Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • علامہ مسعود الرحمان عثمانی کی نماز جنازہ  ادا، ٹارگٹ کلنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی

    علامہ مسعود الرحمان عثمانی کی نماز جنازہ ادا، ٹارگٹ کلنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز علامہ مسعود الرحمان عثمانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا، واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے

    سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ علامہ مسعود الرحمان کی گاڑی غوری ٹاؤن سے گزر رہی ہے کہ مین روڈ پر ہی دو موٹر سائیکل سوار آئے اور گاڑی کے آگے بائیک کر اندھا دھند گولیاں چلا دیں، فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے آسانی سے فرار ہوگئے، فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے جب نامعلوم ملزمان گولیاں چلا رہے تھے اس وقت راہگیر بھی موجود تھے جو خوف و ہراس کا شکار ہو گئے اور دور سے فائرنگ کو دیکھتے رہے کسی نے قریب جانے کی کوشش نہیں کیعلامہ مسعود الرحمان عثمانی کو سولہ گولیاں لگی تھیں،

    علامہ مسعود الرحمٰن عثمانی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ، نماز جنازہ آبپارہ چوک میں ادا کی گئی، نماز جنازہ مولانا مسعود الرحمان عثمانی کے بھائی مولانا خلیل نے پڑھائی، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، مولانا مسعود الرحمان عثمان کی نمازجنازہ میں سماجی و سیاسی شخصیات کے علاوہ مولانا محمد احمد لدھیانوی، علامہ اورنگزیب فاروقی،سابق ایم پی اے جھنگ معاویہ اعظم سمیت تینوں مسالک کی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں، کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے غوری ٹائون میں گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے،سنی علما کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مسعود الرحمان عثمانی جاں بحق ہو گئے

    مولانا مسعود الرحمن عثمانی کی نماز جنازہ سے قبل کارکنان نے پارلیمنٹ کے سامنے نماز جنازہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا، گزشتہ روز یہ فیصلہ ہوا تھا کہ نماز جنازہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہو گا تا ہم بعد ازاں نماز جنازہ سیکورٹی کی وجہ سے آبپارہ چوک میں ہی ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا،

    قاتل گرفتار نہ ہوئے تو 12 جنوری کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہو گا، مولانا احمد لدھیانوی
    اس موقع پر علامہ مسعود الرحمان عثمانی کے بیٹے نے جنازے کےشرکاء سے خطاب بھی کیا،علامہ احمد لدھیانوی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہمارے لئے پارلیمنٹ جانا کوئی مشکل نہیں اگر دھرنے کا فیصلہ کرلیا تو تب تک نہیں جائیں گے جب تک حق نہیں لیتے ،10 جنوری ایصارالحق قاسمی کی شہادت کا دن ہے۔12 جنوری جمعہ کے دن ہمیں مسعود الرحمن عثمانی کا قاتل چاہیے،ہمیں بتانا ہوگا کہ ہم نے قاتل کو گرفتار کرلیا ہے اگر قاتل گرفتار نہیں ہوا تو 12 جنوری کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے.

    علامہ اورنگزیب فاروقی نے جنازے کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ دوست کہہ رہے تھے پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں لیکن جس پارلیمنٹ کو تالا لگا ہے اس طرف کیوں جائیں؟ پارلیمنٹ جائیں گے لیکن اعظم طارق کی طرح جائیں گے، یہ فوج پارلیمنٹ اور ملک ہمارا ہے، قائد فیصلہ کریں جو وہ کہیں گے وہی کریں گے،

  • کرونا کا ایک بار پھر خدشہ،ایئرپورٹس پر کرونا کی اسکریننگ دوبارہ شروع

    کرونا کا ایک بار پھر خدشہ،ایئرپورٹس پر کرونا کی اسکریننگ دوبارہ شروع

    ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کرونا کی اسکریننگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے

    سول ایوی ایشن کے مطابق تمام بین الاقوامی فلائیٹس کے دو فیصد مسافروں کی اسکریننگ کے احکامات فوری نافذ العمل ہوں گے، ملک کے بڑے ائرپورٹس پر این سی او سی ہدایات کے بعد مسافروں کی کورونا اسکریننگ بتدریج شروع ہو گئی ہے، ہدایت کے مطابق ہر فلائٹ کے دو فیصد مسافروں کا ٹیسٹ ہوگا،ایئرپورٹس پر دن میں کم سے کم ایک مرتبہ مسافر لاونجز میں فیومیگیشن کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی گئیں، ایئرپورٹس پر عملے کو بارڈر ہیلتھ سروسز اہلکاروں کو ہرممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایات کی گئی ہے

    واضح رہے کہ دنیا میں کرونا کی نئی قسم پھیل رہی ہے، گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں بھی کرونا کی نئی قسم پر سوال اٹھائے گئے جس پر نگران وزیر صحت نے جواب دیا کہ پاکستان میں ابھی تک کرونا کی نئی قسم کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا، کرونا کی نئی قسم کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا ہے،دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب نے کرونا کے نئے ویرینٹ کے کیسز رپورٹ ہونے پر صوبے میں دوبارہ کورونا ٹیسٹنگ شروع کرنے کیلئے مراسلہ جاری کر دیا، محکمہ صحت پنجاب نے ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کو مراسلہ ارسال کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، تمام مشتبہ کیسز کی کورونا ٹیسٹنگ شروع کی جائے

    واضح رہے کہ کرونا وائرس کا نیا ویرینٹ جے این ون کئی ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ اب یہ نیا کورونا ویرینٹ امریکا، بھارت، چین، سنگاپور، برطانیہ، سوئیڈن، فرانس اور کینیڈا سمیت 41 ممالک میں سامنے آ چکا ہے۔جے این ون چار سال قبل عالمگیر وبا کی شکل اختیار کرنے والے سارس کووڈ کا ورژن ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے جے این ون کو ویرینٹ آف انٹریسٹ کا نام دیا ہے۔

    دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

    کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

    کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

    کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

    سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

  • الیکشن التوا کی قرارداد،سیاسی جماعتوں کا ردعمل،الیکشن کمیشن کا مؤقف

    الیکشن التوا کی قرارداد،سیاسی جماعتوں کا ردعمل،الیکشن کمیشن کا مؤقف

    سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد پیش کی گئی جو منظور کر لی گئی

    قرارداد پیش کرتے وقت سینیٹ میں صرف 14 اراکین موجود تھے، قرارداد سینیٹ کے ایجنڈے کا حصہ بھی نہیں تھی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایجنڈا معطل کر کے سینیٹر دلاور خان کو قرارداد لانے کی اجازت دی، عموماً نمازِ جمعہ کے بعد سینیٹ اجلاس نہیں ہوتا، آج ہوا۔ قرارداد 2018میں ن لیگ کے ووٹوں سے سینیٹر بننے والے دلاور خان نے پیش کی، بلوچستان عوامی پارٹی سے منسلک اور فاٹا ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، نواز لیگ کے افنان اللہ، پیپلز پارٹی کے بہرہ مند تنگی، تحریک انصاف کے گردیپ سنگھ نے مخالفت کی۔

    آج سینٹ میں جو ہوا، شرم آنی چاہئیے چئیرمین سینٹ کو،نثار کھوڑو
    پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے بعد بے نظیر بھی عوام میں نکلی اور بے نظیر بھی ہم سے چھین لی گئی,بلاول کہتا ہے میرے ساتھ صرف عوام کے ساتھ ہے کیونکہ وہ مانتا ہے طاقت کا سرچشمہ عوام ہے, تھوڑی سے ببھکی ملی تو لوگ عمران خان کو چھوڑ گئے,نواز شریف مشرف کے دور میں ملک سے بھاگا تو لوگ اسے بھی چھوڑ گئے, آج سینٹ میں جو ہوا، شرم آنی چاہئیے چئیرمین سینٹ کو, صرف 14 لوگ تھے سینٹ میں، کورم 25 لوگوں کا ہوتا ہے, ہم شدید مذمت کرتے ہیں اس قرارداد کی, کئی مسئلے آئے پاکستان میں, لیکن کبھی الیکشن ملتوی نہیں ہوئے, یہ صرف پیپلز پارٹی ہے جو کہہ رہی ہے الیکشن کرواؤ, نواز شریف، عمران خان کوئی نہیں کہہ رہا الیکشن کرواؤ,

    سینیٹر بہرہ مند تنگی کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری
    پیپلزپارٹی نے سینیٹر بہرہ مند تنگی کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ،پیپلز پارٹی نے بہرہ مند تنگی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ،شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ سینٹ نے آج 8 فروری کے انتخابات سے متعلق قرار داد پاس کی ،آپ نے قرارداد کے حق میں تقریر بھی کی ،پیپلز پارٹی انتخابات بروقت چاہتی ہے ، آپ نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کیوں کی ،

    سات آٹھ سینیٹرز کی رائے کو ایوان بالا کی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا،عرفان صدیقی
    مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی کے چئیرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ الیکشن ملتوی کرنے کی نام نہاد قرارداد ،سینیٹ میں موجود کسی جماعت کی نمائندگی نہیں کرتی،100کے ایوان میں سات آٹھ سینیٹرز کی رائے کو ایوان بالا کی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا،مسلم لیگ ن نہ تو اسے سینیٹ کی آواز سمجھتی ہے، نہ ہی انتخابات کا التوا ملکی مفاد میں خیال کرتی ہے

    قرارداد کو پاس کرنے والے تمام سینیٹرز پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے،شیر افضل مروت
    الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد منظور ہونے پر پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں آج آئین کو پامال کیا گیا ہے، آئین میں کوئی شق ہی نہیں کہ انتخابات ملتوی ہوں سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کرنا آئین پر حملہ ہے،اس قرارداد کو پاس کرنے والے تمام سینیٹرز پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے، سینیٹ آئین کے منافی کوئی قرارداد منظور ہی نہیں کرسکتا.

