Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عمران خان نے کے ٹو کی چوٹی کے فضائی مناظر شیئر کرکےبڑاپیغام جاری کردیا

    عمران خان نے کے ٹو کی چوٹی کے فضائی مناظر شیئر کرکےبڑاپیغام جاری کردیا

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم 12 موسمیاتی زونز والی دنیا کی متنوع ترین زمین پر رہتے ہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا پر کے ٹو کی ایک ویڈیو شیئر کی اور اس کے ساتھ ایک کیپشن بھی تحریر کیا۔

     

    چیئرمین تحریک انصاف نے ٹوئٹر پر کے ٹو پہاڑ کی چوٹی کے فضائی مناظر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ملک کے اندر اور باہر کتنے لوگوں کو یہ احساس ہے کہ ہم دنیا کی ایک متنوع ترین دھرتی پر رہتے ہیں جو 12 موسمیاتی زونز کی حامل ہے۔

     

     

     

    یاد رہے کہ اس سال دنیا بھر سے 100 سے زائد کوہ پیماؤں نے کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کی مہم میں حصہ لیا، کے ٹو کا شمار دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے۔

     

    دنیا میں 8 ہزار میٹر سے بلند صرف چودہ چوٹیاں ہیں، جن میں سے پانچ پاک سرزمین کا حصہ ہیں، جن میں کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم ون، بروڈ پیک اور گاشر برم ٹو شامل ہیں، جبکہ سات ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی تعداد 108 ہے،


    کے ٹو


    کے ٹو جسے ‘ماﺅنٹ گڈون آسٹن اور شاہ گوری’ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی سب سے بلند جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ کے بعد پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 8611 میٹر ہے اور یہ سلسلہ کوہِ قراقرم میں واقع ہے، اسے دو اطالوی کوہ پیماﺅں نے 31 جولائی 1954 کو سب سے پہلے سر کیا تھا۔

    کے ٹو کو ماﺅنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے، کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ پر 2238 ۔ رواں برس کے ٹو کو پہلی بار سر کرنے کے ساٹھ سال مکمل ہونے کے موقع پر پہلی بار جولائی میں پاکستانی کوہ پیماﺅں کی ایک ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کیا۔

    اگرچہ اس سے قبل پاکستانی کوہ پیما انفرادی طور پر کے ٹو کی چوٹی سر کر چکے تھے لیکن پہلی مرتبہ بطور ٹیم وہ ایک ہی وقت میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر پہنچے۔


    نانگا پربت


    نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے، اس کی اونچائی 8125 میٹر ہے اور اسے دنیا کا ‘قاتل پہاڑ’ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر چڑھنے میں اب تک سب سے زیادہ کوہ پیما مارے گئے ہیں اسے ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل نے سب سے پہلے 3 جولائی 1953 میں سر کیا تھا۔

    فیری میڈو یا پریوں کا میدان نانگا پربت کو دیکھنے کی سب سے خوبصورت جگہ ہے، اس جگہ کو یہ نام 1932 کی جرمن امریکی مہم کے سربراہ ولی مرکل نے دیا۔ سیاحوں کی اکثریت فیری میڈو آتی ہے یہ 3300 میٹر بلند ہے۔

    کوہ ہمالیہ کے اس پہاڑ کو سر کرنے یا ٹریکنگ کے لیے جانے والے غیر ملکی سیاحوں کی آمد کو گزشتہ برس دہشت گردوں کے ایک حملے کے بعد کافی دھچکا لگا جس میں دس کے قریب غیر ملکی سیاح ہلاک ہوگئے تھے، کہا جاتا ہے کہ اس پہاڑ کو دیکھنے سے خوبصورتی سے زیادہ ہیبت انسان کے دل پر اثر کرتی ہے۔


    گاشر برم ون


    گاشر برم ون پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں سب سے اونچی چوٹی ہے، اسے کے فائیو اور چھپی چوٹی کے ساتھ بلتی زبان میں ‘خوبصورت پہاڑ’ بھی کہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے شمال میں سلسلہ کوہ قراقرم میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8080 میٹر ہے۔

    گاشر برم ون کو سب سے پہلے 5 جولائی 1958 میں دو امریکیوں پیٹ شوننگ اور اینڈی کافمان نے سر کیا۔


    بروڈ پیک


    بروڈ پیک دنیا کی 12 ویں اور پاکستان کی چوتھی سب سے اونچی چوٹی ہے، یہ قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے اور اس کی بلندی 8047 میٹر ہے، اسے سب سے پہلے 9 جون 1957 کو ایک آسٹرین ٹیم نے سر کیا۔

    یہ کے ٹو سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اس کی چوٹی قریباً ڈیڑھ کلو میٹر لمبی ہے۔ اس لیے اس کا نام ‘بروڈ پیک’ ہے۔ مقامی نام فائے چان کنگری یا پھلچن کنگری ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے اس میں ایک نہیں دو چوٹیاں ہیں اور اکثر کوہ پیما اسی باعث غلطی سے 8015 میٹر بلند چوٹی پر رُک کر واپس چلے جاتے ہیں اور 8047 میٹر کی بلندی تک نہ جانے پر کامیاب قرار نہیں پاتے۔


    گاشر برم ٹو


    گاشر برم ٹو دنیا کا تیرہواں اور پاکستان کا پانچواں سب سے اونچا پہاڑ پے، یہ قراقرم سلسلے میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8035 میٹر ہے۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان واقع ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1956 میں ایک آسٹریائی ٹیم کے موراویک، لارچ اور ویلن پارٹ نے سر کیا۔


    گاشر برم فور


    گاشر برم فور دنیا کا 17 واں جبکہ پاکستان کا چھٹا بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7925 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کے درمیان گاشر برم کی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔

    اس پہاڑ کو سب سے پہلے 1928 میں اطالوی کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا۔


    دستاغل سر


    یہ قراقرم کے ایک پہاڑی سلسلے ہسپر موزتاگ کا سب سے بلند پہاڑ ہے جو کہ شمالی علاقہ جات میں گوجل کے علاقے میں واقع ہے، یہ دنیا کا 19 واں جبکہ پاکستان کا ساتواں بڑا پہاڑ ہے جس کی بلندی 7885 میٹر ہے۔

    اس پہاڑ کی خاص بات اس کی پانچ کلو میٹر طویل ڈھلوانی اونچائی ہے اور 7400 میٹر سے اوپر اس میں تین چوٹیاں ہیں، جن میں سے شمالی چوٹی 7885 میٹر، وسطی 7760 میٹر اور جنوب مشرقی 7535 میٹر بلند ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1960 میں آسٹرین کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا تھا۔


    کیونانگ چیش


    یہ ہسپر موزتاگ کے سلسلے کی دوسری بلند ترین پہاڑی ہے جس کی بلندی ہے 7823 میٹر ہے، اسے دنیا کا اکیسواں جبکہ پاکستان کا آٹھواں بلند ترین پہاڑ کہا جاتا ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1971 میں ایک پولش ٹیم نے سر کیا تھا اور اس کے بعد یہ صرف مزید ایک بار 1988 میں ہی سر ہو سکی، جس کے بعد سے اب تک یہاں جانے والے کوہ پیماﺅں کے ہاتھ ناکامی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


    ماشربرم


    ماشربرم جسے ‘کے ون’ بھی کہا جاتا ہے، گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے میں واقع ہے یہ 7881 میٹر بلند ہے اور دنیا کا 22 واں بلند ترین جبکہ پاکستان کا نواں بلند ترین پہاڑ ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ماشربرم نام کا مطلب ہی واضح نہیں، تاہم اندازہ ہے کہ یہ ماشادار (لوڈ گن) اور برم (پہاڑ) سے مل کر بنا ہے کیونکہ اس کی دوہری چوٹی کسی بھری ہوئی بندوق جیسی لگتی ہے، تاہم ایک حلقے کا کہنا ہے کہ ماشا مقامی زبان میں ملکہ کو کہا جاتا ہے اور درحقیقت اس کا نام چوٹیوں کی ملکہ’ ہے۔’

    اسے سب سے پہلے 1960 میں امریکی اور پاکستانی کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا تھا۔


    بتورا سر


    بتورا سر جسے ‘بتورا ون’ بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا 25 واں جبکہ پاکستان کا دس واں بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7795 میٹر ہے۔

