Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دعوت نامے موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے 20 افراد کو دعوت نامے ملے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ان کے پارٹی کے لوگ اس اہم موقع پر موجود ہوں گے، تاہم جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی دیگر عہدیدار کو دعوت نامہ آیا ہے؟ تو انہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے مرکزی عہدیدار اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے، لیکن پارٹی کے کچھ اراکین اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    اسی دوران، مذاکرات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کمیشن تشکیل دیے جائیں تاکہ ہمارے افراد کی ضمانت کی جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل پر حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل درآمد کر سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی پھر آگے کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر عمل قانون کے مطابق اور شفاف ہونا چاہیے۔

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا صحافی ثاقب بشیر کو اڈیالہ جیل میں کوریج کی اجازت کا حکم

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ  بارے  عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ بارے عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس مکروہ دھندے کو مکمل طور پر روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے ذریعے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعظم نے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ادارہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔

    انہوں نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی سکریننگ کے لیے ایک معیاری نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی بیرون ملک سفر اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے مؤثر مہم چلائے تاکہ عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث انتہائی مطلوب سمگلروں کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے بھرپور تعاون حاصل کرے۔

    اجلاس کے دوران شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ انسانی سمگلروں کے خلاف اب تک متعدد اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جون 2023 سے دسمبر 2024 تک کے دوران کئی انسانی سمگلر گرفتار کیے جا چکے ہیں اور متعدد سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔مزید یہ کہ انسانی سمگلروں کے 500 ملین روپے سے زائد کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں اور ضبطی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی سمگلروں کے استغاثہ کے عمل کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی تیز رفتار کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی اور اس اہم معاملے پر اپنے خیالات اور سفارشات پیش کیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی اور اس مکروہ دھندے کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

    نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

  • مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو گا، جس میں پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، جن میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں جلد تکمیل کی امید ہے اور امکان ہے کہ اس کا نتیجہ خوشخبری کی صورت میں نکلے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کے بانی اور رہنما کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ہیں، وہ سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ جمہوریت کا استحکام قائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے جلد مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔

    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے،پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں،ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی،تا کہ تحقیق ہو کہ سچ کیا ہے، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،ہم اس پر پیچھےنہیں ہٹیں گے.

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

  • وزیرِ اعظم  کا ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالرز کے وعدے کاخیرمقدم

    وزیرِ اعظم کا ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالرز کے وعدے کاخیرمقدم

    وزیرِ اعظم پاکستان، شہباز شریف نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو 10 سال کے کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت 20 ارب ڈالرز کے وعدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس شراکت داری کے تحت ورلڈ بینک کی مدد پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سی پی ایف کے تحت پاکستان کی قومی ترجیحات کے مطابق چھ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان شعبوں میں بچوں کی غذائیت، معیاری تعلیم، صاف توانائی، ماحولیاتی استحکام، جامع ترقی اور نجی سرمایہ کاری شامل ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ان شعبوں پر مرکوز کام پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ورلڈ بینک کا یہ اقدام پاکستان کی ترقی کے لیے ایک سنگین اور مؤثر مدد فراہم کرے گا۔

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے ملک میں اقتصادی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے عوام کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرے گا۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر آرمی چیف اور دیگر متعلقہ حکام کی محنت اور کاوشوں کو بھی سراہا، اور کہا کہ سی پی ایف پاکستان کے معاشی استحکام اور صلاحیت پر ورلڈ بینک کے اعتماد کی ایک بڑی علامت ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں ترقی کو تیز کرے گا اور ملک کی ترقی کے لیے کوششوں کو مزید ہم آہنگ کرے گا تاکہ لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

    شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • پاکستان کا مستقبل آئی ٹی شعبے کی ترقی سے منسلک ہے، وزیراعظم

    پاکستان کا مستقبل آئی ٹی شعبے کی ترقی سے منسلک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "اڑان پاکستان” منصوبہ ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور اس کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے آراستہ کرنا بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کی کلید ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ "تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے نیووٹیک اور پرائم منسٹر یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور حکومت کی پالیسی ہے کہ نجی شعبے کو فروغ دے کر ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے۔”

    اس کے علاوہ، وزیراعظم نے آئی ٹی شعبے کی ترقی کو پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی اس شعبے کے فروغ سے جڑی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے بیرون ملک ملازمت فراہم کرنے کے لیے دوست ممالک کی مارکیٹس کے تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک ملازمت فراہم کرنے والی جعلی کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو بغیر لائسنس کے کام کر رہی ہیں۔وزیراعظم کو اجلاس میں بتایا گیا کہ عنقریب نوجوانوں کے لیے "وزیراعظم ڈیجیٹل یوتھ ہب” کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں کو ملازمتوں اور دیگر خدمات کی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے اس پلیٹ فارم کو عوام کے لیے آسان بنانے کے لیے انگریزی کے ساتھ ساتھ تمام مقامی زبانوں میں بھی متعارف کرانے کی ہدایت دی۔اجلاس میں وزیراعظم کو پرائم منسٹر یوتھ ایمپلائمنٹ پلان، افرادی قوت کو بین الاقوامی مارکیٹ میں درکار صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے اقدامات اور دیگر منصوبوں کی پیشرفت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    اے این ایف کی کارروائیاں،تعلیمی اداروں میں منشیات فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار

    کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • عمران کو سزا سنانے والے ججز  اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    عمران کو سزا سنانے والے ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کو متنازعہ بنانے پر تلی ہوئی ہے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے 17 جنوری کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا ہے، جس میں ہائی کورٹ کے نئے ججز کی تقرری کی جانی ہے۔ اس اجلاس میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے والے ججز، شاہ رخ ارجمند اور ہمایوں دلاور کو ہائی کورٹ کے نئے ججز بنانے کا امکان ہے تاکہ وہ سزا سنانے کے بعد اپیلوں کی سماعت بھی کر سکیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو متنازعہ بنانے کے لیے مختلف حکمت عملی اپناتے ہوئے اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو اتنا کمزور بنانا چاہتی ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ اس سے ملک میں انصاف کا نظام متاثر ہوگا اور جب انصاف حقدار تک نہیں پہنچے گا تو ملک کیسے ترقی کر سکے گا۔علدیہ حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، تاکہ عوام کو عدلیہ پر اعتماد بحال ہو سکے۔

    اس کے ساتھ ہی، اسد قیصر نے کہا کہ اگر عدلیہ کو حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رکھا گیا، تو ملک میں عدلیہ کا کردار کمزور ہو جائے گا اور اس کا اثر ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر پڑے گا۔

    اسد قیصر نے مزید بتایا کہ القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ جج ناصر جاوید رانا نے تیسری بار مؤخر کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لا کر فیصلے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، اسد قیصر نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عدالتیں اپنے فیصلے جلد سنائیں گی تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔اسد قیصر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور ملک میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائے تاکہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے ہو سکیں۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی