Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • پاکستان اور افغان وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات مستحکم بنانے کا عزم

    پاکستان اور افغان وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات مستحکم بنانے کا عزم

    اسلام آباد: زیرخارجہ اسحاق ڈار ا سے افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی نے ٹیلیفونک رابطہ کیا،ملا امیر خان متقی نے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو دورہ افغانستان کی دعوت بھی دی۔

    باغی ٹی وی : دونوں وزرائے خارجہ کے ٹیلیفونک رابطے میں پاک افغان سرحد پر مریضوں، تاجروں اور مسافروں کو سہولیات کی فراہمی پرتبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تعلقات مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان عبوری وزیر خارجہ کی تہنیتی فون کال موصول کرکے خوشی ہوئی، باہمی دیرینہ تعلقات کے قیام کیلئے مل کرکام کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا،تجارت، انسداد دہشت گردی اور عوامی رابطوں میں اضافہ پاکستان کی ترجیح ہیں۔

    افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈارکا پاک افغان تعلقات مضبوط بنانےمیں مثبت اور تعمیری کردارہونےکی امیدہےخطے میں مثبت روابط میں اضافہ ہورہا ہے، خطے میں علاقائی سطح پر بڑے منصوبوں کا عملی کام شروع ہو رہا ہے، ہم پاکستان میں تعمیری حصہ لینے کی توقع کر رہے ہیں۔

  • تحقیقات کی جائیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے جدید فوجی سامان کیسے حاصل کیا ہے؟،منیر اکرم

    تحقیقات کی جائیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے جدید فوجی سامان کیسے حاصل کیا ہے؟،منیر اکرم

    جنیوا: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملوں سے روکنے کیلئے افغان حکومت پردباؤ ڈالاجائے۔

    باغی ٹی وی : افغانستان سے متعلق اجلاس میں پاکستانی مستقل مندوب نے مطالبہ کیا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق ختم کرے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اہم مطالبات کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے مالیاتی ذرائع کی نشاندہی کی جائے، تحقیقات کی جائیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے جدید فوجی سامان کیسے حاصل کیا ہے؟-

    پاکستان اور بھارت کے درمیان پُرامن اور تعمیری تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں،امریکا

    افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی روزا اوتن بائیفا نے کہا کالعدم ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستان کو بھی تشویش ہے، طالبان جب تک وعدے پورے نہیں کرتے انہیں تسلیم کرنا مشکل ہوگا، طالبان خواتین پر ناروا پابندیاں ختم اور انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔

    ہم جنس پرست یہودی صحافی، وکیل اور مصنف،گلن گرین والڈ

    سلامتی کونسل کا یہ اجلاس افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی توسیع کے فیصلے کے لیے منقعد ہوا، اقوام متحدہ کے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت کے اندر اختلافات موجود ہیں جبکہ افغانستان میں بدامنی کے واقعات میں نومبر سے جنوری کے دوران 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ٹرسٹ کو ہتھیانے اور فنڈز میں خرد برد کا انکشاف

  • افغانستان میں بھارتی جاسوس گرفتار

    افغانستان میں بھارتی جاسوس گرفتار

    بھارت باز نہ آیا، بھارت کے خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے مزید ثبوت منظر عام پر، افغانستان سے بھارتی جاسوس، دہشت گرد گرفتار کر لیا گیا

    29 فروری کو افغانستان کے شہر قندھار سے بھارتی دہشتگرد ثناالاسلام گرفتار کیا گیا ، ثناالاسلام کا تعلق بھارت کے شہر کیرالہ سے ہے اور یہ تاجکستان کے راستے افغانستان میں داخل ہوا،افغانستان کی انٹیلیجنس ایجنسی نے بھارتی دہشتگرد کو آئی ایس آئی ایس سے تعلق اور رابطہ ہونے کے جرم میں گرفتار کیا، بھارتی شہری ثنا الاسلام نے تحقیقات کے دوران آئی ایس آئی ایس کے ساتھ رابطہ ہونے کا اعتراف کیا،ثناالاسلام نے اعتراف کیاکہ وہ بھارتی افسران کے حکم پر افغانستان آیا اور اس کے افغانستان آنے کا مقصد بھارتی افسران کے حکم کے مطابق آئی ایس آئی ایس کے نمائندوں سے ملنا تھا۔

    2016 میں بھی ایک بھارتی خاتون آئی ایس آئی ایس کے لیے کام کرنے کے جرم میں گرفتار کی گئی تھی،نومبر 2019 میں بھی آئی ایس آئی ایس کے لیے کام کرنے والی 10 بھارتی خواتین ننگرہار سے گرفتار ہوئی تھیں،

    بھارت کی انتہا پسندی اور دہشتگردی اب خطے کے پائیدار امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے، سوال یہ ہے کہ آخر کب عالمی برادری بھارت کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی؟بھارت کے جاسوس پاکستان میں بھی گرفتار ہو چکے ہیں.