    راکا پوشی کے قریب واقع یہ پہاڑ زیادہ مشہور نہیں کیونکہ یہ ہنزہ وادی کے آخری کونے میں واقع ہونے کے باعث کوہ پیماﺅں کی نظروں سے دور ہی رہتا ہے۔

    اس پہاڑ کو 1967 میں سب سے پہلے سر کیا گیا تھا۔

  • ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمت میں 48 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا۔ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف دالوں کی قیمت میں اڑتالیس روپے کلو تک اضافہ کردیا گیا ہے، اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔

    پاکستان میں مہنگائی12فیصد سے بڑھ کر21فیصد تک پہنچ گئی:ایشین ترقیاتی بینک

    نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف دالیں 48 روپے فی کلو تک مہنگی کی گئی ہیں، کالے چنے کی فی کلو قیمت میں 48 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کالے چنے کی قیمت 172 روپے سے بڑھا کر 220 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ دال مسور 40 روپے اضافے بعد 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، جب کہ لال لوبیا 35 روپے مہنگا کرکے نئی قیمت 270 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

    مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر اب ثابت مسور بھی 35 روپے مہنگی میسر ہوگی، اور اس کی نئی قیمت 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، دال مونگ 30 روپے اضافے بعد 200 روپے فی کلو میں ملے گی، جب کہ دال چنا کی قیمت 190 روپے سے بڑھا کر 220 روپے کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلےادویات کی قیمتوں میں 300فیصد تک اضافہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں جان نکالنے لگیں۔میڈیسن مارکیٹ میں ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات مہنگی۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

    شہر میں محکمہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی شہر میں ادویات کی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔میڈیسن مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔

    حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ،شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ہونے کیساتھ عام اسٹورز پر غائب بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے لواحقین پریشان ہیں۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

  • ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    اسلام آباد: ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان، ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک میں ادویات قلت بڑھتی جائے گی جس کے نتیجے میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات پیش آئیں گی۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد نے وائس چیئرمین عاطف اقبال کی قیادت میں وزیراعظم کی ہدایت پر ادویات کی قلت کے معاملے پر بنائی گئی پی ایم انسپیکشن کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔پرائم منسٹر انسپیکشن ٹیم نے ادویات کی قلت سے متعلق انکوائری شروع کر رکھی ہے۔

    کمیٹی میں محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں کے اعلی حکام بھی شامل ہیں۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاضی منصور دلاور نے بتایا کہ پی پی ایم اے کے اراکین نے وزیراعظم انسپیکشن کمیٹی سے ملاقات کی اور کمیٹی کے سامنے اپنے مطالبات اور تجاویز رکھی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے، خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے 30 سے 40 فیصد ادویات وائبل ہی نہیں ہیں، ان ساری چیزوں سے انڈسٹری متاثر ہورہی ہے ہم خود سے قیمتیں بڑھا نہیں سکتے، جو کم قیمت ادویات ہیں ان پر لاگت زیادہ آرہی ہے، وہ مارکیٹ میں نہیں مل رہیں، جب لاگت زیادہ آئے گی تو انڈسٹری کیسے چلے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر لکھتے ہی ملٹی نیشنل کمپنی کی ادویات ہیں، لوگ مانگتے ہی وہ ہیں اس لئے ان کا پتہ چل جاتا ہے کہ ان ادویات کی قلت ہے۔ہم نے بتایا کہ ہم سے سیلز ٹیکس کی مد میں 35سی 40 کروڑ لے لیا جو واپس نہیں ملا، ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس کا انڈسٹری پر فرق پڑا ہے۔قاضی منصور کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال پہلے 20 فٹ کنٹینر کا انٹرنیشنل فریٹ ریٹ 1200 ڈالر تھا جو اب 10 ہزار ڈالر ہوگیا، اس وجہ سے ادویات کی لاگت کہیں سے کہیں جاپہنچی ہے، ہم نے حکومت سے ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے، ساری سفارشات اور تجاویز انہیں دی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے انہوں نے پوچھا ہے اس بحران سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا ، تو ہم نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ اگر فوری قیمتیں دے دی جائیں تو 90 دن لگیں گے اور صرف قیمتیں نہیں بلکہ ہمیں ہمارا سیلز ٹیکس کی مد میں لیا گیا پیسہ بھی واپس کرائیں، اگر یہ تاخیر کریں گے تو مزید ادویات کی قلت ہوگی۔

