Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے 16 دسمبر کے المناک دن کی مناسبت سے کہا ہے دشمن نے ہمارے درمیان تقسیم کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا، جس کے نتیجے میں ہمیں اپنا بازو کھونا پڑا۔ اسی طرح 16 دسمبر 2014 کو دشمن نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے ہمیں مزید دکھ پہنچایا اور ہمارے معصوم بچوں کو شہید کیا۔ ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں اتحاد، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دوبارہ ایسی تاریخ نہ دہرائی جا سکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے آئی-8 مرکز میں ایک اہم اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے نومنتخب عہدیداران کو نوٹیفکیشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ یہ اجلاس پارٹی کے اہداف کو واضح کرنے اور موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا۔ اجلاس میں ضلعی باڈی، این اے 46، 47، 48 کے تیراہ زونل باڈیز کے ممبران نے شرکت کی۔خالد مسعود سندھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایک مستحکم اور جامع پالیسی کے تحت قومی مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کے سانحات، جیسے سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس، سے سبق لیتے ہوئے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ پارٹی قومی اتحاد، سماجی خدمت اور انصاف پر مبنی سیاست کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانا ہوگی تاکہ عوام کا اعتماد جیتا جا سکے۔

    اس موقع پر اسلام آباد کے صدر انعام الرحمن کمبوہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی اسلام آباد میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے اختتام پر نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی گئی اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔

    جمعیت کے وفد کی مرکزی مسلم لیگ کے دفتر آمد، فیصل ندیم سے ملاقات

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ شاہکوٹ کی یکجہتی فلسطین کانفرنس

    مرکزی مسلم لیگ کا ارشدندیم ، والدین کیلئے عمرے ،گاؤں میں آئی ٹی انسٹیٹیوٹ بنانے کا اعلان

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،  مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید9 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیریں مزاری، راشد حفیظ، طاہر صادق سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل کی عدالت میں پیش کیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت پیش کیا،اب تک 98 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ عمران خان پر 5 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی ،غیر حاضر ملزموں کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی۔جی ایچ کیو حملہ کیس میں کل ملزمان کی تعداد 119 ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی،سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،انٹرنیٹ اہم ضرورت ہے لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹائزیشن کی جانب گامزن ہے، کرنسی کے استحکام نے انڈسٹری کو بہت فائدہ دیا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، مسائل حل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس طرح نہیں جس طرح ہونی چاہیے، دنیا تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے،حکومت ڈیجیٹائزیشن پر قانون سازی کے لیے کام کر رہی ہے، چیلنجز کے باوجود ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت اب بہتر ہو رہی ہے تو اُمید کرتے ہیں باقی چیزیں بھی بہتر ہوں گی۔

    شزہ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ امیدہے اگلے 5 سالوں میں ہم فائبرائزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے، رائٹ آف وے پر بڑی توجہ سے کام ہوا ہے،ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نظر آئے گا جبکہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے والےنوجوانوں کومبارکبادپیش کرتی ہوں،نوجوانوں کے بہترمستقبل کیلئے ٹیکنالوجی سے آراستہ کرناہوگا،آئی ٹی کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دے کرروزگار کے مواقع مہیا کر رہے ہیں،سائبرسکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں،حکومت آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا، جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہو گا،بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے جسے وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ پیش کریں گی،ڈیجیٹل شناخت بنانے کے بل کا مقصد سماجی، اقتصادی اور گورننس ڈیٹا تیار کرنا ہے،ایجنڈے کے مطابق قانون سازی ’پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کو فعال کرنے کے لیے فراہم کرے گی،ذرائع کے مطابق بل کا مقصد معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا اور ای گورننس کو فروغ دینا ہے، حکومت 2 نئی باڈیز بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

    بل کے متن کے مطابق ایک باڈی نیشنل ڈیجیٹل کمیشن این ڈی سی ہو گی جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کریں گے، باڈی میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پی ٹی اے کے سربراہان شامل ہوں گے،دوسری باڈی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ہو گی جس کی قیادت صنعت کے اعلیٰ ماہرین کریں گے، نئے نظام کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی،بل کے متن کے مطابق شناخت میں فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں ڈیٹا شامل ہو گا، شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ کا انتظام کرنے والے محکموں تک رسائی بہتر بنانا ہے، ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گی، خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

  • تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی میں ملوث نائجیرین باشندوں کے 6 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری ایک اہم کارروائی تھی جو تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو روکنے کے لئے کی گئی۔

    اے این ایف کے حکام کے مطابق، اسلام آباد میں آپریشن کے دوران پہلے ایک نائجیرین باشندے کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کا انکشاف کیا، جن میں افریقی ملک نائجیریا کے باشندے شامل تھے۔ اس معلومات کی بنیاد پر اے این ایف نے سیکٹر جی 13 میں چھاپہ مارا، جہاں ایک ہوٹل کے قریب پانچ مزید نائجیرین باشندے گرفتار کیے گئے۔حکام نے بتایا کہ ملزمان کے فلیٹ پر چھاپے کے دوران 135 گرام کوکین اور 3.2 کلو گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزمان نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ وہ ہاسٹلز اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات فراہم کر رہے تھے۔

    اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث غیر ملکیوں کی بڑی تعداد افریقی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ منشیات اسمگلرز مختلف نئے اور خطرناک طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔اے این ایف نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ اس گھناونے کاروبار کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

    یہ گرفتاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم قدم ہے، اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ تعلیمی ادارے محفوظ رہیں۔

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش گرفتار، 5 کلو 100 گرام چرس برآمد

    آسٹریلیا،ایئر لائن کا ملازم شیمپو میں منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے مذاکرات کی انہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے لیکن نکلنا کچھ نہیں کیونکہ قبر ایک اور بندے دو ہیں اور صرف ایک نے اندر جانا ہے،اگر مذاکراتوں سے کچھ نہ نکلا تو پھر جوڈو کراٹے اور بنکاک کے شعلے ہیں، اور بغداد کی راتیں ہیں اس ملک میں،26 تاریخ ایک خوفناک،وحشت ناک اور دہشت ناک ظلم و ستم کا دن تھا، جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پہلے ہی کہا تھا 30 دسمبر تک عدم استحکام ہو گا،خونی 26 نومبر گزری ہے، سیاسی طور پر انتہائی عدم استحکام ہے، حالات بہتری کی طرف جانے چاہئے، تحریک انصاف جانے اور حکومت جانے،مذاکرات کا حامی تھا اور رہوں گا

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے آیا ہوں ہر بندہ کہتا ہے خدا پاکستان کو محفوظ رکھے،عمران خان سے لمبی ملاقات ہوئی، باہر آ کر میں نے سوچا شارٹ ہی رکھو تو بہتر ہے،عمران خان نے ملاقات میں کہا کہ میں اور آپ ایک ہیں اور ہمارا مقصد ایک اور ایک 11 ہے جو بہتری کا نمبر ہے،بہتری کے‌حالات نکلنے چاہئے. حالات سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں، میں مذاکرات کا حامی تھا اور حامی ہوں، مذاکرات بہت اچھی چیز ہے، دنیا میں جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، میرا صرف ایک آدمی سے تعلق ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی ہے باقی میں کسی کو نہیں جانتا،

  • سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں  توسیع

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی شہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں 29 جنوری تک توسیع کر دی ہے

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہزاد سلیم کی نیب انکوائری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ نیب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی انکوائری شروع کی ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ جی انکوائری شروع کی گئی ہے۔ جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ چارج شیٹ کیا ہے کہ شہزاد سلیم غلط طریقے سے نیب میں بھرتی ہوئے،اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ وہ آرمڈ فورسز میں سرونگ افسر تھے اور ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئے، شہزاد سلیم نیب میں ڈیپوٹیشن پر آئے اور مستقل ملازمت کر لی جبکہ شہزاد سلیم کا تجربہ ناکافی تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ تجربے کی کمی نیب کے علم میں کب آئی؟ نیب کو اب احساس ہوا ہے کہ شہزاد سلیم کا تجربہ پورا نہیں ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سابق ڈی جی شہزاد سلیم 25 سال سے نیب میں تھے۔

  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    آج، 16 دسمبر 2024ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس بیت گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش الگ ہو گیا تھا۔ اس سانحے کو تاریخ میں "سقوط ڈھاکا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے 24 سال بعد، پاکستان کے مشرقی بازو کا علیحدہ ہونا ایک دردناک اور اہم واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کو بدل دیا۔

    سقوط ڈھاکا ایک سنگین سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد کی جانیں گئیں، لاکھوں خاندان برباد ہوئے اور پاکستان کا جغرافیائی وجود متاثر ہوا۔ اس دن کا دلی غم آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں تازہ ہے، اور یہ دن ہمیں اپنے ماضی کے جمہوری، سیاسی اور سماجی تنازعات سے سبق سکھاتا ہے۔سقوط ڈھاکا کے موقع پر بھارتی فوج نے بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت میں بھرپور مداخلت کی تھی۔ بھارتی فوج نے اس دوران نہ صرف بنگلادیش کی آزادی کے لیے لڑائی کی بلکہ ڈھاکا ٹیلی ویژن کی عمارت سے جدید مشینری بھی چرا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی،

    اگرچہ بنگلہ دیش آج ایک آزاد ملک کے طور پر موجود ہے، لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور تقسیم کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت کے ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم سقوط ڈھاکا کی تلخ یادیں اور وہ دور کی سیاسی حقیقتیں دونوں قوموں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

    آج جب ہم 1971ء کی اس قومی سانحے کو یاد کرتے ہیں تو یہ وقت ہمیں اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایسی خامیوں کو دور کریں جو ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی تقدیر کے فیصلے میں ذمہ داری اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے۔سقوط ڈھاکا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو گہرے سیاسی اور سماجی زخم دیے، مگر اس دن کی یادیں ہمیں ایک مضبوط اور یکجا پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

  • مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری لوئر ٹوپہ کے مقام پر متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عوامی گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا،

    جرگے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اراکین اسمبلی، مرکزی انجمن تاجران، پیپلزپارٹی ،جے یو آئی ف اور دیگر سیاسی رہنما، اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔لوئر ٹوپہ میں منعقدہ عوامی گرینڈ جرگے میں شرکاء نے مال روڈ سے سیکشن فور کے خاتمے اور جھیکا گلی بازار سمیت ایکسپریس وے پر جاری آپریشن کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ تاجروں پر دہشت گردی کے مقدمات کو خارج کرنے اور مری کی تعمیر و ترقی کے لیے دی جانے والی رقم کو تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر خرچ کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ جرگے کے دوران مرکزی انجمن تاجران کی کال پر علامتی شٹر ڈاؤن بھی کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز دفعہ 144 نافذکیا گیا تھا جس کے باوجود جرگے کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات رہی شرکاء کا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    حکومت پنجاب کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کے خلاف مری لوئر ٹوپہ میں ہونے والے احتجاج میں سیاستدانوں، تاجروں اور عوام نے یک آواز ہو کر اس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ احتجاج میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، صداقت عباسی، پی ٹی آئی، پی پی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس احتجاج میں مری کے عوام، تاجر اور سیاسی رہنما حکومت کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی کیونکہ مری میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوام کو کسی بھی قسم کے غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات میں خاص طور پر جھیکا گلی بازار کی ری ماڈلنگ اور مال روڈ پر سیکشن فور کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو اربوں روپے کا فنڈ صرف 3 کلو میٹر پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری اور کوٹلی ستیاں کے علاقے اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں اور ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری فنڈز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور مری و کوٹلی ستیاں کے عوام کی بہتری کے لیے وسائل مختص کرے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا یہ منصوبہ عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کا حامل ہے اور اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مری کے عوام ترقی کے حق میں ہیں، مگر ان کی ترقی کے لیے حکومت کو عوام کی آواز سننی ہوگی اور انہیں ترجیح دینی ہوگی۔مری گرینڈ جرگے میں حکومت کے سوا تمام جماعتیں موجود ہیں، یہاں کے عوام اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ آپ کس قانون کے تحت لوگوں کی عمارتیں گرا رہے ہیں، کیا آپ نے جنگل کا قانون نافذ کر دیا ہے، میری سیاسی تاریخ میں کبھی مری میں دفعہ 144 نافذ نہیں کیا گیا، عوام کے نمائندے عوام میں ہوتے ہیں، آپ عوام کی بات سننے کو تیار نہیں،ہ مری کی انتظامیہ سے سوال کریں تو کہتے ہیں ہمیں اوپر سے آرڈر ہے جبکہ ہم نے کبھی 37 سالوں میں اوپر والوں کا حکم نہیں مانا،حکومت اپنا پلان ہماری عمارتیں گرا کر حاصل نہیں کرسکتی، ہمارے حقوق کا تخفظ نہیں ہوگا تو پھر حق لینا بھی جانتے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے یہ حکومت آئینی ترمیم بھی رات کے اندھیروں میں کر رہی ہے۔

    مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کو مری اور کوٹلی ستیاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس احتجاج نے علاقے میں ایک نئی سیاسی گرمجوشی پیدا کر دی ہے، اور حکومت کو سخت پیغام دیا ہے کہ عوامی مفاد کو نظر انداز کر کے کسی بھی منصوبے کو منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ضلع لاہورکی باڈی کا اعلان

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

  • سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 دسمبر سے شروع کرنے والی سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا ملک کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے تو یہ سب سے بہترین حل ہوگا، لیکن اگر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑے گی۔

    اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تنقید
    ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے محض احتجاج کرنا یا کسی تحریک کا آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر احتجاج کرنا زیادہ موثر اور دانشمندانہ عمل ہو گا، کیونکہ اس طرح عوام میں زیادہ بیداری پھیلائی جا سکتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے نرم رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے فیصلوں میں ابہام اور اختلافات نے پی ٹی آئی کے موقف کو کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات اور حکمت عملی کی کمی سے پارٹی کے حامیوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بانی کی رہائی کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی، جس کی وجہ سے ان کی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت سے صرف وقتی فائدہ ہوگا، لیکن اگر حکومت اپنی پوزیشن پر قائم رہتی ہے تو پھر تحریک کا آغاز ضروری ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اگر مذاکرات میں کامیابی نہیں ملتی تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ایک ناگزیر عمل بن جائے گا، اور اس تحریک کے ذریعے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

    محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر چار ماہ کے اندر انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے کہ حکومت کب اپنی مدت مکمل کرے گی اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا۔ اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنے کی صورت میں ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس کے نتیجے میں عوام کو فائدہ ہوگا۔

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار