمول سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات میں کسی قسم کی غلطی یا بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

  • پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے 19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بار پھر اسرائیلی جرائم کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان غزہ میں سیز فائر کا خیرمقدم کرتا ہے اور مسئلہ فلسطین کے دو قومی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان اسرائیل کے جرائم کا احتساب چاہتا ہے اور غزہ کی صورتحال میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے تاکہ غزہ کو دوبارہ رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔

    افغان باشندوں کی ملک بدری سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان افغان باشندوں کو امریکا یا کسی تیسرے ملک بھیجنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، ابھی تک پاکستان کو اس حوالے سے امریکہ سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔پاکستان نے داعش کے حوالے سے افغانستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا۔ ون چائنہ پالیسی کی غیر متزلزل حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،پاکستان امریکہ میں نئی انتظامیہ کا خیرمقدم کرتا ہے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔

    سندھ طاس معاہدے پر موقف
    سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے انتظام کا بنیادی معاہدہ ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے نے کشن گنگا ڈیم پر پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت اس معاہدے کی تکمیل کو یقینی بنائے گا اور پاکستان اس معاہدے پر پوری طرح کاربند ہے۔

    مراکشی کشتی حادثے پر افسوس
    مراکشی ساحل پر گزشتہ ہفتے کشتی کے المناک حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں 25 پاکستانی خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مراکشی حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اس واقعے کی مزید نگرانی کی جا رہی ہے۔

    پاکستان کا برکس میں شمولیت کا عزم
    پاکستان نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ برکس میں شمولیت کا خواہاں ہے اور اس پر پاکستان کا موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے شام کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان شام میں امن کی بحالی کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کے ایڈیشنل خارجہ سیکریٹری افریقی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان سیاسی مشاورت کا دورہ کامیاب رہا، تاہم پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سیاسی مشاورت کا دور آج اسلام آباد میں ہو گا۔

    کشمیر کے مسائل کا حل اگر کسی طرح کروایا جا سکتا ہے تو ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ترجمان دفترخارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق انڈیا سے قیدیوں کی رہائی، تبادلے کے لیے تیار ہیں،پاکستان اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔سفارتی محاذ پر یہ معاملہ بار بار اٹھایا جارہا ہے۔دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے قیدی موجود ہیں،یہ ایک بنیادی انسانی مسئلہ ہے اس کو حل ہونا چاہیے۔کشمیر کے مسائل کا حل اگر کسی طرح کروایا جا سکتا ہے تو ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔کشمیری عوام کو انکا حق خودارادیت اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ملنا چاہیے ۔ قیدیوں کے حوالے سے دہلی میں ہمارا سفارتخانہ اور سفیر اس معاملے پر کام کر رہا ہے

    ٹرمپ کی تقریب میں محسن نقوی کی شرکت اور ملاقاتوں کا علم نہیں،دورہ وزارت خارجہ کے ذریعے نہیں ہوا،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت اور ملاقاتوں کا علم نہیں، دورہ وزارت خارجہ کے ذریعے نہیں ہوا، مزید تفصیلات کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں،ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے امریکہ میں پاکستانی سفیر نے شرکت کی ہے،

    سیف علی خان واقعی زخمی تھے یا صرف ایک” اداکاری” تھی،حملے پر سوال اٹھ گئے

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

  • وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتہ کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی ہے اور اس کے حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر اڑان پاکستان کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو مقامی طور پر تیار کردہ ملک کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو ضروری قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی ترقی اور استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی ترقی کی رفتار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو 2018 میں رک گئی تھی۔ وزیرِ اعظم نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی استحکام کے دوران ترقی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیرِ اعظم نے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں کمی کا سہرا حکومت کی محنتی معاشی ٹیم کے سر ہے، اور برآمدات میں اضافے، صنعتی اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کے نفاذ اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ کے نظام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومتی پالیسوں پر ان کے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کے جلد تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان اور خطے کی ترقی کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی باصلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے، اور حکومت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

    ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے وزیرِ اعظم کی حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کو سراہا، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے ساتھ حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو تحسین کا نشانہ بنایا۔ وفد کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان بھی شریک تھے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

  • رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی، جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں رؤف حسن پر مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) میں بھی درج ہے۔اس دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی رپورٹ نہیں آئی،گنڈاپور ہر بار اسلام آباد آتے ہیں اور لوگ یہاں سے گرفتار ہو جاتے ہیں،خیبرپختونخوا میں تو آپکو تفصیلات جلد مل جانی چاہیے،

    رؤف حسن کی جانب سے وکیل عائشہ خالد عدالت میں پیش ہوئیں،عدالت نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور نیب سے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں،اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد رپورٹ پیش کریں تاکہ کیس کی مزید کارروائی کی جا سکے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے سینیٹ کمیٹی میں کہا ہے کہ ابھی وزارت داخلہ کی طرف سے ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کی کلیئرنس نہیں آئی، انہیں تحفطات سے آگاہ کیا تو انہوں نے حکومت کی پالیسی سے اتفاق کیاہے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں اسٹار لنک کی لانچ پر بریفنگ دی گئی۔چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں قومی اسپیس پالیسی 2023 میں آئی جس پر 2024 میں رولز بنے پھر اسپیس کے حوالے سے پاکستان اسپیس ریگولیٹری بورڈ قائم کیا گیا، یہ باڈی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ماتحت ہو گی، حکومت نے سوچا ہو گا کہ سپارکو کو کمرشل تحفظ دیں، اس لیے ریگولیٹری باڈی قائم کی گئی، کوئی سیٹیلائٹ پاکستان میں سروس دینا چاہے تو وہ پہلے ای ای سی پی کے پاس رجسٹر ہو گی پھر ریگولیٹری بورڈ کے پاس رجسٹر ہو گی پھر پی ٹی اے کے پاس لائسنس کیلئے آئیں گے۔

    انوشہ رحمان نے استفسار کیا کہ نگراں حکومت کے دور میں کیسے پالیسی بنی؟ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اسٹار لنک نے فروری 2022 میں لائسنس کیلئے اپلائی کیا جو وزارت داخلہ کےپاس سکیورٹی کلیئرنس کے لیے گیا، وزارت داخلہ کی طرف سے اسٹار لنک کی کلیئرنس نہیں آئی،لنک ریمورٹ علاقوں میں بزنس والے لوگوں کو سپورٹ کرے گا، اسٹار لنک نئے ریگولیٹری بورڈ کےساتھ رجسٹر ہوگی تو پی ٹی اے لائسنس جاری کر دیں گے، ایک چینی کمپنی ٹرپل ایس ڈی بھی پاکستان آرہی ہے۔ کوئی سیٹلائٹ بھی پاکستان آ سکتی ہے۔

    ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ایلون مسک نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جس میں پاکستانیوں پر الزام لگائے گئے جو بھی فیصلہ کریں ایلون مسک نے جو کہا ہے اس کو نظر میں رکھیں۔،پلوشہ خان نے کہا کہ ایلون مسک پاکستان مخالف ہے، اس کی وجہ سے ہماری عالمی بدنامی ہوئی ہم اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں،انوشہ رحمان نے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کی بندش بھی دیکھ رہے ہیں، اب ایسی سیٹلائٹ لا رہے ہیں جو ایلون مسک جیسے جارحانہ رویے کے حامل شخص کے ماتحت ہے، صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں غیرا خلاقی نوعیت یا عملدرآمد کے مسائل آئیں گے، اسے ہینڈل کرنے کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟ جو مواد چلے گا اس کیلئے ریگولیٹری باڈی کون ہوگی؟

    چئیرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ریگولیٹری باڈی ان سب باتوں کو دیکھ کر ہی لائسنس دینے کا فیصلہ کرے گی، یہ وہ براہ راست سیٹلائٹ سے سیٹلائٹ میں نہیں چلے گا، اسٹار لنک گراؤنڈ پر آئے گا، گیٹ وے کے ذریعے چلے گا،اتھارٹی نے اپنے تحفظات انھیں دیے ہیں، اسٹار لنک نے حکومتی پالیسی سے اتفاق کیا ہے، وہ سسٹم کو بائی پاس نہیں کریں گے، جب حکومت کہے گی ڈیٹا بلاک کرے تو وہ بلاک کریں گے، ایلون مسک کی ٹوئٹ کی وجہ سے اسٹارلنک کی پاکستان رجسٹریشن کا معاملہ دوبارہ اٹھا۔

    ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ اسپیس کی ریگولیشن ٹیکنیکل ہے، اسے سپارکو دیکھتا ہے۔ ا نوشہ رحمان نے کہا کہ یہ کام تو پی ٹی اے کو کرنا چاہے تھا، ابھی وزارت آئی ٹی نے پیکا کی ذمہ داری وزرات داخلہ کو دے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سپارکو اور ریگولیٹری اتھارٹی کو طلب کر لیا۔

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا
    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پاکستان میں کام کرنے والے بیرون ملک کے موجودہ 86 پائلٹس کے لائسنز کی توثیق میں 2 سال اور 2025 میں نئے پائلٹس کی شمولیت کی فارن ویلیڈیشن میں 3 سال کی توسیع کی منظوری دے دی- وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ سالوں میں کووڈ کی وبا اور پاکستانی پائلٹس پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی ائیرلائنز کو بیرون ملک سے پائلٹس کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ کابینہ ڈویژن کی مذکورہ بالا سفارش پر مکمل قانونی کارروائی کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے توشہ خانہ کے نظام میں مزید شفافیت لانے کے لیے توشہ خانہ ایکٹ 2024 پر نظر ثانی کے لیے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر نیشنل سییڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے قوائد وضوابط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ذمہ داری وزارت آئی ٹی سے وزارت داخلہ کو منتقل کئے جانے کے حوالے سے رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کی منظوری دے دی- وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر نشینل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اپیلیٹ ٹریبیونل کے ممبر فنانس کے طور پر ڈاکٹر عمار حبیب خان کی تعیناتی کی منظوری دے دی-

    وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے، اس عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم نے کہا کہ پرائم منسٹر ریلیف پیکج مستحقین تک پہنچانے کے لیے نئی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 جنوری 2025 اور 17 جنوری 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی-

  • سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد رہا ہونے والے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ نے اپنے تحریری جواب میں سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے رہا کیے گئے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔وزارت خارجہ کے مطابق، سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان قیدیوں کی رہائی کی تفصیل درج ذیل ہے

    2019 میں 545 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2020 میں 892 قیدی رہا ہوئے۔
    2021 میں 916 پاکستانی قیدیوں کو آزادی ملی۔
    2022 میں 1331 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2023 میں 1394 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔
    2024 میں 2130 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا گیا۔

    مزید برآں، وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اس وقت مختلف ممالک کی جیلوں میں 23 ہزار 456 پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ سعودی عرب میں 12 ہزار 156 پاکستانی قید ہیں، یو اے ای میں 5 ہزار 292، یونان میں 811 اور قطر میں 338 پاکستانی جیلوں میں ہیں۔

    یہ تفصیلات سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

  • پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سب لوگ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، عمران خان ہی ہماری پارٹی کا نشان ہیں۔

    الیکشن کمیشن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آئین وقانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرائے، ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں سرٹیفکیٹ نہیں ملا، ہم نے الیکشن کمیشن کے آئینی وقانونی سوالات کا جواب دے دیا تھا، پارٹی سرٹیفکیٹ ہمارا آئینی وقانونی حق ہے، پارٹی دفتر پر چھاپے کے دوران ایف آئی اے دستاویزات لے گئی تھی، ہمیں امید ہے اگلی سماعت پر پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ مل جائے گا، پی ٹی آئی دنیا کی بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے ہے، پاکستان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہے، ممبران صاحبان اور چیف الیکشن کمشنر کیلئے وہی طریقہ کار ہے جو آئین میں درج ہے، پارلیمنٹری کمیٹی بننے پر ہی یہ پراسیس جلد مکمل ہوگا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے ایک ہی مُلاقات ہوئی، وہ بھی خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تھی، اِس کے علاوہ کچھ نہیں، میں نے اڈیالہ جیل کے نہ اندر، نہ باہر کسی سے صحافی سے بات نہیں کی، ہماری ایک ہی میٹنگ ہوئی، لوگ اس کو بیک ڈور کہتے، ہماری ایک ہی ملاقات ہوئی یہ بارہا کہہ چکا ہوں،26 ویں آئینی ترمیم چیلنج ہو چکی ہے سپریم کورٹ میں پٹیشن ہے پینڈنگ ہے اس میں جب جوڈیشل کمیشن کی سماعت تھی تو جج صاحبان نے بھی پوائنٹ آؤٹ اٹھا لیا تھا کہ ہم ججز کو پوائنٹ کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کس طرح غیرقانونی قیادت چلا رہی؟ اکبر ایس بابر
    دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی مختلف گزارشات میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت جوآرگرنازیشن سٹرکچر اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ یعنی پی ٹی آئی کا لکھ کر بھی ان کو دیا ہے کہ موجودہ آرگنائزیشن سٹرکچر جب تک قانونی انٹرا پارٹی الیکشن نہیں ہوجاتے نہیں ہے،یہ پی ٹی آئی میں جو عہدوں کے دعوے کرتے یہ غیر قانونی ہیں، ہم نے آج الیکشن کمیشن کو کہا کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کس طرح غیرقانونی قیادت چلا رہی ہے، ایک ارب کے لگ بھگ روپیہ بانٹا گیا ہے، جب تک پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت بحال نہیں ہوتی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سیز کئے جائیں،یہ بہروپیے ہیں، ایسے لوگ جن کا پی ٹی آئی سے دور دور تک تعلق نہیں وہ پی ٹی آئی پر قابض ہیں، ابھی جو 190 ملین پاؤنڈ فیصلہ آیا ،میں پی ٹی آئی کا بانی ممبر ہوں، مجھے تشویش ہوئی ،

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس،بیرسٹر گوہر کو مہلت مل گئی
    قبل ازیں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، چیف الیکشن کمشنر نے چیئرمین پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر صاحب یہ کیس 30 اپریل 2024 سے چل رہا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال تحریری جواب جمع نہیں کروایا گیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے پانچ درخواستوں اور نوٹس پر جواب جمع کروانا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نوٹس کا جواب ہم دے چکے ہیں، درخواست گزاروں کی گزارشات کا جواب آئندہ سماعت پر جمع کروا دیں گے،اس موقع پر اکبر ایس بابر نے کہا کہ کیس کا فیصلہ ہونے تک پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں، ا لیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی۔

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

  • متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    پاکستان کی وزارت تجارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آم کی برآمدات کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کر دیے ہیں، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    وزارت تجارت کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے یو اے ای کو 159.74 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے ہیں۔ اس دوران، پاکستان نے برطانیہ کو 131.96 ملین ڈالرز، سعودی عرب کو 29.61 ملین ڈالرز، اور قازقستان کو 93.86 ملین ڈالرز مالیت کے آم بھیجے ہیں۔اسی طرح، افغانستان کو 35.98 ملین ڈالرز، عمان کو 39.88 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے گئے۔ وزارت تجارت کے مطابق، اس عرصے کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 63 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے 30.9 ملین ڈالرز مالیت کے ترشاوہ پھل بھی برآمد کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی آم عالمی منڈیوں میں اپنی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط برآمدی سامان کے طور پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ اعدادوشمار پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی منفرد ذائقہ اور معیار کے باعث پسند کیے جا رہے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف