Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • امن و امان  خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    امن و امان خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والےکسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی الصبح پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانفشانی کی تعریف کی،اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس، چیف کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس افسران کی بڑی تعداد بھی پولیس لائنز میں موجود تھی،پولیس لائنز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کل بیلاروس کا وفد اور 25 نومبر کو بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے کے پیش نظر اسلام آباد کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے، پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا،ہمیں آپ اور آپ کی زندگیاں بہت عزیز ہیں، دوران ڈیوٹی تمام حفاظتی سامان پہننا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کسی کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، امن و امان کو قائم رکھنے اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سحر کامران نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اہم کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستان میں پسماندہ طبقات کی سیاسی بااختیاری اور انتخابی عمل میں شمولیت کو فروغ دینے کے موضوع پر مرکوز تھی۔

    سحر کامران نے اپنی شرکت کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم مسئلے پر بات کرنے اور مختلف طبقوں کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً انسانی حقوق کمیشن اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔کانفرنس میں پسماندہ طبقات، بشمول خواتین، اقلیتوں، اور معذور افراد کی انتخابی عمل میں شرکت کو بڑھانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز  کا انعقاد کیا گیا، جن میں نمایاں ماہرین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستانی سماج میں ایک مثبت تبدیلی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جہاں پسماندہ طبقات کے حقوق اور ان کے انتخابی عمل میں کردار کو اہمیت دی جائے،

    کانفرنس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) اور فریڈرک نومن فاؤنڈیشن فار فریڈم (ایف این ایف) کے اشتراک سے منعقدہ ایک کانفرنس میں خواتین، ٹرانس جینڈر افراد، مذہبی اقلیتوں اور معذوری کا شکار افراد سمیت پسماندہ طبقات کے سیاسی اختیار اور انتخابی عمل میں شرکت میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت پھل پھول سکتی ہے جب ہر شہری کو سیاسی عمل میں مساوی شرکت کا موقع ملے۔ ایف این ایف کی سربراہ بیرگٹ لام نے کہا کہ شہری ووٹ ڈالنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وکیل اور محقق ماورا غزنوی نے کہا کہ سب سے اہم مسئلہ دور دراز علاقوں میں خواتین اور معذوری کا شکار افراد کی پولنگ اسٹیشنز تک رسائی ہے۔ معذوری کا شکار افراد کے حقوق کے کارکن زاہد عبداللہ نے کہا کہ معذوری کا شکار خواتین کی بطور ووٹر کم نمائندگی ہونا باعث تشویش ہے۔ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کی کارکن نایاب علی نے نشاندہی کی کہ ٹرانس جینڈر ووٹروں کی صنفی شناخت اور صنفی اظہار سے جڑے کلنک کے باعث ان کے خلاف امتیازی سلوک اب بھی عام ہے۔ ماہر تعلیم اور سماجی کارکن فرزانہ باری نے سیاست میں خواتین، مزدور طبقے، معذوری کا شکار افراد اور ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی نشاندہی کی۔

    وکیل محمود افتخار احمد نے کہا کہ احمدی کمیونٹی کے لیے علیحدہ انتخابی فہرستوں نے انہیں مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے کیونکہ ان کا ذاتی ڈیٹا قابل رسائی ہے جسے احمدیوں کے گھروں اور کاروبار کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے تجویز دی کہ عام شہریوں کے لیے انتخابی فہرست میں اپنا نام تلاش کرنے کے عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار اور جے یو آئی (ف) کی رہنما آسیہ ناصر نے الزام لگایا کہ خواتین ووٹرز اور مذہبی اقلیتوں کے ووٹرز کو پولنگ کے دن تشدد کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابی امور کے ماہر طاہر مہدی نے کہا کہ جب تک جمہوری نظام اشرافیہ کے زیر تسلط رہے گا، معذور افراد کے لیے ریمپ یا خواتین کے لیے مخصوص نشستوں جیسے علامتی اقدامات کمزور طبقات کے مسائل کا دیرپا حل ثابت نہیں ہوں گے۔ انسانی حقوق کی کارکن رومانہ بشیر نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مختص کوٹہ پر عملدرآمد کرنا چاہیے، لیکن اہم بات یہ کہ انہیں اس حد تک بااختیار بنانا چاہیے کہ یہ کوٹے بالآخر غیر ضروری ہو جائیں۔

    ایم کیو ایم (پاکستان) کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ معذوری کا شکار افراد کے لیے مخصوص نشستوں کے خیال کی حامی رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ بیشتر خواتین قانون سازوں کا اعلیٰ سطح کے فیصلوں میں کردار اب بھی انتہائی محدود ہے۔نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالحسیب نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ ووٹرز کے قومی شناختی کارڈز تک رسائی بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر (جینڈر) آمنہ سردار نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ووٹرز کے پولنگ اسٹیشنز کو بغیر کسی وجہ کے تبدیل نہ کیا جائے۔ایچ آر سی پی کے کونسل ممبر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ووٹروں کو رجسٹریشن کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنا ایک ثانوی مسئلہ ہے۔ اس کے بجائے، الیکشن کمیشن، نادرا اور سیاسی جماعتوں کو پسماندہ ووٹروں اور امیدواروں سے متعلق ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کے لیےکام کرنا چاہیے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایچ آر سی پی کی وائس چیئر اسلام آباد نسرین اظہر نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلا رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی،محسن نقوی نے کہا، کسی جلوس،دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔بیلا روس کا وفد آ رہا ہے،محسن نقوی کے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔باخبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے تحریک انصاف کل ڈی چوک میں احتجاج پر بضد ہے،حکومت نےایف نائن، سنگجانی میں احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے،تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کب داخل ہونا؟ پروگرام طے ہو گیا
    پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔ قیادت کے ساتھ علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور رانی خان بھی موجود ہوں گی۔

    تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا، جس کی علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے صدارت کی،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز مورخہ 24 نومبر کو پاکستان بھر کے ہر شہر سے ہو گا،قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرینگے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لئے جاتے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی کے لیڈران، کارکنان اور عمران خان کی رہائی ، 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، 8 فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی،پولیٹیکل کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوردہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا اور معاملات کے فوری حل کے زمرے میں حکومتی بے حسی اور بے بسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج میں جوق در جوق شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں۔ تاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری دور کا آغاز ہو سکے۔ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی دے۔

    موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات
    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج ،وزارت داخلہ نے موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات پی ٹی اے کو صادر کر دیئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہی وزارت داخلہ سے خط موصول ہوگیا تھا،آج موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق ہے،فی الحال صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کو موبائل، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا احکامات دیئے جائینگے، ذرائع پی ٹی اے

    سابق صدر عارف علوی کی تقریر
    پشاور میں سابق صدر عارف علوی نے پی ٹی آئی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر پاکستانی کے دل میں ایک امید کی طرح دھڑک رہے ہیں، اور ان کی محبت عوام کے دل سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین، قانون، اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    موٹرویز اور ٹرانسپورٹ کی بندش
    ملک کی مختلف موٹرویز بشمول پشاور-اسلام آباد اور لاہور-اسلام آباد کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ بندش 23 نومبر کی رات 8 بجے سے نافذ ہوگی۔ لاہور کی رنگ روڈ کو بھی 2 دن کے لیے احتجاج کے پیش نظر صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    عوامی مشکلات
    ٹرانسپورٹ اڈوں اور موٹرویز کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد اسلام آباد آتے جاتے ہیں، اور بندش کے سبب مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا، جس سے یومیہ 4 سے 5 کروڑ روپے کا نقصان متوقع ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بند کر کے ہمارا احتجاج پہلے ہی کامیاب بنادیا ہے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹروے اور شاہراہیں بند کردیں، پنجاب بھر میں دفعہ 144کا نفاذ، ہوٹلوں اور لاری اڈوں کی بندش ثبوت ہے کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ہم ابھی 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کےمراحل میں ہیں، حکومت نے ملک بند کرکے ہمارااحتجاج خود ہی کامیاب بنادیا۔ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت ملک بند کرکے عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں، جیل میں قید ایک شخص نے احتجاج سے قبل ہی حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    24 نومبر کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 23 نومبر کو میٹروبس سروس آئی جے پی تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند رہے گی تاہم راولپنڈی میں میٹروبس سروس بحال رہے گی،راولپنڈی صدر اسٹیشن تا فیض آباد تک میٹروبس سروس چلے گی البتہ 24 نومبر کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند رہے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، لاہور،اسلام آباد،اہم شاہراہیں بند،کاروبار بند،شہریوں کو مشکلات
    پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، موٹرویز سمیت کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئیں،راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں،اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے،فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا،

    لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، بابو صابو انٹر چینج ، سگیاں پل ، شاہدرہ چوک بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ رنگ روڈ کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے،فیصل آباد شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم 5، سکھر سے رحیم یار خان تک بند کر دی گئی ہے،اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے رینجرز اور ایف سی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنےکی ہدایت کر دی ہے،اسلام آباد کے تمام تھانوں میں گرفتار افراد کو رکھنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ قیدی وینزبھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں،پنجاب بھر میں آج سے 25 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    صدر، اے ٹی ڈبلیو اے بلو ایریا راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ تمام بزنس کمیونٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلو ایریا میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم کے مطابق، تمام دکانیں، دفاتر، ریسٹورینٹس اور کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔دفعہ 144 نافذ ہے،صرف میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔تمام کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ اپنے کاروبار بند رکھیں اور گھروں میں آرام کریں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے اپوزیشن اتحاد سے کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی،پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں کی،اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے واپس کوئٹہ روانہ ہو گئے،بی این پی سربراہ اختر مینگل دبئی میں ہیں، ان سے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، علامہ ناصر عباس بیرون ملک دورے کی وجہ سے احتجاج کا حصہ نہیں ہوں گے

    اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان احتجاج کے لیے پرعزم ،تیاریاں مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ،ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے،میں اپنے حلقے میانوالی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا، ٹک ٹاکر حکومت نے ہمیشہ ہمارے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، پانی پی ٹی ائی کی فائنل کال ہے کل پورا پاکستان اسلام آباد جائے گا ، میانوالی کی عوام تیار ہے ہمارے کچھ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں کچھ کل قافلوں کی صورت میں جائیں گے،حکومت جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دے ہم رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام اباد پہنچیں گے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،

    عارف علوی کی کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل،بولے،تشدد ہمیشہ پولیس کرتی
    پی ٹی آئی رہنما ،سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور تیاری کے حوالہ سے میری درخواست پوری قوم سے یہ ہے کہ پر امن رہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جلسے جلوسوں میں پر امن رہی ہے۔ تشدد ہمیشہ پولیس نے کیا۔ دنیا کی پچھلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پر امن عوام پر جب پولس آنسو گیس یا لاٹھی سے حملہ کرتی ہے تو پھر عوام ایسے ظالمانہ مار پیٹ کے بعد سنگ و خشت کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد کے بہانے “پرچم دروغ” کا استعمال ہم نے 9مئی کے دن دیکھا جس کے زہریلے انڈے اور بچے آج بھی نمودار ہو رہے ہیں۔پر امن رہیئے اور اللہ پر بھروسہ کریئے۔ وہی خدا ہے جو اس ملک کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ انشاللہ

  • 9 مئی: 4 افغان سمیت 10 ملزمان کو 6 سال قید، جرمانے

    9 مئی: 4 افغان سمیت 10 ملزمان کو 6 سال قید، جرمانے

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی سے متعلق مقدمے میں 10 ملزمان کو 6 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی، جس میں 4 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ جن افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان عابد محمود، احسن ایاز، شوکت، راولپنڈی کے مطیع اللہ، جبکہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے نعیم اللہ اور ذاکر اللہ شامل ہیں۔ سزا یافتہ 10 افراد میں 4 افغان شہری ہیں، جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم تھے، جن میں داؤد خان ولد حاجو خان ، یونس خان ولد خان محمد، احسان اللہ ولد ضیا الحق، لال آغا ولد خان آغا شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کو 6 سال تک قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ کل 17 ملزمان کے خلاف 10 مئی کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) 626/24 اسلام آباد کے تھانے آئی-9 میں درج کی گئی تھی، نامزد ملزمان میں سے ایک بعد از تفتیش بری کر دیا گیا اور 6 روپوش ہیں جبکہ 10 کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق روپوش مجرمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں اور گرفتار ہوتے ہی عدالت میں پیشی کا حکم دیا گیا ہے۔احتجاج کی آڑ میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل مجرمان بشمول ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا، جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

    ‏حکومت کی پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

    پرتھ ٹیسٹ:بھارت کے بعدآسٹریلیا مشکلات سے دوچار

    اوچ شریف: حضرت سید جلال الدین بخاری کے 755ویں عرس کی تقریبات اختتام پذیر

    افغانستان: بغلان میں مزار پر فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق

  • سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    9 مئی احتجاج ،اسلام آباد میں درج مقدمات میں سے پہلا بڑا فیصلہ آگیا ۔ 10 مظاہرین کے خلاف پہلا بڑا فیصلہ،ضمانت پر رہا ہونے والے دس ملزمان گرفتار،تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی،ملزمان کے خلاف نو مئی 2023 پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا.

    نو مئی احتجاج پر درج اسلام آباد کے مقدمات میں سے پہلے مقدمے کا فیصلہ آگیا۔پی ٹی آئی کارکنان میں دس ملزمان کو تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ملزمان کے خلاف 10 مئی 2023 کو پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ملزمان کو دہشت گردی کی دفعہ میں بری کر دیا گیا، کار سرکار میں مداخلت و دیگر دفعات میں سزائیں سنا دی گئیں۔ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن پولیس نے 2023 میں فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمہ میں دس پولیس کے گواہان نے شہادتیں قلمبند کرائیں تھیں۔ملزمان کے خلاف دہشت گردی، توڑ پھوڑ، دھاوا بولنا، پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑا و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    قبل ازیں رواں برس ماہ مارچ میں نو مئی جلاؤ گھیراؤ کیس کا پہلا فیصلہ آ یا تھا جس میں 51 ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی،سزا پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی عدالت نے سنائی، گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ملزمان کو سزا سنادی،عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 51 ملزمان کو پانچ پانچ برس قید کی سزا سنائی، انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نتاشا نسیم سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سنایا،

  • سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ نے اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے پراگرس رپورٹ طلب کرلیں

    عدالت نے کہا کہ بتایا جائے متاثرین آباد کاری اور منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ آئے 19 سال تو گزر چکے ہیں۔اتنے عرصہ بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو چکے ہونگے۔بتایا جائے حکام نے متاثرین کی بحالی کیلئے ابتک کیا کام کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ زلزلہ کے بعد گھروں کی تعمیر کیلئے جنگلات زمین کیوں الاٹ کی گئی۔زلزلہ سے جہاں گھر گر گئے وہیں دوبارہ تعمیر کر دیتے۔حکومت تعمیرات کے چکر میں پڑنے کی بجائے متاثرین کو رقم دے دیتی۔متاثرین کو رقم ملتی وہ ابتک اپنے گھر خود بنا چکے ہوتے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی تباہیاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔نشت گفتن برخاستن سے زیادہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کچھ نہیں ہوا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی وفاق اور صوبے کے تعاون سے ہونی تھی۔قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے لیکن لڑ تو سکتے ہیں۔ محکموں کی بیڈ گورننس اور عدم تعاون سے متاثرین مشکلات جھیل رہے ہیں۔بیڈ گورننس کی وجہ سے معاملات عدالتوں میں آتے ہیں۔محکمے اپنا کام کرے تو عدالتوں میں کیسز نہ آئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ زلزلہ سے کتنے لوگ متاثر ہوئے۔متاثرین کیلئے ابتک کتنے گھر بنائے گئے۔وفاقی اور صوبائی حکومت کی زلزلہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کی پرفارمنس کیا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ متاثرین کیلئے کتنے فنڈز آئے۔متاثرین کئے فنڈز میں کتنا کہاں پر خرچ ہوا۔عدالتی سوالات پر جامع رپورٹ دی جائے۔جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی

    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق درخواست آئینی بینچ نے نمٹا دی
    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہائیکورٹ کا کام ہے ،درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں تبدیل ہوئے ،ہر چیف جسٹس نے ججز کو ٹرانسفر کیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ داود صاحب کیا ہائیکورٹ آزاد ہے یا نہیں،درخواست گزار نے کہا کہ ہائیکورٹ آزاد ہے لیکن پالیسی کیلئے ہدایات ضروری ہےجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد ہے تو انکو اپنا کام کرنے دیں،ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہونے سے متفق ہوں لیکن یہ ہمارا کام نہیں ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس آے تو تین مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہوئی ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہر چیف جسٹس کا اپنا اختیار ہوتا ہے،ہر جج بڑے شہر میں بیٹھنے کی خواہش رکھتا ہے،آپ کیوں انتظامی کاموں کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،درخواست پڑھی تو اخیال آیا یہ میاں داود کی ہوگی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ دادو صاحب آج ہم آپکی بات نہیں مان رہے،درخواست گزار نے کہا کہ پھر عدالت اجازت دے کہ ہائیکورٹ جا سکوں،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد ہر نمٹا دی

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب

    وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ وی پی این پر پابندی کے وزارت داخلہ کے احکامات کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور پی ٹی اےکو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہری مبشر قیوم کی وی پی این کی بندش کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وی پی این پر پابندی کے فیصلے کا براہ راست متاثرہ شہری ہوں،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے، وزارت داخلہ کا پندرہ نومبر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے ،نوٹیفکیشن کو بنیادی حقوقِ کی خلاف ورزی قرار دیا جائے ،عدالت نے پی ٹی اے ، وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    وی پی این ،سوشل میڈیا پر پابندی، پی ٹی اے سے جواب طلب

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دے دیا۔

    عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آئی نائن میں درج مقدمہ میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دیا ہے۔اے ٹی سی اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کے بعد کیس کو دیگر ملزمان سے الگ کر دیا گیا، تمام غیر حاضر ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے اور ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کیے جاتے ہیں۔یاد رہے کہ 3 روز قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس میں پولیس سے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت ملزم کا انتظار تو نہیں کرسکتی۔

  • وزیرِ اعظم  کو آئی ٹی برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کا  لائحہ عمل پیش

    وزیرِ اعظم کو آئی ٹی برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کا لائحہ عمل پیش

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو ملکی انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے تفصیلی لائحہ عمل پیش کر دیا گیا

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ملکی آئی ٹی برآمدات اگلے پانچ سال میں 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف دیا تھا. وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے وزیرِاعظم کو شعبے کے مختلف حصوں کی اصلاحات اور مسائل کو دور کرنے کیلئے لائحہ عمل پیش کیا گیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت افرادی قوت اور وسائل کی کمی نہیں. وسائل کے بہتر استعمال اور افرادی قوت کو تعلیم و تربیت کے ذریعے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 25 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں.آئی ٹی شعبے کی اصلاحات کا پیش کردہ لائحہ عمل بہترین ہے، اب اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں.آئی ٹی برآمدات میں اضافے کیلئے پیش کی گئیں اصلاحات کی راہ میں حائل چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تمام ادارے مل کر تعاون کریں.آئی ٹی شعبے کی اصلاحات پر عملدرآمد کی میں بذات خود نگرانی کرونگا. پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت اور ہنر دینے کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک لائحہ عمل تیار کرے.پاکستانی آئی ٹی ماہرین کی خلیجی ممالک میں طلب موجود ہے، اس حوالے سے بھی تجاویز کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے. وزیرِاعظم نے آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے کے حوالے سے واضح اہداف وضع کرنے اور ہر اقدام کے حوالے سے معینہ مدت کے تعین کی ہدایت کی،وزیرِاعظم نے آئی ٹی شعبے کی اصلاحات کے نفاذ اور مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کے فروغ کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی شعبے کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس کو آئی ٹی شعبے کی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے ہر شعبے کی استعداد سے آگاہ گیا. آئی ٹی شعبے کو ترجیح بنانے کے ویژن کے نتیجے میں گزشتہ چار ماہ میں آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ای -گورننس کے حوالے سے پاکستان عالمی رینکنگ میں 14 درجے بہتر ہوا، 2500 نئی آئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ پاکستان کی آئی ٹی رینکنگ 79 سے بہتر ہو کر 40 ہو گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ 5 برس میں آئی ٹی شعبے کی برآمدات کے حوالے سے 15 ارب ڈالر، ٹیلی کام برآمدات سے 1 ارب ڈالر جبکہ ڈیجیٹائیزیشن سے 10 ارب ڈالر کے حصول کا ہدف رکھا گیا ہے. اجلاس کو آئی ٹی شعبے کی برآمدات کی موجودہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو مجوزہ لیبر مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی جس کے تحت صنعتوں سے طلب کا ڈیٹا استعمال کرنے کے بعد تعلیمی اداروں کے تعاون سے افرادی قوت کی استعداد بڑھا کر روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی. اجلاس کو آئی ٹی شعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں بالخصوص فری لانسرز کو ترسیلات زر میں سہولت کیلئے مجوزہ منصوبے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی پیمنٹ گیٹ ویز کے حوالے سے اس اقدام کو احسن قرار دیتے ہوئے اس پر جلد عملدرآمد کی ہدایات جاری کیں. اجلاس کو ٹیلی کام شعبے کے حوالے سے اصلاحات سے بھی آگاہ کیا گیا.

    وزیرِ اعظم نے آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لائحہ عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انکی ٹیم کی کوششوں کو سراہا. وزیرِ اعظم نے معینہ مدت میں اس پر عمل درآمد کی ہدایات بھی جاری کیں. اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • آفر کی گئی،10 دن احتجاج ملتوی کریں تو بات چیت کیلئے تیار ہیں،عمران خان

    آفر کی گئی،10 دن احتجاج ملتوی کریں تو بات چیت کیلئے تیار ہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ روز سُنتے ہیں عمران خان ڈیل کررہا ہے، اگر ڈیل کرنا تھی تو ڈیڑھ سال جیل میں رہتے؟ 5 دن کیلئے عمران خان مزاحیہ کیس پر اب پولیس کی کسٹڈی میں ہیں،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی سے ڈیل نہیں کرے گا، کیا انہوں نے فسطائیت گزار کر ڈیل کرنی تھی، عمران خان نے جیل میں رہ کر یہ سب کرنا تھا؟ عمران خان کی ضمانت میرٹ پر ہوئی، سب کیسز ختم ہوئے، جب کیسز نے دم توڑا تو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا، کل ہمیں کہا گیا کہ عمران خان رہا ہو جائیں گے تو ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا، ہمیں خوشی تھی لیکن اعتبار تھا کہ یہ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے،جب سارے کیسز ختم ہو گئے تو ایک مزاحیہ قسم کا کیس میں عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، عمران خان کا پانچ دن کا آج جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے،پولیس تحقیقات کرنا چاہ رہی ہے، ایک پولیس والے نے یہ بتایا کہ گاڑی کو آگ لگائی جانے لگی تھی اور پولیس نے بچا لیا، ایک پولیس والے کے گریبان کا بٹن ٹوٹا، عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر اکسایا اس وجہ سے یہ سب ہوا،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نےکہا کل مجھےانہوں نےآفر کی آپ 10 دن کیلئے احتجاج ملتوی کریں ہم بات چیت کیلئے تیارہیں،میں نے کہا ٹھیک ہے ،پہلا قدم ہے جو ناحق قید میں ہیں،پہلےبے گناہ لوگوں کو رہا کرو،بجائے رہائی کے مجھ پر کیس بنا دیا، اس سے واضح ہوا طاقتور لوگ جس وقت چاہئیں آپ کو قید میں رکھ لیں اور رہا کردیں،عدالت حکم دے گی رہائی کا پھر بھی وہ قید میں رکھیں گے، اور جس طرح چاہیں رہا بھی کر سکتے ہیں جیسے نواز شریف کے دو دن میں کیسز ختم ہو گئے،عمران خان نے کہا ورغلایا جارہا ہے، 24 نومبر میری فائنل کال ہے، 8 فروری کو نکلنے کا کہا تھا، اب 24 نومبر کو دوسری کال دے رہا ہوں، سارے قوم نکلے،عمران خان نے کہا ہے پوری دنیا میں پاکستانی احتجاج کیلئے نکلیں گے،کیونکہ ان کے ملک آزاد ہیں وہ وہاں پر نکل سکیں گے، اگر پاکستا ن میں آزادی ہوئی تو ہم بھی نکل سکیں گے، ہمارا پیسہ، لوگ باہر جا رہے ہیں، نوجوان نسل باہر جا رہی ،کیسے ہم نے دوبارہ پاکستان کو بنانا؟