  • امریکی ویزوں کےمنتظر400افغان خاندانوں نےاسلام آبادہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی

    امریکی ویزوں کےمنتظر400افغان خاندانوں نےاسلام آبادہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں سے اسلام آباد کی گرین بیلٹ کا قبضہ چھڑانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے تاکہ امریکا میں سیاسی پناہ اور ویزا حاصل کیا جا سکے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر گرین بیلٹ خالی کرنے اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔درخواست گزار پیر فدا حسین ہاشمی ایڈووکیٹ نے سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے کو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد 400 سے زائد افغان خاندان غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے جنہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کی اور سیکٹر ایف 6 کی گرین بیلٹ پر قبضہ کرلیا۔

    فدا حسین ہاشمی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ افغانیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں امریکی ویزوں کا وعدہ کیا گیا تھا اور اب اگر وہ افغانستان واپس آئے تو انہیں سزائے موت دی جائے گی۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا ہے کہ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر فریقین کو افغان باشندوں سے گرین بیلٹ خالی کرنے اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

  • نئی سرکاری جامعات کھولنے پر پابندی عائد کردی گئی

    نئی سرکاری جامعات کھولنے پر پابندی عائد کردی گئی

    اسلام آباد:وزارت تعلیم نے ملک بھر میں نئی سرکاری جامعات کھولنے پر پابندی لگا دی۔فیصلہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تعلیم و تربیت کے اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ تعلیم معیاری نہ ہو تو یونیورسٹیز کی بھرمار کا فائدہ نہیں۔

    رکن کمیٹی اسلم بھوتانی اور نثار احمد چیمہ نے کہا سرکاری جامعات میں ڈگریاں تو ریوڑیوں کی طرح بانٹی جا رہی ہیں لیکن طلبہ کو آتا کچھ بھی نہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی سے فارغ التحصل پی ایچ ڈیز درخواست تک درست نہیں لکھ سکتے۔ارکان کمیٹی نے یونیورسٹیز میں کرپشن اور جعلی ڈگریوں کی شکایات کے انبار لگائے تو وزیر تعلیم نے اس کے سد باب کیلئے بڑا اعلان کر دیا۔

    ملک معاشی بحران کا شکار۔لسی اورستّوکا استعمال شروع کر دیں :ہائیرایجوکیشن کمیشن

    وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اب یونیورسٹیز پبلک سیکٹر میں نہیں بنیں گی اور جو بنی ہیں ان کی کوالٹی پہ توجہ دی جائے۔ کوانٹٹی یعنی نمبر پہ نہیں جانا ہم نے کوالٹی پہ جانا ہے۔ اسی پالیسی پہ عمل ہوگا۔چئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کہا سرکاری ونجی جامعات کے قیام کی پہلی شرط ملکیتی اراضی زمین ہے۔

    ہائیرایجوکیشن کمیشن کا ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگریز کے حوالے سے اہم اقدامات

    ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جو بچے پڑھ رہے ہیں کل ڈگریاں لے کے خوار نہ ہوں ، کوئی بھی ادارہ تب تک آپریٹ نہیں کر سکتا جب تک وہ ایچ ای سی کا این او سی نہیں لے لیتا۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی سرکاری ہو یا نجی این او سی کے بغیر کسی کو کام کی اجازت بالکل نہیں دیں گے۔

  • تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر عاشق شاہ مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا۔مدعیہ پر ظلم اور بربریت کی انتہا کردی۔ مقتول کے بھائی سے 4 لاکھ روپے تک کی رشوت وصول کر لی۔ بوڑھی والدہ اور بہنوں کے سامنے قاتل کو کمرہ میں بیٹھا کر مدعیہ سے ڈیل کرنے لگا۔عاشق شاہ کہتا ہے کہ یہ قاتل تیرے دوسرے بچے کا نام لے رہا ہے۔ اگر پیسے دو تو یہ قاتل تیرے دوسرے بچے کا نام نہیں لے گا۔بوڑھی ماں بیٹیوں سمیت در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی۔

    ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مدعی کو دھمکیاں دینے لگا مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مقتول کے بھائی سے پانچ لاکھ روپے کی اور رشوت کی ڈیمانڈ کر لی گئی۔کہ اگر پانچ لاکھ روپے نہ دئیے تو تمھارے بھائی کے قتل کے الزام میں تمہیں اندر کروں گا۔ بوڑھی والدہ در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی۔بوڑھی والدہ کا کہنا ہےکہ پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرتی ملزمان بااثر ہیں۔ان کو عاشق شاہ نے رشوت کے عوض ان کو مقدمہ سے ڈسچارج کروا دیا۔اب ہمیں انسپکٹر عاشق شاہ دھمکیاں دے رہا ہےکہ پانچ لاکھ کی رشوت دو ورنہ تمہارے قتل ہونے والے بچے کا قتل تمہارے دوسرے بچے پر ڈال دونگا۔تم لوگ پیسے سود پر کسی سے مانگ لو۔میں بوڑھی عورت ہوں جاؤں تو جاؤں کہاں؟ تمام دروازے کھٹکھٹا لیے لیکن کچھ نہ بنا.آئی جی سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔میرا کیس ایماندار افسر کو دیا جائے۔انسپکٹر عاشق شاہ سے میرا 4 لاکھ روپیہ واپس دلوایا جائے۔ جو کہ میرے بیٹے عبران سے اس نے وصول کیا۔ میں بوڑھی ماں ہوں۔عاشق شاہ نے گزشتہ روز ایک ملزم جو میرے بیٹے کے قتل کے وقت سے غائب تھا۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    عاشق شاہ نے پیسوں کی خاطر مجھے اور میری دونوں بیٹیوں کو تھانہ میں اپنے کمرے میں بلوایا۔اور ملزم کو کرسی پر بیٹھا دیا۔اور راشی تفتیشی نے پیسوں کی خاطر ملزم کے ساتھ مل کر ہم پر ہنسا اور ملزم کو کہا کہ جو تم کو بولا ہے ان کو بتاؤ۔ملزم غیور نے کہا کہ تمھارے چھوٹے بیٹے اور داماد نے تیرا بیٹا رضوان مجھ سے قتل کروایا۔ملزم مجھ بوڑھی ماں پر ہنسا اور کہنے لگا کہ عاشق شاہ کو خرچہ لگاؤ یہ مجھے جیسے کہیں گے میں ویسے ہی بیان دونگا۔اور عاشق شاہ کے ساتھ اختر نامی پولیس اہلکار میری بیٹی کو ہراساں کرنے لگا۔اور میری بیٹی کو کہنے لگا کہ میں تم کو بھی بند کر دونگا۔میں بوڑھی ماں اپنی بیٹیوں کو لے کر تھانے سے ذلالت سمیت نکل آئی۔کیا پولس والوں کی کوئی ماں بہن نہیں ہوتی۔میرا ایک بیٹا بھی قتل ہو گیا اور ذلالت بھی میرے مقدر میں کیوں؟میں انصاف کی اپیل کرتی ہوں میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔ کہ میرے بیٹے کے اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ایسے پولیس افسر جو پورے محکمے کی رسوائی کرتے ہیں ایسے راشی تفتیشی سے میری جان چھڑوائی جائے۔تاکہ انصاف کا بول بالا ہو سکے۔

  • یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی کی طرف سے پی آئی اے کے آڈٹ کی تاریخ مقرر

    یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی کی طرف سے پی آئی اے کے آڈٹ کی تاریخ مقرر

    اسلام آباد:یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کے آڈٹ کی تاریخ مقرر کر دی۔ آن لائن آڈٹ کے بعد فزیکل جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    ادھر یہ ساری صورتحال اس وقت سامنے آئی جب سینٹ کی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین ہدایت اللہ کی زیرصدارت ہوا۔ارکان کمیٹی نے ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی پراعتراض کیا تو وزیر ہوابازی سعد رفیق دفاع میں سامنے آ گئے۔

