Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • 8 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند   کرنے کا فیصلہ

    8 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد، 8 فروری کے لئے بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی : ترجمان وزارت خارجہ عام ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق انتخابات میں سیکورٹی یقینی بنانے کے لئے 8 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند رہیں گے، دونوں ملکوں کے ساتھ تمام کراسنگ پوائنٹس کارگو، نارمل آپریشنز اور پیدل کراس کرنے والوں کے لئے بارڈر بند ہوں گے، بارڈر کراسنگ 9 فروری کو کھلیں گے، تمام آپریشنز بھی اسی تاریخ کو بحال ہوں گے-

    قبل ازیں سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے چاروں چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو فون کیا ہے،چیف الیکشن کمشنر نےچاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کر دی، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیکیورٹی اہلکارو ں کی تعیناتی کو مکمل کیا جائے، تاکہ ووٹرز، ڈی آر اوز اور آر اوز کے دفاتر کو سیکیورٹی فراہم کی جاسکے، چیف الیکشن کمشنر نےبلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،چیف الیکشن کمشنر نے ایسے واقعات کے فوری تدارک کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی-

    واضح رہے کہ عام انتخابات سے ایک روز قبل بلوچستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے ، پشین اور قلعہ سیف اللہ میں دھماکے ہوئے، دونوں دھماکے انتخابی دفاتر میں ہوئے، بلوچستان میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق اور 42 سے زائد زخمی ہو گئے۔پشین میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے،جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جے یوآئی کے دفترکے قریب دھماکے میں 10 افراد جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہو گئے بلوچستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، صوبہ بھر میں سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے.

  • ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرتے،ترجمان دفتر خارجہ

    ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرتے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ بھارت نے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کروانے کے الزامات کو رد نہیں کیا، بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات نئے نہیں ہیں، بھارت تو اپنی کرکٹ ٹیم پر تنقید کرنے والوں پر دہشت گردی کا الزام لگا دیتا ہے

    دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کیا، ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم انورالحق کاکڑ ، آرمی چیف اور دیگر سے ملاقات کی۔ ایران میں پاکستانیوں کا قتل غیر انسانی ہے، پاکستان اور ایران نے اس عمل کی مذمت کی ہے،کل ان پاکستانیوں کی لاشیں پاکستان آگئی ہیں، پاکستانیوں کے قتل سے متعلق ایران سے قریبی رابطے میں ہیں اور توقع ہےکہ ایران اس واقعے کی تحقیقات کے بعد پاکستان کو معلومات دےگا،پاکستان کو جن دہشتگرد عناصر سے خطرہ ہے وہ افغانستان میں چھپے ہیں اور ہم نے افغانستان کو اس حوالے سے ثبوت بھی فراہم کیے ہیں، گزشتہ ہفتے سیکرٹری خارجہ نے پاکستانی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کے ثبوت دیے، بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے، پاکستان ان ممالک سے رابطے میں ہے جہاں سے بھارت پاکستان میں دہشتگردی کراتا رہا۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں، بھارتی فوج کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے، 5 فروری کو پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ 5 فروری بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی تیسرے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم میں شرکت کے لیے برسلز میں موجود ہیں۔ نگراں وزیر خارجہ نے برسلز میں یورپی یونین کے عہدیدران سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں ہیں۔ وزیر خارجہ کل تیسرے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے،

    ترجمان دفتر خارجہ نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرتے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • افغان حکومت  کا 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ

    افغان حکومت کا 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ

    کابل:افغان طالبان حکومت کے قائم مقام وزارت توانائی اور پانی (MoEW) عبداللطیف منصور نے کہا کہ ملک میں خشک سالی کے خطرے سے بچاؤ کے لیے زیر زمین پانی کی فراہمی کے لیے تقریباً 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عبداللطیف منصور نے کہا کہ کئی ڈیموں کا افتتاح ہو چکا ہے اور کچھ مزید بن رہے ہیں ہم نے بہت کم وقت میں تقریباً 93 ڈیموں کا معاہدہ کیا ہے، ان میں سے 5 لوگر میں، 5 میدان وردک اور صوبہ سمنگان میں مکمل ہوئے ہیں، کئی کسان پانی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں اور کھیتی جاری نہیں رکھ سکتے،پانی کی کمی اور لگاتار خشک سالی نے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔

    ایک کسان، محمد سرور نے کہا، "پچھلے تین سالوں سے، خشک سالی نے لوگوں پر خاص طور پر آلو اور گندم کی کاشت پر بہت دباؤ ڈالا ہے۔”

    قائم مقام وزیر نے یہ بھی کہا کہ ان منصوبوں کی تعمیر سے پانی کی کمی کو پورا کیا جائے گا اس سے قبل وزارت دیہی بحالی و ترقی نے 13 صوبوں میں چھوٹے ڈیموں پر مشتمل 426 افغانیو مالیت کے منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے بارڈر و قبائلی امور نور اللہ نوری نے پاک افغان سرحد کو تصوراتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ کوئی مخصوص سرحد (باضابطہ سرحد) نہیں ہے۔

    افغانستان کے طلوع نیوز کے مطابق نور اللہ نوری نے صوبہ ننگرہار میں طورخم کراسنگ کا دورہ کیا، اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحد ابھی تک واضح نہیں ہے، دونوں ممالک کے پاس تصوراتی لکیریں ہیں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تصوراتی خطوط پر وقتا فوقتا پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے امارت اسلامیہ ان کشیدگیوں کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان کے ساتھ کوئی باضابطہ سرحد نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ ہمارا زیرو پوائنٹ ہے۔ یہ (ڈیورنڈ لائن) ہمارے درمیان ایک خیالی لکیر ہے دورے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان سے جانے والے افغان شہریوں کے لیے کابل حکومت تاحال خاطر خواہ تعداد میں شیلٹر قائم نہیں کر سکی افغان وزیر کا کہنا تھا کہ وہ مسائل سے آگاہ ہیں اور سردیوں کے بعد مستقل رہائش گاہیں قائم کی جائیں گی۔

  • افغانستان میں ٹی ٹی پی  کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے

    کنڑ : افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں نے افغانستان میں مدرسے کی دستار بندی کی تقریب میں شرکت کی، یہ تقریب کنڑ میں موجود مدرسہ دارا لحجراو الجہاد اور جامعہ منبہ الاسلام میں ہوئی تقریب میں دہشت گرد عظمت لالا اور مولوی فقیر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے تقریب میں متعدد افغان رہنماؤں نے بھی شرکت کی جس سے افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے۔

    ایک جانب ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کوئی ٹھکانے موجود نہیں لیکن دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں نے افغانستان میں مدرسے کی دستار بندی میں شرکت کی۔

    8 فروری کے الیکشن ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے،حمزہ شہباز

    کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے جسکا افغان حکومت کو بخوبی علم ہے کالعدم ٹی ٹی پی کی پاکستان کےخلاف دہشتگرد کارروائیوں کی بنیادی وجہ افغان طالبان کا انہیں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنا ہے۔

    عمران خان کی فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، یہ ایک غلط فہمی …

    پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی ٹریننگ کا آغاز ہوگیا

  • مولانا فضل الرحمان کی افغان نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ و دیگر سے ملاقاتیں

    مولانا فضل الرحمان کی افغان نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ و دیگر سے ملاقاتیں

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا دورہ افغانستان ،مولانا فضل الرحمان کی افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں وزیردفاع ملا یعقوب ، وزیرخارجہ ملا امیر متقی، وزیر تجارت سمیت دیگر وزراء موجود تھے،نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برابر نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا ،ملا عبدالغنی برادر نے مولانا فضل الرحمان کے دورے کو دونوں ممالک کیلئے خوش آئند قرار دیا ،وزیردفاع ملا یعقوب نے بھی مولانا فضل الرحمان کے دورے کو وقت کی مناسبت قرار دیا

