Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آبادپولیس کی کاروائی:9ملزمان گرفتار:مسروقہ موٹرسائیکل،2370گرام چرس،3پسٹل30بور،رائفل برآمد

    اسلام آبادپولیس کی کاروائی:9ملزمان گرفتار:مسروقہ موٹرسائیکل،2370گرام چرس،3پسٹل30بور،رائفل برآمد

    اسلام آ باد:کیپیٹل پولیس کامنشیا ت فروشوں اور جر ائم پیشہ عنا صر کی گرفتار ی کیلئے بڑ ے پیما نے پرکر یک ڈاؤن جاری،گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں سے مختلف کارروائیوں کے دوران 09ملزمان گرفتار، ملزمان کے قبضہ سے مسروقہ مو ٹر سائیکل، 2370گر ام چرس اور وارداتو ں میں استعما ل ہو نے والا ا سلحہ تین عددپسٹل 30بور اورایک عدد رائفل معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا گیا،ملزمان کیخلاف مختلف تھانہ جات میں مقدمات درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈی آئی جی آ پر یشنز سہیل ظفر چھٹہ کے احکامات کی روشنی میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کارروائیوں کے دوران 09ملزمان کو گرفتار کرکے مسروقہ مو ٹر سائیکل، 2370گر ام چرس اور تین پسٹل 30بور اور رائفل معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا گیا،سہا لہ پولیس نے تین ملزمان ارشد محمود، فیصل رفیق اور متین اللہ کو گرفتار کرکے تین پسٹل 30بور معہ ایمو نیشن برآمد کرلیا، انڈسٹریل ایریا پولیس نے منشیات فروشی میں ملوث ملزم آ صف خا ن کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے 1120گر ام چرس برآمد کرلی،

    پولیس نے منشیا ت فروشی میں ملوث ملزم سعید کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے1250گر ام چرس برآمد کرلی، بنی گالہ پولیس مو ٹر سائیکل چوری میں ملوث ملزم عامر جا وید کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے مسروقہ مو ٹر سائیکل اور ایک عدد رائفل برآمد کرلی، گرفتار ملزمان کے خلاف مختلف مقدما ت درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی، جبکہ مجرمان اشتہا ریو ں کی گرفتار ی کے لیے چلا ئی جا نے والی خصوصی مہم کے دوران تھا نہ ما رگلہ، شمس کا لو نی اور انڈسٹر یل ایر یا پولیس ٹیمو ں نے تین مجرمان کو گرفتار کرلیا، اسلام آ باد کیپیٹل پولیس شہریوں کے جان و مال کے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے، شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکو ک چیزیا سرگرمی کے بارے میں ریسکیو ون فائیو پر فوراً اطلا ع دیں۔

  • غیرملکی خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس متحرک

    غیرملکی خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس متحرک

    غیرملکی خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس متحرک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر ملکی خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو پولیس ایکشن میں آ گئی، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا مگر تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا

    گزشتہ روز شکرپڑیاں میں دوغیرملکی خواتین سمیت تین افراد حراساں کرنے کا واقع پیش آیا اوباش نوجوانوں نے غیر ملکی خواتین کو گھیر لیا ،غیر ملکیوں کو ہجوم کی جانب سے کافی دیر تک حراساں کیا جاتا رہا اسلام آباد پولیس کی جانب سے گزشتہ روز سکیورٹی کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا تھا، غیر ملکی خواتین کو حراساں کیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آگئیں جس کے بعد اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے اعلی افسران نے واقع کا نوٹس لے لیا، سی آئی اے کو واقع کی ویڈیوز فراہم کردی گئیں ،ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک سی آئی اے کو دے دیا گیا، ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،

    اسلام آباد پولیس نے غیر ملکی خواتین کو حراساں کرنے والے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا ،درج مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147، 149، 354 اور 509 شامل کی گئی ہیں غیر ملکی خواتین کو شکر پڑیاں موونومنٹ پر حراساں کیا گیا 14 اگست کوموونومنٹ آنے والی فیملیز کے لیے پولیس اہلکار تعینات ہی نہیں گئے تھے اوباش لڑکوں کی جانب سے غیرملکی خواتین کو ایک گھنٹے تک حراساں کیا جاتا رہا

    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو غیر ملکی خواتین کو ہراساں کیا گیا تو کئی لوگ انکی مدد بھی کرتے رہے، خواتین ہراساں کرنے کی وجہ سے انتہائی خوف کا شکار تھیں،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

  • اسلام آباد:ٹک ٹاک ویڈیوکا شوق جان لےگیا،ایک لڑکی جانبحق دوسری زخمی

    اسلام آباد:ٹک ٹاک ویڈیوکا شوق جان لےگیا،ایک لڑکی جانبحق دوسری زخمی

    اسلام آباد:ٹک ٹاک ویڈیوکا شوق جان لےگیا،ایک لڑکی جانبحق دوسری زخمی ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے حادثہ ایک نوجوان لڑکی اداوہ طارق جابحق دیگر دو زخمی حادثہ قائد اعظم یونیورسٹی کے قریب پیش آیاسڑک پر ویڈیو بنارہی تھی کہ اچانک وین سامنے آگئ ڈرائیور نے لڑکیوں کو بچانے کی کوشش کی مگر گاڑی بے قابو ہوگئی

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق یہ المناک حادثہ قائد اعظم یونیورسٹی کے قریب پیش آیا،یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران جابحق ہونے والی لڑکی زیر تعلیم کزن سے ملنے آئی تھی ،

    دوسری طرف ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ جانبحق ہونے والی لڑکی سڑک پر ویڈیو بنارہی تھی کہ اچانک وین سامنے آگئئ،ڈرائیور لڑکیوں کو نہ بچا سکا،یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جانبحق ہونے والی لڑکی کا نام اداوہ طارق ہے اور وہ ساہیوال کی رہنے والی تھی

     

    ادھر ہسپتال ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹک ٹاک بنانے والی لڑکی اداوہ طارق موقع پر ہی جانبحق ہوگئی تھی جبکہ اس کی دوست شدید زخمی ہے جو کہ اب ہسپتال میں زیرعلاج ہے،لڑکی کے ورثا کواطلاع کردی گئی ہےاوردوسری طرف پولیس بھی اس واقعہ کی انکوائری کررہی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے ڈرائیور کو بھی گرفتار کررکھا ہے ، تاہم ڈرائیور کا کہنا ہےکہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ، لڑکی کو ٹک ٹاک کا شوق لے بیٹھا ہے

  • پنجاب کے بعد اسلام آباد میں بھی کاروباری اوقات کار کی پابندی ختم

    پنجاب کے بعد اسلام آباد میں بھی کاروباری اوقات کار کی پابندی ختم

    اسلام آباد:توانائی بحران سے بچنے کےلیے حکومتی فیصلوں میں تبدیلیاں‌ آنے لگیں،پہلے پنجاب میں عوام کومعاشی پرییشانیوں سےبچانے کے لیے اوقات کار میں تبدیلی کی گئی اور اب وفاقی حکومت نے بھی پنجاب حکومت کے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ نے توانائی بچت مہم کے سلسلے میں عائد کاروباری اوقات کار کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    اس حوالےسے اسلام آباد سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے باضابطہ اعلان کر دیا۔ دکانیں رات 9 ، شادی ہال 10 اور ہوٹلز 11:30 بجے بند کرنےکی پابندی ختم ہوگئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب حکومت نے جلد دکانیں بند کرنے کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے پنجاب میں کاروباری اوقات کار کی پابندی کے خاتمے سے متعلق تاجروں کے مطالبے پر پابندی ختم کردی۔

    پنجاب میں رات 9 بجے دکانیں بند کرنے کے حکم نامے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں اتوار کے روز بھی جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے سیکریٹری انڈسٹری کو جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ اداروں کووزیراعلی پنجاب کے احکامات سے متعلق آگاہ کردیا گیا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ وزیراعلیٰ‌ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی طرف سے کاروباری طبقے کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے اوقات کار میں نرمی کی گئی تھی جسے اپوزیشن نے ناپسند کرتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کے خلاف ایک سازش قرار دیا تھا ، تاہم چوہدری پرویز الٰہی نے ان الزامات کی پرواہ کئے بغیر پنجاب بھر میں رات دیرتک کام کرنے کی اجازت دے دی تھی تاکہ لوگ اپنے گزربسر کے لیے کچھ بہتر طریقے سے کمالیں‌

  • آپکو صرف آنکھ نہیں کان کے آپریشن کی بھی ضرورت ہے

    آپکو صرف آنکھ نہیں کان کے آپریشن کی بھی ضرورت ہے

    الیکشن کمیشن میں این اے 240 میں بیلٹ پیپرز چھیننے اور بدامنی کیس کی سماعت ہوئی

    پریذائڈنگ افسر نے کہا کہ پہلی انکوائری کا جواب جمع کروا دیا ، دوسری میں کوئی نوٹس نہیں ملا،وکیل پریذائڈنگ افسر نے کہا کہ میرے موکل نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے،ممبر بلوچستان نے استفسار کیا کہ جب لوگ بیلٹ پیپرز لیکر جا رہے تھے انتخابی میٹریل چھوڑ کر پریذائیڈنگ افسر باہر چلے گئے، پریذائڈنگ افسر نے کہا کہ باہر نہیں گیا تھا جھگڑنے والے لوگ مجھ سے ہی بات کر رہے تھے،ویڈیو میں میری موجودگی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے،

    وکیل پی ایس پی نے کہا کہ پولیس نے بیلٹ پیپرز چوری کرنے والے کو شناخت کیے بغیر کیوں چھوڑا؟ تمام پولنگ اسٹیشن حساس اور حساس ترین تھے،پولیس کی نفری سیکیورٹی پلان کے مطابق کیوں موجود نہیں تھی،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ کیا پولیس کی الیکشن میں موجودگی ضروری ہے؟ وکیل پی ایس پی نے کہا کہ بطور سیاسی جماعت مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں، پولیس کو نکال دیں تو الیکشن شفاف ہوسکتے ہیں، پولیس نے اپنے بندوں کیخلاف کچھ نہیں کیا، سیاسی کارکنوں پر مقدمہ درج کر دیا،

    ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ بطور پریذائیڈنگ افسر آپ کا کام تھا کہ غفلت برتنے والے اہلکار کو گرفتار کراتے ،ممبر خیبر پختونخوا نے سوال کیا کہ کیا آپ نے گرفتار افراد کی شناخت کی ہے؟ پریذائڈنگ افسر نے کہا کہ کمیشن اجازت دے تو آنکھ کا آپریشن کروانا ہے جس پر ممبر خیبر پختونخوا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو صرف آنکھ نہیں کان کے آپریشن کی بھی ضرورت ہے،پریذائیڈنگ افسر کے وکیل نے تیاری کیلئے وقت مانگ لیا الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے حلقہ این اے 240 کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی

  • اسلام آباد :نیوروات گرڈاسٹیشن کا پاورٹرانسفارمرجل گیا :کئی علاقے بجلی سے محروم

    اسلام آباد :نیوروات گرڈاسٹیشن کا پاورٹرانسفارمرجل گیا :کئی علاقے بجلی سے محروم

    اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت میں 500 کے فی کے نیو روات گرڈ اسٹیشن کے پاور ٹرانسفارمر نمبر ایک میں آگ لگ گئی جس کے بعد وفاقی دارالحکومت کے کئی علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔ آئیسکو ترجمان کا کہنا ہے کہ متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی کی کوشش کررہے ہیں۔

    آئیسکو کے مطابق اسلام آباد میں 500 کے وی کے نیو روات گرڈ اسٹیشن کے پاور ٹرانسفارمر نمبر ایک پر آتشزدگی کے نتیجے میں چکری، چکوال، بھگوال، تلہ گنگ اور چوہا سیدان کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    آتشزدگی سے شاہ ڈنڈوت، بلاول ٹمن، نیو چکری اور گرد و نواح کے علاقے بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔

    ترجمان آئیسکو کا کہنا ہے کہ این ٹی ڈی سی اور دیگر فارمیشنز کیساتھ مسلسل رابطہ ہے، وفاقی دارالحکومت کے متاثرہ علاقوں کی بجلی متبادل ذرائع سے بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    دوسری طرف ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 439 میگا واٹ تک پہنچ گیا جس کے باعث شہروں میں 6 تا 8 اور دیہی علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔

    این ٹی ڈی سی نے کے الیکٹرک کا کم بجلی کا دعویٰ مسترد کر دیا

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشوں کے باوجود بجلی کی مطلوبہ پیداوار پوری نہ ہوسکی، ملک میں بجلی کا شارٹ فال ساڑھے 6 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گیا۔

    ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 18 ہزار 461 میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی کل طلب 24 ہزار900 میگا واٹ ہے۔ ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق سب سے زیادہ نجی شعبے کے بجلی گھروں سے 7 ہزار 500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

    کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہونے کا امکان

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق پانی سے 6 ہزار 700 میگاواٹ بجلی بنائی جارہی ہے۔ اسی طرح جوہری ایندھن سے 2 ہزار 425 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ سرکاری تھرمل پلانٹس سے 830 میگا واٹ، ونڈ پاور پلانٹس سے 786 میگا واٹ، سولر پلانٹس سے 145 میگاواٹ اور جوہری ایندھن سے 2 ہزار 425 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

    شارٹ فال میں اضافے کے سبب ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، شہری علاقوں میں آٹھ گھنٹے

  • عمران خان نے کے ٹو کی چوٹی کے فضائی مناظر شیئر کرکےبڑاپیغام جاری کردیا

    عمران خان نے کے ٹو کی چوٹی کے فضائی مناظر شیئر کرکےبڑاپیغام جاری کردیا

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم 12 موسمیاتی زونز والی دنیا کی متنوع ترین زمین پر رہتے ہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا پر کے ٹو کی ایک ویڈیو شیئر کی اور اس کے ساتھ ایک کیپشن بھی تحریر کیا۔

     

    چیئرمین تحریک انصاف نے ٹوئٹر پر کے ٹو پہاڑ کی چوٹی کے فضائی مناظر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ملک کے اندر اور باہر کتنے لوگوں کو یہ احساس ہے کہ ہم دنیا کی ایک متنوع ترین دھرتی پر رہتے ہیں جو 12 موسمیاتی زونز کی حامل ہے۔

     

     

     

    یاد رہے کہ اس سال دنیا بھر سے 100 سے زائد کوہ پیماؤں نے کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کی مہم میں حصہ لیا، کے ٹو کا شمار دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے۔

     

    دنیا میں 8 ہزار میٹر سے بلند صرف چودہ چوٹیاں ہیں، جن میں سے پانچ پاک سرزمین کا حصہ ہیں، جن میں کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم ون، بروڈ پیک اور گاشر برم ٹو شامل ہیں، جبکہ سات ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی تعداد 108 ہے،


    کے ٹو


    کے ٹو جسے ‘ماﺅنٹ گڈون آسٹن اور شاہ گوری’ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی سب سے بلند جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ کے بعد پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 8611 میٹر ہے اور یہ سلسلہ کوہِ قراقرم میں واقع ہے، اسے دو اطالوی کوہ پیماﺅں نے 31 جولائی 1954 کو سب سے پہلے سر کیا تھا۔

    کے ٹو کو ماﺅنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے، کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ پر 2238 ۔ رواں برس کے ٹو کو پہلی بار سر کرنے کے ساٹھ سال مکمل ہونے کے موقع پر پہلی بار جولائی میں پاکستانی کوہ پیماﺅں کی ایک ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کیا۔

    اگرچہ اس سے قبل پاکستانی کوہ پیما انفرادی طور پر کے ٹو کی چوٹی سر کر چکے تھے لیکن پہلی مرتبہ بطور ٹیم وہ ایک ہی وقت میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر پہنچے۔


    نانگا پربت


    نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے، اس کی اونچائی 8125 میٹر ہے اور اسے دنیا کا ‘قاتل پہاڑ’ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر چڑھنے میں اب تک سب سے زیادہ کوہ پیما مارے گئے ہیں اسے ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل نے سب سے پہلے 3 جولائی 1953 میں سر کیا تھا۔

    فیری میڈو یا پریوں کا میدان نانگا پربت کو دیکھنے کی سب سے خوبصورت جگہ ہے، اس جگہ کو یہ نام 1932 کی جرمن امریکی مہم کے سربراہ ولی مرکل نے دیا۔ سیاحوں کی اکثریت فیری میڈو آتی ہے یہ 3300 میٹر بلند ہے۔

    کوہ ہمالیہ کے اس پہاڑ کو سر کرنے یا ٹریکنگ کے لیے جانے والے غیر ملکی سیاحوں کی آمد کو گزشتہ برس دہشت گردوں کے ایک حملے کے بعد کافی دھچکا لگا جس میں دس کے قریب غیر ملکی سیاح ہلاک ہوگئے تھے، کہا جاتا ہے کہ اس پہاڑ کو دیکھنے سے خوبصورتی سے زیادہ ہیبت انسان کے دل پر اثر کرتی ہے۔


    گاشر برم ون


    گاشر برم ون پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں سب سے اونچی چوٹی ہے، اسے کے فائیو اور چھپی چوٹی کے ساتھ بلتی زبان میں ‘خوبصورت پہاڑ’ بھی کہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے شمال میں سلسلہ کوہ قراقرم میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8080 میٹر ہے۔

    گاشر برم ون کو سب سے پہلے 5 جولائی 1958 میں دو امریکیوں پیٹ شوننگ اور اینڈی کافمان نے سر کیا۔


    بروڈ پیک


    بروڈ پیک دنیا کی 12 ویں اور پاکستان کی چوتھی سب سے اونچی چوٹی ہے، یہ قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے اور اس کی بلندی 8047 میٹر ہے، اسے سب سے پہلے 9 جون 1957 کو ایک آسٹرین ٹیم نے سر کیا۔

    یہ کے ٹو سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اس کی چوٹی قریباً ڈیڑھ کلو میٹر لمبی ہے۔ اس لیے اس کا نام ‘بروڈ پیک’ ہے۔ مقامی نام فائے چان کنگری یا پھلچن کنگری ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے اس میں ایک نہیں دو چوٹیاں ہیں اور اکثر کوہ پیما اسی باعث غلطی سے 8015 میٹر بلند چوٹی پر رُک کر واپس چلے جاتے ہیں اور 8047 میٹر کی بلندی تک نہ جانے پر کامیاب قرار نہیں پاتے۔


    گاشر برم ٹو


    گاشر برم ٹو دنیا کا تیرہواں اور پاکستان کا پانچواں سب سے اونچا پہاڑ پے، یہ قراقرم سلسلے میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8035 میٹر ہے۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان واقع ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1956 میں ایک آسٹریائی ٹیم کے موراویک، لارچ اور ویلن پارٹ نے سر کیا۔


    گاشر برم فور


    گاشر برم فور دنیا کا 17 واں جبکہ پاکستان کا چھٹا بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7925 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کے درمیان گاشر برم کی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔

    اس پہاڑ کو سب سے پہلے 1928 میں اطالوی کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا۔


    دستاغل سر


    یہ قراقرم کے ایک پہاڑی سلسلے ہسپر موزتاگ کا سب سے بلند پہاڑ ہے جو کہ شمالی علاقہ جات میں گوجل کے علاقے میں واقع ہے، یہ دنیا کا 19 واں جبکہ پاکستان کا ساتواں بڑا پہاڑ ہے جس کی بلندی 7885 میٹر ہے۔

    اس پہاڑ کی خاص بات اس کی پانچ کلو میٹر طویل ڈھلوانی اونچائی ہے اور 7400 میٹر سے اوپر اس میں تین چوٹیاں ہیں، جن میں سے شمالی چوٹی 7885 میٹر، وسطی 7760 میٹر اور جنوب مشرقی 7535 میٹر بلند ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1960 میں آسٹرین کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا تھا۔


    کیونانگ چیش


    یہ ہسپر موزتاگ کے سلسلے کی دوسری بلند ترین پہاڑی ہے جس کی بلندی ہے 7823 میٹر ہے، اسے دنیا کا اکیسواں جبکہ پاکستان کا آٹھواں بلند ترین پہاڑ کہا جاتا ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1971 میں ایک پولش ٹیم نے سر کیا تھا اور اس کے بعد یہ صرف مزید ایک بار 1988 میں ہی سر ہو سکی، جس کے بعد سے اب تک یہاں جانے والے کوہ پیماﺅں کے ہاتھ ناکامی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


    ماشربرم


    ماشربرم جسے ‘کے ون’ بھی کہا جاتا ہے، گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے میں واقع ہے یہ 7881 میٹر بلند ہے اور دنیا کا 22 واں بلند ترین جبکہ پاکستان کا نواں بلند ترین پہاڑ ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ماشربرم نام کا مطلب ہی واضح نہیں، تاہم اندازہ ہے کہ یہ ماشادار (لوڈ گن) اور برم (پہاڑ) سے مل کر بنا ہے کیونکہ اس کی دوہری چوٹی کسی بھری ہوئی بندوق جیسی لگتی ہے، تاہم ایک حلقے کا کہنا ہے کہ ماشا مقامی زبان میں ملکہ کو کہا جاتا ہے اور درحقیقت اس کا نام چوٹیوں کی ملکہ’ ہے۔’

    اسے سب سے پہلے 1960 میں امریکی اور پاکستانی کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا تھا۔


    بتورا سر


    بتورا سر جسے ‘بتورا ون’ بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا 25 واں جبکہ پاکستان کا دس واں بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7795 میٹر ہے۔

    راکا پوشی کے قریب واقع یہ پہاڑ زیادہ مشہور نہیں کیونکہ یہ ہنزہ وادی کے آخری کونے میں واقع ہونے کے باعث کوہ پیماﺅں کی نظروں سے دور ہی رہتا ہے۔

    اس پہاڑ کو 1967 میں سب سے پہلے سر کیا گیا تھا۔

  • ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمت میں 48 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا۔ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف دالوں کی قیمت میں اڑتالیس روپے کلو تک اضافہ کردیا گیا ہے، اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔

    پاکستان میں مہنگائی12فیصد سے بڑھ کر21فیصد تک پہنچ گئی:ایشین ترقیاتی بینک

    نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف دالیں 48 روپے فی کلو تک مہنگی کی گئی ہیں، کالے چنے کی فی کلو قیمت میں 48 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کالے چنے کی قیمت 172 روپے سے بڑھا کر 220 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ دال مسور 40 روپے اضافے بعد 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، جب کہ لال لوبیا 35 روپے مہنگا کرکے نئی قیمت 270 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

    مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر اب ثابت مسور بھی 35 روپے مہنگی میسر ہوگی، اور اس کی نئی قیمت 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، دال مونگ 30 روپے اضافے بعد 200 روپے فی کلو میں ملے گی، جب کہ دال چنا کی قیمت 190 روپے سے بڑھا کر 220 روپے کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلےادویات کی قیمتوں میں 300فیصد تک اضافہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں جان نکالنے لگیں۔میڈیسن مارکیٹ میں ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات مہنگی۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