    سعدرفیق نے کہا کہ یہ تعیناتی قانون کے مطابق ہوئی ہے،کیوں کہ ڈی جی کسی کی مانتے نہیں ہیں اس لئےلوگ ان کے خلاف ہیں۔سعد رفیق نےواضح کیا کہ سخت فیصلے کرنےسے ہی نظام چلے گا۔

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے بریفنگ میں بتایا کہ سیفٹی تحفظات دورکرنے پر یورپی ایئرسیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر پابندی ختم کر دی ہے،اکتوبر میں آن لائن آڈٹ کے بعد ٹیم فزیکل جائزہ بھی لے گی۔

    سی اے اے نے ایئر سیفٹی معیار نظر انداز کر دیے، یورپی سیفٹی ایجنسی نے ایکشن لےلیا

    انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں اے 380کو آپریٹ کرنے کی اجازت دی تو ہماری ایئر لائن کا نظام خراب ہو گا لہذا کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سال 2022 کے شروع میں یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے کہا تھا کہ پی آئی اے فلائٹس کی یورپ میں داخلے کی بحالی سے پہلے وہ خود اس کا آڈٹ کرے گی۔

    یہ بھی یاد رہےکہ یورپی سیفٹی ایجنسی نے جولائی 2020 میں پی آئی اے کے یورپ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔کراچی میں پیش آنے والے حادثے کے بعد یورپ نے تمام فلائٹس پر پابندی لگا دی تھی۔

    پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں پر پابندیاں ختم نہ کرنے فیصلہ:یورپین ادارے

    اس کے بعد عالمی سطح پر کام کرنے والے سینکڑوں پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا اور پی آئی اے کے بہت سے روٹس بند کر دیے گئے۔انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او)نے رواں ماہ کہا تھا کہ اس نے پاکستانی حکام کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا ہے اور ان سے مطمن ہے۔

    یوروپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یورپ کےلیے پی آئی اے کی معطل فلائٹ اپریشن…

    تاہم یورپی ایوی ایشن ایجنسی نے کہا تھا کہ وہ پی آئی اے سے پابندی ہٹانے سے پہلے خود جائزہ لے گی۔

  • حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد نے موجودہ سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ موازنہ نواز شریف حکومت اور عمران خان کی معیشت کا ہوگا کابینہ میں بند لفافہ لہرایا جاتا ہے ، ملک ریاض کے پیسے پر کسی نے نوٹس لیا؟ 2017 کے بعد ایسا ملک ہلا اب سنبھلنے کو نہیں آرہا کونسا جرم ہے جو عمران خان نے نہیں کیا،سول نافرمانی، بل جلاؤ، سپریم کورٹ پر کپڑے ٹانگو، شاہراہ دستور پر قبریں، کیا کیا نہیں کیا گیا ؟سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریڈ زون میں آنے کی اجازت دی لیکن عمران خان نے ریڈ زون میں ہنگامہ کر کے توہین عدالت کر دی لیکن سپریم کورٹ خاموش رہی اور کہا شاید خان صاحب کے پاس ہمارے احکامات نہیں پہنچے ،جس نے تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ بولے اسے صادق و امین کا لقب دے دیا گیا،آپ نے ایک جھوٹے شخص کو صادق اور امین ڈکلیئرڈ کیا ،وہ صادق و امین کا لقب دینے والا آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے،تاریخ کے جھوٹے شخص نے تین سو کنال کے محل کو ریگولائز کرایا،جعلی دستاویزات جمع کرائے،عمران خان ابھی بھی سپورٹ کے بغیر نہیں، ان کے حمایتی بیٹھے ہوئے ہیں جو سب کر رہے ہیں۔ شیری مزاری کے لیے راتوں رات عدالت کھل جاتی ہیں اور مریم نواز کے لیے جج چھٹی پر چلا جاتا تھا ،کیا سارے سوموٹوصرف ن لیگ اوراتحادیوں کیلئے ہیں؟ میں x y z نہیں کہتی میں نام لیتی ہوں ترازو ٹھیک ہوگا تو پاکستان اپنے آپ ٹھیک ہوجائیگا

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ طیبہ کیس میں ویڈیو پر نیب کو بلیک میل کرتا رہا، کسی نے سو موٹو نہ لیا سرینہ عیسٰی، آصف زرداری کی بہن کو تو انصاف ہی نہیں ملا، مریم نواز ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے علیمہ خان کو جرمانہ کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں چلے گا،یہ ایمپائرز سے مل کر کھیلتا ہے جب سے وہ ہٹے یہ دھڑام سے گرا،ابھی بھی یہ سپورٹ کے بغیر نہیں ہے، تفصیل میں گئی تونئے محاذ کھل جائیں گے، عمران خان کو کورٹ جان کو خطرے پر نہیں بلایا جاتا مجھے پاسپورٹ مانگنے پر دن میں بینچ بنتے اور ٹوٹتے ہیں،سیاہ سفید کرنے والا شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح گوگی بھاگ گئی،شہزاد اکبراور فرح گوگی کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے،قاضی فائزعیسٰی کیس پر کہا گیا، ایگزیکٹو ڈومین ہے، کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی،عمران خان کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کی انکوائری روک دی گئی، کیوں؟ میں سلام کا جواب دوں عدالت لائن حاضر کر لیتی ہے عمران نیازی اپنی ضمانت کا کیس کرتا پھر کہتا ہے جان کو خطرہ ہے اور عدالت مان لیتی اور میرے پاسپورٹ کی درخواست پر روز بینچ ٹوٹ جاتے یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی گفتگو کو سپورٹ کرتے ہیں، احتساب سب کے لیے ضروری ہے ہمیں اجنبی ہونے کا احساس کیوں دلایا جا رہا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں جو حوالے دیئے گئے،اچھا مواد ہے، اسی کی بنیاد پر ہم نے آگے بڑھنا ہے،اگر آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں کوئی مشکل پیدا نہ کروں تو میں بھی آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں،ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں کہ عوام بغاوت پر اتر آئیں،حکومت کو چلنے تو دیا جائے پھرہی استحکام اور اکانومی بہتر ہو گی لیکن اس کے لیے حکومت کو کام کرنے دیں مشکلات پیدا نہ کریں ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 افراد ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں، ہمیں آئین کو بحال کرنے کے لیے 30سال جدوجہد کرنا پڑتی ہے اتحادی جماعتیں جمہوری نظام چا ہتی ہیں ،نظرآرہا ہے کہ کچھ افراد کو جمہوری نظام ہضم نہیں ہورہا ہے، ون یونٹ نظام آپ سے برداشت نہیں ہورہا، آپ سے برداشت نہیں ہورہا کہ آپ کے سلیکٹڈ نے تاریخی قرض لیا،ہمارا 70 سال کا قرض ایک طرف اور عمران کا 4 سال کا قرض ایک طرف ،ہم نے چار سال ظلم کہ باوجود، جہاں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، زرداری کو دوائیاں نہیں مل رہی تھیں، تو ہماری بات نہیں سنی جاتی تھی۔ آج جب اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی تو کچھ سازشی لوگوں سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ ہم نے نہ تو تشدد کا راستہ اپنایا نہ ہی غیر مناسب زبان استعمال کی ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے غیر متنازعہ رہیں،تمام سیاسی جماعتیں فل بینچ کا مطالبہ کرتی ہیں، فل بینچ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا،عمران خان کے دباؤ میں آکے آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ فل بینچ کا مطالبہ سب جماعتوں کا ہے،یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں،اے این پی کے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آئین کو بہت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،آئین کی ایسی تشریح میں نے پہلے نہیں دیکھی، ق لیگی رہنما طارق بشیرچیمہ کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ فل بینچ کے ہمارے مطالبے کومانے گی

  • سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے

    اسلام آباد:سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی بھی سرگرم دکھائی دیتی ہے ، یہی وجہ ہےکہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر مشاورت کے معاملے پر چیئرمین عمران خان کے زیر صدارت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اسمبلی کی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چودھری، شیریں مزاری، فرخ حبیب، شہباز گل، علی زیدی، عامر کیانی اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور عدالتی امور پر غور کیا گیا، اجلاس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی، سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے موخر ہونے سے متعلق بھی امور پر بات چیت کی گئی۔

    پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری آج ہونے کا امکان

    اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ شریف، زرداری گٹھ جوڑ نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، پنجاب میں جو کچھ ہوا انکی سیاست عیاں ہوگئی ہے، قوم ملکر انکی ان سازشوں کا ناکام بنائے گی۔

    دوسری طرف حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، او پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

  • گوجر خان :25 ارب روپے کی خطیر رقم  ہائوسنگ سوسائٹیوں والے لے اڑے

    گوجر خان :25 ارب روپے کی خطیر رقم ہائوسنگ سوسائٹیوں والے لے اڑے

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)ایک اندازے کے مطابق گوجر خان شہر اور گرد ونواح کی عوام سے 25 ارب روپے کی خطیر رقم ہائوسنگ سوسائٹیوں والے لے اڑے اور سب کچھ آرڈی اے راولپنڈی ،ریونیو آفیسر راولپنڈی اور ریونیو آفیسرز گوجر خان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا گوجر خان کے بینکوں سے لوگوں نے اپنی جمع پونچی نکلوا کر ان ہائوسنگ سوسائٹی والوں کو دیں گوجر خان کے بینک خالی ہو گئے۔ آرڈی اے نے اب تھانہ گوجر خان میں باقاعدہ ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیاہے۔

    تفصیلات کے مطابق یہ ہائوسنگ سوسائٹیز غیر قانونی کام کررہی تھیں اور ان کے پاس این او سی ہی نہیں تھا جبکہ این او سی نہ ہونے کے باوجود محکمہ ریونیو گوجر خان ان ہائوسنگ سوسائٹیز کی زمینوں کے انتقال کرتا رہا اور زمینوں کے ’’ فرد‘‘ جاری کرتا رہا ۔ آرڈی اے کے قانون کے مطابق ان کے این او سی کے بغیر کوئی ہائوسنگ اسکیم نہیں بن سکتی ۔ تاہم محکمہ ریونیو نے این او سی کے بغیر گوجر خان میں جاری ان ہائوسنگ اسکیموں کے لئے مدد کی اور کیوں کی یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ جس جگہ ہائوسنگ اسکیم بنائی جا رہی تھی وہ زرعی رقبہ ہے مختلف لوگوں کی حصہ داری ہے۔ جبکہ اس جگہ پر انگریز دور کا ریلوے پھاٹک بھی اور ریلوے کی زمین بھی ہے۔ جبکہ اسی جگہ پر سرکاری زمین دیہہ شاملات بھی ہے ۔ جسے محکمہ مال گوجر خان کے سامنے ہائوسنگ اسکیموں والے دن دیہاڑے قبضہ کرتے رہے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو راولپنڈی نے 25-6-2022 کو اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کو لیٹر لکھا جو ساتھ لف ہے لیکن اس کے باوجود کوئی عملدرآمد نہیںہوا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے جن سوالات کا جواب مانگا ان کوجواب نہیں دیا گیا اور یہ غیر قانونی کاروباری جاری رہا۔مبینہ طور پرگوجر خان کےمحکمہ مال کے افسران اور دیگر عملہ ہائوسنگ سوساٹئیز کے دفاتروں میں بیٹھ کر کاغذات اور خرید وفروخت میں ملوث رہا ۔ جبکہ ریلوے کی زمین اور دیہہ شاملات جو ہزاروں کنال ہے محکمہ مال گوجر خان نے کس طرح اجازت دی ۔

    محکمہ ریونیو راولپنڈی اور محکمہ ریونیو کس طرح سرکاری زمینوں پر قبضے کرواتا رہا ؟ آردی اے نے متعلقہ اشخاص کے خلاف مقدمہ تو درج کروا دیا ہے لیکن کیا اس ایف آئی آر درج کروانے پر عوام کے پیسے واپس ہوں گے ؟ یقینا نہیں کیا ان کو سزا ملے گی ؟ چیئرمین نیب آفتاب سلطان ایک اچھی شہرت کے مالک ایک ایماندار اور دیانت دار انسان ہے جن کو میں جانتا ہوں ۔ امید ہے وہ گوجر خان کے اس میگا اسیکنڈل میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے اورسینکڑوں تعداد لوگوں کی جمع پونجی واپس دلوانے میںاپنا کردارادا کریں گے جبکہ ڈی جی انٹی کرپشن پنجاب بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