    پاکستان کی خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تجارت قانونی طور پر ہو۔مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امارت اسلامی کی اپنی ایک تاریخ ہے،ہمارے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنا ہے۔پاکستان کی خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تجارت قانونی طور پر ہو۔پاکستان کے علماء امارت اسلامیہ کے ساتھ ہے، ہمارہ دورہ جزبہ خیرسگالی کے تحت ہے۔ملا برادر کا کہنا تھا کہ امارت اسلامی محفوظ اور پر امن ملک ہے۔ آپ کے دورے کے مثبت اثرات ہوں گے۔ ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ ہمارا اور آپکا تعلق آج کا نہیں بڑوں کے وقت کا چلتا آرہا ہے۔ ہم نے کبھی آپ کے اور اپنے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ہم امید کرتے ہے آپ کے دورے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئے گی۔آپ کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی۔ وزیرتجارت نے ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت تجارت پر زور دیا ،مولانا فضل الرحمان نے امارت اسلامی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی.

    مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامی افغانستان کے وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں وزیر مہاجرین حاجی خلیل الرحمان سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے،وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین نے مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان کو خوش آئند قرار دیا ،وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین نے مولانا فضل الرحمان کو افغانستان کی داخلی صورتحال سے آگاہ کیا،مولانا فضل الرحمان نے خلیفہ سراج الدین کی دونوں ممالک کے درمیان کردار اور کاوشوں کو سراہا ،

    افغان وزیر مہاجرین کا پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان داخلی و خارجی استحکام لانا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی تو خوشحالی اور امن آئے گا۔ پاکستانی قوم افغانستان کی عوام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ داخلی معاملات پر بہترین تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی امور پر مذاکرات اور باہمی اشتراک سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ افغان وزیر مہاجرین خلیل الرحمان حقانی نے پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کا ناروا سلوک ختم ہونا چاہئیے۔افغان مہاجرین کو واپسی کیلئے حکومت پاکستان کو رضاکارانہ طور پر وقت دینا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے وقت ناروا سلوک پر ہم نے آواز اٹھائی تھی۔

    مولانا فضل الرحمان اپنی مرضی سے افغانستان گئے، حکومتی ترجمانی نہیں کر رہے، دفتر خارجہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات ہوئی،

    اس موقع پر امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب ودیگر رہنما موجود تھے،اس موقع پر افغانستان کے وزیراعظم نے پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم کیا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

    اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے ، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

  • افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    اسلام آباد: افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وفد کی قیادت سینیئر افغان طالبان رہنما اور گورنر قندھار کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ افغان عبوری حکومت کے وفد میں افغان وزارت دفاع، اطلاعات اور انٹلی جنس حکام شامل ہیں افغان عبوری حکومت کے وفد میں 9 سے 10 اراکین شامل ہیں، وفد دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام سے دو طرفہ مذاکرات کرے گا۔

    واضح رہے کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی افغانستان کا دورہ کر یں گے ،اس حوالے سے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ میرا اپنا تعلق ہے، جسے میں استعمال کروں گا، افغانستان پر اگر میرا اثر ہے، وہ میرے ملک کے مفاد کیلئے ہے، میں افغانستان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے دورے کی دعوت دی، میں اپنے ملک کے وزیرخارجہ اور اپنی حکومت کو اس مسئلے پر اعتماد میں لے کر جا رہا ہوں، پڑوسی دوست ملک ایک دوسرے کی بہتری کا سبب بنیں، پڑوسی ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، افغانستان میں غلط فہمیاں، بدامنی پیدا کی گئیں، ان ساری چیزوں کو حل کرنا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔

  • افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کی تقرری،عرب امارات کی قراردادسلامتی کونسل میں منظور

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کی تقرری،عرب امارات کی قراردادسلامتی کونسل میں منظور

    اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کی تقرری کیلئے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہو گئی

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کے لئے قرارداد کی امریکہ نے بھی حمایت کی،جب قرارداد پیش کی گئی تو اس وقت روس اور چین رائے شماری کے اجلاس میں نہیں تھے، 13 اراکین نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیئے،

    افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کی تقرری کا مقصد طالبان رہنماؤں سے رابطے بڑھانا ہے ،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا،جس کے بعد قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی جو منظور کر لی گئی ہے،قرارداد متحدہ عرب امارات اور جاپان کی جانب سے پیش کی گئی تھی،قرارداد میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوص مقرر کرنے کا مقصدافغان خواتین کی محفوظ،مکمل،مساوی،اور بامعنی شرکت کے ساتھ پرامن افغانستان ہے جو بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر دوبارہ شامل ہو،

    دوسری جانب طالبان حکومت کے افغانستان میں خواتین کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے،اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق افغانستان میں زچگی کے دوران ہر دو گھنٹے میں ایک خاتون کی موت ہوتی ہے ، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کو عالمی سطح پر زچگی اور بچوں کی شرح اموات کا سامنا ہے جہاں 1 لاکھ بچوں کی پیدائش پر 638 خواتین کی موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ نے خبردار کیا کہ 51 ہزار اضافی زچگی اموات، 4.8 ملین غیر ارادی حمل، اور 2025 تک خاندانی منصوبہ بندی کے کلینک ختم ہو جائیں گے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق افغانستان میں خواتین صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس سے ماؤں اور بچوں کی شرح اموات میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغ بچیوں کی شادیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات اور عسکریت پسندوں سے خواتین کی جبری شادیوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ،خواتین کا معائنہ کرنے والے مرد ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے،ہسپتالوں اور کلینکس کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ صرف خواتین عملے کو ہی خواتین مریضوں کی دیکھ بھال کی اجازت دیں،ڈبلیو ایچ او کے مطابق افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی شدید کمی ہے، 10 ہزار افغانیوں کے لیے صرف 4.6 ڈاکٹر، نرسیں اور دائیاں ہیں جو کہ معیاری سطح سے تقریباً پانچ گنا کم ہیں، اگست 2021 میں طالبان کی واپسی نے صحت کے بحران کو مزید بڑھا دیا، خواتین کا طبی شعبہ شدید متاثر ہوا جسکی وجہ سے خواتین کو بنیادی زندگی کے حقوق اور تعلیم میں پابندیوں کا شدید سامنا ہے، دور دراز علاقوں میں ہر 1 لاکھ بچوں کی پیدائش پر 5 ہزار زچگی کی اموات خطرناک حد تک بڑھی ہیں، خواتین کو ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے پہاڑی رستے کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے وہ رستے میں ہی دم توڑ دیتیں ہیں،سرکاری ہسپتالوں تک رسائی ناممکن ہونے کی وجہ سے خواتین کو بچے کی پیدائش کے لیے اپنی ادویات خود لانے کی ضرورت ہوتی ہے، ایک ڈیلیوری کی لاگت تقریباً 2 ہزار افغانی ($29) روپے یے، جو کہ بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہیں، ڈلیوری کے چارجز زیادہ ہونے کی وجہ سے 40 فیصد افغان خواتین گھر پر اور 80 فیصد دور دراز علاقوں میں بچے پیدا کرتی ہیں،2021 میں طالبان کے قبضے سے پہلے افغانستان میں تشدد سے بچ جانے والی خواتین کے لیے 23 ریاستی سرپرستی کے مراکز تھے جو کہ موجودہ انتظامیہ کے تحت بند کر دیے گئے ہیں ،طالبان حکومت خواتین کی صحت کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اسے مغربی تصور قرار دیتے ہیں،

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل گئے

    ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل گئے

    ڈی آئی خان: ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل چکے ہیں اور حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی موصول ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی انسداد دہشت گردی عمران شاہد کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال 23 خود کش حملے ہوئے، جن میں سے متعدد حملے ناکام بنائے، دہشت گردی کے مختلف واقعات میں رواں سال 184 پولیس شہید ہوچکے ہے اور 408 زخمی ہوئے ہے،1093 دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے، رواں سال 1093 مقدمات درج کیے گئے، مختلف دہشت گردی کے مقدمات مں 2595 افراد کو نامزد کیا گیا، راوں سال 225 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 726 کو گرفتار کیا گیا، سی ٹی ڈی نے 2024 انٹیلی جنس بیس آپریشن کیے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا عمران شاہد نے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی کو مزید بہتر کرنا ہوگا کیوں کہ افغان سرحد کے قریب علاقوں میں سیکیورٹی تھریٹ ہیں، جنوبی اضلاع میں الیکشن کے لیے سیکیورٹی مزید بہتر کرنا ہوگی کیوںکہ افغان سرحد کے قریب علاقوں میں سیکیورٹی تھریٹ موجود ہیں، پورا صوبہ حساس ہے، کسی علاقوں کو نارمل نہیں لے رہے ہے، دہشت گردی کے واقعات بڑھنے کے ساتھ سی ٹی ڈی نے بھی کارروائی سخت کردی ہے، جرائم پر قابو کرنے کے لیے حکومت نے جدید سافٹ وئیرز دئیے ہیں، اور سی ٹی ڈی کی فنڈنگ کا مسئلہ بھی حل کردیا گیا ہے۔

    عمران شاہد نے کہا کہ جنوبی اضلاع کا بارڈر افغانستان کے ساتھ ملا ہوا ہےاس لیے وہاں پر دہشتگردی کے واقعات زیادہ ہیں، الیکشن کے لیے جنوبی اضلاع ایک بڑا چیلنج ہے جہاں سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنا رہے ہیں ڈی آئی خان میں فورسز پر حملے میں استعمال کیے گئے ٹرک کی معلومات حاصل کرلی گئی ہیں، اس حملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے مطابق حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، حملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کے ڈی این اے کروا لیے گئے ہیں۔

    عمران شاہد کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقام افغان باشندوں کی واپسی کے بعد صوبے میں اسٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہے، تمام مہاجرین بدامنی میں شامل نہیں تھے، اور 17 لاکھ مہاجرین میں سے 3 لاکھ افراد کے واپس جانے سے بدامنی اور دہشت گردی میں اچانک کمی واقع نہیں ہوگی حالیہ دنوں میں ہونے والے ڈی آئی خان حملے کے کئی اہم شواہد مل چکے ہے، اور حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی حاصل کرلی ہے۔

  • پاکستان نے افغانستان سے  ڈی آئی خان  واقعہ پر احتجاج کیا  ہے

    پاکستان نے افغانستان سے ڈی آئی خان واقعہ پر احتجاج کیا ہے

    پاکستان نے ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کے حملے پر افغان عبوری حکومت کے پاکستان میں ناظم الامور کو طلب کرکےاحتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے افغان عبوری حکومت کے ناظم الامور کو طلب کر کے درابن، ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی پوسٹ پر دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ اس دہشت گردی کے حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ ایک دہشت گرد گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے، دہشت گردی کے اس واقعہ میں پاک فوج کے 23 جوان شہید ہوئے۔

    افغان ناظم الامور کو کہا گیا کہ وہ فوری طور پر افغان عبوری حکومت کو آگاہ کریں۔ مراسلے میں کہا گیا کہ حالیہ حملے کے مرتکب افراد کے مکمل تحقیقات اور سخت کارروائی کی جائے۔ افغان عبوری حکومت سے عوامی سطح پر اس واقعہ کی مذمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    افغان حکومت تمام دہشت گرد گروہوں بشمول قیادت اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری طور پر کارروائیاں کریں۔ مراسلے میں کہا گیا کہ حملے کے مرتکب افراد اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت کو پکڑ کر حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق مراسلے میں کہا گیا کہ دہشت گردانہ حملہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خطرے کی ایک اور یاد دہانی ہے۔

    واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 12 دسمبر کی علی الصبح 6 دہشت گردوں کے ایک گروپ نے درابن کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کر دیا، ان کی جانب سے چوکی میں داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا، دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی تھی اس خودکش حملے کے نتیجے میں عمارت تباہ ہو گئی اور 23 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ تمام 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    اس کے علاوہ 11 اور 12 دسمبر کی درمیانی شب انٹیلی جنس کی بنیاد پر درازندہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، اور 17 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کولاچی کے علاقے میں ایک اور انٹیلی جنس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں بہادری سے لڑتے ہوئے 2 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