Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • بلے کا نشان،پی ٹی آئی سے سوال کریں میں انکا ترجمان نہیں، مرتضیٰ سولنگی

    بلے کا نشان،پی ٹی آئی سے سوال کریں میں انکا ترجمان نہیں، مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے الیکشن کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے متعلق معاملات کا پی ٹی آئی ہی بہتر بتا سکتی ہے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے،نگران حکومت آئینی اور قانونی حکومت ہے،نگران حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑی ہے،الیکشن کمیشن کی مالی، انتظامی اور سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کے آئینی طور پر پابند ہیں،سیکورٹی کے مسائل حقیقی ہیں، ہمیں ان کا ادراک ہے، انہیں بہتر کریں گے،ملک میں سوال اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں، انشاءاللہ انتخابات 8 فروری 2024ءبروز جمعرات کو ہوں گے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ میری ملاقات بہت اچھی رہی ہے ، ہر دن اچھا دن ہے اور ہر موقع اچھا موقع ہے، صحافی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی انتخابات میں اپنے نشان کے ساتھ شرکت کرے گی, جس کے جواب میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ یہ سوال پی ٹی آئی سے پوچھیں کہ وہ کیا کریں گےکیا نہیں، میں پی ٹی آئی کا ترجمان نہیں،

    واضح رہے کہ نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی الیکشن کمیشن آمد ہوئی تھی، جہاں انکی الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات ہوئی،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن جلد ہی پیٹشن تیار کرے گا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

    کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی و اینکر ارشد شریف پر ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کی.دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ارشد شریف پر کتنے مقدمات تھے؟وکیل شعیب رزاق نے عدالت میں کہاکہ آخری اطلاع کے مطابق ارشد شریف پر 16 مقدمات تھے،ارشد شریف پر دہشتگردی ، ریاست مخالف سرگرمیوں کے مقدمات تھے،گوادر اور ملک کے دور دراز علاقوں میں یہ مقدمات درج ہو رہے تھے،ہمیں تو نہ مقدمات کی کاپی اور نہ ہی تفصیلات دی جارہی تھی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک اینکر یا صحافی کے انٹرویو کی بنیاد پر بہت سے مقدمات درج ہو جاتے ہیں،کیا 25کروڑ عوا م نے انٹرویو کے الفاظ سنے تو 25کروڑ مقدمات درج ہوں گے؟کیا ایک گوادر، ایک سبی ایک حیدر آباد میں مقدمہ درج کروائے گا،اس طرح ملک بھر میں مقدمات کا اختیارات سے تجاوز ہے، جو پہلی ایف آئی آر کسی ایکٹ پر ہوگی اس کی ہی پیروی ہوگی، یہ کام تو بھیڑبکریوں والا ہے، ایسے ہی عوام کو ٹریٹ کیا جاتا ہے، گوادر سبی اور پسنی میں مقدمات درج کرا دیئے گئے،ایک انٹرویو پر اتنے مقدمات کیسے درج ہوں گے،یہی کرنا تھا تو پہلے ہی شخصی آزادی نہیں دینی تھی،سٹیٹ کو ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہئیں کہ اس پر لوگ ٹریٹ کریں یا بولیں،کسی کے خلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تو ایک واقعے پر دوسرے ایف آئی آر نہیں ہو سکتی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غلط کام ہوا ہے تو غلط کام پر پراسیکیوٹ ہونا چاہئے،ریاست کو ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں کہ لوگ کمنٹ کریں اور پھر اس کے نتائج نکلیں ،جرنلسٹ کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے مگر اس کا طریقہ کار موجود ہے،آئندہ سماعت پر بتائیں کہ ایف آئی آرز کا سٹیٹس کیا ہے؟کیا ایک ہی ٹویٹ یا انٹرویو پر مقدمات درج ہوئے؟تمام ایف آئی آرز کو ریکارڈ پر رکھیں، تربت اور پسنی والے ہی باخبر ہیں صرف، اسلام آباد والے نہیں؟اس کا دوسرا نکتہ بھی ہے کہ سٹیٹ وہاں پر وٹیکٹ نہیں کر سکتی،یہ کہنا بہت آسان ہے کہ انڈیا اور اسرائیل فنڈنگ کررہا ہے،ریاست کا کام ہے کہ قانونی کارروائی کرے، کہنا بڑا آسان ہے کہ کوئی کسی سے پیسے لے کر یہاں بیٹھا ہوا ہے،سٹیٹ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،اغوا پر 7سال قید ہو جاتی ہے، یہاں سٹیٹ کے ادارے اغوا کررہے ہیں مگر کوئی بات ہی نہیں، عدلیہ پر بھی تنقید ہوتی ہے۔عدالتوں نے اپنا کام کرکے دکھانا ہے اور یہی سب باتوں کا جواب ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ صحافی ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

  • مولانا فضل الرحمان اپنی مرضی سے افغانستان گئے، حکومتی ترجمانی نہیں کر رہے، دفتر خارجہ

    مولانا فضل الرحمان اپنی مرضی سے افغانستان گئے، حکومتی ترجمانی نہیں کر رہے، دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پہلی مرتبہ گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی کانفرنس کا اسلام آباد میں انعقاد ہوا ،اس میں 70 سے زائد وفود نے شرکت کی،

    ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ نگران وزیر خارجہ نے افتتاحی تقریر میں مستقبل کے وبائی امراض کے خلاف عالمی شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی،کانفرنس کا اختتام آج اسلام آباد اعلامیہ کے ساتھ ہو گا ،پاکستان نے امریکہ کی جانب سے خصوصی تشویش والے ممالک میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ،پاکستان جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کے فلسطینی عوام کے حق میں اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کو سراہتا ہے ،پاکستان اس حوالے سے جنوبی افریقہ کی حمایت کرتا ہے ،ہم غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کے قتل عام کو رکوانے کا مطالبہ کرتے ہیں ،ہم فلسطین کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں ،ایسا حل جس میں فلسطین 1967 سے قبل کی سرحدوں پر القدس بطور دارالحکومت ہو ،

    ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ستر برس سے بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت سے انکار کر رہا ہے ،وزیر اعظم انوارلحق کاکڑ جلد عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے ،مولانا فضل الرحمان کا دورہ افغانستان حکومت پاکستان یا دفتر خارجہ کی جانب سے نہیں ہے،مولانا فضل الرحمان کو دورہ پر جانے سے پہلے دفتر خارجہ نے بریفنگ دی تھی، مولانافضل الرحمان اپنے مرضی سے گئے ہیں حکومت پاکستان کی ترجمانی نہیں کررہے ،افغان وفد کے ساتھ بارڈر سکیورٹی سے متعلق بات چیت ہوئی، ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مزاکرات نہیں ہو رہے، پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروپ اور ٹی ٹی پی سے نمٹنے کیلئے تیار ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے، نقول فراہمی اور ان کیمرہ سماعت کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، سکندر ذولقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،سائفر کیس میں ایف آئی اے نے جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ کی خدمات حاصل کرلی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کیس سے متعلق تمام آفیشل دستاویزات عدالت کو جمع کریں گے، ٹرائل کورٹ نے کچھ گواہوں کے لیے سماعت ان کیمرہ کرائی تھی، گواہوں کے بیانات کی سرٹیفائیڈ کاپیاں درخواست گزار وکلاء کے پاس موجود ہیں، اس عدالت کے ڈویژن بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرایا گیا تھا، 14 دسمبر کا ٹرائل کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا تو دوبارہ گواہان کا بیان قلمبند کرتے ہیں، اگر اس معاملے پر میرا کولیگ سلمان اکرم راجہ متفق ہے تو درخواست کو نمٹا دیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے دو دفعہ غلط فیصلہ کیا، عدالت نے کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، چلیں نئے سرے سے اس کیس کو شروع کریں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاسفندیار ولی کیس کا حوالہ دیا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل دوبارہ وہاں جانا چاہیے جہاں سے غیر قانونی فیصلہ کیا گیا تھا، عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ چار گواہوں کے بیانات ان کیمرہ قلمبند کرائے گئے تھے، سول لاء، کریمنل لاء سے بہت مختلف ہیں، عدالت نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے سائڈ کے ترجیحات یا مجبوریاں بھی دیکھ لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تمام 13 گواہان کے بیانات قلمبند کرانے کو دوبارہ تیار ہیں، ایف آئی اے پراسیکیوشن نے کہا کہ اس کیس میں 25 گواہان ہیں جن میں 12 کے بیانات ابھی رہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں حکم امتناعی ختم کردیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر فیصلہ محفوظ کرلیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 14 دسمبر کے آرڈر کے بعد کی کاروائی کالعدم قرار دی جائے ، انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ 14 دسمبر کا آرڈر درست نہیں تھا،اٹارنی جنرل نے 14 دسمبر کے بعد کی کاروائی از سر نو کرنے کی یقین دھانی کروا دی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کردی ہے

    وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں توسیع کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کمیشن کی مدت میں تاحکم ثانی توسیع کی گئی ہے،

    2011 میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں لاپتہ افراد کمیشن قائم کیا گیا تھا اور ماضی میں لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں 6 ماہ سے 3 سال تک کی توسیع کی جاتی تھی،لاپتہ افراد کمیشن تین افراد پر مشتمل ہیں جن میں کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ ممبران میں جسٹس (ر) ضیاء پرویز اور سابق آئی جی شریف ورک شامل ہیں

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    واضح رہے کہ جبری گمشدگی کیس میں سپریم کورٹ میں چند دن قبل لاپتہ افراد کمیشن کا تذکرہ ہوا تھا جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

  • وزارتِ مذہبی امور کا حج کی غیر قانونی بکنگ میں ملوث کمپنیوں کے خلاف ایکشن

    وزارتِ مذہبی امور کا حج کی غیر قانونی بکنگ میں ملوث کمپنیوں کے خلاف ایکشن

    وزارتِ مذہبی امور کا حج کی غیر قانونی بکنگ میں ملوث کمپنیوں کے خلاف ایکشن، حج کی غیر قانونی بکنگ میں ملوث ’’ ففتھ پلر فیملی تکافل لمیٹڈ‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    وزارت نے ایک شکایت پر ایکشن لیتے ہوئے ایف آئی اے کو فراڈ کرنے والی کمپنی کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ ایف آئی اے نے مذکورہ کمپنی کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ اپنے ایک انتباہی بیان میں وزارت مذہبی امور نے واضح کیا گیا ہے کہ کسی تکافل کمپنی کو حج و عمرہ کی بکنگ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ عوام الناس ففتھ پلر تکافل جیسی کمپنیوں سے آگاہ رہیں اور حج، عمرہ کی بکنگ سے قبل کمپنی کے کوائف وزارت کی ویب سائٹ پر ضرور چیک کریں

    دوسری جانب عازمین حج کیلئے معلومات تک رسائی اور سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم،ترجمان کے مطابق وزارت مذہبی امور نے حج 2024ء کے تمام عازمین حج سے کہا ہے کہ وہ ہیلپ لائن سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ عازمین حج 0519205696، 9216980-82 پر کسی بھی مشکل یا معلومات کے حصول کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ،ساتھ مزید کس کو زمین الاٹ کی گئی؟ عدالت میں نیا انکشاف

    مندر کی تعمیر پر اعتراض کرنے والے خواجہ آصف کی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    مندر کی تعمیر کے فیصلے کو فوری واپس لیا جائے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی آ گیا

    مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ لال مالہی

  • ایف ڈی ای کے 227 ڈیلی ویجرز کو ریگولر کرنے کی منظوری،مدد علی سندھی

    ایف ڈی ای کے 227 ڈیلی ویجرز کو ریگولر کرنے کی منظوری،مدد علی سندھی

    "کابینہ نے ایف ڈی ای کے 227 ڈیلی ویجرز کو ریگولر کرنے کی منظوری دی دی” مدد علی سندھی

    اسلام آباد: مدد علی سندھی نے ڈیلی ویجرز کے وفد سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ آج کابینہ نے 227 ڈیلی ویجرز کو ریگولر کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔  ان ڈیلی ویجرز نے ایف پی ایس سی کا ٹیسٹ پاس کیا ہے لہذا انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ریگولرائز کیا جائے گا جسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی برقرار رکھا ہے۔

    مدد علی نے کہا کہ اساتذہ قوموں کی تشکیل کرتے ہیں اور انہیں ہر طرح سے سہولت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنا کام بخوبی انجام دے سکیں۔ انہوں نے سرکاری شعبے بالخصوص دارالحکومت میں تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے اپنے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی اولین ترجیح ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام کوششیں کی جارہی ہیں کہ اس تعداد میں زبردست کمی لائی جائے۔ مدد علی نے کہا کہ یہ نازک مسائل ہیں جنہیں سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے یا مسترد ہونے پر الیکشن ٹریبونل میں فیصلوں کا آخری روزہے۔ ریٹرننگ افسران امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست کل جاری کریں گے ،12جنوری کو امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے،12جنوری کو ہی امیدواروان کی حتمی فہرست جاری کردی جاۓ گی،13جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے جائیں گے

    این اے 130 ، نواز شریف کے خلاف اپیل خارج،کاغذات نامزدگی درست قرار
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کردی گئی،الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنادیا اور نواز شریف کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے،نواز شریف کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی کے خلاف الیکشن اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا گیا،نواز شریف کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ اقامہ میں نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف الیکشن لڑنے کے اہل نہ تھے،آر او نے غیر قانونی انکے کاغذات نامزدگی منظور کیے،

    کاغذات نامزدگی،مریم کیخلاف اپیل خارج، جمشید چیمہ،مسرت جمشید کے کاغذات منظور،رانا ثناء اللہ کے مد مقابل پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات مسترد
    فیصل اباد سے سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے مدمقابل امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹر نثار جٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،اوکاڑہ: پی پی190 سے مہر عبدالستار کی بیگم شاہرہ بی بی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پی پی 190 سے رہنما پاکستان تحریک انصاف مہر عبدالستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    مریم نواز کے حلقہ این اے 119سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیدیئے ،پی ٹی آئی امیدوار ندیم شیروانی نے مریم نواز کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل دائر کی تھی

    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ ،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ایڈووکیٹ آصف شہزاد ساہی امیدوار کی طرف سے پیش ہوئے،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ نے این اے 121 اور پی پی 153 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،
    دونوں میاں بیوی پر اشتہاری ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا

    پرویز الٰہی کے 4صوبائی اور دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،پرویز الٰہی کے این اے 64گجرات، پی پی32,34, این اے69منڈی بہاوالدین ، پی پی42منڈی ، این اے59تلہ گنگ، پی پی23 تلہ گنگ سے کاغذات مسترد ہوئے تھے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنایا،مونس الہٰٗی کے دوقومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج ہو گئی،مونس الہی کے این اے64گجرات،پی پی32,34 این اے69منڈی بہاوالدین کاغذات مسترد ہوئے تھے

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
    حماد اظہر نے ٹرببونل کے فیصلے کے خلاف درخواست داٸر کر دی ، درخواست میں کہا کہ ریٹرننگ افسر اور ٹریبونل نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے ،قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود کاغذات مسترد کیے گئے،عدالت کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے ، حماد اظہر نے حلقہ این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،

    ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات پی پی 56 سے منظور
    لاہور ہائیکورٹ: ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن ایپلیٹ بنچ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،ایپلیٹ بنچ نے حلقہ پی پی 56 نارووال سے مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے.

    کاغذات نامزدگی مسترد،شاہ محمود قریشی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری ہائیکورٹ میں چیلنج کردی، شاہ محمود قریشی کے پی پی 218، این اے 151 اور 150 سے کاغذات مسترد کیے گئے تھے،شاہ محمود قریشی نے تین حلقوں سے کاغذات مسترد کیے جانے کے اقدام پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ شاہ محمود کی درخواست پر سماعت کرے گا

    صدر عارف علوی کے بیٹے سمیت تحریک انصاف کے 4 امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت
    سندھ ہائیکورٹ، این اے 241 سے تین پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنادیا،عدالت نے خرم شیر زمان،مزمل اسلم اور اواب علوی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ،اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی اعتراض کنندہ کے اعتراضات مسترد کردئیے تھے ،تینوں امیدواروں کے خلاف محمد دوست نے درخواستیں دائر کررکھی تھیں، دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار محمد دوست کون ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دوست محمد محب وطن پاکستانی ہے، ان کا مقصد کرپٹ لوگوں کو اسمبلی میں جانے سے روکنا ہے،جس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ” اچھا پھر تو ہماری بھی ان سے ملاقات سے کروایئےگا” دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے این اے 236 سے عالمگیر خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے تماشا لگا رہے ہیں، کس طرح الیکشن کروارہے ہیں،کراچی NA-236 سے عالمگیر خان کے کاغذات نامزدگی ٹربیونل بینچ نے منظور کر لیے.

    حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    جلال پور بھٹیاں: حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغزات نامزدگی منظور ہو گئے، حلقہ PP-37سے محمد آصف چھٹہ کے کاغزات نامزدگی آر او نے مسترد کیے تھے ،لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ سنادیا حلقہ PP-37سے آصف چھٹہ کی اپیل منظورہو گئی،

    پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور
    لاہور ہائیکورٹ اپیلٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور کرلیے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریٹرننگ افسر کے اعتراض مسترد کردئیے،عدالت نے علی امتیاز وڑایچ کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا،

    حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 سے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چنیوٹ کے نوجوان محمد ثاقب خان کے قومی اسمبلی حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کیجانب سے مسترد کرنیکے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے اپیل پر سماعت کے بعد آر او کےاعتراضات ختم کردیئے۔ محمد ثاقب خان کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،محمد ثاقب خان کی طرف سے نامور وکیل میاں اشفاق علی نے الیکشن اپیل کی پیروی کی

    کاغذات نامزدگی مسترد،صنم جاوید کے والد نے لاہور ہائیکورٹ میں کی درخواست دائر
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،صنم جاوید کے والد نے ٹریبونل کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریبونل اور آر او نے قانون کے منافی فیصلہ سنایا ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،
    پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور کے پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،ٹریبونل کے جج جسٹس احمد ندیم نے اپیل منظور کرلی ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے قانون کے منافی کاغذات مسترد کیئے، منظور کئے جائیں،

    اعظم خان نیازی کی پی پی 160 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کرلی گئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ٹریبونل کے جج جسٹس محمد طارق ندیم نے اپیل پر سماعت کی

    فیصل آباد سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر حافظ ممتاز کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورکر لئے گئے،این اے 98 پی ٹی آئی آئی امیدوار حافظ ممتاز احمد کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،شانگلہ سوات سے امیدوار تحریک انصاف عبدالمنعم کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،درخواست گزار وکلاء ایمان مزاری، عطاء اللہ کنڈی اور ہادی چھٹہ عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 68 افراد کو بازیاب کرایا گیا،بازیاب افراد کی لسٹ میڈم ایمان مزاری کے ساتھ شئیر کی گئی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آخری سماعت پر انہوں 28 افراد کی بازیابی کرنے کا کہا تھا،ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک 56 افراد کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے وزارت داخلہ کو متاثرہ لوگوں کے لواحقین سے ملاقات کا کہا تھا،وزارت داخلہ کا متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی،اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پراگریس نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے مطابق 15 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے مطابق 12 لاپتہ ہیں،ایمان مزاری نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ انکو ریلیز کردیا گیا،آج صبح فیروز بلوچ کے فیملی سے بات ہوئی وہ تاحال لاپتہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کردیا یا گھر پہنچایا؟ وفاقی حکومت کا undertaking دینے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں؟کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا،ریاست کے اداروں کو قانون کی پاسداری پر یقین کرنا چاہیے،ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے،ہمارے سامنے پولیس کا ادارہ ریاست کا فرنٹ فیس ہے،