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    بھارتی فوجی افسرنے پاکستان کی جاسوسی کے بہانےاپنی فوج کواربوں روپے کا چونا لگا دیا

    کراچی سے بھارتی جاسوس اورسہولت کار گرفتار

  • افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے

    افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے

    کابل: افغانستان سے مبینہ طور پر قومی خزانے کے کروڑوں ڈالر لے کر فرار ہونے والے سابق افغان صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں افغانستان سے فرار ہونے کے بعد سابق افغان صدرکو پہلی مرتبہ سعودی عرب میں دیکھا گیا، افغان میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم افغانستان کے سابق صدر عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

    واضح رہے کہ اگست 2021 میں اشرف غنی نامعلوم مقام پر مفرور ہو گئے تھے افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی کے سابق چیف سیکورٹی گارڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک سے فرار ہوتے وقت وہ لاکھوں امریکی ڈالرز لے کر فرار ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت و شواہد بھی پیش کرسکتے ہیں۔

    لکی مروت میں پولیس چوکی پر دہشتگروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

    مفرور صدر اشرف غنی کے سابق چیف باڈی گارڈ بریگیڈیئر جنرل پیرازعطا شریفی نے برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اشرف غنی کے فرار سے قبل انہوں نے نوٹوں سے بھرے تھیلے صدارتی محل میں آتے ہوئے دیکھے تھے جن کی فوٹیج بھی ان کے پاس موجود ہے۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا تھ کہ صدارتی محل میں بینک سے ایک آدمی نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے لے کر آیا تھا جن میں کروڑوں اور یا پھر اربوں ڈالرز موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پیسے دراصل کرنسی ایکچینج مارکیٹ لے جانے کے لیے تھے جو اشرف غنی اپنے ہمراہ لے گئے،معمول کے مطابق صدارتی محل میں ہر جمعرات کے دن کرنسی ایکسچینج مارکیٹ کے پیسے آتے تھے،مفرور اشرف غنی اس بات سے بخوبی واقف تھے اور وہی سارے پیسے لے کر ملک سے فرار ہو گئے۔

    حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

    واضح رہے کہ اشرف غنی 15 اگست کو ملک سے اس وقت فرار ہوئے تھے جب ابھی طالبان کابل میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے،اس وقت میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مفرور صدر اشرف غنی ملک سے 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز کی خطیر رقم کے ہمراہ فرار ہوئے ہیں لیکن اس کی انہوں نے تردید کردی تھی۔

  • 8 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند   کرنے کا فیصلہ

    8 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد، 8 فروری کے لئے بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی : ترجمان وزارت خارجہ عام ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق انتخابات میں سیکورٹی یقینی بنانے کے لئے 8 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند رہیں گے، دونوں ملکوں کے ساتھ تمام کراسنگ پوائنٹس کارگو، نارمل آپریشنز اور پیدل کراس کرنے والوں کے لئے بارڈر بند ہوں گے، بارڈر کراسنگ 9 فروری کو کھلیں گے، تمام آپریشنز بھی اسی تاریخ کو بحال ہوں گے-

    قبل ازیں سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے چاروں چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو فون کیا ہے،چیف الیکشن کمشنر نےچاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کر دی، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیکیورٹی اہلکارو ں کی تعیناتی کو مکمل کیا جائے، تاکہ ووٹرز، ڈی آر اوز اور آر اوز کے دفاتر کو سیکیورٹی فراہم کی جاسکے، چیف الیکشن کمشنر نےبلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،چیف الیکشن کمشنر نے ایسے واقعات کے فوری تدارک کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی-

    واضح رہے کہ عام انتخابات سے ایک روز قبل بلوچستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے ، پشین اور قلعہ سیف اللہ میں دھماکے ہوئے، دونوں دھماکے انتخابی دفاتر میں ہوئے، بلوچستان میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق اور 42 سے زائد زخمی ہو گئے۔پشین میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے،جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جے یوآئی کے دفترکے قریب دھماکے میں 10 افراد جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہو گئے بلوچستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، صوبہ بھر میں سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے.

  • ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرتے،ترجمان دفتر خارجہ

    ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرتے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ بھارت نے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کروانے کے الزامات کو رد نہیں کیا، بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات نئے نہیں ہیں، بھارت تو اپنی کرکٹ ٹیم پر تنقید کرنے والوں پر دہشت گردی کا الزام لگا دیتا ہے

    دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کیا، ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم انورالحق کاکڑ ، آرمی چیف اور دیگر سے ملاقات کی۔ ایران میں پاکستانیوں کا قتل غیر انسانی ہے، پاکستان اور ایران نے اس عمل کی مذمت کی ہے،کل ان پاکستانیوں کی لاشیں پاکستان آگئی ہیں، پاکستانیوں کے قتل سے متعلق ایران سے قریبی رابطے میں ہیں اور توقع ہےکہ ایران اس واقعے کی تحقیقات کے بعد پاکستان کو معلومات دےگا،پاکستان کو جن دہشتگرد عناصر سے خطرہ ہے وہ افغانستان میں چھپے ہیں اور ہم نے افغانستان کو اس حوالے سے ثبوت بھی فراہم کیے ہیں، گزشتہ ہفتے سیکرٹری خارجہ نے پاکستانی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کے ثبوت دیے، بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے، پاکستان ان ممالک سے رابطے میں ہے جہاں سے بھارت پاکستان میں دہشتگردی کراتا رہا۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں، بھارتی فوج کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے، 5 فروری کو پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ 5 فروری بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی تیسرے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم میں شرکت کے لیے برسلز میں موجود ہیں۔ نگراں وزیر خارجہ نے برسلز میں یورپی یونین کے عہدیدران سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں ہیں۔ وزیر خارجہ کل تیسرے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے،

    ترجمان دفتر خارجہ نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرتے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • افغان حکومت  کا 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ

    افغان حکومت کا 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ

    کابل:افغان طالبان حکومت کے قائم مقام وزارت توانائی اور پانی (MoEW) عبداللطیف منصور نے کہا کہ ملک میں خشک سالی کے خطرے سے بچاؤ کے لیے زیر زمین پانی کی فراہمی کے لیے تقریباً 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عبداللطیف منصور نے کہا کہ کئی ڈیموں کا افتتاح ہو چکا ہے اور کچھ مزید بن رہے ہیں ہم نے بہت کم وقت میں تقریباً 93 ڈیموں کا معاہدہ کیا ہے، ان میں سے 5 لوگر میں، 5 میدان وردک اور صوبہ سمنگان میں مکمل ہوئے ہیں، کئی کسان پانی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں اور کھیتی جاری نہیں رکھ سکتے،پانی کی کمی اور لگاتار خشک سالی نے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔

    ایک کسان، محمد سرور نے کہا، "پچھلے تین سالوں سے، خشک سالی نے لوگوں پر خاص طور پر آلو اور گندم کی کاشت پر بہت دباؤ ڈالا ہے۔”

    قائم مقام وزیر نے یہ بھی کہا کہ ان منصوبوں کی تعمیر سے پانی کی کمی کو پورا کیا جائے گا اس سے قبل وزارت دیہی بحالی و ترقی نے 13 صوبوں میں چھوٹے ڈیموں پر مشتمل 426 افغانیو مالیت کے منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے بارڈر و قبائلی امور نور اللہ نوری نے پاک افغان سرحد کو تصوراتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ کوئی مخصوص سرحد (باضابطہ سرحد) نہیں ہے۔

    افغانستان کے طلوع نیوز کے مطابق نور اللہ نوری نے صوبہ ننگرہار میں طورخم کراسنگ کا دورہ کیا، اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحد ابھی تک واضح نہیں ہے، دونوں ممالک کے پاس تصوراتی لکیریں ہیں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تصوراتی خطوط پر وقتا فوقتا پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے امارت اسلامیہ ان کشیدگیوں کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان کے ساتھ کوئی باضابطہ سرحد نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ ہمارا زیرو پوائنٹ ہے۔ یہ (ڈیورنڈ لائن) ہمارے درمیان ایک خیالی لکیر ہے دورے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان سے جانے والے افغان شہریوں کے لیے کابل حکومت تاحال خاطر خواہ تعداد میں شیلٹر قائم نہیں کر سکی افغان وزیر کا کہنا تھا کہ وہ مسائل سے آگاہ ہیں اور سردیوں کے بعد مستقل رہائش گاہیں قائم کی جائیں گی۔

  • افغانستان میں ٹی ٹی پی  کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے

    کنڑ : افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں نے افغانستان میں مدرسے کی دستار بندی کی تقریب میں شرکت کی، یہ تقریب کنڑ میں موجود مدرسہ دارا لحجراو الجہاد اور جامعہ منبہ الاسلام میں ہوئی تقریب میں دہشت گرد عظمت لالا اور مولوی فقیر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے تقریب میں متعدد افغان رہنماؤں نے بھی شرکت کی جس سے افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے۔

    ایک جانب ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کوئی ٹھکانے موجود نہیں لیکن دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں نے افغانستان میں مدرسے کی دستار بندی میں شرکت کی۔

    8 فروری کے الیکشن ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے،حمزہ شہباز

    کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے جسکا افغان حکومت کو بخوبی علم ہے کالعدم ٹی ٹی پی کی پاکستان کےخلاف دہشتگرد کارروائیوں کی بنیادی وجہ افغان طالبان کا انہیں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنا ہے۔

    عمران خان کی فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، یہ ایک غلط فہمی …

    پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی ٹریننگ کا آغاز ہوگیا

  • مولانا فضل الرحمان کی افغان نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ و دیگر سے ملاقاتیں

    مولانا فضل الرحمان کی افغان نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ و دیگر سے ملاقاتیں

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا دورہ افغانستان ،مولانا فضل الرحمان کی افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں وزیردفاع ملا یعقوب ، وزیرخارجہ ملا امیر متقی، وزیر تجارت سمیت دیگر وزراء موجود تھے،نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برابر نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا ،ملا عبدالغنی برادر نے مولانا فضل الرحمان کے دورے کو دونوں ممالک کیلئے خوش آئند قرار دیا ،وزیردفاع ملا یعقوب نے بھی مولانا فضل الرحمان کے دورے کو وقت کی مناسبت قرار دیا

    پاکستان کی خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تجارت قانونی طور پر ہو۔مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امارت اسلامی کی اپنی ایک تاریخ ہے،ہمارے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنا ہے۔پاکستان کی خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تجارت قانونی طور پر ہو۔پاکستان کے علماء امارت اسلامیہ کے ساتھ ہے، ہمارہ دورہ جزبہ خیرسگالی کے تحت ہے۔ملا برادر کا کہنا تھا کہ امارت اسلامی محفوظ اور پر امن ملک ہے۔ آپ کے دورے کے مثبت اثرات ہوں گے۔ ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ ہمارا اور آپکا تعلق آج کا نہیں بڑوں کے وقت کا چلتا آرہا ہے۔ ہم نے کبھی آپ کے اور اپنے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ہم امید کرتے ہے آپ کے دورے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئے گی۔آپ کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی۔ وزیرتجارت نے ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت تجارت پر زور دیا ،مولانا فضل الرحمان نے امارت اسلامی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی.

    مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامی افغانستان کے وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں وزیر مہاجرین حاجی خلیل الرحمان سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے،وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین نے مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان کو خوش آئند قرار دیا ،وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین نے مولانا فضل الرحمان کو افغانستان کی داخلی صورتحال سے آگاہ کیا،مولانا فضل الرحمان نے خلیفہ سراج الدین کی دونوں ممالک کے درمیان کردار اور کاوشوں کو سراہا ،

    افغان وزیر مہاجرین کا پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان داخلی و خارجی استحکام لانا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی تو خوشحالی اور امن آئے گا۔ پاکستانی قوم افغانستان کی عوام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ داخلی معاملات پر بہترین تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی امور پر مذاکرات اور باہمی اشتراک سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ افغان وزیر مہاجرین خلیل الرحمان حقانی نے پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کا ناروا سلوک ختم ہونا چاہئیے۔افغان مہاجرین کو واپسی کیلئے حکومت پاکستان کو رضاکارانہ طور پر وقت دینا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے وقت ناروا سلوک پر ہم نے آواز اٹھائی تھی۔

    مولانا فضل الرحمان اپنی مرضی سے افغانستان گئے، حکومتی ترجمانی نہیں کر رہے، دفتر خارجہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات ہوئی،

    اس موقع پر امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب ودیگر رہنما موجود تھے،اس موقع پر افغانستان کے وزیراعظم نے پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم کیا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

    اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے ، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