Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    افغان وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں افغان مہاجرین بارے شکوہ

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات ہوئی،

    اس موقع پر امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب ودیگر رہنما موجود تھے،اس موقع پر افغانستان کے وزیراعظم نے پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم کیا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

    اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے ، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

  • افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    اسلام آباد: افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وفد کی قیادت سینیئر افغان طالبان رہنما اور گورنر قندھار کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ افغان عبوری حکومت کے وفد میں افغان وزارت دفاع، اطلاعات اور انٹلی جنس حکام شامل ہیں افغان عبوری حکومت کے وفد میں 9 سے 10 اراکین شامل ہیں، وفد دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام سے دو طرفہ مذاکرات کرے گا۔

    واضح رہے کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی افغانستان کا دورہ کر یں گے ،اس حوالے سے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ میرا اپنا تعلق ہے، جسے میں استعمال کروں گا، افغانستان پر اگر میرا اثر ہے، وہ میرے ملک کے مفاد کیلئے ہے، میں افغانستان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے دورے کی دعوت دی، میں اپنے ملک کے وزیرخارجہ اور اپنی حکومت کو اس مسئلے پر اعتماد میں لے کر جا رہا ہوں، پڑوسی دوست ملک ایک دوسرے کی بہتری کا سبب بنیں، پڑوسی ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، افغانستان میں غلط فہمیاں، بدامنی پیدا کی گئیں، ان ساری چیزوں کو حل کرنا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔

  • افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کی تقرری،عرب امارات کی قراردادسلامتی کونسل میں منظور

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کی تقرری،عرب امارات کی قراردادسلامتی کونسل میں منظور

    اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کی تقرری کیلئے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہو گئی

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کے لئے قرارداد کی امریکہ نے بھی حمایت کی،جب قرارداد پیش کی گئی تو اس وقت روس اور چین رائے شماری کے اجلاس میں نہیں تھے، 13 اراکین نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیئے،

    افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کی تقرری کا مقصد طالبان رہنماؤں سے رابطے بڑھانا ہے ،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا،جس کے بعد قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی جو منظور کر لی گئی ہے،قرارداد متحدہ عرب امارات اور جاپان کی جانب سے پیش کی گئی تھی،قرارداد میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوص مقرر کرنے کا مقصدافغان خواتین کی محفوظ،مکمل،مساوی،اور بامعنی شرکت کے ساتھ پرامن افغانستان ہے جو بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر دوبارہ شامل ہو،

    دوسری جانب طالبان حکومت کے افغانستان میں خواتین کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے،اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق افغانستان میں زچگی کے دوران ہر دو گھنٹے میں ایک خاتون کی موت ہوتی ہے ، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کو عالمی سطح پر زچگی اور بچوں کی شرح اموات کا سامنا ہے جہاں 1 لاکھ بچوں کی پیدائش پر 638 خواتین کی موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ نے خبردار کیا کہ 51 ہزار اضافی زچگی اموات، 4.8 ملین غیر ارادی حمل، اور 2025 تک خاندانی منصوبہ بندی کے کلینک ختم ہو جائیں گے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق افغانستان میں خواتین صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس سے ماؤں اور بچوں کی شرح اموات میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغ بچیوں کی شادیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات اور عسکریت پسندوں سے خواتین کی جبری شادیوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ،خواتین کا معائنہ کرنے والے مرد ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے،ہسپتالوں اور کلینکس کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ صرف خواتین عملے کو ہی خواتین مریضوں کی دیکھ بھال کی اجازت دیں،ڈبلیو ایچ او کے مطابق افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی شدید کمی ہے، 10 ہزار افغانیوں کے لیے صرف 4.6 ڈاکٹر، نرسیں اور دائیاں ہیں جو کہ معیاری سطح سے تقریباً پانچ گنا کم ہیں، اگست 2021 میں طالبان کی واپسی نے صحت کے بحران کو مزید بڑھا دیا، خواتین کا طبی شعبہ شدید متاثر ہوا جسکی وجہ سے خواتین کو بنیادی زندگی کے حقوق اور تعلیم میں پابندیوں کا شدید سامنا ہے، دور دراز علاقوں میں ہر 1 لاکھ بچوں کی پیدائش پر 5 ہزار زچگی کی اموات خطرناک حد تک بڑھی ہیں، خواتین کو ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے پہاڑی رستے کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے وہ رستے میں ہی دم توڑ دیتیں ہیں،سرکاری ہسپتالوں تک رسائی ناممکن ہونے کی وجہ سے خواتین کو بچے کی پیدائش کے لیے اپنی ادویات خود لانے کی ضرورت ہوتی ہے، ایک ڈیلیوری کی لاگت تقریباً 2 ہزار افغانی ($29) روپے یے، جو کہ بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہیں، ڈلیوری کے چارجز زیادہ ہونے کی وجہ سے 40 فیصد افغان خواتین گھر پر اور 80 فیصد دور دراز علاقوں میں بچے پیدا کرتی ہیں،2021 میں طالبان کے قبضے سے پہلے افغانستان میں تشدد سے بچ جانے والی خواتین کے لیے 23 ریاستی سرپرستی کے مراکز تھے جو کہ موجودہ انتظامیہ کے تحت بند کر دیے گئے ہیں ،طالبان حکومت خواتین کی صحت کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اسے مغربی تصور قرار دیتے ہیں،

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل گئے

    ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل گئے

    ڈی آئی خان: ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل چکے ہیں اور حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی موصول ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی انسداد دہشت گردی عمران شاہد کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال 23 خود کش حملے ہوئے، جن میں سے متعدد حملے ناکام بنائے، دہشت گردی کے مختلف واقعات میں رواں سال 184 پولیس شہید ہوچکے ہے اور 408 زخمی ہوئے ہے،1093 دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے، رواں سال 1093 مقدمات درج کیے گئے، مختلف دہشت گردی کے مقدمات مں 2595 افراد کو نامزد کیا گیا، راوں سال 225 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 726 کو گرفتار کیا گیا، سی ٹی ڈی نے 2024 انٹیلی جنس بیس آپریشن کیے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا عمران شاہد نے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی کو مزید بہتر کرنا ہوگا کیوں کہ افغان سرحد کے قریب علاقوں میں سیکیورٹی تھریٹ ہیں، جنوبی اضلاع میں الیکشن کے لیے سیکیورٹی مزید بہتر کرنا ہوگی کیوںکہ افغان سرحد کے قریب علاقوں میں سیکیورٹی تھریٹ موجود ہیں، پورا صوبہ حساس ہے، کسی علاقوں کو نارمل نہیں لے رہے ہے، دہشت گردی کے واقعات بڑھنے کے ساتھ سی ٹی ڈی نے بھی کارروائی سخت کردی ہے، جرائم پر قابو کرنے کے لیے حکومت نے جدید سافٹ وئیرز دئیے ہیں، اور سی ٹی ڈی کی فنڈنگ کا مسئلہ بھی حل کردیا گیا ہے۔

    عمران شاہد نے کہا کہ جنوبی اضلاع کا بارڈر افغانستان کے ساتھ ملا ہوا ہےاس لیے وہاں پر دہشتگردی کے واقعات زیادہ ہیں، الیکشن کے لیے جنوبی اضلاع ایک بڑا چیلنج ہے جہاں سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنا رہے ہیں ڈی آئی خان میں فورسز پر حملے میں استعمال کیے گئے ٹرک کی معلومات حاصل کرلی گئی ہیں، اس حملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے مطابق حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، حملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کے ڈی این اے کروا لیے گئے ہیں۔

    عمران شاہد کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقام افغان باشندوں کی واپسی کے بعد صوبے میں اسٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہے، تمام مہاجرین بدامنی میں شامل نہیں تھے، اور 17 لاکھ مہاجرین میں سے 3 لاکھ افراد کے واپس جانے سے بدامنی اور دہشت گردی میں اچانک کمی واقع نہیں ہوگی حالیہ دنوں میں ہونے والے ڈی آئی خان حملے کے کئی اہم شواہد مل چکے ہے، اور حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی حاصل کرلی ہے۔

  • پاکستان نے افغانستان سے  ڈی آئی خان  واقعہ پر احتجاج کیا  ہے

    پاکستان نے افغانستان سے ڈی آئی خان واقعہ پر احتجاج کیا ہے

    پاکستان نے ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کے حملے پر افغان عبوری حکومت کے پاکستان میں ناظم الامور کو طلب کرکےاحتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے افغان عبوری حکومت کے ناظم الامور کو طلب کر کے درابن، ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی پوسٹ پر دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ اس دہشت گردی کے حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ ایک دہشت گرد گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے، دہشت گردی کے اس واقعہ میں پاک فوج کے 23 جوان شہید ہوئے۔

    افغان ناظم الامور کو کہا گیا کہ وہ فوری طور پر افغان عبوری حکومت کو آگاہ کریں۔ مراسلے میں کہا گیا کہ حالیہ حملے کے مرتکب افراد کے مکمل تحقیقات اور سخت کارروائی کی جائے۔ افغان عبوری حکومت سے عوامی سطح پر اس واقعہ کی مذمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    افغان حکومت تمام دہشت گرد گروہوں بشمول قیادت اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری طور پر کارروائیاں کریں۔ مراسلے میں کہا گیا کہ حملے کے مرتکب افراد اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت کو پکڑ کر حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق مراسلے میں کہا گیا کہ دہشت گردانہ حملہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خطرے کی ایک اور یاد دہانی ہے۔

    واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 12 دسمبر کی علی الصبح 6 دہشت گردوں کے ایک گروپ نے درابن کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کر دیا، ان کی جانب سے چوکی میں داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا، دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی تھی اس خودکش حملے کے نتیجے میں عمارت تباہ ہو گئی اور 23 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ تمام 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    اس کے علاوہ 11 اور 12 دسمبر کی درمیانی شب انٹیلی جنس کی بنیاد پر درازندہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، اور 17 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کولاچی کے علاقے میں ایک اور انٹیلی جنس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں بہادری سے لڑتے ہوئے 2 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

  • افغان طالبان   دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں،چین

    افغان طالبان دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں،چین

    بیجنگ:چین نے افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دیا ہےکہ وہ تمام ممالک خاص کر پڑوسیوں سے تعلقات ٹھیک اور دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں۔

    باغی ٹی وی: ترجمان چینی وزارت خارجہ وانگ وین بن کا کہنا ہےکہ چین اب طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلے گا، چین کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ افغانستان کو بین الاقوامی برادری سے خارج نہیں کرنا چاہیے،ترجمان نے امید ظاہر کی ہےکہ افغانستان عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترے گا، افغانستان میں جامع سیاسی ڈھانچہ، معتدل اور مستحکم ملکی و خارجہ پالیسی تشکیل دی جائےگی۔

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی برادری میں افغانستان کی دوبارہ شمولیت کا منتظر ہے، اور اس نے طالبان حکومت سے بین الاقوامی خدشات کا مزید جواب دینے کا مطالبہ کیا، کہا کہ ہر قسم کی دہشت گرد قوتوں کا پرعزم طریقے سے مقابلہ کرے، دنیا بھر کے تمام ممالک، خاص طور پر پڑوسی ملکوں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہے اور جلد از جلد بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہم آہنگ ہو ، اس کے بعد، قدرتی طور پر افغان حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

    روسی صدر سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    اگست 2021 میں امریکی فوجیوں کے انخلاکے بعد اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان کی حکومت کو کسی بھی ملک نے سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا ہےاس وقت کوئی بھی ملک طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن چین سمیت کچھ ک ممالک کے کابل میں سفارت خانے ہیں اور افغانستان کی طالبان حکومت نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ چین نے اس کے سفیر اسد اللہ بلال کریمی کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے

    اگر پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے توجنگ رُک سکتی ہے،اسماعیل ہانیہ

  • بھارت میں افغان سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا گیا

    بھارت میں افغان سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا گیا

    دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں گزشتہ دنوں بند کیا گیا افغان سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: افغان میڈیاکےمطابق ممبئی کی قونصل جنرل ذکیہ وردک اور حیدرآباد کے قونصل جنرل سید محمد ابراہیم خیل نے نئی دلی میں سفارتخانےکی ذمہ داریاں سنبھال لیں،بھارت میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھارتی حکومت کی درخواست پر لیاگیا۔
    https://x.com/AfghanUrdu/status/1730510751830532240?s=20
    گزشتہ دنوں افغانستان کی وزارت خارجہ کےتحت ہونےوالی آن لائن میٹنگ میں سابقہ دور میں تعینات ہونےوالےممبئی کی قونصل جنرل ذکیہ وردک اور حیدرآباد کے قونصل جنرل سید محمد ابراہیم خیل نے شرکت کی تھی جس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا۔

    پی آئی اے کے دو طیاروں کا بیرون ملک پارکنگ کا خرچہ ڈیڑھ کروڑ …

    بلومبرگ نے سابق افغان سفیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کے تعینات کردہ کئی سفارتی اہلکار نوکریوں سے مستعفی ہوچکے ہیں اور باقی رہ جانے والے طالبان کی حمایت کرر ہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت میں افغان سفارتخانہ24 نومبرکو بند کردیاگیا تھا، گزشتہ دنوں افغان نائب وزیرخارجہ عباس ستانکزئی نے بھارت میں سفارتخانہ کھولے جانے کی توقع ظاہرکی تھی۔

    24 بچوں کے باپ اور 4 بیویوں کے شوہر کی شاہ رخ خان کو دھمکی

  • طالبان نے داعش کیخلاف کاروائی کی تا ہم دوسرے دہشتگرد گروپس کو پناہ دی، امریکی رپورٹ

    طالبان نے داعش کیخلاف کاروائی کی تا ہم دوسرے دہشتگرد گروپس کو پناہ دی، امریکی رپورٹ

    امریکہ نے دہشت گردی پر 2022 کی رپورٹ جاری کر دی، رپورٹ میں دنیا بھر میں 2022 میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں، دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی رپورٹ میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے،پاکستان کی تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد بارے امریکی رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے

    11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کے بعد، امریکہ نےبڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور جدید ترین انسداد دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا۔ 20 سال سے زائد عرصے بعد، دہشت گردی کے جن خطرات کا ہمیں اس وقت سامنا ہے وہ نظریاتی اور جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے۔ ایک ہی وقت میں، ریاست ہائے متحدہ دیگر قومی سلامتی کے چیلنجوں کی متنوع اور متحرک رینج کا مقابلہ کر رہا ہے،سائبر سکیورٹی کے خطرات، اور موسمیاتی تبدیلی بھی سامنے آئی ہے، وسیع تر قومی سلامتی کی ترجیحات کے تناظر میں ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے، ریاستہائے متحدہ نے ایک نئی انسداد دہشت گردی پالیسی کا افتتاح کیا، جو امریکی قیادت میں، فوجی مرکز کے نقطہ نظر سے ہٹ کر سفارت کاری، شراکت دار کی صلاحیت کی تعمیر، اور روک تھام کو ترجیح دیتا ہے۔ فوجی اور شہری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے درمیان ایک نیا توازن قائم کرنا انسداد دہشت گردی ٹولز کی مکمل رینج کو تعینات کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے.

    2022 میں، اس نئے فریم ورک کے تحت، امریکہ اور اس کے شراکت دار دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیابی حاصل کرتے رہے، امریکی قیادت کے ذریعے داعش کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد نے عراق اور شمال مشرقی شام میں بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم منصوبوں کی حمایت کے لیے $440 ملین سے زیادہ جمع کیے – جس میں $107 ملین کا امریکی وعدہ بھی شامل ہے۔ نومبر میں ریاستہائے متحدہ اور برطانیہ نے 14 حکومتوں اور متعدد اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک ڈونرز کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کی، تاکہ شمال مشرقی شام میں بے گھر افراد کے کیمپ میں سیکورٹی اور انسانی حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

    2022 میں، جولائی میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی موت کے بعد بھی، القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں پرعزم رہیں۔ القاعدہ کے سینئر رہنماؤں نے خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے عالمی نیٹ ورک کی نگرانی جاری رکھی۔ مشرقی افریقہ میں، الشباب (ع) نے جنوبی وسطی صومالیہ کے اہم حصوں پر ڈی فیکٹو کنٹرول برقرار رکھا۔ مغربی افریقہ میں، جماعت نصرت الاسلام والمسلمین نے ساحل میں حملے تیز کر دیے، جس سے دارالحکومت کے شہروں اور خطے میں امریکی سفارت خانوں کو خطرہ بڑھ رہا ہے، اور ساحلی مغربی افریقہ کے شمالی سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں کو بڑھا دیا ہے۔

    افغانستان میں، القاعدہ کے عناصر، داعش، اور علاقائی طور پر مرکوز دہشت گرد گروہ ملک میں سرگرم رہے۔ 2022 میں، داعش نے پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان میں سرحد پار سے حملے کیے اور مغرب پر حملہ کرنے کے عزائم کو برقرار رکھا۔ القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں، خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں القاعدہ، بھی افغانستان سے براہ راست امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں – لیکن اس کی صلاحیت نہیں تھی۔ جب کہ طالبان نے دہشت گرد گروپوں کو افغانستان کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے کرنے کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کا عہد کیا، القاعدہ کے عناصر، تحریک طالبان پاکستان، اور داعش کو بیرونی کارروائیوں میں اضافے سے روکنے کی صلاحیت غیر واضح رہی، 30 جولائی 2022 کو امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے سے قبل طالبان نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل میں میزبانی اور پناہ دی۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2022 میں افغانستان اور پاکستان میں مسلسل دہشت گردانہ سرگرمیاں دیکھی گئیں، سیکورٹی فورسز کے خلاف باغیوں کے حملے جاری رکھے گئے،امریکہ نے ابھی تک طالبان یا کسی دوسرے ادارے کو افغانستان کی حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ طالبان نے 30 جولائی کو امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے سے قبل القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل میں میزبانی اور پناہ دی تھی۔ طالبان نے بارہا کہا کہ وہ کسی بھی گروہ یا فرد کو افغان سرزمین کو دھمکی دینے کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے اپنے عزم کو برقرار رکھیں گے۔طالبان نے داعش کے خلاف لڑائی کی جسے وہ اپنا بنیادی خطرہ سمجھتے تھے، لیکن وہ دوسرے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے رہے۔

    افغانستان کے پڑوسیوں کو علاقائی سلامتی اور ملک سے پیدا ہونے والے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات پر گہری تشویش ہے۔ 2022 میں، داعش سمیت دہشت گرد گروہوں نے افغانستان سے تاجکستان، ازبکستان اور پاکستان کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ داعش نے افغان شہریوں کے خلاف بھی حملے کیے، جو اکثر کمزور مذہبی اور نسلی اقلیتی آبادی کے ارکان پر حملے کرتے ہیں۔داعش نے ستمبر میں روسی سفارت خانے، دسمبر میں پاکستانی سفارت خانے، اور دسمبر میں عوامی جمہوریہ چین کے شہریوں کے اکثر ہوٹل پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔داعش سمیت القاعدہ کے عناصر، اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہ ،جیسے کہ تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا جاری رکھا۔

    وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان سے متشدد انتہا پسند عناصر کی جانب سے اپنی سرحدوں کو عبور کرنے یا سرحد پار سے راکٹ حملوں کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروپوں کے ساتھ لڑنے کے لیے عراق یا شام جانے والے شہریوں کی واپسی سے لاحق ممکنہ خطرے سے چوکس رہیں۔

    پاکستان نے لشکرطیبہ اور جیش محمد کو ختم کرنے کیلئے خاطر خواہ کاروائی نہیں کی، امریکہ
    امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کے نامزد کردہ کئی دہشت گرد گروپ جو ملک سے باہر حملے مرکوز کرتے ہیں، لشکر طیبہ اور جیش محمد سمیت 2022 میں پاکستان سے کام کرتے رہے، پاکستان نے 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے اور کچھ عسکریت پسند گروپوں کو روکنے کے لیے کچھ اقدامات کیے، لیکن حکام نے انھیں ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔ لشکر طیبہ کے رہنما ساجد میر کو جون میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ پاکستان کے اندر حملے کرنے والے بڑے دہشت گرد گروہوں میں ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی، اور داعش شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی اور دیگر نامزد دہشت گرد گروپ پاکستانی فوجی اور سویلین اہداف کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    30 نومبر کو امریکی محکمہ خارجہ نے برصغیر ہند میں القاعدہ کے تین رہنماؤں اسامہ محمود، عاطف یحییٰ غوری، اور محمد معروف کو دہشت گرد قرار دیا،30 نومبر کو ہی، محکمہ خارجہ نے مفتی حضرت ڈیروجی عرف قاری امجد کو بھی نامزد کیا۔ امجد تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر ہیں، جو صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپریشنز اور عسکریت پسندوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی پر پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، دوطرفہ تعلقات نے مشترکہ اقتصادی اور ترقیاتی ترجیحات بشمول تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور بھاری سیلاب سے ہونے والی تباہی کے ازالے کے لئے مدد کی، 2022 میں امریکی حکومت نے پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے، خوراک کی حفاظت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے 97 ملین ڈالر سے زائد کا وعدہ کیا۔ امریکہ نے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی میں مدد کے لیے بھی مدد فراہم کی، موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے شراکت داری اور نجی شعبے کی قیادت میں تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی۔ صحت کے شعبے میں، امریکہ نے عالمی صحت کی حفاظت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ شراکت کی۔ امریکہ پاکستان امریکہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، امریکہ کے بارے میں پاکستان کے تاثرات کو بہتر بنانے اور عوام سے عوام کے تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے عوام سے عوام کے تبادلے کی حمایت کرتا ہے۔ امریکی حکومت پاکستان کے لیے مضبوط قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسداد منشیات، اور قانون کی حکمرانی میں مدد فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق القاعدہ برصغیر نے افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو سرانجام دیا، 2019 میں، القاعدہ برصغیر کے سابق سربراہ عاصم عمر، ایک مشترکہ امریکی افغان فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے۔ اس کے موجودہ لیڈر اسامہ محمود ہیں۔القاعدہ برصغیر نے کراچی، پاکستان میں ڈاکیارڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں عسکریت پسندوں نے قریبی امریکی جنگی جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے پاکستانی بحریہ کے فریگیٹ کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔القاعدہ برصغیر نے بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیکولر مصنفین کے خلاف حملوں کا بھی دعویٰ کیا، جن میں امریکی شہری اویجیت رائے، ایمبیسی ڈھاکہ کے مقامی ملازم ذولہاز منان، اور بنگلہ دیشی شہریوں اویاسق الرحمن بابو، احمد رجب حیدر، اور اے کے ایم شامل ہیں۔

    2020 میں، ہندوستان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے کیرالہ اور مغربی بنگال سے القاعدہ سے وابستہ 10 مبینہ کارندوں کو گرفتار کیا۔ 2021 میں، این آئی اے نے لکھنؤ میں القاعدہ کے پانچ مبینہ کارندوں کو اتر پردیش میں دہشت گردانہ حملے کی سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ 2021 میں بھی، القاعدہ نے خاص طور پر ہندوستان اور کشمیر میں سامعین کو نشانہ بنانے والی دو پروپیگنڈا ویڈیوز جاری کیں۔

    حرکت المجاہدین کو 8 اکتوبر 1997 کو ایف ٹی او کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ 2005 میں، حرکت المجاہدین کے رہنما فضل الرحمان خلیل نے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر بدر منیر نے لے لی۔ حرکت المجاہدین نے مشرقی افغانستان میں تربیتی کیمپوں کو چلایا یہاں تک کہ 2001 میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں نے انہیں تباہ کر دیا۔ 2003 میں، حرکت المجاہدین نے جمعیت الانصار کا نام استعمال کرنا شروع کیا۔ پاکستان نے 2003 میں اس گروپ پر پابندی لگا دی تھی۔حرکت المجاہدین نے مقبوضی کشمیر ہندوستانی فوجیوں اور شہری اہداف کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ 1999 میں، حرکت المجاہدین نے ایک ہندوستانی ہوائی جہاز کو ہائی جیک کر لیا، جس کے نتیجے میں مسعود اظہر، جس نے بعد میں جیشِ محمد کی بنیاد رکھی، رہا کر دیا گیا۔ بھارت نے ہائی جیکنگ کے نتیجے میں احمد عمر شیخ کو بھی رہا کر دیا۔ احمد عمر شیخ کو بعد میں 2002 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ حرکت المجاہدین نے 2022 میں کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    جیش محمد، جس کے نام تحریک الفرقان؛ خدام الاسلام; قدام اسلامی بھی رکھے گئے کو 26 دسمبر 2001 کو FTO کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ جیش محمد کی بنیاد حرکت المجاہدین کے سابق سینئر رہنما مسعود اظہر نے 2000 میں رکھی تھی۔ امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیش محمد پاکستان کے کچھ حصوں میں کھلے عام کام جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے باوجود کہ ملک کی جانب سے 2002 میں اپنی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس گروپ نے جموں اور کشمیر میں کئی خودکش کار بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے،ہندوستانی حکومت نے 2001 میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے میں لشکر طیبہ کے ساتھ جیش محمد کو سرعام ملوث کیا جس میں نو افراد ہلاک اور 18 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

    لشکر طیبہ سے ملی مسلم لیگ کا سفر،امریکی رپورٹ میں تذکرہ
    امریکی رپورٹ میں لشکر طیبہ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مختلف ناموں سے کام کرتی رہی اور کر رہی ہے، لشکر طیبہ کے ناموں میں پاسبانِ اہلحدیث؛ پاسبانِ کشمیر؛ پاسبانِ اہل حدیث؛جماعت الدعوۃ; جے یو ڈی؛ جماعۃ الدعوۃ؛فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن،ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن؛ الانفال ٹرسٹ؛ تحریک حرمت رسول ﷺ ،تحریک تحفظ قبلہ اول، المحمدیہ طلباء المحمدیہ اسٹوڈنٹس پاکستان؛ تحریک آزادی کشمیر; تحریک آزادی جموں و کشمیر، ملی مسلم لیگ; ملی مسلم لیگ پاکستان؛ ایم ایم ایل شامل ہیں

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ کو 26 دسمبر 2001 کو ایک ایف ٹی او کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ لشکر طیبہ ایک بھارت مخالف گروپ ہے، جو اصل میں 1980 کی دہائی کے آخر میں مرکز الدعوۃ الارشاد کے عسکری ونگ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ پاکستان میں قائم تنظیم اور خیراتی ادارے اصل میں افغانستان میں سوویت یونین کی موجودگی کی مخالفت کے لیے تشکیل دیے گئے تھے۔ تنظیم کی قیادت حافظ محمد سعید کر رہے ہیں۔ لشکر طیبہ کے ایف ٹی او کے عہدہ کے فوراً بعد، حافظ محمد سعید نے گروپ کا نام تبدیل کر کے جماعت الدعوۃ رکھ دیا اور پابندیوں سے بچنے کے لیے انسانی ہمدردی کے منصوبے شروع کیے۔ لشکر طیبہ اپنا پیغام جے یو ڈی کے میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے پھیلاتا ہے۔

    لشکر طیبہ اور جیش محمد ، دوسرے گروپوں جیسے حزب المجاہدین کے ساتھ مل کر بھارت مخالف حملے کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے 2002 میں لشکر طیبہ پر پابندی لگا دی اور 2008 کے ممبئی حملے کے بعد حافظ محمد سعید کو عارضی طور پر گرفتار کر لیا۔ 2017 میں پاکستان نے حافظ محمد سعید کو گھر میں نظر بند کر دیا۔ تاہم، اسے 10 ماہ بعد رہا کر دیا گیا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کی تجدید کی حکومتی درخواست کو مسترد کر دیا۔ 2019 میں، پاکستانی پولیس نے حافظ محمد سعید کو دوبارہ گرفتار کیا اور اس پر دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام عائد کیا۔ 2020 میں، حافظ محمد سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں قصوروار پایا گیا اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق لشکرطیبہ نے 1993 سے ہندوستانی فوجیوں اور شہری اہداف کے خلاف کئی ہائی پروفائل حملوں سمیت متعدد کارروائیاں کیں، بشمول ممبئی میں لگژری ہوٹلوں، ایک یہودی مرکز، ایک ٹرین اسٹیشن، اور ایک مشہور کیفے کے خلاف 2008 کے حملے جس میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے، 2010 میں، پاکستانی نژاد امریکی تاجر ڈیوڈ ہیڈلی نے ایک امریکی عدالت میں 2008 میں ممبئی میں لشکر طیبہ کے حملوں میں اپنے کردار سے متعلق الزامات اور ڈنمارک کے اخبار Jyllands-Posten پر بم حملے کی ایک الگ سازش سے متعلق الزامات کے لیے جرم قبول کیا۔ ہیڈلی نے 2011 اور 2015 میں لشکر طیبہ کے دیگر حامیوں کے ٹرائلز میں گواہی دی تھی۔

    2017 میں، لشکر طیبہ نے جموں کشمیر میں ایک حملہ کیا جس میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اگلے مہینے، لشکر طیبہ کے عسکریت پسندوں نے امرناتھ یاترا کی عبادت گاہ سے واپس آنے والے زائرین کی بس پر حملہ کیا، جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔ 2018 میں، لشکر طیبہ نے جموں کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک بھارتی فوجی کیمپ کے خلاف خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں تین فوجی ہلاک ہوئے۔مئی میں، لشکر طیبہ کے دو مشتبہ ارکان نے کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک سرکاری ملازم کو اس کے دفتر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مئی میں بھی، لشکر طیبہ کے ارکان نے کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں ایک اسٹور پر حملہ کیا، جس میں چار افراد زخمی ہوئے۔ جون میں، لشکر طیبہ کے ارکان نے کشمیر کے ضلع شوپیاں میں شہریوں پر گرینیڈ پھینکا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لشکر طیبہ کے پاس کتنی افرادی قوت ہے اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اصل تعداد کا اندازہ نہیں کر سکتے،لشکرطیبہ بارے امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ پاکستان اور خلیج فارس کی ریاستوں کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دوسرے عطیہ دہندگان سے عطیات جمع کرتی ہے – خاص طور پر برطانیہ، جہاں یہ ایک نامزد دہشت گرد تنظیم ہے۔ 2019 میں، لشکر طیبہ اور اس کی فرنٹ تنظیموں نے پاکستان میں کام کرنا اور فنڈ اکٹھا کرنا جاری رکھا۔

  • افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں  آنیوالی پروازوں  کیلئے نئی ہدایات جاری

    افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں آنیوالی پروازوں کیلئے نئی ہدایات جاری

    کراچی: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں آنے والی پروازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی : سی اے اے کے مطابق کابل میں تاحال ائیر ٹریفک سروس معطل ہے، افغانستان جانے والی پروازیں اپنےرسک پرجاسکتی ہیں پاکستان کی حدود میں داخلےسے15 منٹ قبل ائیرٹریفک کنٹرول کوآگاہی دیناہوگی، سی اے اے نے افغانستان سے پاکستان فضائی حدود میں داخلےکے لیے فریکوئنسی بھی جاری کی ہے جس کےذریعےافغانستان سےداخل پروازوں کورہنمائی فراہم کی جائےگی، مشرق سے افغانستان جانے والی پروازوں کو اسلام آباد فلائٹ انفارمیشن ریجن رہنمائی فراہم کرےگا ، کراچی اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجن بھی رہنمائی فراہم کریں گے،پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام ائیرلائنز کوآگاہ کردیا ہے۔

    عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    واضح رہے کہ قبل ازیں وزارت ہوا بازی کی جانب سے پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی اور پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی ایکٹ 2023 نافذ کرتے ہوئے سول ایوی ایشن کو 2 حصوں تقسیم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے بعد پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی دو الگ الگ محکمے بن گئے ہیں، دونوں محکموں کے سربراہ بھی الگ الگ ہوں گے، ملک کے تمام کمرشل ائیرپورٹس پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کا حصہ ہوں گے جبکہ لائسنسنگ، فلائٹ اسٹینڈرڈ، ائیرٹرانسپورٹ اور ریگولیٹری کے شعبے سول ایوی ایشن اتھارٹی کا حصہ ہوں گے، دونوں محکموں کو ملازمین کی تعداداور اثاثوں سمیت دیگر تفصیلات فوری فراہم کی جائیں۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ

  • نئی دہلی میں افغان سفارتخانہ مستقل بند

    نئی دہلی میں افغان سفارتخانہ مستقل بند

    افغانستان نے نئی دہلی میں مستقل طور پرسفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا

    افغانستان کے سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سفارت خانہ امارات اسلامی افغانستان نے نئی دہلی میں اپنے سفارتی مشن کو مستقل طور پر بند کر دیا ہے،ہندوستانی حکومت کی طرف سے مسلسل چیلنجوں کی وجہ سے 23 نومبر سے نافذ العمل ہے،یہ فیصلہ 30 ستمبر 2023 کو سفارتخانے کی کارروائیوں کے پہلے بند ہونے کے بعد کیا گیا ہے،یہ اقدام اس امید پر کیا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے موقف میں مثبت تبدیلی آئے گی تاکہ مشن کو معمول کے مطابق کام کرنے دیا جائے،

    افغان سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ ہم افغان کمیونٹی کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ مشن شفافیت، احتساب اور ہندوستان کے ساتھ تاریخی اور دوطرفہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کی خیرسگالی اور مفادات کی بنیاد پر غیر جانبداری کے ساتھ چلایا گیا۔

    واضح رہے کہ ماہ ستمبر میں پہلی بار افغانستان کے سفارت خانے کے حوالے سے تنازع سامنے آیا تھا اور افغان سفیر نے کہا تھا کہ سفارت خانے کو ہندوستان سے تعاون نہیں مل رہا،بھارت نے کہا تھا کہ افغان سفیر پچھلے کئی مہینوں سے بھارت کی بجائے برطانیہ میں مقیم ہیں.

    افغان سفارت خانے کے عملے نے بھارتی وزارت خارجہ کو لکھے خط میں موقف اپنایا تھا کہ بھارت سفارتی کام میں تعاون نہیں کررہا، سفارت خانے کو بائی پاس کر کے افغانستان حکومت سے براہ راست رابطے کرتا ہے، جس سے معاملات خراب ہورہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اگست2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے تین ہزار افغان طلبا اب بھی اپنے ویزوں کے منتظر ہیں، جس سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے بھارت2021 میں اقتدار میں واپس آنے والی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، اس نے افغان سفارت خانے کو سابق صدر اشرف غنی کے مقرر کردہ سفیر اور مشن کے عملے کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، جو امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد کابل سے فرار ہو گئے تھے۔