    ایمان مزاری نے سابق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ناروا سلوک کی شکایت کی،اور کہا کہ نگران وزیر داخلہ نے خواتین کو کہا اگر آپ کے پیارے کو مارا گیا تو آپ کو بتا دیں گے،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسکے اداروں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہو گا،ریاست اور اسکے ادارے رول آف لاء کو نہیں مانتے اس لیے جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں،پولیس ریاست کا فرنٹ فیس ہے، دوسرے ادارے فرنٹ فیس نہیں ہیں،کیا مشکل ہے کہ پولیس ایک ضمنی لکھ کر انٹیلی جنس کے افسروں کو ملزم بنا دے گی،وقت آئے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پراسیکیوٹ ہونگے، اگر تھانے پر چھاپہ ماریں اور کوئی بندہ بازیاب ہو تو پولیس والے کی تو نوکری چلی جاتی ہے،دوسری طرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق صورتحال بالکل مختلف ہے،میرے سامنے کوئی مسنگ بلوچ بازیابی کے بعد نہیں آیا جس سے میں سوال کر سکوں؟جو لوگ بازیاب ہوئے پتہ نہیں وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں، انکی صحت کی صورتحال کیا ہوگی،مسنگ پرسنز کا تصور صرف ہمارے جیسے ملکوں میں ہی ملتا ہے باقی ملکوں میں نہیں، آج آپ نہ کریں لیکن ایک وقت میں اعلی ترین عہدیدار بھی پراسیکیوٹ ہونگے،دہشتگردوں کا ٹرائل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوتا ہے،کیا امر مانع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کا ٹرائل بھی انہی عدالتوں میں ہو، بلوچستان میں اپنی انسداد دہشتگردی عدالتیں فعال کریں ٹرائل ہو سکتا ہے،سسٹم پر اعتماد کریں، کیا امر مانع ہے کہ دہشتگرد کا ٹرائل نہ ہو سکے اور وہ بری ہو جائے،یہ درخواست گزار بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دہشتگردوں کو پروٹیکٹ کریں،ریاست کا سپاہی مرتا ہے تو آپ ان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کرتے ہیں،جو لوگ ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں وہ پولیس ہو،فوج ہو یا کوئی بھی شہری ہو،حق سب کا ہے،مغرب میں تو بڑے سےبڑے قاتل کو بھی ضمانت دیتے ہیں یہاں ہم نہیں کرتے،تین تین سال تک ہم ٹرائل مکمل نہیں کرتے،جن لوگوں کا لسٹ آپ نے مہیا کیا، ان میں کتنے لوگ ہیں جن کے خلاف کریمنل کیسسز ہیں؟،اس سائڈ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کے خلاف مقدمہ درج کریں یا کسی عدالت پیش کریں،مسلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے انکو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں،

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ فیملیز کے مطابق سی ٹی ڈی اٹھاتے ہیں اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے،سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو اٹھایا اور عدالتوں میں پیش کیا وہ بری ہوگئے، عدالت نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس قسم کے معاملات کو برداشت نہیں کرسکتا،بلوچستان سے لوگ اسلام آباد آئے ہیں اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے، نیشنل پریس کلب کے باہر اگر یہ بیٹھے ہیں تو انکو سہولیات مہیا کرنا ہوگی،ایمان مزاری نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کے زریعے مظاہرین کو دھمکایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ کیا ہے ؟ ایمان مزاری نے کہا کہ یہ حکومتی سرپرستی میں ایک سکواڈ ہے جو لوگوں کو مارتے ہیں،اٹارنی جنرل نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے دھمکیوں پر آپ درخواست دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ نام سے ہی سمجھ آتا ہے،ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں،ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں،ان نو سالوں میں میرے سامنے ایک بازیاب شخص آیا تھا جس نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے مجھے اٹھایا تھا،ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں آپکی یہ بیان حلفی جمع کرائی گئی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں ہوئی مگر جلد جمع کریں گے،عدالت نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے، ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کررہے ہیں، جن 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں اور آپ نے دیکھنا ہے،

    عدالت نے سمی دین بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟ سمی دین بلوچ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی،کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں انکا کچھ نہیں بتاسکتے،عدالت نے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے انکی معلومات حکومت فراہم کریگی،اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت اپکو معلومات فراہم کریں گی، سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں،ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی،ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے، عدالت نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا، عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات فراہمی کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے، وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز کو بیان حلفی دینا ہو گا کہ جبری گمشدگی کی ہے ، نہ آئندہ ہو گی،جو افراد لاپتہ ہیں چاہے دس سال سے زائد ہوگیا انہیں بتانا پڑے گا، وہ افراد زندہ ہیں یا مر گئے بتانا پڑے گا

    بلوچ خاتون نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں امید دے دیں ورنہ شاید ہم کبھی مڑ کر واپس نہ آئیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزام ہے انہی سے ہم نے کہنا ہے ،بلوچ خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پیاروں سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں مچائیں گے،

    عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت