Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • شمالی وزیرستان میں آپریشن، دہشت گردی میں ملوث افغان شہری ہلاک

    شمالی وزیرستان میں آپریشن، دہشت گردی میں ملوث افغان شہری ہلاک

    راولپنڈی: شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردی میں ملوث افغان شہری مارا گیا۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آپریشن 6 فروری کو شمالی وزیرستان کے جنرل علاقے دتہ خیل میں کیا گیا جس کے دوران دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری مارا گیا اس شخص کی شنا خت لقمان خان عرف نصرت (افغان نیشنل) کے طور پر ہوئی، یہ دہشت گرد کمال خان کا بیٹا ہے، جو سپیرا ڈسٹرکٹ، خوست صوبہ، افغانستان کا رہائشی ہے۔

    پاکستان میں بیروز گاری کی شرح بھارت اور بنگلا دیش سے بھی زیادہ ،پلاننگ کمیشن

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان شہری ہونے کے ناطے اس شخص کی لاش کو تحویل میں لینے کے لیے عبوری افغان حکومت کے حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے، اس طرح کے واقعات پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی، دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر نامعلوم شدت پسندوں کا حملہ ،3 افراد جاں بحق،9 زخمی

  • طالبان نے خواتین کے ریڈیو اسٹیشن بیگم کو بند کروا دیا

    طالبان نے خواتین کے ریڈیو اسٹیشن بیگم کو بند کروا دیا

    طالبان نے خواتین کے ریڈیو اسٹیشن ’’ بیگم‘‘ کو بند کروا دیا جبکہ ریڈیو اسٹیشن کے 2 ملازمین کوگرفتارکرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق افغانستان میں طالبان نے خواتین کے ایک معروف ریڈیو اسٹیشن ’’ بیگم‘‘ کے لائسنس کو معطل کرکے نشریات بند کروادی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے ریڈیو اسٹیشن کی مکمل تلاشی لی، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور موبائل فونز تحویل میں لے لیے اور دو مرد ملازمین کو گرفتار کرلیا۔طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ریڈیو اسٹیشن بیرون ملک مقیم ایک ٹی وی اسٹیشن کو مواد اور پروگرام فراہم کر رہا تھا جو کہ براڈ کاسٹنگ پالیسی کی خلاف ورزی اور لائسنس کا غلط استعمال ہے۔

    یان میں کہا گیا ہے کہ ریڈیو اسٹیشن کے لائسنس کی بحالی کا حتمی فیصلہ دستاویزات، اہداف اور مقاصد کا بغور جائزہ لیکر کیا جائے گا۔دوسری جانب ریڈیو اسٹیشن ’ بیگم‘ کے ترجمان نے کہا کہ کبھی بھی کسی سیاسی سرگرمی میں شامل نہیں رہے اور خاص طور پر افغان خواتین کی خدمت کے لیے پُرعزم ہیں۔صحافتی تنظیموں اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ریڈیو اسٹیشن پر عائد پابندیوں کو ہٹانے اور گرفتار ملازمین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ریڈیو ’’ بیگم‘‘ کا آغاز 8 مارچ 2021 کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہوا تھا جس کے کچھ ماہ بعد ہی افغانستان میں اقتدار طالبان کے ہاتھوں میں آگیا تھا۔ریڈیو اسٹیشن ’’ بیگم‘‘ سے خواتین کے لیے تعلیمی، کتب بینی بک اور کال ان کاؤنسلنگ کے پروگرام پیش کیے جاتے رہے ہیں۔بعد ازاں گزشتہ برس 2024 میں ریڈیو اسٹیشن ’’ بیگم‘‘ کی افغان نژاد سوئس بانی حمیدہ امان نے ایک سیٹلائٹ ٹیلی ویژن اسٹیشن، بیگم ٹی وی کا آغاز کیا تھا۔

    اس ٹی وی اسٹیشن پر پیرس سے تعلیمی پروگرام نشر کیے جاتے تھے تاکہ افغان لڑکیوں اور خواتین تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملتی رہے۔ان کی ویب سائٹ پر افغان قومی نصاب سے متعلق ہزاروں ویڈیوز موجود ہیں جہاں طالبات کی رسائی مفت ہے۔گزشتہ برس دسمبر میں بھی طالبان نے ’آرزو ٹی وی‘ کو بند کرکے 7 ملازمین کو حراست میں لے لیا تھا۔