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    ہمیں حکومت کی نیت کا پتہ چل چُکا ،احتجاج بھی ہوگا مذاکرات بھی چلتے رہیں گے، عمران خان
    دوسری جانب عمران خان نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کے ذریعے آفر آئی کہ احتجاج ملتوی کر دیں،24 نومبر کا احتجاج ہر صورت ہو گا، مذاکرات چلتے رہتے ہیں مگر یہ پتہ چل گیا کہ یہ سیریس نہیں تھے،یہ صرف احتجاج ملتوی کرانا چاہتے تھے،ہائی کورٹ نے کل ضمانت منظور کی حکومت کے پاس سنہری موقع تھاکہ مجھے رہا کر دیتے، واضح ہو گیا کہ حکومت مجھے انگیج کر کے معاملے کو طول دینا چاہتی ہے،یہ بھی واضح ہو گیا کہ اصل طاقت جس کے پاس ہے اسی نے یہ سب کیا،یہ سب کچھ یہ بتانے کے لیے کیا گیا کہ وہ جو چاہیں کریں وہ قانون سے بالاتر ہیں، میں جیل میں ہوں اور مجھ پر کیسز پر کیسز بنائے جا رہے ہیں،ہائی کورٹ ضمانت منظور کرتی ہے اور یہاں پہلے سے طے ہو جاتا ہے کہ رہائی نہیں دینی، 26 ویں آئینی ترمیم مکمل نافذ ہو گئی تو کہیں سے ریلیف نہیں ملے گا،ہمارے پاس زندہ قوم کی طرح احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،24 نومبر کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ریکارڈ احتجاج ہوگا، ہمیں حکومت کی نیت کا پتہ چل چُکا ہے،احتجاج بھی ہوگا مذاکرات بھی چلتے رہیں گے، اب واضح ہو چکا ہے کہ مجھے 24 نومبر سے پہلے رہا نہیں کریں گے،ہم ان کی کیا بات مانیں مذاکرات ہوں گے تو بات آگے چلے گی،اگر وہ بات چیت میں سنجیدہ ہیں تو ہمارے لوگوں کو رہا کیا جائے،جیل میں رہتے ہوئے مجھ پر 60 کیسز ہو چکے ہیں،نواز شریف نے کتنے شورٹی بانڈ جمع کروائے تھے،نواز شریف کی بائیو میٹرک بھی ایئرپورٹ گئی تھی،مذاکرات جن سے ہو رہے ہیں نام نہیں بتا سکتا، ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب گرفتار لوگوں کی رہائی ہے،سارے مین کیسز میں میری ضمانت ہو چکی ہے،یہ جو مذاکرات تھے اس میں سنجیدگی نظر نہیں آئی،میں نے خود سمیت انڈر ٹرائل لوگوں کی رہائی کا مطالبہ رکھا تھا،یہ ڈیمانڈ وہ تھی جو فوری طور پر پوری ہو سکتی تھی جو انھوں نے نہیں کی،