    سینیٹ سے آئین کیخلاف قرارداد منظور کی گئی،بیرسٹر علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ قرارداد پاس کرکے سینیٹ اور پاکستانیوں کاوقار مجروح کیاگیاہے، آئین کہتاہے کہ ملک میں انتخابات 90دن میں کرائے جائیں،آج سینیٹ سے آئین کیخلاف قرارداد منظور کی گئی،سینیٹ میں 8 فروری کو انتخابات کرانے کی قرارداد لائیں گے۔

    الیکشن میں التوا کی قرارداد کی منظوری کے وقت ایوان میں تحریک انصاف کے صرف سینیٹر گردیپ سنگھ سینیٹ میں موجود تھے جنہوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی،بہرہ مند تنگی کا کہنا ہے کہ مجھ سمیت کسی کو پتہ نہیں تھا کہ آج قرارداد پیش کی جا رہی میں نے اور افنان اللہ نے مخالفت کی،

    سینیٹ میں قرارداد کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 8 فروری 2024 کو ہی ہوں گے، سینیٹ کی قرارداد کا الیکشن شیڈول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، سپریم کورٹ کے احکامات کے سوا کوئی احکامات الیکشن شیڈول پر اثر انداز نہیں ہو سکتے

    الیکشن میں ایک روز کی تاریخ بھی پاکستان کیلئےبہت نقصان دہ ہوگی،جاوید لطیف
    سابق وفاقی وزیر، مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ سینیٹ سے قرارداد کے ذریعے الیکشن ملتوی کرانے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی نہ ہی اس قرارداد کی کوئی اہمیت ہے۔الیکشن میں ایک روز کی تاریخ بھی پاکستان کیلئےبہت نقصان دہ ہوگی ، پاکستان کےساتھ پہلے ہی بہت کھلواڑ ہوچکا معاشی تباہی اور بربادی ہوچکی ملک مزید کسی ایڈونچرکا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    بےنظیر کی شہادت کے بعد بھی ملک میں الیکشن ہوئے،التوا نہیں چاہتے، شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی رہنما، سابق وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں منظور ہونے والی قرار داد پر پیپلز پارٹی ارکان کےدستخط نہیں ہیں،نہیں چاہتے الیکشن ملتوی کرنےکی کسی قرارداد میں ہماری آواز شامل ہوں،سینیٹ کی ویڈیو دیکھ کربہرہ مند تنگی سے وضاحت لیں گے،ہم وقت پر الیکشن چاہتے ہیں،بےنظیر کی شہادت کے بعد بھی ملک میں الیکشن ہوئے،دہشت گردی کا سب سے بڑاہدف پیپلز پارٹی رہی ہے،پیپلز پارٹی وقت پر الیکشن چاہتی ہے، ہماری انتخابی مہم جاری ہے،ہم نے وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار کا بھی اعلان کر دیا ہے،بلاول ہمارے وزیراعظم ہوں گے،سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ آ چکا ہے، ملک میں کوئی غیر یقینی کی کیفیت نہیں ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جمہوری عمل کے لیے الیکشن کے ساتھ مزید آگے بڑھیں

    الیکشن التوا سے متعلق سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد آئین سے بغاوت ہے،شہادت اعوان
    پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ الیکشن التوا سے متعلق سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد آئین سے بغاوت ہے، الیکشن کا التوا وہ چاہتے ہیں جنہیں اپنی ہار صاف نظر آرہی ہے،ہم ہر صورت الیکشن چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی کسی صورت الیکشن کا التوا نہیں چاہتی ہے، یہ موٹیویٹڈ موو تھا یہ سازش تھی الیکشن ہر صورت بر وقت ہونے چاہئیں،یہ سب پلان کے تحت ہوا، آج آرڈر آف دا ڈے میں یہ بات شامل نہیں تھی، پیپلز پارٹی الیکشن کے لئے مکمل تیار ہے

    چیئرمین سینیٹ نے آج سازشی کردار ادا کرکے سینیٹ کو سازش کا گڑھ بنا دیا،تاج حیدر
    پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ نے آج سازشی کردار ادا کرکے سینیٹ کو سازش کا گڑھ بنا دیا، سینیٹ میں پاس کی گئی قرارداد جمہوریت کے خلاف سازش ہے، قرارداد کی صورت میں اسرائیل کی طرح سینیٹ پر بم گرایا گیا ہے، سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد ایجنڈے میں شامل نہیں تھی، قرارداد کے خلاف سینیٹ میں قرارداد پیش کرکے اس قرارداد کو رد کروایا جائے گا،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • اسلام آباد میں فائرنگ،علامہ مسعود الرحمان عثمانی جاں بحق

    اسلام آباد میں فائرنگ،علامہ مسعود الرحمان عثمانی جاں بحق

    اسلام آباد کے علاقے غوری ٹائون میں گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے،سنی علما کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مسعود الرحمان عثمانی جاں بحق ہو گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے،فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی جو جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے پولیس حکام کے مطابق مولانا زخمی ہوئے انکو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ انکی موت ہو گئی

    اسلام آباد میں گولیاں چل گئیں، مذہبی رہنما کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا، فائرنگ کا واقعہ تھانہ کھنہ کی حدود میں غوری ٹاؤن میں پیش آیا، موٹر سائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہوگئے،واقعہ میں مولانا کا ڈرائیور زخمی ہوا، پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا جا رہا ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سنی علماء کونسل پاکستان علامہ مسعود الرحمٰن عثمانی کی نماز جنازہ کل بروز ہفتہ دن دو بجے ادا کی جائے گی، مسعود الرحمان عثمانی کی نماز جنازہ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے ادا کی جاۓ گی

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سنی علما کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مسعود الرحمان عثمانی پر ہونے والے جان لیوا حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے جان لیوا حملے کے نتیجے میں ان کی شہادت پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں سکتے۔ دہشتگرد امن اور انسانیت کے دْشمن ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں علامہ مسعود الرحمان عثمانی اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے اللہ تعالیٰ سے مرحوم کے بلندی درجات اور سوگواران کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی،قائد ایوان سینیٹ سینیٹر اسحاق ڈار، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی سنی علما کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مسعود الرحمان عثمانی پر جان لیوا حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے علامہ مسعو د الرحمان عثمانی کی شہادت پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا کرے.آمین

    حکومت علماء کو فوری طورپر تحفظ فراہم کرے،مولانا زاہد محمود قاسمی
    سنی علماء کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا مسعود الرحمن عثمانی پر قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہیں ملزمان کو فوری طور پر گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے نگران حکومت ملک میں قیام امن برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے آئے روز ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں حکومت علماء کو فوری طورپر تحفظ فراہم کرے امن و امان کا قیام اور عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شاہ نواز فاروقی نے مولانا مسعود الرحمن عثمانی ؒپر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک جید عالم دین کی قیمتی جان سے محروم ہو گئے مولانا مسعود الرحمن عثمانی کی تحفظ ناموس صحابہؓ و اہل بیت ؓ کیلئے خدمات قابل قدر ہیں دہشت گردوں نے ان پر وار کرکے ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی سازش کی ہے مقتدرعلماء پر قاتلانہ حملے گہری سازش کے تحت کئے جارہے ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ممتاز عالم دین کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتارکیا جائے اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مولانامسعود الرحمن عثمانی کا قتل کھلی دہشت گردی ہے علماء کرام کا قتل عام اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے

    علامہ مسعود الرحمان عثمانی پر حملہ امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے،راجہ پرویز اشرف
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سنی علما کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مسعود الرحمان عثمانی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے،اسپیکر نے قاتلانہ حملے کے نتیجے میں علامہ مسعود الرحمان عثمانی کے جانی نقصان پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ علامہ مسعود الرحمان عثمانی پر حملہ گھناؤنا فعل اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، علامہ مسعود الرحمان عثمانی پر حملہ امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے، غم اور دکھ کی اس گھڑی میں علامہ مسعود الرحمان عثمانی اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں،

  • قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کئے گئے ہیں، وہ حقیقی ہیں، مرتضیٰ سولنگی

    قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کئے گئے ہیں، وہ حقیقی ہیں، مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان بالا میں الیکشن کے التواءکی قرارداد میں دلائل دینے کا موقع نہیں ملا،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم یا کابینہ کی طرف سے الیکشن کی تاخیر کے حوالے سے کوئی حکم موجود نہیں تھا،آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کرانا، الیکشن کی تاریخ دینا یا تبدیل کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،ہم کسی آئینی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے، قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کئے گئے ہیں، وہ حقیقی مسائل ہیں، پاکستان کی پارلیمانی سیاست اور انتخابات کی تاریخ میں یہ مسائل پہلے بھی موجود رہے ہیں، سیکورٹی کی فراہمی سمیت موسم اور دیگر مسائل کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ابھی تک کسی حلقے کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا جس میں واضح پیغام ہو کہ انتخابات نہیں ہونے چاہئیں،الیکشن کے التواء یا انعقاد کا آئینی اختیار صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہے،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • کرکٹ ذکا اشرف کی "ہابی” پھر پی سی بی چیئرمین کیوں بنایا گیا؟ سینیٹ میں سوال

    کرکٹ ذکا اشرف کی "ہابی” پھر پی سی بی چیئرمین کیوں بنایا گیا؟ سینیٹ میں سوال

    چئرمین پی سی بی ذکا اشرف کی آڈیو اور انکی تقرری بارے سینیٹ میں بحث ہوئی

    چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں،سینیٹ کے اجلاس میں وزارتِ بین الاصوبائی رابطہ نے اس ضمن میں تحریری جواب پیش کر دیا، تحریری جواب میں کہا گیا کہ ذکاء اشرف ایک معروف بزنس مین ہیں اور اس وقت چیئرمین پی سی بی ہیں،ذکاء اشرف اس وقت چیئرمین اشرف گروپ آف انڈسٹریز ہیں،ذکاء اشرف اس وقت چیئرمین شوگر ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ اور ممبر چیف منسٹر پنجاب ایگریکلچر ٹاسک فورس ہیں، ذکاء اشرف کے تجربے میں چیئرمین پی سی بی اور چیئرمین ایشین کرکٹ کونسل ڈیولپمنٹ کمیٹی ہے، ذکاء اشرف کے مشغلے میں کرکٹ، زراعت،ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ہے

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا، ہماری اولمپکس اور ہاکی کی بھی تباہی ہو چکی ہے،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

     ٹی ٹونٹی کو ختم کرنا ہوگا،ٹی ٹونٹی سے پیسہ بن سکتا ہے پلیئرز نہیں

    چئیرمین پی سی بی ذکا اشرف کی آسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات 

    پاکستانی کھلاڑی طلحہ کے کنٹرول میں،ذکا اشرف کی آڈیو لیک

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی، جس وقت قرارداد پیش کی گئی اسوقت سینیٹ میں چودہ اراکین موجود تھے،ن لیگی سینیٹر افنان اللہ خان نے قرارداد کی مخالفت کردی، قرارداد کی منظوری کے وقت پی پی کے بہرمند تنگی،پی ٹی آئی کےا گردیپ سنگھ، ن لیگ کے افنان اللہ ،مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا ودیگر ایوان میں موجود تھے،آزاد گروپ کےدلاور خان،ہدایت،اللہ ہلال الرحمن ،باپ کےمنظور کاکڑ،ثمینہ زہری، احمد خان، ثناء جمالی کہودہ بابر،پرنس احمد عمر،نصیب اللہ بازائی ایوان میں موجود تھے

    سینیٹر دلاور خان نے اس موقع پر کہا کہ میں نے ایک بل سینیٹ سیکریٹریٹ کو ایک بل دیا ہوا ہےمیں ایک قرارداد پیش کرنا چاہتا ہوں,الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے شفاف الیکشن کروائےالیکشن کمیشن کا کام ہے کہ الیکشن میں اچھا ٹرن آؤٹ ہوسیاسی جماعتیں کی لیڈرشپ پر حملے کئے جارہے ہیں,مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری ہورہے ہیں,یہ تھریٹ الرٹ مختلف ایجنسیز نے جاری کئے8 فروری کو ہونے والے الیکشن ملتوی کئے جائیں,

    ایوان میں وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مخالفت کی تو قراداد دوبارہ پیش کی گئی جس پر سینیٹر افنان اللہ،سینیٹر گردیپ سنگھ نے مخالفت کی باقی سب نے حمایت کی ،پہلی بار صرف افنان اللہ نے مخالفت کی تھی

    سینیٹ اجلاس کے آغاز پر سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی مغفرت کیلئے دعا کرائی گئی،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعائے مغفرت کرائی،سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ سرتاج عزیر کی ملک کیلئے وسیع خدمات رہی ہیں، مرحوم تعلیم،معشیت اور زرعی حوالے سے ماہر تھے، سرتاج عزیز نے فاٹا مرجر متعلق قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا،مرحوم محب وطن پاکستانی اور آخری دم تک پاکستان کی بہتری کیلئے کوشاں رہے، ایوان بالا کی طرف سے تعزیت کا خط انکے خاندان کو جانا چاہیے،

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

    آئن لائن کھیلوں میں جوئے کےسائٹس اور کرکٹ میچوں میں جوئے کیلئے پاکستانیوں کا استعمال پر سینیٹ میں تحریری جواب جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ ویب سائٹس بعض غیرملکیوں کی جانب سے کنٹرول کیے جاتے ہیں،پلیٹ فارمز پاکستان میں خدمات کی پیشکش تو نہیں کررہے

    سعودی عرب سے رہا قیدیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے 4 ہزار 130 پاکستانی قیدی رہا ہوئے،وزارت خارجہ نے تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں، وزارت خارجہ نے تحریری جواب میں کہا کہ اکتوبر 2019 کے بعد سے اب تک 4130 پاکستانی سعودی عرب سے رہا ہوئے ہیں، سال 2019 میں 545, 2020 میں 892, 2021 میں 916 پاکستانی، 2022 میں 1331 اور سال 2023 میں 447 پاکستانی قیدی سعودی عرب سے رہا ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ رہائی پانے والوں میں سے کتنے سعودی حکومت کی اعلان کردہ نرمی کی وجہ سے رہا ہوئے ہیں.

    ادویات کی قیمتوں‌میں اضافہ، سینیٹ میں بحث،ہم نے اضافہ نہیں کیا، نگران وزیر صحت
    سینیٹ اجلاس میں ادویات کی قلت ،قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق بات کی،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،صرف مرگی کی دوا کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ہے مجھے پتہ ہوتا تو ادویات ساتھ لے آتا، نگران وزیر صحت ندیم جان نے ایوان میں کہا کہ ” ہماری حکومت میں سات پیسے دوا مہنگی نہیں ہوئی یہ اضافہ سی پی آئی پالیسی کے تحت اضافہ ہوا ہے ہم نے خود نہیں کیا، اگر کوئی ثبوت آپکے پاس ہے تو لے آئیں دس سے پندرہ قسم کی دوا متعلق ڈریپ نے بتایا کہ فارما کو نقصان ہورہا ہے ہم نے ڈریپ کو کہا ہے فارما سے بات کریں، آئن لائن سروس اور پورٹل سروس سے مانیٹرنگ ہورہی ہےاب تک 77 شکایات درج ہوئیں جس پر ایکشن ہوا ہم روزانہ کی بنیاد پرذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی پر کارروائی کررہے ہیں”

    سینیٹر بہرامند تنگی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، بہت سی اہم ادویات کافی مہنگی ہوگئی ہیں، اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے،سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ ادویات مہنگی ہونے کے باوجود صحت حکام کو پتہ تک نہیں بتایا جائے اسپتال کی مد میں کتنی ادویات جارہی ہیں اور کتنے کی خریدی جارہی ہیں؟ نگران وزیرصحت ندیم جان نے کہا کہ ادویات کی شارٹیج ہے لیکن اتنا نہیں کہ کنٹرول نہ ہوسکے، ہم ادویات کو دیکھ رہے ہیں آپ بھی ہماری آواز بنیں،سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ کہا گیا عالمی ادارہ صحت اور یونیسف ہمیں فنڈز نہیں دیتے،کیا آپکے کہنے پر وہ فنڈز دیتے ہیں؟ ضروریات کیا آپ بتاتے ہیں؟نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ہم انہیں اپنی ضروریات بتاتے رہتے ہیں، جسے وہ اپنے اسٹاک سے مہیا کرتے ہیں، ہمارا سسٹم بہت کمزور ہے اس پر سرمایہ کاری ہونی چاہیے،سینیٹر بہرامند تنگی نے کہا کہ غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام متعلق کیا حکمت عملی ہے؟ اگر سب بہترین وسائل موجود ہیں تو ملک میں ایک نمبر دو نمبر نہیں بارہ نمبر ادویات کیوں ہیں؟ نگران وزیر صحت ندیم جان کا کہنا تھاکہ 262 دوائیاں آئیں کہ ان کی قیمت بڑھائیں،لیکن ہمیں عوام کی قوت خرید کا پتہ ہے، ہماری پالیسی کے مطابق دوائی مہنگی نہیں ہوئی، 2018 میں پالیسی بنی کہ فارما کمپنی سات فیصد اور دس فیصد تک قیمتیں بڑھا سکتی ہیں پھر 2021 میں اس کو بڑھایا گیا، سی پی آئی کے تناظر میں قیمتیں بڑھیں ، اسکے علاوہ اگر کوئی اضافہ ہوا تو سامنے لائیں،ہم ایکشن لیں گے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے پمز اور پولی کلینک میں ادویات کی قلت کا معاملہ اٹھادیا، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت ادویات کی قلت کو کیوں ختم نہیں کر رہی،وزارت صحت نے تحریری جواب میں کہا کہ پمز کو چند ادویات کی کمی کا سامنا ہے، ایک تو بجٹ کم ہونے کے باعث ادائیگی کے مسائل کی بابت ادویات کی قلت ہے، دوسرا مہنگائی کے باعث طلب اور رسد میں غیر مطابقت واقع ہو جاتی ہے، پمز کے ساتھ ساتھ پولی کلینک ہسپتال میں بھی بعض ادویات کی قلت کا انکشاف سامنے آیا ہے،پولی کلینک ہسپتال میں اینٹی ریبیز کی ویکسینیشن بھی دستیاب نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا، سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پمز کے حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مرگی کی دوائی آٹھ دس مہینے سے مارکیٹ میں نہیں ہے،

    کرونا کی نئی قسم، سینیٹ میں سوال،ابھی کوئی کیس پاکستان میں نہیں، جواب
    سینیٹر محسن عزیز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ پاکستان میں کوئی نئی قسم کا کورونا آیا ہے، کیا یہ سچ ہے اور اس کے لئے حکومت کیجانب سے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں؟ جس پر نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی کورونا کا نیا کیس پاکستان میں نہیں آیا، ہم اس معاملے پر ریڈ الرٹ پر ہیں، ہم نے تین مرتبہ ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ پیمرا سے گزارش ہے کہ ایڈوائزری کو چلائیں، ایڈوائزری میں واضح کہا ہے کہ کوئی نیا کیس نہیں آیا تاہم احتیاط کی جائے.

    یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے
    سینیٹ میں یوریا کھاد کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ کہ زراعت ہماری معیشت کا ایک چوتھائی ہے ،ہم جتنے منصوبے بنارہے ہیں وہ زراعت کے بغیر نہیں چل سکتے ،دولاکھ بیس ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کی گئی ہے ،یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے ،باہر سے کھاد منگوانے کا فیصلہ لیٹ کیا گیا جس کی وجہ سے کھاد مہنگی ہوئی ہے ،صوبوں کو یوریا کھاد کی سپلائی بڑھائی ہے،مافیاز کے خلاف ایف آئی آر ز کا اندراج بھی کروائے ہیں ،یوریاد کھاد کی قیمت چار ہزار روپے ہے

    سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گلوبلی ہمارا سوشل سیکٹر پر بہت کم خرچ ہے، تمام صوبوں کی یہاں نمائندگی ہے، صوبوں کے وسائل ان کے پاس ہیں،کہاجاتا ہے وزیراعظم ہونے سے بہتر ہے صوبے میں چیف منسٹر ہوں،صوبے مل کر وفاقی حکومت کے ساتھ طے کریں کہ صحت اور تعلیم پر خرچ میں کئی گنا اضافہ ہونا چاہئے،

    حماس کے ترجمان خالد قدومی سینیٹ اجلاس کے دوران گیلری میں موجود تھے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہمیں فلسطینی بھائیوں پر فخر ہے، پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کرتا ہے،پاکستانی عوام فلسطین کے ساتھ ہیں، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیل کسی بین الاقوامی قانون کو خاطر میں نہیں لاتا،او آئی سی اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرے، او آئی اسی پبلک ہیئرنگ کرے،امریکہ نے اسرائیل کو سپورٹ دی ہے، عالمی برادری اس کا نوٹس لے

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عمران خان کے الزامات بے بنیاد،کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،امریکہ

    عمران خان کے الزامات بے بنیاد،کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،امریکہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ عمران کے الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا پاکستان میں کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتا

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا صحافی کے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کی قیادت کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے،امریکا پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی کسی ایک امیدوار یا پارٹی کو اہمیت نہیں دیتا، امریکا کی دلچسپی جمہوری عمل میں ہے،عمران خان کے الزامات بے بنیاد ہیں امریکا چاہتا ہے انتخابات پاکستانی قوانین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ ہوں،امریکا پاکستان کو نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات کیسے کروائے، پاکستان میں جمہوری اظہار اور متحرک جمہوریت کی حمایت جاری رکھیں گے

    واضح رہے کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے صحافی نے سوال کیا تھا کہ ایسے ملک میں لوگ حکومت کیسے منتخب کر سکتے ہیں کہ جس کو وہ ووٹ دینا چاہتے ہوں وہ بیلٹ پیپر پر ہی نہ ہو؟

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے‌ حوالہ سے سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے، رپورٹ میں پاکستان کا نام خاص تشویش والے ممالک میں‌شامل کیا گیا ہے،فہرست میں روس، چین، ایران، سعودی عرب، الجزائر، آذربائیجان، وسطی افریقی، کوموروس اور ویتنام بھی شامل ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہےکہ حکومتوں کو مذہبی اقلیتی برادریوں کے ارکان اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کو ختم کرنا چاہیے.

  • تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بینچ کا حصہ ہیں،عدالتی کاروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے، ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آچکا ہو، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا،کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی،کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

    ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں،ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں،آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں،کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے، اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے،اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے،کیا سزا تاحیات ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے،آئین کو آسان کریں،آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں،اگر کوئی سونا چند گرام لکھوایا تو کیا ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہونگے؟
    مدت پانچ سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاون کرسکتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232تین کو اسطرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا پانچ سال ہوگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں، اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا زکر نہیں ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی،

    پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں آپکا کیا خیال ہے ، جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وہاں ڈکلیریشن نہیں تھا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پارلیمنٹ نے نا اہلی کی مدت طے کرائی تو یہ سوال تو اکیڈمک سوال ہوا کہ نا اہلی کی مدت کیا ہو گی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو کالعدم قرار دیں تو سزا کتنی ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5 سال ہو گی ، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا گیا تھا؟ ریکارڈ منگوا لیں , جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 232 دو عدالتی معاون کے مطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے ، سیکشن 232 تین چیلنج ہی نہیں ، امریکہ میں قانون کالعدم ہو تو کانگرس نیا قانون بنا لیتی ہے، امریکی کانگرس اپنی عدالت کو قائل کرتی ہے کہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، سربراہ پی ٹی آئی کو نا اہل نہیں کیا گیا ،شکیل اعوان، خواجہ آصف، شیخ رشید کیسز دیکھیں تو تا حیات نا اہلی کا فیصلہ لکھنے والے جج آہستہ آہستہ مؤقف بدلتے رہے ،

    نواز شریف کا نام لینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لیں،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی فیس نہ ملی ہو
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایسی کوئی مثال ہے سمیع اللہ بلوچ کے بعد کیس کو تا حیات نا اہل کیا گیا ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ڈکلیریشن کو ختم کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ثناء اللہ بلوچ کے لیے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں کچھ کہا گیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لینا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تنخواہ لینے کا سہارا لے کر نا اہلی کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بات نا کریں جو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی اسے فیس نہ ملی ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک ہر شخص کی صادق اور امین ہوگا، ایک دو غلطیوں سے کسی کو بے ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر کوئی غلطی ہو بھی تو پانچ سال کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایسا کوئی ڈیکلریشن آج تک نہیں آیا کہ کوئی صادق اور امین نہ ہو، جرائم پیشہ افراد کو ایماندار اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، نااہلی کا ڈیکلریشن شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتیں،

    تاحیات نااہلی کیس، وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز، اٹارنی جنرل کے دلائل
    دوبارہ وقفے کے بعد سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے 2015 کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا، سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لا کے سوال کا جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگر یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ آف لاء سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پر سوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہو گا،عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے،عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کر چکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کر دیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا،سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے ابھی ہم نے پہلی رکاوٹ ہی عبور نہیں کی، ڈیکلیریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا یہ ہم کیسے طے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے طے کر دی ہے پانچ سال کی مدت، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے صرف نااہلی کی مدت کا تعین کیا ہے،نااہلی کی ڈکلئیریشن اور طریقہ کار کا تعین ابھی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور صاحب اس کا جواب یہ دیں کہ پارلیمنٹ آئندہ یہ بھی طے کر لے گی،عدالتیں قانون نہیں بناتیں، عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتا ہے کہ قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں، آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،جس کو چاہیں نااہل کردیں ،صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں، مبشر حسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا، آج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے

    تاحیات نااہلی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خوش آمدید،کب سے انتظار کر رہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں،تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی، جسٹس مندوخیل نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم تو آج کل دیر ہی کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائیگا،ممکنہ طور پر آج فیصلہ نہیں سنایا جائیگا،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • نو لاکھ میں سے 5لاکھ79 ہزار191 انتخابی  عملے کی ضروری تربیت مکمل

    نو لاکھ میں سے 5لاکھ79 ہزار191 انتخابی عملے کی ضروری تربیت مکمل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2024 کے لیے انتخابی عملے کی ترجیحی بنیادوں پر تربیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تک 5لاکھ79 ہزار191 افراد کی ضروری تربیت مکمل ہو چکی ہے جبکہ بقیہ 4 لاکھ 62 ہزار 222 افراد کی تربیت یکم فروری2024 تک مکمل ہو جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں تعینات ہونے والے 9 لاکھ 854 ہزار 413 نفوس پر مشتمل انتخابی عملہ کی تربیت کا آغاز نومبر2023 کے آخری ہفتہ میں کیا۔انتخابی عملہ میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران، پریذائڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریذائڈنگ افسران اور دیگر انتخابی عملہ شامل ہے۔تربیتی پروگرام کے دوران غیر حاضر رہنے والے عملہ کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے لہذا عام انتخابات کے دوران انتخابی ذمہ داریاں تفویض کیے جانے والے تمام سرکاری ملازمین کو تربیتی نشسستوں میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی خصوصی ہدایات پر مرکزی کنٹرول روم 26 دسمبر 2023 سے مکمل فعال ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر موصولہ شکایات کا ازالہ کر رہا ہے۔مرکزی کنٹرول روم میں اب تک 45 شکایات موصول ہوئیں اور ان تمام کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم مرکزی شکایت سیل میں آنے والی 165 شکایات پر فوری کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور تمام شکایات کا ازالہ ہو چکا ہے۔ مرکزی کنٹرول روم کے ما تحت 180 کنٹرول روم صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر بھی فعال کر دیے گئے ہیں جو انتخابات کی نگرانی اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مرکزی کنٹرول روم کی معاونت کر رہے ہیں۔

    ملک بھر کے تمام اضلاع میں تعینات مانیٹرنگ ٹیمیں بھی متحرک ہو گئی ہیں جو امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے تمام تشہیری مواد کو روزانہ کی بنیادوں پر ہٹانے میں مصروف ہیں۔ مذید برآں اب تک ضابطہ اخلاق کی دیگر خلاف ورزیوں پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز کی جانب سے نوٹسز بھی جاری کیے جارہے ہیں جن پر انکوائری کے بعد قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