Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • بینک الفلاح کا افغانستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ

    بینک الفلاح کا افغانستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ

    بینک الفلاح نے افغانستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد افغانستان میں بینک الفلاح کے آپریشنز ختم کیے جا رہے ہیں،بینک نے اس فیصلے سے متعلق اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے، بینک الفلاح کئی برسوں سے افغانستان میں اپنی خدمات فراہم کر رہا تھا افغانستان کے غضنفر بینک نے بینک الفلاح کے متعلقہ آپریشنز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جس کے بعد ریگولیٹری منظوری کا عمل شروع کیا گیا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سینٹرل بینک آف افغانستان دونوں نے اس حوالے سے ریگولیٹری منظوری دے دی ہے، جبکہ افغان حکومت نے بھی غضنفر بینک کو جانچ پڑتال (ڈو ڈیلیجنس) کے عمل کی اجازت دے دی ہےسینٹرل بینک آف افغانستان کی جانب سے بھی غضنفر بینک کو جانچ پڑتال شروع کرنے کی منظوری مل چکی ہے، جس کے بعد خریداری کا عمل مکمل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    شیر افضل مروت کی عمران خان کےفیصلوں پر تنقید

    شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار،وارنٹ گرفتاری جاری

    صبا قمر کے خلاف متنازع بیانات پر صحافی نے معافی مانگ لی

  • امریکی انسپکٹر جنرل کی  افغانستان میں  جنگ سے متعلق جامع رپورٹ  جاری

    امریکی انسپکٹر جنرل کی افغانستان میں جنگ سے متعلق جامع رپورٹ جاری

    خصوصی امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیر نو (سیگار) نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ اور تعمیر نو سے متعلق جامع رپورٹ جاری کر دی-

    رپورٹ کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت کو نظرانداز کرنا ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور نظام کے انہدام کا باعث بنا2002 سے 2021 کے درمیان امریکا نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیے مجموعی طور پر 144.7 ارب ڈالر مختص کیے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، یہ اخراجات دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے لیے شروع کیے گئے مارشل پلان سے بھی زیادہ رہے، اس کے باوجود تعمیر نو کے اہداف پورے نہ ہو سکے اور افغان حکومتوں میں بدعنوانی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔

    سیگار کے مطابق جنگی کارروائیوں پر امریکا نے تعمیر نو کے علاوہ اضافی 763 ارب ڈالر خرچ کیے افغان سیکیورٹی فورسز پر تقریباً 90 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ کر سکیں اور امریکی انخلا کے فوراً بعد تیزی سے بکھر گئیں، افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود تھے اور ایندھن سمیت دیگر وسائل بڑے پیمانے پر چوری ہوتے رہے۔

    یونان کے تمام ہوائی اڈوں پر تکنیکی خرابی، فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل

    رپورٹ کے مطابق افغان فورسز کے لیے ایک لاکھ 47 ہزار گاڑیاں اور ہزاروں عسکری آلات خریدے گئے، جبکہ 4 لاکھ 27 ہزار 300 ہتھیار اور 162 طیارے فراہم کیے گئے اس کے باوجود امریکی انخلا کے بعد 7.1 ارب ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان افغانستان میں ہی چھوڑ دیا گیا۔

    افغانستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت بھی رپورٹ کا حصہ ہے، ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے افغانستان کے لیے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے، تاہم انسداد منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود نتائج غیر مؤثر رہے اسی طرح اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی، اس دوران 2,450 سے زائد امریکی فوجی جاں بحق اور 20,700 زخمی ہوئے انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

    اسٹارلنک کا وینزویلا کیلئے بڑا اعلان

    رپورٹ کے مطابق سقوط کابل کے بعد امریکا نے چار سال کے دوران طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد دی، جبکہ صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں طالبان کو 120 ملین ڈالر فراہم کیے گئے افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے تاحال فعال ہیں، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت ان امدادی رقوم پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے افغانستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے افغانستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    افغانستان نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کیلئے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

    فروری میں بھارت اور سری لنکا میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں لیگ اسپنر راشد خان افغانستان ٹیم کی قیادت کریں گے فضل حق فاروقی اور گلبدین نائب، جنہیں بنگلا دیش کے خلاف سیریز سے باہر رکھا گیا تھا، ورلڈ کپ سے قبل دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیے گئے ہیں۔

    افغانستان کے اسکواڈ میں راشد خان (کپتان)، ابراہیم زدران (نائب کپتان)، رحمان اللہ گرباز ، محمد اسحاق، صدیق اللہ اٹل، درویش رسولی، شاہد اللہ کمال عظمت اللہ عمرزئی، گلبدین نائب، محمد نبی، نور احمد، مجیب الرحمان، نوین الحق، فضل حق فاروقی اور عبداللہ احمدزئی شامل ہیں جبکہ اے ایم غضنفر، اعجاز احمدزئی اور ضیاء الرحمان شریفی کو ریزرو رکھا گیا ہے۔

    یہی اسکواڈ متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 3 میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی شرکت کرے گا، جو ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ ہوگی جبکہ افغانستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز 19 سے 22 جنوری تک کھیلی جائے گی جس کے بعد 7 فروری سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا آغاز ہوگا۔

  • ایرانی سرحد عبور کرتے ہوئے 40 افغان شہری شدید سردی سے جاں بحق

    ایرانی سرحد عبور کرتے ہوئے 40 افغان شہری شدید سردی سے جاں بحق

    غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش میں 40 افغان شہری ٹھنڈ سے جاں بحق ہوگئے افغان تارکین وطن صوبہ ہرات کے قریب ایرانی حدود میں جاں بحق ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق افغان شہریوں نے ایران جانے کیلئے اسلام قلعہ کے برفیلی راستے کا انتخاب کیا، افغان تارکین وطن راستے میں برفانی طوفان میں پھنس گئے تھے، کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں، ایرانی حکام نے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے ،افغان تارکین وطن صوبہ ہرات کے قریب ایرانی حدود میں جاں بحق ہوئے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 کے اختتام تک ایرانی حکام 18 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیج چکے ہیں۔

  • افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا  اہم اور خطرناک سبب

    افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا اہم اور خطرناک سبب

    بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا بھاری مقدار میں فوجی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا ایک اہم اور خطرناک سبب بن چکا ہے۔

    بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا تھا، جس میں 4 لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلکے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل آلات اور دیگر جدید جنگی سامان شامل تھا۔

    دی ڈپلومیٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ جدید آلات طالبان کے قبضے میں آ گئے، جو اب ان کی بنیادی عسکری طاقت بن چکے ہیں، 2021 میں طالبان نے تقریباً 10 لاکھ کے قریب فوجی سازوسامان پر قبضہ کیا تھا، تاہم طالبان نمائندوں کے مطابق اس ذخیرے کا کم از کم نصف حصہ اب لاپتا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ فروخت، اسمگل یا ضائع ہو چکا ہے، جس نے خطے میں سلامتی کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابل اور قندھار میں اسلحہ کی غیرقانونی منڈیاں اس غیرقانونی پھیلاؤ کی واضح علامت بن رہی ہیں، جبکہ یہ ہتھیار سرحد پار شدت پسند گروہوں تک بھی پہنچ رہے ہیں، پاکستان اس صورتحال کے سب سے زیادہ فوری اور مہلک اثرات کا سامنا کر رہا ہے،جدید ہتھیاروں تک رسائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی شدت اور مہارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، پاکستان میں ضبط ہونے والے متعدد ہتھیاروں کے سیریل نمبر افغان فورسز کو دیے گئے امریکی ہتھیاروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز اورمسلح کواڈ کاپٹرزکے استعمال کے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں جبکہ نائٹ ویژن اور تھرمل صلاحیتوں نے دہشتگردوں کی کارروائیوں کو مزید مہلک بنا دیا ہےپاک فوج دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بھرپور مزاحمت کر رہی ہے، تاہم رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو کابل کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز سے لاجسٹک اور ٹھوس معاونت ملتی رہی ہے،افغانستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے اوراسلحہ کی کھلی دستیابی پاکستان کے لئے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلحہ کے پھیلاؤ اور دہشتگردی کے خطرات پر مؤثر توجہ دی جائے، ہتھیاروں کی ٹریکنگ، غیر قانونی اسلحہ منڈیوں کے خلاف کارروائی اور طالبان پر دباؤ خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

  • پاک  افغان کشیدگی:چین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    پاک افغان کشیدگی:چین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور باہمی تنازعات پر چین کابھی ردعمل سامنے آ گیا-

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں، باہمی اختلافات اور تنازعات کو سفارتی سطح پر بات چیت سے فوری طور پر حل کریں،پاکستان اور افغانستان دونوں ہی چین کے روایتی اور دوستانہ پڑوسی ممالک ہیں اور یہ دونوں بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے پڑوسی رہیں گے۔

    اُن کے بقول چین کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک اختلافات اور تنازعات کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کریں، کشیدگی کو کم کریں اور مل کر خطے کو پُرامن اور مستحکم رکھیں،اس موقع پر چینی ترجمان نے یہ پیشکش بھی کی کہ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے اور پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،یہ مؤقف خطے میں امن کے لیے چین کی روایتی سفارتی پالیسی کے مطابق ہے جو کہ دوستی، تعاون اور مشترکہ مفاد پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں،دونوں ممالک کے درمیان دوحہ، استنبول اور ریاض میں مذاکرات بھی ہوئے ہیں تاہم یہ مذاکرات تاحال بے نتیجہ ہی ثابت ہوئے ہیں البتہ دونوں ممالک جنگ بندی پر قائم ہیں۔

  • افغانستان: طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات   نذر آتش کردیئے

    افغانستان: طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات نذر آتش کردیئے

    افغانستان میں طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کردیئے-

    طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مطابق افغان صوبے میدان وردک میں حالیہ ہفتوں کے دوران مقامی بازاروں سے ضبط کیے گئے درجنوں موسیقی کے آلات اور حقوں کو جلا دیا گیامجموعی طور پر 160 اشیا جن میں ڈھولک، طبلے، رُباب، ایک پیانو، ایم پی تھری پلیئرز، ٹیپ ریکارڈرز اور 15 حقوں کو شرعی احکامات کے مطابق نذر آتش کردیا گیا، یہ اشیا موسیقی اور غیراسلامی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال ہو رہی تھیں اور ان کی ضبطی اور ان کو نذرِ آتش کرنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت شہریوں کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد موسیقی کو عوامی مقامات سے تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور تقریبات یہاں تک کہ شادی میں بھی موسیقی پر سخت پابندی ہے،کلاسیکی موسیقی اور پاپ میوزک دونوں ہی طرح کی موسیقی نے سن 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے کے 20 سالوں میں کافی ترقی کی ہے۔

    لیکن اگست 2021 ء میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے طالبان مختلف شعبہ ہائے زندگی میں سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں،افغانستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میوزک جو ایک وقت اپنی ہمہ جہت ثقافتی اور موسیقی کی سرگرمیوں کے لیے کا فی مشہور تھا، کے طلبا اور اساتذہ، طالبان کے کنٹرول کے بعد سے، کلاسوں میں واپس نہیں آئے ہیں۔ بہت سے موسیقار ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

  • پاک افغان سرحد پر فائرنگ: 10 سے زائد افغان عسکریت پسندہلاک

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ: 10 سے زائد افغان عسکریت پسندہلاک

    5 دسمبر کو پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے دوران 10 سے زائدافغان عسکریت پسندہلاک جبکہ تقریباً 25 زخمی ہوئے۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے دوران10 سے زائدافغان عسکریت پسندہلاک جبکہ تقریباً 25 سے زائد زخمی ہوئے،پاکستانی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے،

    واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر طالبان فورسز اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے درمیان چمن اور اسپین بولدک سرحد پر ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ،پاکستان کے مطابق طالبان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کی،وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے ’چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، جس پر ہماری مسلح افواج نے فوری اور شدید ردِ عمل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یہ تازہ جھڑپ چند روز قبل سعودی عرب میں پاکستان اور طالبان حکومت کے نمائندوں کے درمیان اہم اور خفیہ ملاقات کے بعد ہوئی ہے مذکورہ ملاقات میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی تھی۔اس سے قبل استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دو دور بھی بے نتیجہ ختم ہوئے تھے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں میں بھی کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  • پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کر دیا، جس کے تحت تجارت کے لیے شرائط کو مزید آسان اور کاروبار دوست بنا دیا گیا ہے۔

    وزارتِ تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئی ترامیم کے مطابق برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جبکہ بیک وقت درآمد و برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی اجازت مل گئی ہے، بارٹر ٹریڈ کے لین دین کا دورانیہ 90 سے بڑھا کر 120 روز کر دیا گیا ہے، اور مخصوص اشیاء کی فہرست بھی ختم کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیا فریم ورک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے، تاکہ بارٹر ٹریڈ کو مزید عملی اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے جون 2023ء میں ان ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میکنزم نافذ کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد میں کئی انتظامی و پالیسی مسائل سامنے آئے تھے۔بزنس گروپس اور اسٹیک ہولڈرز نے محدود اشیاء کی فہرست، تصدیقی شرائط اور 90 روزہ تصفیہ پابندیوں جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

    ان مسائل کے حل کے لیے وزارتِ تجارت نے اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، ایف بی آر اور پاکستان سنگل ونڈو سمیت سرکاری و نجی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نیا فریم ورک تیارکیا.

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

    سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کے انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

  • سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحد کو اس انداز میں انتظام کرے گا جیسے دنیا کے خودمختار ممالک کرتے ہیں اور سرحد پر باقاعدہ امیگریشن کا نظام ہونا چاہیے۔ اُن کے بقول یہ درست نہیں کہ کوئی صبح اٹھ کر سرحد پار کر کے پشاور آ جائے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ دو تین روز کے واقعات اس طرح کے اقدامات کا فطری ردِ عمل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنی سرحد کا احترام کریں گے اور چاہتے ہیں کہ دوسرے فریق بھی ہماری سرحد کا احترام کریں۔ وزیرِ دفاع نے بھارت کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ریاستیں جیسے coexist کرتی ہیں ہمیں بھی ویسا ہی طرزِ عمل اپنانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ملک کا ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ جو پناہ گزین یہاں آ چکے تھے انہیں واپس جانا چاہیے — جنگ گزر چکی، لوگ واپس جا چکے تھے مگر کچھ ابھی بھی یہاں موجود ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ جن افراد کو واپس لایا گیا تھا اُن کے حوالے سے اسمبلی میں بھی بریفنگ دی گئی تھی، انھوں نے علاقے کی میپنگ اور ریکنگ کی اور سینٹرز قائم کیے گئے۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان امور کو پہلے فارملائز کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے چین کے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی پالیسیوں کو قومی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا اور ریاست کو صوبوں کو واضح ہدایات دینی ہوں گی — یہ ملک اسی طرح چلے گا؛ یہ ممکن نہیں کہ کسی صوبے میں سرحد کی کوئی قدر و قیمت نہ سمجھی جائے۔

    ارشد ندیم کے کوچ سلمان بٹ پر تاحیات پابندی لگ گئی

    یحییٰ سنوار کی تحریر شدہ حملے کی منصوبہ بندی کی دستاویز برآمد،اسرائیل کا نیا دعویٰ

    وزیرِ اعظم کل امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مصر روانہ ہوں گے

    افغان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، بلاول بھٹو زرداری