Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی۔

    کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے دوران دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔عمران خان کے وکیل قوسین مفتی نے استغاثہ کے دو گواہوں، محمد فہیم اور عمر صدیق، پر جرح مکمل کی۔ ان گواہوں کے بیانات پر وکیل صفائی نے سوالات کیے اور ان کی باتوں کو چیلنج کیا۔توشہ خانہ ٹو کیس میں اب تک مجموعی طور پر 8 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ ملزمان کے وکلاء نے مجموعی طور پر 7 گواہان پر جرح مکمل کی ہے۔ آئندہ سماعت پر عمران خان کے وکیل 8 ویں گواہ پر جرح کریں گے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب کہ کیس کی مزید پیش رفت اور گواہان کے بیانات پر سماعت کا عمل جاری رہے گا۔اس کیس کا فیصلہ آنے سے قبل سیاسی حلقوں میں کافی بحث جاری ہے اور یہ کیس ملک کی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

    مہنگائی میں مزید کمی آئے گی، وزیراعظم

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

  • سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اوردوسراقومی سلامتی ہے،عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،عدالتی فیصلہ برقرا رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا، انسداددہشتگردی کاقانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں،عدالت کسی بھی صورت شہریوں کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے سپرد نہیں کر سکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سندھ میں گواہان کے تحفظ کا اہلگ سے قانون بھی موجود ہے۔ آئینی بنچ نے جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ فرخ بخت علی پر ملک مخالف جنگ کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا،فرخ بخت علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیا الحق نے 1974میں کیا، فرخ بخت علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی،کورٹ مارشل کرنے والے ضیا الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے،ضیا الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئرچیف کو بھی اغوا کرلیاگیا تھا،اغوا کار نے اپنے کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ ویسے وجوہات کیا تھیں؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب کیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی،جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  • صدر مملکت کا چین کا سرکاری دورہ طے

    صدر مملکت کا چین کا سرکاری دورہ طے

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری 4 سے 8 فروری تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کی دعوت چین کے صدر نے دی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران صدر زرداری چین کی اعلیٰ قیادت بشمول چینی صدر، وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ان ملاقاتوں میں پاک چین تعلقات، تجارتی اور اقتصادی امور پر تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، سیکیورٹی تعاون اور سی پیک جیسے اہم منصوبوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور چینی قیادت اس بات پر زور دیں گے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف معاملات پر تعاون کو بڑھایا جائے۔

    صدر مملکت اس دورے کے دوران نویں ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو چین کے شہر ہانگژو میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ملاقاتوں میں علاقائی اور جغرافیائی امور پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

    یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی نئی جہتیں ملیں گی۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

    کیپٹن ر صفدر نے لندن جانے پر پابندی لگنے کا انکشاف کر دیا

  • ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کو دھمکی دینے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ بحریہ ٹاؤن کے ملازم اور وائس چیف ایگزیکٹو کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مقدمے کے مطابق، ملک ریاض کو ایک ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی، جس میں ایک ارب 42 کروڑ روپے کا بھتہ 50 بِٹ کوائن کی شکل میں مانگا گیا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو ملک ریاض، ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کی زندگیوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ابھی تک اس دھمکی دینے والے افراد کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ملک ریاض کی جانب سے اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے، ملک ریاض اس وقت دبئی میں ہیں اور پاکستانی حکومت ان کی پاکستان واپسی کے لئے کوشاں ہے.

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • وزیراعظم  کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے سدباب کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں انسانی سمگلنگ کے سد باب کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قانونی فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزارت داخلہ وزارتِ قانون و انصاف سے تعاون کرے۔ فیڈرل پراسیکیوشن ایکٹ 2023 پر عمل درآمد تیز کیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کا مکمل سد باب تمام اداروں کی مشترکہ کوشش اور تعاون سے ممکن ہے۔ انسانی سمگلروں کی گرفتاری اور استغاثہ کے لیے درکار افرادی قوت کا حصول تیز کیا جائے۔

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ مراکش سے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 27 انسانی سمگلروں کی شناخت کی جا چکی ہے اور 5 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے کو بیرون ملک انسانی سمگلروں کی جلد از جلد حوالگی کے لیے دفتر خارجہ کو انسانی سمگلروں کے خلاف تحقیقات میں جمع کردہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے قصوروار اشتہاری مجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی،

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    عمران ،بشریٰ کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

  • وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریلویز کے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان ریلویز کی بحالی، ترقی اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کی زمین کو نجی شعبے کے تعاون سے کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت دی۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو خطے کے دیگر ممالک خصوصاً وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کو مسابقتی طور پر مسافروں کو راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مسافروں کو سفر کی بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ ریلویز میں پیشہ ورانہ اور باصلاحیت افرادی قوت کا استعمال کیا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کے پرانے نظام کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت دی تاکہ خدمات میں مزید بہتری آئے اور مسافروں کے سفر کے تجربے کو آسان اور سہولت بخش بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کو ہدایت دی کہ وہ مال برداری کی خدمات کو بھی منافع بخش بنائے تاکہ ادارے کی مالی حالت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے ریلویز کی کارکردگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور مستقبل میں مزید ترقی کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد پاکستان ریلویز کے اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سیلاب کے دوران پاکستان ریلویز کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا اور 35 دن تک پٹریاں زیر آب رہیں۔ تاہم، پاکستان ریلویز نے مختلف اقدامات کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا اور مال برداری (Freight Operations) میں ابتدائی لاگت کے برابر منافع کمایا۔ فی الحال پاکستان ریلویز ملک میں مال برداری کی مارکیٹ میں 8 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

    پاکستان ریلویز کی رائٹ سائزنگ کے عمل میں 18 فیصد غیر ضروری عملے کو فارغ کرنے کی معلومات بھی اجلاس میں شیئر کی گئی۔ اس کے علاوہ، تھر کول کے مواصلاتی منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے ریلویز کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، محمد علیم خان، محمد اورنگزیب خان، خواجہ محمد آصف، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سردار اویس لغاری اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔اس اجلاس کا مقصد پاکستان ریلویز کے نظام کو جدید بنانے اور اس کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات کرنا تھا تاکہ ملک کی معیشت میں ریلویز کا کردار اہم اور مضبوط ہو۔

    آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    علی امین گنڈا پور سے پارٹی عہدہ کس کے کہنے پر واپس لیا گیا

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیمی بل کو منظور کرلیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی صدارت میں ہوا، جس میں اس ترمیمی بل پر تفصیلی بحث کی گئی۔

    اجلاس کے دوران صحافتی تنظیموں نے بل پر اپنے اعتراضات پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں جو صحافت کی آزادی کو محدود کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ بل میں ’فیک نیوز‘ کی تعریف مبہم ہے اور اس سے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ بل پر نظرثانی کی جائے اور اسے دوبارہ پیش کیا جائے تاکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے صحافتی تنظیموں کی طرف سے اپنی تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنی سفارشات تحریری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھیں تاکہ کمیٹی ان پر غور کرتی۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اجلاس میں حصہ لیا اور کہا کہ اس ملک میں کسی کو گرفتار کرنے کے لیے کسی خاص قانون کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ خود کرایہ داری کے قانون کے تحت گرفتار ہو چکے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ وزیر اطلاعات کے ساتھ صحافیوں کی ملاقات میں بعض ترامیم پر اتفاق ہوا تھا، اور وزارت داخلہ کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں نئی ترامیم کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    اینکرز ایسوسی ایشن نے بھی ترمیمی بل پر اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ انہیں بل پر اپنی تجاویز دینے کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فیک نیوز کے قانون کے حامی ہیں، مگر موجودہ بل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر کامران مرتضی، سینیٹر پلوشہ خان اور سینیٹر میر دوستین حسن ڈومکی بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے اس بل کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون صرف قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگا۔

    یہ بل صحافتی آزادی، انٹرنیٹ کے استعمال، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے حوالے سے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس پر مزید بحث اور نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

    امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

  • 26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،درخواست گزاروں نےآئینی ترمیم کے خلاف فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمشن نے جن ججز کو آئینی بنچ کے لیے نامزد کیا وہ سب اس بینچ کا حصہ ہیں۔ججز کی نامزدگی جوڈیشل کمشن کرتا ہے جبکہ کیسز کی فکسشین 3 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ جسٹس آمین الدین خان ہیں، کمیٹی میں جسٹس محمد علی مظہر اور میں شامل ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر آپ خود کنفیوز ہیں،آپ اس بنچ کو ہی فل کورٹ سمجھیں۔ وکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جاۓ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں آئینی معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئینی بنچ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ ہی بنایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فُل کورٹ کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس ہی جاسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے آپ پہلے دن سے ہی لڑنے کے موڈ میں ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہیے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر کوئی فریق دلائل دینے کو تیار نہیں تو عدالت حکم جاری کرے گی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ جو اس بینچ کے سامنے بحث نہیں کرنا چاہتا وہ پیچھے بیٹھ جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فُل کورٹ تشکیل دینے پر پابندی تو کوئی نہیں ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان نامکمل تھا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے لیے کل ممبران پر ووٹنگ ہوئی یا دستیاب ممبران پر،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دستیاب ممبران نے ووٹنگ کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دستیاب ممبران ٹوٹل کیا ایوان کے دو تہائی پر پورا اترتا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ گنتی حکومت نے پوری ہی کر لی تھی، یہ مسئلہ نہیں اٹھا رہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا ایوان میں تمام صوبوں کی نمائندگی مکمل تھی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی سینیٹ میں نمائندگی مکمل نہیں، وہاں سینیٹ انتخابات ابھی رہتے تھے،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ اختر مینگل کی درخواست میں ترمیم کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ دینے میں کتنے آزاد تھے، اسے بھی مدِ نظر رکھا جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ درخواست میں ایک نکتہ مخصوص نشستوں کا بھی اٹھایا گیا ہے، ایوان مکمل ہی نہیں تھا تو ترمیم کیسے کر سکتا تھا،وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندے ہی آئینی ترمیم کا اختیار رکھتے ہیں۔

    آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟ اس طرح تو آئینی ترمیم کا کیس کافی عرصہ لٹکا رہے گا۔سپریم کورٹ نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی

    13جنوری کو عمران کی بیٹوں سے بات کروائی،جیل حکام کا عدالت میں جواب

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • کیا شہباز شریف 5 سال وزیر اعظم رہ پائیں گے؟ بلاول سے صحافی کا سوال

    کیا شہباز شریف 5 سال وزیر اعظم رہ پائیں گے؟ بلاول سے صحافی کا سوال

    پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ 26 آئینی ترمیم کو کسی نے رول بیک کیا تو نہیں مانیں گے، ساتھی ججز کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ساتھ دینا چاہیے،

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ماحول افسوسناک ہے، بینچ چاہے آئینی ہو یا سپریم کورٹ کا، آئین و قانون کا احترام کرنا ضروری ہے اور ان کو ماننا لازمی ہے۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ چیف جسٹس کے راستے میں مشکلات پیدا کرنے کے بجائے آسانیاں فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ عدلیہ کا نظام مزید مستحکم ہو سکے۔ 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کے سوا کوئی بھی ادارہ ختم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور ادارہ اس ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

    اسی دوران بلاول بھٹو نے پیکا ایکٹ پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ایکٹ پر میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے مشاورت کی جاتی تو صورتحال بہتر ہو سکتی تھی۔ بلاول بھٹو نے حکومت سے اپیل کی کہ کسی بھی قانون یا قدم کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی فیصلہ تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ حکومت کو فیصلے کرنے سے پہلے عوامی نمائندوں، میڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار کا تحفظ ہو سکے۔پی ٹی آئی کے دور میں بھی پیپلز پارٹی نے پیکاایکٹ کی مخالفت کی تھی ،پیپلز پارٹی کی اپنی سوچ ہے، حکومت کو مشاورت کرنی چاہئے،

    بلاول زرداری سے سوال کیا گیا کہ :کیا شہباز شریف 5 سال وزیر اعظم رہ پائیں گے؟ جس کے جواب میں بلاول نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ انشاءاللہ،

    بلاول نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہر ملک کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، چین اور امریکہ کے مابین کیا حالات ہیں،چین کے صدر کو دعوت ملنے کے بعد امریکہ کے لئے ضروری تھا کہ بھارت کی بھی نمائندگی ہو، پاکستان کی پالیسی اپنی جگہ قائم دائم ہے،پاکستان کے نیو کلیئر اثاثے بھٹو کے تحفے،بینظیر کی امانت ہیں، پیپلز پارٹی کبھی بھی سودا کرنے کو تیار نہیں ہو گی، کچھ بھی ہو جائے، میری ٹرمپ کی حلف برداری میں جانے کی خبر جھوٹ تھی میڈیا سے پوچھیں کیوں چلائی، البتہ ناشتے کی دعوت پر میں جاؤں گا، میں حکومت کا حصہ نہیں ،اسلئے یہ آفیشیلی پروگرام نہیں ہے، ہم کابینہ کا حصہ بھی نہیں بن رہے،

    قومی اسمبلی سے منظور شدہ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 مسترد کرتے ہیں۔لاہور پریس کلب

    چاہت فتح علی خان کی متھیرا کے ساتھ نامناسب انداز میں تصویر پر تنقید