    شہر میں محکمہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی شہر میں ادویات کی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔میڈیسن مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔

    حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ،شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ہونے کیساتھ عام اسٹورز پر غائب بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے لواحقین پریشان ہیں۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

  • ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    اسلام آباد: ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان، ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک میں ادویات قلت بڑھتی جائے گی جس کے نتیجے میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات پیش آئیں گی۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد نے وائس چیئرمین عاطف اقبال کی قیادت میں وزیراعظم کی ہدایت پر ادویات کی قلت کے معاملے پر بنائی گئی پی ایم انسپیکشن کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔پرائم منسٹر انسپیکشن ٹیم نے ادویات کی قلت سے متعلق انکوائری شروع کر رکھی ہے۔

    کمیٹی میں محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں کے اعلی حکام بھی شامل ہیں۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاضی منصور دلاور نے بتایا کہ پی پی ایم اے کے اراکین نے وزیراعظم انسپیکشن کمیٹی سے ملاقات کی اور کمیٹی کے سامنے اپنے مطالبات اور تجاویز رکھی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے، خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے 30 سے 40 فیصد ادویات وائبل ہی نہیں ہیں، ان ساری چیزوں سے انڈسٹری متاثر ہورہی ہے ہم خود سے قیمتیں بڑھا نہیں سکتے، جو کم قیمت ادویات ہیں ان پر لاگت زیادہ آرہی ہے، وہ مارکیٹ میں نہیں مل رہیں، جب لاگت زیادہ آئے گی تو انڈسٹری کیسے چلے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر لکھتے ہی ملٹی نیشنل کمپنی کی ادویات ہیں، لوگ مانگتے ہی وہ ہیں اس لئے ان کا پتہ چل جاتا ہے کہ ان ادویات کی قلت ہے۔ہم نے بتایا کہ ہم سے سیلز ٹیکس کی مد میں 35سی 40 کروڑ لے لیا جو واپس نہیں ملا، ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس کا انڈسٹری پر فرق پڑا ہے۔قاضی منصور کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال پہلے 20 فٹ کنٹینر کا انٹرنیشنل فریٹ ریٹ 1200 ڈالر تھا جو اب 10 ہزار ڈالر ہوگیا، اس وجہ سے ادویات کی لاگت کہیں سے کہیں جاپہنچی ہے، ہم نے حکومت سے ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے، ساری سفارشات اور تجاویز انہیں دی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے انہوں نے پوچھا ہے اس بحران سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا ، تو ہم نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ اگر فوری قیمتیں دے دی جائیں تو 90 دن لگیں گے اور صرف قیمتیں نہیں بلکہ ہمیں ہمارا سیلز ٹیکس کی مد میں لیا گیا پیسہ بھی واپس کرائیں، اگر یہ تاخیر کریں گے تو مزید ادویات کی قلت ہوگی۔

  • امریکی ویزوں کےمنتظر400افغان خاندانوں نےاسلام آبادہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی

    امریکی ویزوں کےمنتظر400افغان خاندانوں نےاسلام آبادہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں سے اسلام آباد کی گرین بیلٹ کا قبضہ چھڑانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے تاکہ امریکا میں سیاسی پناہ اور ویزا حاصل کیا جا سکے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر گرین بیلٹ خالی کرنے اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔درخواست گزار پیر فدا حسین ہاشمی ایڈووکیٹ نے سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے کو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد 400 سے زائد افغان خاندان غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے جنہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کی اور سیکٹر ایف 6 کی گرین بیلٹ پر قبضہ کرلیا۔

    فدا حسین ہاشمی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ افغانیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں امریکی ویزوں کا وعدہ کیا گیا تھا اور اب اگر وہ افغانستان واپس آئے تو انہیں سزائے موت دی جائے گی۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا ہے کہ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر فریقین کو افغان باشندوں سے گرین بیلٹ خالی کرنے اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