Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    خواجہ سرا نایاب علی الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار، نایاب علی کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف اپیلیں مسترد، کر دی گئیں،

    ریٹرننگ افسر نے آر او کا فیصلہ برقرار رکھا،ایپلیٹ ٹریبیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ سرا نایاب علی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا نایاب علی کے کاغذات منظور کرنے کا فیصلہ برقراررکھا،درخواست گزار الماس بوبی نے نایاب علی کے کاغذات منظوری کو ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا

    خواجہ سرا نایاب علی کا منشور کیا؟ الیکشن جیتنے پر اسلام آباد والوں‌کیلیے کیا کریں گی؟
    اس موقع پر نایاب علی کا کہنا تھا کہ ٹربیونل نے اعتراض کی درخواست مسترد کر دی گئی، اگر کسی خواجہ سرا کو الیکشن لڑنے سے روکتے ہیں تو اس کے اوپر سزا ہے، مخالفین کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں، اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے،میرا منشور بہت سادہ ہے، غریبوں اور امیروں کےلئے بڑا مخصوص پیکج موجودہے، اسلام آباد میں کہیں دولت کی فراوانی ہے کہیں ،تو کہیں کچی آبادیاں ہیں میں اقتدار میں آتی ہوں‌تو کچی بستوں کو منظور کرواؤں گی، اسلام آباد میں پانچ سو فیصد پراپرٹیز ٹیکس نافذ ہے وہ ختم کرواؤں گی،صحت کے حوالہ سے کوئی سسٹم نہیں، اس پر کام کروں گی ، انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے قانون سازی میرے منشور کا حصہ ہے، الیکشن مہم شروع ہو چکی ہے،میری کمیونٹی کے لوگ میرے ساتھ ہیں،

    نایاب علی نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف جو وکلا پیش ہوئے وہ لطیف کھوسہ کی فرم سے ہیں،

    واضح رہے کہ خواجہ سرا نایاب علی کے اسلام آباد سے الیکشن لڑنے پر اپنے ہی ساتھی ٹرانس جینڈر نے مخالفت کر دی تھی۔اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، فیڈرل شریعت کورٹ نے ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ کی جنس شناخت سے متعلق سیکشن کو اسلامی تعلیمات کیخلاف قرار دیا،وفاقی شرعی عدالت کے 19 مئی 2023 کے آرڈر کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،نادرا نے عدالتی احکامات کی روشنی میں خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز معطل کر رکھے ہیں،نایاب علی نے اپنی جنس سے متعلق معلومات چھپائیں جسے فیڈرل شریعت کورٹ نے مرد ڈیکلیئر کیا، امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ذرائع آمدن بھی نہیں بتائے، اسلام آباد کے حلقہ این اے 46 اور این اے 47 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں.

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    بانی پی ٹی آئی عمران خان این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب نہیں لڑسکیں گے

    لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ کے ٹریبونل نے بانی پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی پر فیصلہ سنادیا ،بانی پی ٹی آئی این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،بانی پی ٹی آئی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے نکات سامنے آگئے ،بانی چئیرمین پی ٹی آئی پر سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36 لاکھ 88 ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف رقم جولائی 2022 سے اکتوبر 2023 تک واجب الادا تھی ،بانی پی ٹی آئی عدالت سے سزا یافتہ اور الیکشن کمیشن سے بھی نااہل ہیں، بانی پی ٹی آئی نے غلط ڈیکلریشن دی جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط بھی غلط اور فرضی ہیں،

    این اے 122 عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے آراو کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس دوران این اے 122سے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے آر او کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان نااہل ہوچکے ہیں اور ان کے تجویزہ کنندہ کا تعلق بھی این اے 122 سے نہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے وکیل نے بھی عمران خان کی اپیل کی مخالفت کی،الیکشن ٹربیونل کے جج نے آر او کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا.

    این اے 122، کاغذات مسترد ہونے پرعمران خان کی لیگل ٹیم کا ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ
    این اے 122 سے سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،سابق چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم نے ٹریبونل کا فیصلہ ہائیکورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات بحال کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررہے ہیں ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست میں استدعا کی جائے گی .

    آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد
    لاہور ہائیکورٹ اپیلیٹ ٹریبونل،آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ،اثاثے چھپانے کے الزام میں شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے ،آزاد امیدوار شبیرکھوکھر نے پلاٹ اور گاڑی چھپائے تھے

    نواز شریف کے مقابلےمیں یاسمین راشد کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت
    اپیلٹ ٹربیونل نے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس طارق ندیم نے یاسمین راشدکےکاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آر او کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی،الیکشن ٹربیونل نے یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور این اے 130 سے ان کے اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،الیکشن ٹربیونل کے روبرو ڈیپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر پیش ہوگئے،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ احکامات کے باوجود این اے 130 کا ریٹرنگ افسر کل ٹریبونل میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے ریٹرننگ افسر کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ میری گزشتہ روز طبعیت خراب ہوگئی تھی، طبعیت ناساز ہونے پر چلا گیا تھا،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ آپ غیر سنجیدہ ہین جس کی وجہ سے آج بھی اپیلوں ہر سماعت کر رہے ہیں،آج تمام اپیلوں پر فیصلے کرنا ہیں،ہم صبح سے رات گئے بیٹھ کر اپیلیں سن رہے ہیں،ٹریبونل نے آر او کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کردیا

    واضح رہے کہ ،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے،ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

  • افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات ہوئی،

    اس موقع پر امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب ودیگر رہنما موجود تھے،اس موقع پر افغانستان کے وزیراعظم نے پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم کیا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

    اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے ، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

  • سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی بارے فیصلہ آیا تو جاتی امراء میں قائد ن لیگ کو مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلے سے متعلق بتایا گیا،مریم نواز نے نواز شریف کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا، نواز شریف نے عدالت سے نااہلی ختم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ مجھے نااہل کرکے پاکستان کی ترقی کا سفر روکا گیا تھا،پاکستان کو آگے لیجانے کے لیےماضی کی غلطیاں درست کرنا ہوں گی،

    اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔شہباز شریف
    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ من پسند تشریح کے ذریعے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے اپنے بھائی اور قائد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائد نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے پختہ عزم کی راہ میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ انشاء اللہ ہم سب مل کر بھرپور انداز میں نواز شریف کی انتخابی مہم چلائیں گے اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔

    خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہا،بلاول
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہوئےتو5 سال کیلئےہوں گے،ہمیں سیاسی انتقام کی روایت نہیں ڈالنی چاہی،آنےوالی حکومت کا مقصدمخالف کوجیل میں ڈالنا ہو گا توملک نہیں چلےگا،آج نوازشریف کا فائدہ ہےتوکل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ہوگا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کوجمہوری طریقے سےختم کیاگیا،ہمارےدور میں ایک سیاسی قیدی بھی نہیں تھا،ہر کوئی سمجھتا ہےیہ لاڈلہ ہو مگر یہ چیزیں وقتی ہوتی ہیں ،اسٹیبلشمنٹ نےبھی کہاہے ہم مداخلت نہیں کریں گے ،وکلا بتائیں گےنوازشریف اہل ہیں یا نہیں،علم ہے نواز شریف کواندازہ ہےوہ چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نوازشریف وزیراعظم بنیں گے توایک مسکراہٹ تو کردیتے،خواہش تھی آئندہ الیکشن ماضی کےانتخابات سے بہتر ہوتے مگرہم ناکام رہے،2013کےالیکشن میں کاغذات نامزدگی زیادہ ترمسترد ہوئےتھے،اس مرتبہ الیکشن سے پہلے جو ہو رہا ہے ماضی میں نہیں ہوتا رہا،حیران ہوں مسلم لیگ ن نےابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کی،نوازشریف کی واپسی پرجلسہ ہوئےتین ماہ ہوگئےہیں،ن لیگ والےعوام کےپاس جاتےاوراپنی کارکردگی بتاتے،خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہاسینیٹ میں ن لیگ کے پاس قیادت ہے، انتخابات ملتوی کی قرارداد کیسے آئی، ہاؤس آف دی لیڈر کی مرضی کے بغیر قرارداد کیسے پیش کی جا سکتی ہے، سمجھتا ہوں بی بی کی شہادت کے وقت بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونا چاہیئے تھا، بی بی کی شہادت کے وقت ہمیں اعتماد میں لے کر انتخابات ملتوی کیے گئے،پیپلز پارٹی اپنے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے،پی ڈی ایم میں شاید سب جماعتوں کی ایسی نیت نہیں تھی،ہم نے خارجہ سطح پر پاکستان کے مسائل کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، خارجہ سطح پر ہم مسائل کم کرنے میں کامیاب رہے،پی ڈی ایم حکومت میں معاشی مسائل کم نہیں ہوئے، پی ڈی ایم جیسی نئی حکومت ہی بنانی ہے تو ہم اس میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہمارے پاس ملک بھر میں نمائندگی ہے،امیدوار بھی کامیاب ہوں گے، آصف زرداری کی جو نیت تھی اس کے مطابق اتحاد کامیاب نہیں رہا،کوئی بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے، اس میں غلط کیا ہے،نواز شریف کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کیخلاف تاثر دیا گیا اس کا اثر تو ہوتا ہے

    سپریم کورٹ کا فیصلہ درست،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران کو بھی ہو گا، اعتزاز احسن
    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ممتاز قانوندان اعتزاز احسن نے ردعمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ بالکل درست ہے ،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران خان کو بھی ہوگا،پارٹی کو تحلیل کرنے کا حق سپریم کورٹ کے پاس ہے الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ، بانی پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں،بلے کے نشان کے بغیر انتخابات کالعدم ہوں گے ،بلے کے نشان کا کیس پی ٹی آئی کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، پارٹی کا نشان واپس لینے سے لوگوں کے ووٹ کا حق چھینا گیا ،جن سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا انہیں ڈی سیٹ کرناچاہیے، عمران خان نے جو آرٹیکل لکھا ہے وہ عمران خان ہی جانے اور اکانومسٹ والے جانیں،جب تک آپ کا بنیادی کنسیپٹ سارے معاملے کا درست نہ ہو، پہلی اینٹ ٹیڑھی لگا دی تو عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی ہم 75 سال سے الیکشن لڑ رہے ہیں، سو سال سے ووٹ ڈال رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشان ووٹر کے لئے ضروری ہے.

    تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہے، اس فیصلے نے تاحیات نااہلی کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،الحمدللہ آج قائد نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی من چاہی تشریح کی گئی،پاکستان اور عوام کو مہنگائی، معاشی تباہی اور بین الاقوامی رسوائی کی دلدل میں دھکیلا گیا،ایک لاڈلے کو "صادق اور امین” کا جعلی سرٹیفکیٹ دینے کےلئے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی سازش کی گئی،آج کا فیصلہ ثاقب نثار نے جن اختیارات کو استعمال کیا ان کے خلاف ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلوں اور ریکارڈ کو ٹھیک کرنا اچھا اقدام ہے، پارلیمان نے قانون پاس کیا جس کے مطابق نااہلہ 5 سال سے زیادہ نہیں.

    صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےسپریم کورٹ کے فیصلے پرردعمل دیا ہے،عبدالعلیم خان نے میاں نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کو مبارکباد دی اور کہا کہ بحیثیت پارٹی صدر جہانگیر خان ترین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی اس فقیدالمثال فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے،آئی پی پی کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی فتح سب کو مبارک ہو، سیاسی رہنماؤں پر بطور امیدوار نااہلی کی قدغن لگانا غیر جمہوری عمل تھا، سیاسی نمائندوں کا پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچنا ان کا بنیادی جمہوری حق ہے، جہانگیر خان ترین عوام کے قائد ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ 184 تھری اور ہائی کورٹ 199 کے تحت آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلیئریشن نہیں دے سکتیں، قانون میں نہیں درج کہ کون سی عدالت آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،صحافی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ الیکشن ٹریبونلز اب کس قانون پر انحصار کریں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے منصور عثمان اعوان نے کہا کہ یہ تو کورٹ کو دیکھنا ہے ان کےسامنے اگر 62 ون ایف کی اپیلیں کون سی ہیں،

    نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے پر ن لیگی کارکنان کا جشن
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی، نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے پر مسلم لیگ ن کے متوالوں نے جشن منایا،مسلم لیگ ن کے رہنما میاں عمران جاوید، بی بی وڈیری اور رانا راشد منہاس کی جانب سے مٹھائی تقسیم کی گئی ،میاں عمران جاوید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےتاریخی فیصلے کےبعدمیاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش دم توڑ گئی ،آئندہ عام انتخابات میں 8 فروری کو عوام بھی نواز شریف کے حق میں اپنا فیصلہ سنائے گی، تمام لیگی کارکنوں کی جانب سے اپنے قائد نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے 6 اور 1 کے تناسب سے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں تاحیات نااہلی ختم کردی، عدالت عظمیٰ کے بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا تحریری مختصر حکمنامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل باسٹھ ون ایف خود سے نفاذ نہیں ہوتا،باسٹھ ون ایف کے کوئی قانون وضاحت نہیں کرتا ،فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ شامل ہے،کسی بھی رکن اسمبلی کی ناہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہنے تک رہے گی،فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

     نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن علیل،اسپیشل سیکرٹری کو چارج مل گیا

    سیکرٹری الیکشن کمیشن علیل،اسپیشل سیکرٹری کو چارج مل گیا

    سیکریڑی الیکشن کمیشن کے علیل ہونے کا معاملہ،الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیشل سیکرٹری ڈاکٹر سید آصف حیسن کو سیکریڑی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹی فکشن جاری کر دیا گیا ،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی غیر موجودگی اسپیشل سیکرٹری فرائض سرانجام دیں گے،سیکرٹری عمر حمید اپنی بیماری کے سبب الیکشن کمیشن میں بطور سکریڑی اپنی ذمہ درایاں سر انجام نہیں دے رہے

    دوسری جانب عام انتخابات کی تیارہاں،ملک بھر میں آر اوز کا الیکشن منیجمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا، آر اوز انتخابی شیڈول میں امیدواروں کی حتمی فہرست آر ایم ایس کی ذریعے ہی الیکشن کمیش کو فراہم کریں گے ،آر اوز نے الیکشن منیجمنٹ سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ، ملک بھر کے آراوز الیکشن شیڈول کا آخری مرحلہ ای ایم ایس کی مدد سے مکمل کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے جی ایم ایس روٹر بھی تمام آر اوز کو پہنچا دیے گیے،ای ایم ایس کی مدد سے امیدواروں کے کوائف کی پی ڈی ایف کاپی تمام آر اوز کے پاس دسیتاب ہو گی، ننانون فی صد آر اوز کے دفاتر میں جی ایم ایس روٹر پر الیکشن سے متعلق کام جاری ہے

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا،چیف الیکشن کمشنر نے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں الیکشن کی تیاری مزید تیز کرنے کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا،تمام ونگز کی جانب سے الیکشن کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی،آئی ٹی ونگ کی جانب سے بروقت نتائج کے حصول پر بریفنگ دی گئی، چیف الیکشن کمشنر نے آئی ٹی ونگ کو ہدایت کی کہ نتائج کا حصول بروقت یقینی بنایا جائے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نےپیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری سے اہم ملاقات کی ہے

    ملاقات کے حوالے سے امریکی سفارتخانہ کے قائم مقام ترجمان تھامس منٹگمری نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے وسیع تر سیاسی شراکت داروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے تسلسل میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلَوم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، ملاقات کا مقصد آزادانہ ، منصفانہ اور شمولیت پر مبنی انتخابات کی اہمیت سمیت موجودہ سیاسی اُمورپر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ فریقین نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کی اہمیت اور یو ایس پاکستان گرین الائنس فریم ورک میں پیشرفت کے موضوعات پر بھی گفتگو کی،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی زرداری ہاؤس آمدہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں فروغ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • سینیٹ کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    سینیٹ کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    سپریم کورٹ ،سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرانے کی قرادار منظور کرنے کا معاملہ،سینیٹ کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں استدعا کی گئی کہ سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے،جن ممبران نے قرارداد پاس کرنے میں کردار ادا کیا ان کیخلاف آرٹیکل چھ کی کاروائی کی جائے،سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے،الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق عام انتخابات کرانے کی ہدایت کی جائے،درخواست ایڈوکیٹ اشتیاق احمد مرزا نے دائر کی،درخواست میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سینیٹر دلاور خان،سینیٹر احمد خان کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر ہدایت اللہ سمیت دیگر سینیٹرز کو بھی فریق بنایا گیا ہے, الیکشن کمیشن اور سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    نتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

  • بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جلد سماعت کے لیے ایک اور درخواست دائر کردی

    بیرسٹر گوہر علی اور نیاز اللہ نیازی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،درخواست میں سپریم کورٹ سے سوموار کو کیس کی سماعت کرنے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ دن بہت کم ہیں، انتخابی نشان سے متعلق جلد فیصلہ کیا جائے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 8 جنوری بروز پیر شام کو ٹکٹ کا اعلان کرے گی،بانی چیئرمین عمران خان سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مشاورت مکمل ہوگئی ہے،الیکشن کا ہر صورت انعقاد ہونا چاہئے،14 سینیٹرز کی موجودگی میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ انتخابات کا 8 فروری کو انعقاد پتھر پر لکیر ہے، بلے پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہو گا، منظور ہو گا.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے

    انتخابی نشان اور اڈیالا کا مہمان دونوں ملکی سیاست سے آوٹ 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • براہ راست  سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    براہ راست سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس بنا تو پتہ چلا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا چیئرمین بھی ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بورڈ کے اراکین میں تمام اہم شخصیات شامل ہیں،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی مضبوط بورڈ کے تحت کام کررہی ہے،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، اکیڈمی میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات ہیں، جوڈیشل اکیڈمی مختلف علاقوں ، صوبوں سے آئے ججز کو اکٹھے کرنے کا ذریعہ ہے،ہم نے اپنے کورٹ اسٹاف کو پہلے کبھی اہمیت نہیں دی،یہ پہلی بار ہے کہ کورٹ اسٹاف کو بھی جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت دینگے،اکیڈمی میں مختلف مراحل کے تحت تربیت فراہم کی جارہی ہے،جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنی تعیناتی کے بعد اکیڈمی میں بنیادی تبدیلیاں کیں ، ملک بھر میں 3200 ججز اہم فرائض انجام دے رہے ہیں،ججز اکیڈمی آکر اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں،ہائیکورٹس کے چیف جسٹس بھی اکیڈمیز میں عملہ کی تربیت کا اہتمام کریں،اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر اطمینان محسوس کررہا ہوں،سول ججز تربیت یافتہ ہونگے تو اعلیٰ عدلیہ پر کیسز کا دباؤ کم ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں پہلا چیف جسٹس ہوں جس نے کیسز کی لائیو کوریج کو مُتعارف کروایا۔ بطور چیف جسٹس پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کو براہ راست نشر کیا،سماعت براہ راست سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا،یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا،ٹیکنالوجی قلم کی طرح اہم ذریعہ ہے،یہ علم کے لیے اہم ذریعہ ہے،قانون کے طالبعلم براہ راست کیسز کی سماعت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،عام لوگوں میں یہ اعتماد بحال کروانا ضروری ہے کہ انصاف ہو رہا ہے ،انصاف کا بہتر نظام مقدمات کا دباؤ کم کرے گا،براہ راست نشریات کی کچھ ڈاون سائیڈز بھی ہیں، گھر جاتا ہوں تو بیگم کہتی ہیں آپ ٹھیک سے نہیں بیٹھے تھے،انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے میں یہ جملہ روز اپنے ذہن میں رکھتے عدالت آتا ہوں،بطور وکیل اپنے خلاف فیصلے آنے پر کبھی برا نہیں منایا تھا،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    قاضی کا کھڑاک،الیکشن 8 فروری کو،عدت میں بدعت،جنرل فیض حاضر ہو

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کرلیا

    وزیراعظم کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف کے طور پر نوٹس جاری کیا گیا، صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد خالد سجاد کھوکھر کی درخواست پر نوٹسز جاری کیے گئے،پٹیشنر نے اپنی جگہ طارق منصور بگٹی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ایڈہاک بنیاد پر صدر بنانے کا نوٹی فکیشن چیلنج کیا تھا،کیس کی سماعت کے تحریری حکمنامہ میں لکھا گیا کہ پٹیشنر کے وکیل کے مطابق وزیراعظم نے 21 دسمبر 2023 کو طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کا صدر مقرر کیا، وکیل کے مطابق پٹیشنر 18 اگست 2022 کو چار سال کی مدت کے لیے ہاکی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے،پٹیشنر کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی چار سالہ مدت مکمل ہونے پر آئندہ الیکشن 2026 میں ہوں گے، پٹیشنر کے وکیل نے کہا ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف کے پاس صدر کو ہٹا کر کسی اور کو عہدہ دینے کا اختیار نہیں،

    صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن میرطارق حسین بگٹی نے پانچ رکنی کمیٹی بنادی۔

    پاکستان واپڈا ٹیم ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی چیمپین بن گئی

    حیدر حسین کی جگہ رانا مجاہد ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری منتخب