    تنگوانی: جے یو آئی کا اجلاس، بد امنی پر تشویش کا اظہار

    وزیر اعظم صاحب یکجہتی کے نام پر گناہوں کو دھونے کی کوشش نہ کریں ،تابش قیوم

  • افغانستان :امریکی انخلا کے بعد پونے 4 ارب ڈالر کی امداد خرچ ہونے کا انکشاف

    افغان طالبان کے جبری دور حکومت اور سنگین ترین عوامی صورتحال پر اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن(SIGAR) کی رپورٹ جاری کردی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رپورٹ کے مطابق خرچ کی گئی امداد کا 64.2 فیصد اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے زیر انتظام افغانستان ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ افغانستان میں SIGAR کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے تقریباً 3 ارب 71 کروڑ ڈالر کی امداد خرچ کی جاچکی ہے۔تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اضافی امدادی فنڈنگ بھی جاری کرنے کے لیے دستیاب ہے، امریکا میں منجمد کیے گئے افغان مرکزی بینک کے ساڑھے 3 ارب ڈالر کے اثاثے سوئٹزرلینڈ میں قائم افغان فنڈ میں منتقل کر دیے گئے، جو سود کے ساتھ اب 4 ارب ڈالر کے مجموعہ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی امداد کے باوجود افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیاں جاری ہیں، طالبان نےتاحال خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، افغان طالبان نے خواتین کی ملازمتوں بشمول این جی اوز، صحت اور دیگر شعبوں میں ملازمتوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔نیکی کی ترویج اور برائی کی روک تھام کے لیے نافذ نام نہاد ’اخلاقیات قانون‘ نے مرد و خواتین کےطرز عمل پر پابندیاں بڑھا دی ہیں، ان پابندیوں کی بدولت بین الاقوامی سطح کے انسانی ہمدردی کے پروگراموں کے تحت امداد کی تقسیم میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افغانستان میں جاری منصوبوں سمیت تمام امریکی و غیر ملکی امداد کی نئی ذمہ داریاں اور تقسیم 90 دن کے لیے روک دی گئی ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود سنگین صورتحال کا شکار ایک کروڑ 68 لاکھ لوگوں کے لیے اقوام متحدہ نے سال 2025ء کے لیے 2 ارب 42 کروڑ ڈالر امداد کی درخواست کی ہے۔افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں بھوک کے شکار لوگوں کے باوجود افغان طالبان امدادی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، افغانستان میں داعش اور القاعدہ کی موجودگی نے سیکیورٹی خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2024میں پاکستان میں افغان سرزمین سے 640 دہشت گرد حملوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں، کشیدگی کے باعث پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی افغان شہری ملک بدر بھی کیے گئے ہیں۔طالبان کے دور اقتدار میں ایک منظم طریقے سے خواتین کو سیاسی، سماجی اور تعلیمی زندگی سےخارج کردیا گیا.افغانستان میں موجود 4کروڑ سے زائد کی آبادی سنگین صورتحال کا شکار ہے، جب کہ افغان طالبان افغانستان کی تعمیر نو میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

  • افغانستان میں امریکی اسلحہ  پاکستان میں دہشت گردی میں استعمال کیا گیا، ترجمان دفترخارجہ

    افغانستان میں امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی میں استعمال کیا گیا، ترجمان دفترخارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والا امریکی اسلحہ دہشت گرد تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے افغانستان میں رہ جانے والے جدید اسلحہ واپس لینے کے امریکی فیصلے سے متعلق کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا (اگست 2021) کے بعد وہاں پیچھے رہ جانے والے جدید ہتھیار پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث رہے ہیں۔

    این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار دہشت گرد تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، ہم مسلسل کابل میں امر واقعہ حکام سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ تمام ضروری اقدامات کریں تاکہ یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہ جانے پائیں۔

    محسن نقوی کا 4 فروری کو سرینا چوک انٹرچینج پراجیکٹ کے افتتاح کا اعلان

  • ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان  کا دورہ

    ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان کا دورہ

    تہران: 8 سال بعد ایران کے کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے افغانستان کے دورے پر پہنچے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی افغانستان کے دورے پر کابل پہنچے جہاں اُن کا پُرتپاک استقبال کیا گیا کابل پہنچنے پر انہوں نے اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ملاقات کی، ایرانی وزیر خارجہ نے طالبان حکومت کے وزیراعظم سے بھی دوبدو ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے افغان پناہ گزینوں کی موجودگی اور پانی کی تقسیم سے متعلق تبادلہ خیال کیا ایران وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ 35 لاکھ افغان مہاجرین کی ان کی وطن واپسی کے لیے پُرعزم ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے افغانستان کی عبوری حکومت کے رئیس الوزرا ملا محمد حسن آخند سے ملاقات میں ایران اور افغانستان کے تاریخی، دینی اور اقتصادی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی سلامتی کو ایک دوسرے سے وابستہ قرار دیا۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کو بڑا جھٹکا،درخواست خارج

    انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ چار عشروں کے بعد ایک بار پھر پورے افغانستان میں سیکورٹی برقرار ہوگئی ہےایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلی سطح پر سفارتکاروں کی آمد اور روابط کی حفاظت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان کی امارت اسلامی سے، اسلامی جمہوریہ ایران کے روابط محکم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہا افغانستان کے حالیہ تغیرات کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغان امارت اسلامیہ سے ہمارے روابط میں فروغ آنا چاہئے انہوں نے ایران میں افغان پناہ گزینوں اور پانی کے مسئلے کے بارے میں کہا کہ ان دونوں مسائل کو باہمی تعاون میں توسیع کے عوامل میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہےایران غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی باوقار وطن واپسی چاہتا ہے۔

    برطانیہ کیلئے پروازوں کی بحالی،برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ اور سول ایوی ایشن کا وفد پاکستان پہنچ گیا

    اس ملاقات میں افغانستان کی عبوری حکومت کے رئيس الوزرا محمد حسن آخند نے بھی ایرانی وفد کے دورہ افغانستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دورے انجام دیئے جانے کی ضرورت ہےاسلامی امارت افغانستان کی عبوری حکومت کے رئیس الوزرا نے دونوں برادر مسلمان ملکوں کے درمیان سفارتی، سیاسی اور اقتصادی روابط میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ ایران نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا اور یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات تھی۔

    حالیہ برسوں میں ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق اور ہلمند اور ہریرود دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ایران کی سرحد افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر (560 میل) سے زیادہ ہے، اور اسلامی جمہوریہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر افغان ہیں جو دو دہائیوں کی جنگ کے دوران اپنے ملک سے فرار ہوئے تھے۔

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان مہاجرین کی آمد میں اضافہ ہوا ہے ستمبر میں، ایران میں مقامی میڈیا نے افغانستان کے ساتھ مشرقی سرحد کے 10 کلومیٹر سے زیادہ کے ساتھ ایک دیوار کی تعمیر کا اعلان کیا، جو تارکین وطن کے داخلے کا اہم ذریعہ ہے.

    حکام نے اس وقت کہا تھا کہ سرحد کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی طریقوں میں خاردار تاریں اور پانی سے بھری کھائیاں شامل ہیں تاکہ ’ایندھن اور سامان، خاص طور پر منشیات کی اسمگلنگ‘ کو روکا جا سکے اور ’غیر قانونی امیگریشن‘ کو روکا جا سکے۔

    پاکستان کوسٹ گارڈز کی بلوچستان میں کارروائی،1832کلوگوام اعلی کوالٹی کی چرس برآمد

    دسمبر میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایرانی نے کہا تھا کہ ”60 لاکھ سے زیادہ افغانوں نے ایران میں پناہ لی ہے،ایران کئی سالوں سے افغانستان میں فعال سفارتی موجودگی رکھتا ہے، لیکن اس نے قبضے کے بعد سے ابھی تک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    گزشتہ کئی سالوں میں متعدد ایرانی وفود افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں جن میں اگست 2023 میں ایک پارلیمانی وفد بھی شامل ہے تاکہ پانی کے حقوق پر بات چیت کی جا سکے۔

    چیمپئنز ٹرافی:گروپ میچز اور پہلے سیمی فائنل کے ٹکٹوں کی فروخت کل سے شروع

  • بلوچستان میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا

    بلوچستان میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا

    راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں کئے گئے آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 11 جنوری 2025 کو سمبازہ میں ایک آپریشن کیا گیا، جس میں پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری مارا گیا مارے گئے اس دہشتگرد کی شناخت محمد خان احمد خیل ولد حاجی قاسم داوران خان کے طور پر ہوئی ہے جو کہ افغانستان کے صوبے پکتیکا کے ضلع وازکوز کے گاؤں گاؤں بلورائی سے تعلق رکھتا ہے۔

