Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے یا مسترد ہونے پر الیکشن ٹریبونل میں فیصلوں کا آخری روزہے۔ ریٹرننگ افسران امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست کل جاری کریں گے ،12جنوری کو امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے،12جنوری کو ہی امیدواروان کی حتمی فہرست جاری کردی جاۓ گی،13جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے جائیں گے

    این اے 130 ، نواز شریف کے خلاف اپیل خارج،کاغذات نامزدگی درست قرار
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کردی گئی،الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنادیا اور نواز شریف کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے،نواز شریف کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی کے خلاف الیکشن اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا گیا،نواز شریف کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ اقامہ میں نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف الیکشن لڑنے کے اہل نہ تھے،آر او نے غیر قانونی انکے کاغذات نامزدگی منظور کیے،

    کاغذات نامزدگی،مریم کیخلاف اپیل خارج، جمشید چیمہ،مسرت جمشید کے کاغذات منظور،رانا ثناء اللہ کے مد مقابل پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات مسترد
    فیصل اباد سے سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے مدمقابل امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹر نثار جٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،اوکاڑہ: پی پی190 سے مہر عبدالستار کی بیگم شاہرہ بی بی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پی پی 190 سے رہنما پاکستان تحریک انصاف مہر عبدالستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    مریم نواز کے حلقہ این اے 119سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیدیئے ،پی ٹی آئی امیدوار ندیم شیروانی نے مریم نواز کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل دائر کی تھی

    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ ،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ایڈووکیٹ آصف شہزاد ساہی امیدوار کی طرف سے پیش ہوئے،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ نے این اے 121 اور پی پی 153 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،
    دونوں میاں بیوی پر اشتہاری ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا

    پرویز الٰہی کے 4صوبائی اور دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،پرویز الٰہی کے این اے 64گجرات، پی پی32,34, این اے69منڈی بہاوالدین ، پی پی42منڈی ، این اے59تلہ گنگ، پی پی23 تلہ گنگ سے کاغذات مسترد ہوئے تھے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنایا،مونس الہٰٗی کے دوقومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج ہو گئی،مونس الہی کے این اے64گجرات،پی پی32,34 این اے69منڈی بہاوالدین کاغذات مسترد ہوئے تھے

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
    حماد اظہر نے ٹرببونل کے فیصلے کے خلاف درخواست داٸر کر دی ، درخواست میں کہا کہ ریٹرننگ افسر اور ٹریبونل نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے ،قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود کاغذات مسترد کیے گئے،عدالت کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے ، حماد اظہر نے حلقہ این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،

    ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات پی پی 56 سے منظور
    لاہور ہائیکورٹ: ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن ایپلیٹ بنچ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،ایپلیٹ بنچ نے حلقہ پی پی 56 نارووال سے مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے.

    کاغذات نامزدگی مسترد،شاہ محمود قریشی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری ہائیکورٹ میں چیلنج کردی، شاہ محمود قریشی کے پی پی 218، این اے 151 اور 150 سے کاغذات مسترد کیے گئے تھے،شاہ محمود قریشی نے تین حلقوں سے کاغذات مسترد کیے جانے کے اقدام پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ شاہ محمود کی درخواست پر سماعت کرے گا

    صدر عارف علوی کے بیٹے سمیت تحریک انصاف کے 4 امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت
    سندھ ہائیکورٹ، این اے 241 سے تین پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنادیا،عدالت نے خرم شیر زمان،مزمل اسلم اور اواب علوی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ،اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی اعتراض کنندہ کے اعتراضات مسترد کردئیے تھے ،تینوں امیدواروں کے خلاف محمد دوست نے درخواستیں دائر کررکھی تھیں، دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار محمد دوست کون ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دوست محمد محب وطن پاکستانی ہے، ان کا مقصد کرپٹ لوگوں کو اسمبلی میں جانے سے روکنا ہے،جس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ” اچھا پھر تو ہماری بھی ان سے ملاقات سے کروایئےگا” دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے این اے 236 سے عالمگیر خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے تماشا لگا رہے ہیں، کس طرح الیکشن کروارہے ہیں،کراچی NA-236 سے عالمگیر خان کے کاغذات نامزدگی ٹربیونل بینچ نے منظور کر لیے.

    حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    جلال پور بھٹیاں: حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغزات نامزدگی منظور ہو گئے، حلقہ PP-37سے محمد آصف چھٹہ کے کاغزات نامزدگی آر او نے مسترد کیے تھے ،لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ سنادیا حلقہ PP-37سے آصف چھٹہ کی اپیل منظورہو گئی،

    پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور
    لاہور ہائیکورٹ اپیلٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور کرلیے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریٹرننگ افسر کے اعتراض مسترد کردئیے،عدالت نے علی امتیاز وڑایچ کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا،

    حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 سے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چنیوٹ کے نوجوان محمد ثاقب خان کے قومی اسمبلی حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کیجانب سے مسترد کرنیکے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے اپیل پر سماعت کے بعد آر او کےاعتراضات ختم کردیئے۔ محمد ثاقب خان کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،محمد ثاقب خان کی طرف سے نامور وکیل میاں اشفاق علی نے الیکشن اپیل کی پیروی کی

    کاغذات نامزدگی مسترد،صنم جاوید کے والد نے لاہور ہائیکورٹ میں کی درخواست دائر
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،صنم جاوید کے والد نے ٹریبونل کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریبونل اور آر او نے قانون کے منافی فیصلہ سنایا ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،
    پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور کے پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،ٹریبونل کے جج جسٹس احمد ندیم نے اپیل منظور کرلی ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے قانون کے منافی کاغذات مسترد کیئے، منظور کئے جائیں،

    اعظم خان نیازی کی پی پی 160 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کرلی گئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ٹریبونل کے جج جسٹس محمد طارق ندیم نے اپیل پر سماعت کی

    فیصل آباد سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر حافظ ممتاز کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورکر لئے گئے،این اے 98 پی ٹی آئی آئی امیدوار حافظ ممتاز احمد کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،شانگلہ سوات سے امیدوار تحریک انصاف عبدالمنعم کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،درخواست گزار وکلاء ایمان مزاری، عطاء اللہ کنڈی اور ہادی چھٹہ عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 68 افراد کو بازیاب کرایا گیا،بازیاب افراد کی لسٹ میڈم ایمان مزاری کے ساتھ شئیر کی گئی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آخری سماعت پر انہوں 28 افراد کی بازیابی کرنے کا کہا تھا،ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک 56 افراد کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے وزارت داخلہ کو متاثرہ لوگوں کے لواحقین سے ملاقات کا کہا تھا،وزارت داخلہ کا متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی،اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پراگریس نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے مطابق 15 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے مطابق 12 لاپتہ ہیں،ایمان مزاری نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ انکو ریلیز کردیا گیا،آج صبح فیروز بلوچ کے فیملی سے بات ہوئی وہ تاحال لاپتہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کردیا یا گھر پہنچایا؟ وفاقی حکومت کا undertaking دینے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں؟کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا،ریاست کے اداروں کو قانون کی پاسداری پر یقین کرنا چاہیے،ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے،ہمارے سامنے پولیس کا ادارہ ریاست کا فرنٹ فیس ہے،

    ایمان مزاری نے سابق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ناروا سلوک کی شکایت کی،اور کہا کہ نگران وزیر داخلہ نے خواتین کو کہا اگر آپ کے پیارے کو مارا گیا تو آپ کو بتا دیں گے،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسکے اداروں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہو گا،ریاست اور اسکے ادارے رول آف لاء کو نہیں مانتے اس لیے جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں،پولیس ریاست کا فرنٹ فیس ہے، دوسرے ادارے فرنٹ فیس نہیں ہیں،کیا مشکل ہے کہ پولیس ایک ضمنی لکھ کر انٹیلی جنس کے افسروں کو ملزم بنا دے گی،وقت آئے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پراسیکیوٹ ہونگے، اگر تھانے پر چھاپہ ماریں اور کوئی بندہ بازیاب ہو تو پولیس والے کی تو نوکری چلی جاتی ہے،دوسری طرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق صورتحال بالکل مختلف ہے،میرے سامنے کوئی مسنگ بلوچ بازیابی کے بعد نہیں آیا جس سے میں سوال کر سکوں؟جو لوگ بازیاب ہوئے پتہ نہیں وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں، انکی صحت کی صورتحال کیا ہوگی،مسنگ پرسنز کا تصور صرف ہمارے جیسے ملکوں میں ہی ملتا ہے باقی ملکوں میں نہیں، آج آپ نہ کریں لیکن ایک وقت میں اعلی ترین عہدیدار بھی پراسیکیوٹ ہونگے،دہشتگردوں کا ٹرائل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوتا ہے،کیا امر مانع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کا ٹرائل بھی انہی عدالتوں میں ہو، بلوچستان میں اپنی انسداد دہشتگردی عدالتیں فعال کریں ٹرائل ہو سکتا ہے،سسٹم پر اعتماد کریں، کیا امر مانع ہے کہ دہشتگرد کا ٹرائل نہ ہو سکے اور وہ بری ہو جائے،یہ درخواست گزار بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دہشتگردوں کو پروٹیکٹ کریں،ریاست کا سپاہی مرتا ہے تو آپ ان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کرتے ہیں،جو لوگ ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں وہ پولیس ہو،فوج ہو یا کوئی بھی شہری ہو،حق سب کا ہے،مغرب میں تو بڑے سےبڑے قاتل کو بھی ضمانت دیتے ہیں یہاں ہم نہیں کرتے،تین تین سال تک ہم ٹرائل مکمل نہیں کرتے،جن لوگوں کا لسٹ آپ نے مہیا کیا، ان میں کتنے لوگ ہیں جن کے خلاف کریمنل کیسسز ہیں؟،اس سائڈ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کے خلاف مقدمہ درج کریں یا کسی عدالت پیش کریں،مسلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے انکو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں،

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ فیملیز کے مطابق سی ٹی ڈی اٹھاتے ہیں اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے،سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو اٹھایا اور عدالتوں میں پیش کیا وہ بری ہوگئے، عدالت نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس قسم کے معاملات کو برداشت نہیں کرسکتا،بلوچستان سے لوگ اسلام آباد آئے ہیں اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے، نیشنل پریس کلب کے باہر اگر یہ بیٹھے ہیں تو انکو سہولیات مہیا کرنا ہوگی،ایمان مزاری نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کے زریعے مظاہرین کو دھمکایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ کیا ہے ؟ ایمان مزاری نے کہا کہ یہ حکومتی سرپرستی میں ایک سکواڈ ہے جو لوگوں کو مارتے ہیں،اٹارنی جنرل نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے دھمکیوں پر آپ درخواست دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ نام سے ہی سمجھ آتا ہے،ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں،ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں،ان نو سالوں میں میرے سامنے ایک بازیاب شخص آیا تھا جس نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے مجھے اٹھایا تھا،ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں آپکی یہ بیان حلفی جمع کرائی گئی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں ہوئی مگر جلد جمع کریں گے،عدالت نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے، ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کررہے ہیں، جن 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں اور آپ نے دیکھنا ہے،

    عدالت نے سمی دین بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟ سمی دین بلوچ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی،کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں انکا کچھ نہیں بتاسکتے،عدالت نے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے انکی معلومات حکومت فراہم کریگی،اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت اپکو معلومات فراہم کریں گی، سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں،ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی،ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے، عدالت نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا، عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات فراہمی کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے، وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز کو بیان حلفی دینا ہو گا کہ جبری گمشدگی کی ہے ، نہ آئندہ ہو گی،جو افراد لاپتہ ہیں چاہے دس سال سے زائد ہوگیا انہیں بتانا پڑے گا، وہ افراد زندہ ہیں یا مر گئے بتانا پڑے گا

    بلوچ خاتون نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں امید دے دیں ورنہ شاید ہم کبھی مڑ کر واپس نہ آئیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزام ہے انہی سے ہم نے کہنا ہے ،بلوچ خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پیاروں سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں مچائیں گے،

    عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    خواجہ سرا نایاب علی الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار، نایاب علی کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف اپیلیں مسترد، کر دی گئیں،

    ریٹرننگ افسر نے آر او کا فیصلہ برقرار رکھا،ایپلیٹ ٹریبیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ سرا نایاب علی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا نایاب علی کے کاغذات منظور کرنے کا فیصلہ برقراررکھا،درخواست گزار الماس بوبی نے نایاب علی کے کاغذات منظوری کو ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا

    خواجہ سرا نایاب علی کا منشور کیا؟ الیکشن جیتنے پر اسلام آباد والوں‌کیلیے کیا کریں گی؟
    اس موقع پر نایاب علی کا کہنا تھا کہ ٹربیونل نے اعتراض کی درخواست مسترد کر دی گئی، اگر کسی خواجہ سرا کو الیکشن لڑنے سے روکتے ہیں تو اس کے اوپر سزا ہے، مخالفین کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں، اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے،میرا منشور بہت سادہ ہے، غریبوں اور امیروں کےلئے بڑا مخصوص پیکج موجودہے، اسلام آباد میں کہیں دولت کی فراوانی ہے کہیں ،تو کہیں کچی آبادیاں ہیں میں اقتدار میں آتی ہوں‌تو کچی بستوں کو منظور کرواؤں گی، اسلام آباد میں پانچ سو فیصد پراپرٹیز ٹیکس نافذ ہے وہ ختم کرواؤں گی،صحت کے حوالہ سے کوئی سسٹم نہیں، اس پر کام کروں گی ، انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے قانون سازی میرے منشور کا حصہ ہے، الیکشن مہم شروع ہو چکی ہے،میری کمیونٹی کے لوگ میرے ساتھ ہیں،

    نایاب علی نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف جو وکلا پیش ہوئے وہ لطیف کھوسہ کی فرم سے ہیں،

    واضح رہے کہ خواجہ سرا نایاب علی کے اسلام آباد سے الیکشن لڑنے پر اپنے ہی ساتھی ٹرانس جینڈر نے مخالفت کر دی تھی۔اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، فیڈرل شریعت کورٹ نے ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ کی جنس شناخت سے متعلق سیکشن کو اسلامی تعلیمات کیخلاف قرار دیا،وفاقی شرعی عدالت کے 19 مئی 2023 کے آرڈر کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،نادرا نے عدالتی احکامات کی روشنی میں خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز معطل کر رکھے ہیں،نایاب علی نے اپنی جنس سے متعلق معلومات چھپائیں جسے فیڈرل شریعت کورٹ نے مرد ڈیکلیئر کیا، امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ذرائع آمدن بھی نہیں بتائے، اسلام آباد کے حلقہ این اے 46 اور این اے 47 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں.

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    بانی پی ٹی آئی عمران خان این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب نہیں لڑسکیں گے

    لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ کے ٹریبونل نے بانی پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی پر فیصلہ سنادیا ،بانی پی ٹی آئی این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،بانی پی ٹی آئی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے نکات سامنے آگئے ،بانی چئیرمین پی ٹی آئی پر سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36 لاکھ 88 ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف رقم جولائی 2022 سے اکتوبر 2023 تک واجب الادا تھی ،بانی پی ٹی آئی عدالت سے سزا یافتہ اور الیکشن کمیشن سے بھی نااہل ہیں، بانی پی ٹی آئی نے غلط ڈیکلریشن دی جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط بھی غلط اور فرضی ہیں،

    این اے 122 عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے آراو کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس دوران این اے 122سے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے آر او کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان نااہل ہوچکے ہیں اور ان کے تجویزہ کنندہ کا تعلق بھی این اے 122 سے نہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے وکیل نے بھی عمران خان کی اپیل کی مخالفت کی،الیکشن ٹربیونل کے جج نے آر او کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا.

    این اے 122، کاغذات مسترد ہونے پرعمران خان کی لیگل ٹیم کا ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ
    این اے 122 سے سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،سابق چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم نے ٹریبونل کا فیصلہ ہائیکورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات بحال کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررہے ہیں ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست میں استدعا کی جائے گی .

    آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد
    لاہور ہائیکورٹ اپیلیٹ ٹریبونل،آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ،اثاثے چھپانے کے الزام میں شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے ،آزاد امیدوار شبیرکھوکھر نے پلاٹ اور گاڑی چھپائے تھے

    نواز شریف کے مقابلےمیں یاسمین راشد کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت
    اپیلٹ ٹربیونل نے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس طارق ندیم نے یاسمین راشدکےکاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آر او کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی،الیکشن ٹربیونل نے یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور این اے 130 سے ان کے اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،الیکشن ٹربیونل کے روبرو ڈیپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر پیش ہوگئے،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ احکامات کے باوجود این اے 130 کا ریٹرنگ افسر کل ٹریبونل میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے ریٹرننگ افسر کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ میری گزشتہ روز طبعیت خراب ہوگئی تھی، طبعیت ناساز ہونے پر چلا گیا تھا،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ آپ غیر سنجیدہ ہین جس کی وجہ سے آج بھی اپیلوں ہر سماعت کر رہے ہیں،آج تمام اپیلوں پر فیصلے کرنا ہیں،ہم صبح سے رات گئے بیٹھ کر اپیلیں سن رہے ہیں،ٹریبونل نے آر او کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کردیا

    واضح رہے کہ ،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے،ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

  • افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات ہوئی،

    اس موقع پر امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب ودیگر رہنما موجود تھے،اس موقع پر افغانستان کے وزیراعظم نے پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم کیا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

    اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے ، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

  • سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی بارے فیصلہ آیا تو جاتی امراء میں قائد ن لیگ کو مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلے سے متعلق بتایا گیا،مریم نواز نے نواز شریف کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا، نواز شریف نے عدالت سے نااہلی ختم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ مجھے نااہل کرکے پاکستان کی ترقی کا سفر روکا گیا تھا،پاکستان کو آگے لیجانے کے لیےماضی کی غلطیاں درست کرنا ہوں گی،

    اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔شہباز شریف
    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ من پسند تشریح کے ذریعے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے اپنے بھائی اور قائد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائد نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے پختہ عزم کی راہ میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ انشاء اللہ ہم سب مل کر بھرپور انداز میں نواز شریف کی انتخابی مہم چلائیں گے اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔

    خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہا،بلاول
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہوئےتو5 سال کیلئےہوں گے،ہمیں سیاسی انتقام کی روایت نہیں ڈالنی چاہی،آنےوالی حکومت کا مقصدمخالف کوجیل میں ڈالنا ہو گا توملک نہیں چلےگا،آج نوازشریف کا فائدہ ہےتوکل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ہوگا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کوجمہوری طریقے سےختم کیاگیا،ہمارےدور میں ایک سیاسی قیدی بھی نہیں تھا،ہر کوئی سمجھتا ہےیہ لاڈلہ ہو مگر یہ چیزیں وقتی ہوتی ہیں ،اسٹیبلشمنٹ نےبھی کہاہے ہم مداخلت نہیں کریں گے ،وکلا بتائیں گےنوازشریف اہل ہیں یا نہیں،علم ہے نواز شریف کواندازہ ہےوہ چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نوازشریف وزیراعظم بنیں گے توایک مسکراہٹ تو کردیتے،خواہش تھی آئندہ الیکشن ماضی کےانتخابات سے بہتر ہوتے مگرہم ناکام رہے،2013کےالیکشن میں کاغذات نامزدگی زیادہ ترمسترد ہوئےتھے،اس مرتبہ الیکشن سے پہلے جو ہو رہا ہے ماضی میں نہیں ہوتا رہا،حیران ہوں مسلم لیگ ن نےابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کی،نوازشریف کی واپسی پرجلسہ ہوئےتین ماہ ہوگئےہیں،ن لیگ والےعوام کےپاس جاتےاوراپنی کارکردگی بتاتے،خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہاسینیٹ میں ن لیگ کے پاس قیادت ہے، انتخابات ملتوی کی قرارداد کیسے آئی، ہاؤس آف دی لیڈر کی مرضی کے بغیر قرارداد کیسے پیش کی جا سکتی ہے، سمجھتا ہوں بی بی کی شہادت کے وقت بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونا چاہیئے تھا، بی بی کی شہادت کے وقت ہمیں اعتماد میں لے کر انتخابات ملتوی کیے گئے،پیپلز پارٹی اپنے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے،پی ڈی ایم میں شاید سب جماعتوں کی ایسی نیت نہیں تھی،ہم نے خارجہ سطح پر پاکستان کے مسائل کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، خارجہ سطح پر ہم مسائل کم کرنے میں کامیاب رہے،پی ڈی ایم حکومت میں معاشی مسائل کم نہیں ہوئے، پی ڈی ایم جیسی نئی حکومت ہی بنانی ہے تو ہم اس میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہمارے پاس ملک بھر میں نمائندگی ہے،امیدوار بھی کامیاب ہوں گے، آصف زرداری کی جو نیت تھی اس کے مطابق اتحاد کامیاب نہیں رہا،کوئی بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے، اس میں غلط کیا ہے،نواز شریف کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کیخلاف تاثر دیا گیا اس کا اثر تو ہوتا ہے

    سپریم کورٹ کا فیصلہ درست،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران کو بھی ہو گا، اعتزاز احسن
    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ممتاز قانوندان اعتزاز احسن نے ردعمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ بالکل درست ہے ،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران خان کو بھی ہوگا،پارٹی کو تحلیل کرنے کا حق سپریم کورٹ کے پاس ہے الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ، بانی پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں،بلے کے نشان کے بغیر انتخابات کالعدم ہوں گے ،بلے کے نشان کا کیس پی ٹی آئی کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، پارٹی کا نشان واپس لینے سے لوگوں کے ووٹ کا حق چھینا گیا ،جن سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا انہیں ڈی سیٹ کرناچاہیے، عمران خان نے جو آرٹیکل لکھا ہے وہ عمران خان ہی جانے اور اکانومسٹ والے جانیں،جب تک آپ کا بنیادی کنسیپٹ سارے معاملے کا درست نہ ہو، پہلی اینٹ ٹیڑھی لگا دی تو عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی ہم 75 سال سے الیکشن لڑ رہے ہیں، سو سال سے ووٹ ڈال رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشان ووٹر کے لئے ضروری ہے.

    تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہے، اس فیصلے نے تاحیات نااہلی کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،الحمدللہ آج قائد نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی من چاہی تشریح کی گئی،پاکستان اور عوام کو مہنگائی، معاشی تباہی اور بین الاقوامی رسوائی کی دلدل میں دھکیلا گیا،ایک لاڈلے کو "صادق اور امین” کا جعلی سرٹیفکیٹ دینے کےلئے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی سازش کی گئی،آج کا فیصلہ ثاقب نثار نے جن اختیارات کو استعمال کیا ان کے خلاف ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلوں اور ریکارڈ کو ٹھیک کرنا اچھا اقدام ہے، پارلیمان نے قانون پاس کیا جس کے مطابق نااہلہ 5 سال سے زیادہ نہیں.

    صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےسپریم کورٹ کے فیصلے پرردعمل دیا ہے،عبدالعلیم خان نے میاں نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کو مبارکباد دی اور کہا کہ بحیثیت پارٹی صدر جہانگیر خان ترین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی اس فقیدالمثال فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے،آئی پی پی کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی فتح سب کو مبارک ہو، سیاسی رہنماؤں پر بطور امیدوار نااہلی کی قدغن لگانا غیر جمہوری عمل تھا، سیاسی نمائندوں کا پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچنا ان کا بنیادی جمہوری حق ہے، جہانگیر خان ترین عوام کے قائد ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ 184 تھری اور ہائی کورٹ 199 کے تحت آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلیئریشن نہیں دے سکتیں، قانون میں نہیں درج کہ کون سی عدالت آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،صحافی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ الیکشن ٹریبونلز اب کس قانون پر انحصار کریں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے منصور عثمان اعوان نے کہا کہ یہ تو کورٹ کو دیکھنا ہے ان کےسامنے اگر 62 ون ایف کی اپیلیں کون سی ہیں،

    نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے پر ن لیگی کارکنان کا جشن
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی، نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے پر مسلم لیگ ن کے متوالوں نے جشن منایا،مسلم لیگ ن کے رہنما میاں عمران جاوید، بی بی وڈیری اور رانا راشد منہاس کی جانب سے مٹھائی تقسیم کی گئی ،میاں عمران جاوید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےتاریخی فیصلے کےبعدمیاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش دم توڑ گئی ،آئندہ عام انتخابات میں 8 فروری کو عوام بھی نواز شریف کے حق میں اپنا فیصلہ سنائے گی، تمام لیگی کارکنوں کی جانب سے اپنے قائد نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے 6 اور 1 کے تناسب سے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں تاحیات نااہلی ختم کردی، عدالت عظمیٰ کے بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا تحریری مختصر حکمنامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل باسٹھ ون ایف خود سے نفاذ نہیں ہوتا،باسٹھ ون ایف کے کوئی قانون وضاحت نہیں کرتا ،فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ شامل ہے،کسی بھی رکن اسمبلی کی ناہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہنے تک رہے گی،فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

     نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن علیل،اسپیشل سیکرٹری کو چارج مل گیا

    سیکرٹری الیکشن کمیشن علیل،اسپیشل سیکرٹری کو چارج مل گیا

    سیکریڑی الیکشن کمیشن کے علیل ہونے کا معاملہ،الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیشل سیکرٹری ڈاکٹر سید آصف حیسن کو سیکریڑی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹی فکشن جاری کر دیا گیا ،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی غیر موجودگی اسپیشل سیکرٹری فرائض سرانجام دیں گے،سیکرٹری عمر حمید اپنی بیماری کے سبب الیکشن کمیشن میں بطور سکریڑی اپنی ذمہ درایاں سر انجام نہیں دے رہے

    دوسری جانب عام انتخابات کی تیارہاں،ملک بھر میں آر اوز کا الیکشن منیجمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا، آر اوز انتخابی شیڈول میں امیدواروں کی حتمی فہرست آر ایم ایس کی ذریعے ہی الیکشن کمیش کو فراہم کریں گے ،آر اوز نے الیکشن منیجمنٹ سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ، ملک بھر کے آراوز الیکشن شیڈول کا آخری مرحلہ ای ایم ایس کی مدد سے مکمل کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے جی ایم ایس روٹر بھی تمام آر اوز کو پہنچا دیے گیے،ای ایم ایس کی مدد سے امیدواروں کے کوائف کی پی ڈی ایف کاپی تمام آر اوز کے پاس دسیتاب ہو گی، ننانون فی صد آر اوز کے دفاتر میں جی ایم ایس روٹر پر الیکشن سے متعلق کام جاری ہے

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا،چیف الیکشن کمشنر نے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں الیکشن کی تیاری مزید تیز کرنے کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا،تمام ونگز کی جانب سے الیکشن کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی،آئی ٹی ونگ کی جانب سے بروقت نتائج کے حصول پر بریفنگ دی گئی، چیف الیکشن کمشنر نے آئی ٹی ونگ کو ہدایت کی کہ نتائج کا حصول بروقت یقینی بنایا جائے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نےپیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری سے اہم ملاقات کی ہے

    ملاقات کے حوالے سے امریکی سفارتخانہ کے قائم مقام ترجمان تھامس منٹگمری نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے وسیع تر سیاسی شراکت داروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے تسلسل میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلَوم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، ملاقات کا مقصد آزادانہ ، منصفانہ اور شمولیت پر مبنی انتخابات کی اہمیت سمیت موجودہ سیاسی اُمورپر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ فریقین نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کی اہمیت اور یو ایس پاکستان گرین الائنس فریم ورک میں پیشرفت کے موضوعات پر بھی گفتگو کی،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی زرداری ہاؤس آمدہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں فروغ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • سینیٹ کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    سینیٹ کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    سپریم کورٹ ،سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرانے کی قرادار منظور کرنے کا معاملہ،سینیٹ کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں استدعا کی گئی کہ سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے،جن ممبران نے قرارداد پاس کرنے میں کردار ادا کیا ان کیخلاف آرٹیکل چھ کی کاروائی کی جائے،سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے،الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق عام انتخابات کرانے کی ہدایت کی جائے،درخواست ایڈوکیٹ اشتیاق احمد مرزا نے دائر کی،درخواست میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سینیٹر دلاور خان،سینیٹر احمد خان کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر ہدایت اللہ سمیت دیگر سینیٹرز کو بھی فریق بنایا گیا ہے, الیکشن کمیشن اور سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    نتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش