Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افغان طالبان کا  بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار

    افغان طالبان کا بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار

    افغان طالبان نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے کہا کہ عالمی عدالت کے ایسے احمقانہ اعلانات طالبان کی شرعی قوانین سے وابستگی اور عزم پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان حکومت آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتی۔واضح رہے کہ آج آئی سی سی نے افغان طالبان کے دو اہم رہنماؤں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں۔ ان میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی شامل ہیں۔

    عدالت کے مطابق ان رہنماؤں پر خواتین کے خلاف جبری اقدامات اور صنفی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد موجود ہیں۔ ججوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں تعلیم، کام اور آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں شامل ہیں، جو خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ڈیفنس فلیٹ سے برآمد، طبعی موت کا شبہ

    پاک فضائیہ کی بھارت سے جھڑپ میں کارکردگی قابل ستائش، چینی ایئر چیف کا اظہارِ تحسین

    اٹلی:ایک شخص سیکیورٹی توڑ کر جہاز کے انجن میں جا گھسا، ہلاک

    10 جولائی تک شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ملک گیر الرٹ جاری

  • افغان طالبان کا  اپنے ناظم الامور کو سفیر کے درجے پر ترقی دینے کا اعلان

    افغان طالبان کا اپنے ناظم الامور کو سفیر کے درجے پر ترقی دینے کا اعلان

    افغان طالبان حکومت نے اسلام آباد میں موجود اپنے ناظم الامور کو سفیر کے درجے پر ترقی دینے کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے افغانستان میں سفیر تعینات کرنے کے فیصلے کے بعدافغان طالبان حکومت نے بھی پاکستان کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد میں موجود اپنے ناظم الامور کو سفیر کے درجے پر ترقی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

    افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور یہ اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کی راہ ہموار کرے گا۔

    پاکستان کا بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار

    پاکستان کی جانب سے افغانستان میں سفیر کی تعیناتی کا فیصلہ حالیہ سفارتی روابط میں بہتری اور باہمی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے علاقائی سطح پر ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر یہ پیشرفت تجارتی، سیکیورٹی اور مہاجرین جیسے اہم معاملات پر براہ راست بات چیت کے دروازے کھولنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    مشہور کینڈی برانڈ میں بھنگ کی آمیزش کا انکشاف

  • افغان طالبان کی فتنتہ الخوارج کو تنبیہ

    افغان طالبان کی فتنتہ الخوارج کو تنبیہ

    افغان طالبان کے کمانڈر سعیداللہ سعید نے پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فتنتہ الخوارج کو انتباہ جاری کر دیا کہا کہ مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرون ملک جہاد کرنے والے حقیقی مجاہد نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق کمانڈر سعیداللہ سعید نے اپنے خطاب میں فتنتہ الخوارج کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امیر کے حکم کے خلاف کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان میں لڑنا جائز نہیں، مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرون ملک جہاد کرنے والے حقیقی مجاہد نہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ حملےکرنے والےافراد کو مجاہد کہنا غلط ہےجہاد کا اعلان یا اجازت دینا صرف ریاستی امیر کا اختیار ہےکسی گروہ یا فرد کا نہیں، اگر ریاستی قیادت پاکستان نہ جانے کا حکم دے چکی ہے تو اس کے باوجود جانا دینی نافرمانی ہے اپنی انا یا گروہ کی وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا جہاد شریعت کے مطابق فساد تصور کیا جائے گا، جہاد کے نام پر حملے کرنے والے گروہ شریعت اور افغان امارت دونوں کے نافرمان ہیں۔

    سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛موسیٰ خیل میں کالعدم تنظیم کے 4 دہشتگرد ہلاک

    دفاعی ماہرین نے کہا کہ یہ بیان پاکستان کی داخلی سلامتی، بیانیے اور عالمی سطح پر سفارتی مؤقف کو مضبوط کرتا ہے، بھارتی پروکسیز اور بھارتی ایماء پر فتنتہ الخوارج کا نام نہاد جہاد دراصل شریعت، ریاست اور امن کے خلاف دہشتگردی ہے۔

    میرپورماتھیلو: دشمنی پر قتل، ملزمان کے گھر مسمار و نذر آتش

  • طالبان کے نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر کا ‘خفیہ دورہ’ انڈیا، اہم ملاقاتیں

    طالبان کے نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر کا ‘خفیہ دورہ’ انڈیا، اہم ملاقاتیں

    افغان طالبان کے نائب وزیر داخلہ اور معروف عسکری کمانڈر ابراہیم صدر نے حالیہ دنوں انڈیا کا ایک ’خفیہ دورہ‘ کیا، جس دوران ان کی انڈین حکام سے اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق ابراہیم صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان باہمی الزامات اور سرحدی تناؤ عروج پر ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے انڈین حکام کے ساتھ حساس نوعیت کی ملاقاتیں کیں، جنہیں بھارتی میڈیا نے خاصی اہمیت دی ہے۔

    ابراہیم صدر کو طالبان قیادت، خصوصاً امیر ملا ہبت اللہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور وہ طالبان حکومت میں سیکیورٹی اور عسکری حکمت عملی کے حوالے سے کلیدی کردار کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اس سے قبل طالبان کے عسکری ونگ ‘ہلمند کونسل’ کی قیادت کر چکے ہیں اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا شکار افراد کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    بھارتی اخبار ’سنڈے گارڈیئن‘ نے اس دورے کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ایسے اعلیٰ سطحی عہدیدار سے خفیہ روابط اور مواصلاتی ذرائع کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈیا طالبان حکومت سے تعلقات کے حوالے سے اپنے موقف پر نظرثانی کر رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب متعلقہ طالبان رہنما ماضی میں پاکستان کے حوالے سے تنقیدی مؤقف رکھتے رہے ہیں۔

    اسی تناظر میں ایک اور اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جب 15 مئی کو انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ایس جے شنکر نے بعد ازاں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھاکہ میری آج شام افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے اچھی بات چیت ہوئی۔ پہلگام میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت پر میں ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘میں نے افغانستان کے عوام کے ساتھ دیرینہ شراکت داری اور ان کی ترقیاتی ضروریات کے لیے مسلسل بھارتی حمایت پر زور دیا، اور ہم نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘‘

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت، طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو ترتیب دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے۔

  • روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

    روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

    ماسکو: روس نے افغان طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق روس کی سپریم کورٹ نے روسی پراسیکیوٹر جنرل کی درخواست پر طالبان پر روس کی جانب سے عائد پابندی معطل کردی ہے، روس نے 2003 میں افغان طالبان کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، روس کی جانب سے عائد پابندی ختم ہونے سے ماسکو اور افغان قیادت کے تعلقات مزید بہتر ہونے اور تعاون بڑھانے کی راہ ہموار ہونےکا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ اگست 2001 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کوئی بھی ملک اس وقت طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم روس بتدریج طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے گزشتہ برس روسی صدر پیوٹن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان کو اتحا دی بھی قرار دے چکے ہیں۔

    جتنا فخر ہم دوسری زبانیں بول کر کرتے ہیں پنجابی بول کر بھی اتنا ہی فخر کرنا چاہیے،مریم نواز

    ماہرین کے مطابق روس افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک کئی ممالک میں موجود شدت پسند گروپوں سے لاحق سکیورٹی خطرات کے پیش نظر طالبان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے، مارچ 2024 میں مسلح افراد نے ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں حملہ کر کے 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس انٹیلیجنس اطلاع ہے کہ حملے کے پیچھے گروپ کی افغان شاخ داعش خراسان ملوث تھی، طالبا ن کا کہنا ہےکہ وہ افغانستان میں داعش کے خاتمےکے لیےکام کر رہے ہیں۔

    ننکانہ : غزہ کے مظلوموں کے حق میں بار اور پریس کلب کا سیمینار، ریلی

  • افغان طالبان نے  امریکی خاتون قیدی کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے امریکی خاتون قیدی کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے رواں برس قید ہونے والی ایک امریکی خاتون قیدی کو رہا کردیا۔

    غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے لیے امریکا کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے بتایا کہ طالبان نے گزشتہ ماہ افغانستان میں قید ہونے والی امریکی شہری فائی ہال کو رہا کردیا ہے۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس پیش رفت کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی اور زلمے خلیل زاد نے بھی تفصیل نہیں بتائی تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر فائی ہال کی ایک تصویر جاری کردی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ افراد کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب زلمے خلیل زاد نے بتایا کہ امریکی شہری فائی ہال کو طالبان نے ابھی رہا کردیا ہے اور وہ اس وقت کابل میں ہمارے قطری دوستوں کی نگہداشت میں ہے اور جلد ہی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوجائیں گی۔ اس حوالے سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ فائی ہال کو افغانستان میں فروری میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں عدالت کے حکم اور قطر سے حاصل لاجسٹک سپورٹ کے بعد جمعرات کو رہا کردیا گیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکی شہری خاتون کو کابل میں واقع قطر کے سفارت خانے منتقل کردیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد ان کے بہتر طبیعت کے حوالے سے تصدیق کی گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ امریکی خاتون کی وطن واپسی کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکی شہری فائی ہال کو گزشتہ ماہ برطانوی جوڑا باربی اور پیٹر رینالڈز کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔برطانوی میڈیا نے بتایا کہ 70 سالہ عمر کا حامل جوڑا افغانستان میں گزشتہ 18 سال سے اسکولوں کا منصوبہ چلا رہا ہے اور انہوں نے طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھی اپنا افغانستان میں رہ کر اپنا منصوبہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    تاہم برطانوی جوڑے کی رہائی کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی زلمے خلیل زاد نے اس بارے میں کوئی آگاہی فراہم کی ہے۔یاد رہے کہ زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا تھا اور اس کے علاوہ افغان طالبان نے ایک امریکی قیدی کو بھی رہا کردیا تھا۔

    سوئی سدرن کا عیدالفطر کیلئے گیس کا شیڈول

    کراچی، چاند رات اور عیدالفطر کےسیکیورٹی انتظامات مکمل

    وزیر اعظم شہباز کی قوم کو عید الفطر کی مبارکباد

    نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز میں پاکستان کو بڑا دھچکا

    سندھ حکومت کا زائد کرایوں کے خلاف سخت کریک ڈائون

  • طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورے پر جاپان پہنچ گیا

    طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورے پر جاپان پہنچ گیا

    کابل: افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کا پہلا سفارتی وفد دورہ جاپان پر پہنچا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے وفد میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ اعلیٰ تعلیم، وزارتِ معیشت اور وزارتِ صحت کے حکام شامل ہیں، طالبان وفد ایک ہفتہ تک جاپان میں قیام کرے گا یہ نادر دورہ طالبان کی عالمی برادری سے تعلقات بنا نے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    یہ دورہ جاپان اس وقت ہو رہا ہے جب کابل میں ایک خودکش بم حملہ ہوا ہے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے یہ حملہ وزا رتِ شہری ترقیات و رہائش کے باہر ہوا تھا جاپان کے سفارت خانے نے اس حملے کی مذمت کی اور دہشت گردی کے ایسے واقعا ت کی روک تھام کی اپیل کی ہے۔

    حزب اللہ کی اسرائیلی فوج کو 18 فروری تک لبنان خالی کرنے کی ڈیڈلائن

    افغانستان کے وزارتِ معیشت کے نائب وزیر لطیف نظری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ دورہ عالمی سطح پر باوقار تعلقات قائم کرنے اور افغانستان کو "مضبوط، متحد، ترقی یافتہ اور خوشحال” ملک بنانے کی کوشش کا حصہ ہے طالبان حکومت عالمی برادری کا ایک فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

    دوسری جانب جاپانی میڈیا کےمطابق جاپان کا سفارت خانہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عارضی طور پر قطر منتقل ہوگیا تھا، لیکن اب یہ دوبارہ کھل چکا ہے اور افغانستان میں سفارتی و امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔

    پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری سے استفادہ کیا،وزیراعظم

    واضح رہے کہ طالبان نے حالیہ برسوں میں چین، روس اور وسطی ایشیا کے ممالک جیسے ہمسایہ ممالک کا دورہ کیا ہے لیکن سفارتی سطح پر رابطہ ہمشہ کسی تیسرے ملک میں ہوا ہے طالبان نے 2022 اور 2023 میں یورپ کے سفارتی اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔

  • افغان طالبان  نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت  بنا لی

    افغان طالبان نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت بنا لی

    طالبان حکومت نے کابل کے وسط میں 9 منزلہ تجارتی مرکز کا افتتاح کردیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق دہائیوں سے جنگ زدہ کابل میں تجارتی، معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔طالبان حکومت نے تین سال سے بھی کم وقت میں کثیر المنزلہ کمرشل بلڈنگ بنا کر سب کو حیران کردیا۔34 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیے گئے تجارتی مرکز میں 1300 سے زائد دکانیں ہیں۔ 1,800 سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے اور ایک بڑی مسجد بھی ہے۔طالبان حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے زمین ریاست فراہم کی جب کہ اسے سن اسکائی گلوبل کمپنی نے تعمیر کیا۔

    اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 30 فیصد طالبان حکام کو اور 70 فیصد سرمایہ کاروں کو دیا جائے گا۔طالبان وزیراعظم کے دفتر کے چیف آف اسٹاف عبدالوٰسی خادم نے کہا کہ اس تجارتی مرکز میں بینکوں، کرنسی ایکسچینج آفس اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے مخصوص جگہیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ طالبان حکومت بین الاقوامی معیار کی ایک جدید تیل ریفائنری قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جس کی ابتدائی سرمایہ کاری 25 ملین ڈالر ہوگی اور اس کا حجم بڑھ کر 35 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

    واٹس ایپ میں رنگا رنگ چیٹ تھیمز کا اضافہ

    وفاقی حکومت کے قرض میں اضافے کا سلسلہ جاری

    سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگا، قیمت میں پھر بڑا اضافہ

  • عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

    عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

    اسلام آباد: پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے قائم مقام افغان سفیر سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے افغانستان کے پاکستان میں قائم مقام سفیر مولوی سردار احمد شکیب سے ملاقات کی، اس موقع پر سینئر سیاستدان محمد علی درانی اور مولانا فضل الرحمان خلیل بھی شریک تھےبیرسٹر سیف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی طرف سے افغانستان کی قیادت کے لیے خصوصی پیغام بھی سفیر مولوی سردار احمد شکیب کے حوالے کیا ۔

    انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے افغانستان کے عوام کے لیے نیک تمناؤں اور برادرانہ خیر سگالی کا پیغام دیا ہے اس موقع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار، باہمی بااعتماد اور دوطرفہ تعاون پر مبنی تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    بیرسٹر سیف نے قائم مقام افغان سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی و سیاسی عمائدین اور علماء کا وفد افغانستان لانا چاہتے ہیں، پاکستان اور افغانستان کے مابین دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    افغانستان کے قائم قام سفیر مولوی سردار احمد شکیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور وفد کی طرف سے نیک تمناؤں کے اظہار پر جوابی خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا انہوں نے بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، محمد علی درانی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کا شکریہ ادا کیا کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی مضبوطی خطے اور عوام کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے لیے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

  • افغانستان :امریکی انخلا کے بعد پونے 4 ارب ڈالر کی امداد خرچ ہونے کا انکشاف

    افغان طالبان کے جبری دور حکومت اور سنگین ترین عوامی صورتحال پر اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن(SIGAR) کی رپورٹ جاری کردی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رپورٹ کے مطابق خرچ کی گئی امداد کا 64.2 فیصد اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے زیر انتظام افغانستان ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ افغانستان میں SIGAR کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے تقریباً 3 ارب 71 کروڑ ڈالر کی امداد خرچ کی جاچکی ہے۔تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اضافی امدادی فنڈنگ بھی جاری کرنے کے لیے دستیاب ہے، امریکا میں منجمد کیے گئے افغان مرکزی بینک کے ساڑھے 3 ارب ڈالر کے اثاثے سوئٹزرلینڈ میں قائم افغان فنڈ میں منتقل کر دیے گئے، جو سود کے ساتھ اب 4 ارب ڈالر کے مجموعہ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی امداد کے باوجود افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیاں جاری ہیں، طالبان نےتاحال خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، افغان طالبان نے خواتین کی ملازمتوں بشمول این جی اوز، صحت اور دیگر شعبوں میں ملازمتوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔نیکی کی ترویج اور برائی کی روک تھام کے لیے نافذ نام نہاد ’اخلاقیات قانون‘ نے مرد و خواتین کےطرز عمل پر پابندیاں بڑھا دی ہیں، ان پابندیوں کی بدولت بین الاقوامی سطح کے انسانی ہمدردی کے پروگراموں کے تحت امداد کی تقسیم میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افغانستان میں جاری منصوبوں سمیت تمام امریکی و غیر ملکی امداد کی نئی ذمہ داریاں اور تقسیم 90 دن کے لیے روک دی گئی ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود سنگین صورتحال کا شکار ایک کروڑ 68 لاکھ لوگوں کے لیے اقوام متحدہ نے سال 2025ء کے لیے 2 ارب 42 کروڑ ڈالر امداد کی درخواست کی ہے۔افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں بھوک کے شکار لوگوں کے باوجود افغان طالبان امدادی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، افغانستان میں داعش اور القاعدہ کی موجودگی نے سیکیورٹی خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2024میں پاکستان میں افغان سرزمین سے 640 دہشت گرد حملوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں، کشیدگی کے باعث پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی افغان شہری ملک بدر بھی کیے گئے ہیں۔طالبان کے دور اقتدار میں ایک منظم طریقے سے خواتین کو سیاسی، سماجی اور تعلیمی زندگی سےخارج کردیا گیا.افغانستان میں موجود 4کروڑ سے زائد کی آبادی سنگین صورتحال کا شکار ہے، جب کہ افغان طالبان افغانستان کی تعمیر نو میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