    محکمہ تعلیم کی دسویں جماعت کے نصاب میں کلثوم اور مریم نواز شامل ہونے کی تصدیق

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک شخص کی لاش کو ضروری کارروائی کے بعد 20 جنوری کو افغانستان کے حوالے کر دیا گیا ہے اس طرح کے واقعات پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروا ئیو ں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکے گی۔

    اگر سندھ میں بنجر زمین آباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو بلوچستان میں کیوں نہیں

  • طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے  ،ٹرمپ

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ "ہم طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے جب تک وہ ہمارا فوجی سامان واپس نہیں کرتے۔” ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے افغانستان سے انخلاء کے دوران طالبان کو ” اربوں ڈالر” مالیت کا فوجی سامان دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "انہوں نے طالبان کو یہ سامان دیا، اور ہمارے فوجی سامان کا ایک بڑا حصہ دشمن کو دے دیا۔”ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ایک غیر منظم اور بے ترتیب عمل تھا جس نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس انخلاء کی وجہ سے طالبان کو جدید ترین فوجی سامان مل گیا، جو کہ ایک سنگین غلطی تھی۔

    ٹرمپ کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد امریکی فوجی سامان کی بڑی مقدار طالبان کے ہاتھوں میں آئی۔ یہ سامان جدید ہتھیاروں، گاڑیوں اور دیگر فوجی آلات پر مشتمل تھا، جو افغان فورسز کے ہاتھوں سے چھن کر طالبان کے قبضے میں آیا۔اس بیانیے کے ذریعے ٹرمپ نے ایک بار پھر بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے افغانستان سے غیر محفوظ طریقے سے انخلاء کیا اور اپنے فوجی وسائل دشمن کے حوالے کر دیے۔

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    پالپا کا پائلٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

  • پاکستان نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے

    پاکستان نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے

    وزیردفاع خواجہ آصف نے افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر خارجہ عباس استنکزئی کے الزامات مسترد کردیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس ایکس پر افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر خارجہ کے بیانات حقائق کے منافی قراردیتے ہوئے کہا کہ الزامات توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، یواین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2 درجن سے زائد دہشت گر دتنظیمیں ہیں۔خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ سمیت دیگردہشت گردتنظیمیں ہیں، پاکستان نے دہشت گردوں کے خاتمےکے لیےعبوری حکومت پرزوردیا ہے۔خواجہ آصف نے مزید یہ بھی کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین دیگرممالک کےخلاف استعمال ہونےسے روکے، افغان عبوری حکومت عملی اورقابل تصدیق اقدامات کرے۔

    گوجرہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر عبدالرحمن جٹ کو اعزاز

    گوجرہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر عبدالرحمن جٹ کو اعزاز

    سیالکوٹ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ بیورو آفس میں منائی گئی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    20 جنوری کو بھی پی ٹی آئی کو مایوسی ہو گی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

  • اسلام آباد میں مقیم 800 افغانی زیرحراست ہیں،افغان سفارتخانے کا دعویٰ

    اسلام آباد میں مقیم 800 افغانی زیرحراست ہیں،افغان سفارتخانے کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں مقیم 800 افغان باشندوں کو حکام نے حراست میں لیا ہے-

    باغی ٹی وی: سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان میں افغانوں کے لیے ویزا کے عمل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ”حراست اور ملک بدری کے پریشان کن معاملات“ کا باعث بنی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر افغان سفارتخانے نے کہا کہ ”افغانستان کا سفارت خانہ اسلام آباد میں تقریباً 800 افغان شہریوں کی حالیہ حراست پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہےیہ خواتین اور بچوں سمیت خاندانوں کی المناک علیحدگی کا سبب بنی ہے، جن میں سے اکثر پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں، اس تعداد میں 137 افغان باشندے شامل ہیں جن کی ویزا میں توسیع کی درخواستیں زیر التوا ہیں یا جو اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی میں عارضی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    کیپ ٹاؤن ٹیسٹ:پاکستان کرکٹ ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

    سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ

    وفاقی وزارتوں نے معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد نہیں کیا، فافن رپورٹ

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری