Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کے حکم کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، معاون خصوصی برائے خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام شریک ہوئے۔

    نزول قرآن،شب قدر آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں ہونے والی مشاورتی بیٹھک میں قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک، اسپیشل سیکرٹری خزانہ، چیئرمین خزانہ کمیٹی قیصر شیخ ، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا،اٹارنی جنرل، آڈیٹرجنرل آف پاکستان اکاؤنٹنٹ جنرل حکام شریک تھے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت میں الیکشن کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کے حوالے سے قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا اور مشاورت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کو فنڈز اجرا سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ دوبارہ قومی اسمبلی کے پاس بھیجا جائےآئین پاکستان کہتا ہے کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی ضرورت پڑے تو وفاقی حکومت اس کو پارلیمنٹ میں لے کر جائے آئین ہی سپریم ہے ،سپریم کورٹ ،وزیر اعظم ،کابینہ اور ہم سب نے آئین پر عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے موجودہ بجٹ میں الیکشن کے پیسے نہیں رکھے گئے تھے-

    آزاد کشمیرمیں عمران خان کے خلاف بغاوت،فارورڈ بلاک قائم ،بیرسٹر سلطان محمود کے ن لیگ …

    اجلاس میں قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف مختص کیے ہیں ،ابھی جاری نہیں کیے-

    چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ نے کہا کہ خزانہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے حکم کی خبروں پر سوموٹو لیا ہےآج فیصلہ کرنا ہو گا کہ آئین پاکستان کو پس پشت ڈال کر 21 ارب دیا جا سکتا ہے ؟اگر یہ بیوروکریٹس پیسے دے دیتے ہیں تو کیا کل کو یہ پیسہ ان بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے ریکور کیا جائے گا ؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیسہ خرچ کرنے میں ریسک ہے ، اگر خرچ کرنے کے بعد قومی اسمبلی نے منظوری نہ دی تو یہ خلا کیسے پر ہوگا ؟ جب ایک قرار داد پہلے پاس ہو چکی ہے تو اس لیے بہتر ہے کہ بعد ازاں خرچ کرنے کے بجائے پہلے منظوری لی جائے-

    جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں توسیع

    رکن پارلیمنٹ برجیس طاہر نے کہا کہ 13 اپریل کو ہم نے دو گھنٹے بحث کے بعد متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ پنجاب میں الگ الیکشن کرانا ملک کے لیےتباہ کن ہوگا ،ہم نے 13 اپریل کو جو فیصلہ کیا تھا ،اس کی نفی نہیں کر سکتے ،جب فیصلہ کر چکے ہیں تو اب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟سپریم کورٹ نے پہلے ہی 63 اے کا فیصلہ دے کر تباہی کی-

    برجیس طاہر نے کہا کہ سپریم کورٹ براہ راست اسٹیٹ بینک سے پیسے نہیں لے سکتی ،یہ کوئی مذاق ہے ؟یہ میٹنگ بلانے سے پہلے ہم سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی ،جب ہم فیصلہ دے چکے تھے کہ پیسے نہیں دینے تو پھر پیسے دینے کا معاملہ ایجنڈے پر کیوں رکھا گیا ؟میں احتجاج کرتا ہوں-

    اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    وزیر تجارت نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزارت خزانہ اورسٹیٹ بینک حکام کو توہین عدالت سے نہ ڈرائیں، پارلیمنٹ کو بھی اپنی توہین پر ایکشن کا اختیار ہے،پارلیمنٹ کو توہین کے ارتکاب پر کارروائی کا پورا اختیار ہے،ان کاکہناتھاکہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے۔وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشانے کہاکہ قومی اسمبلی نے منظوری دی تو فنڈز جاری ہو جائیں گے،خزانہ ڈویژن بھی منظوری کے بغیر فنڈز استعمال نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی انتخابات کیلئے فنڈز دینے کا بل متفقہ طورپر مسترد کردیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی انتخابات کیلئے فنڈز دینے کا بل متفقہ طورپر مسترد کردیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 10 اپریل 2023 کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں جنرل الیکشن کرانے کے لیے فنڈنگ کے بل 2023 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیاکہ آئی ایم ایف سے ڈیل کے مطابق فنڈز محدود ہیں۔ پاکستان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ خسارے پر قابو پانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔صوبوں میں الیکشن کرانے کے حوالے سے فنڈز دینے کی گنجائش حکومت کے پاس نہیں ہے۔ملکی معاشی حالات بھی بہتر نہیں ہیں۔2022 کے سیلاب نے ملک کے معاشی حالات میں بڑی تباہی کی ہے لوگ ابھی بھی امداد کے منتظر ہیں اور حکومت کے پاس وسائل بہت محدود ہیں۔

    سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ میں نے آج تک اس طرح کا بل کبھی سینیٹ میں نہیں دیکھا۔میں اس بل کے خلاف ہوں، یہ سینیٹ کا دائرہ کار ہی نہیں ہے۔اس طرح کے بل کو منی بل کے طور پر نہیں پیش کرنا چاہیے تھا حکومت بغیر منی بل کے فنڈز فراہم کرتی۔ حکومت کی نیت صاف ظاہر ہے جو انتخاب کا التوا چاہتی ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ الیکشن کیلئے رقم فراہم کی جائے۔ میں منی بل کو مسترد کرتا ہوں۔

    سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سینیٹ کے ماتحت ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوان اپنے فیصلے دے چکے ہیں جو بل ابھی نوٹی فائی نہیں ہوا اس پر ایکشن لیا جارہا ہے۔پارلیمنٹ میں عام انتخابات ملک بھر میں ایک ساتھ کروانے کی قراردادیں پاس ہو چکی ہیں۔قانون سازی پارلیمنٹ کی صوابدید ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اس صورتحال کا بغیر جذبات کے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ حکومت کیوں 90 دن کی آئینی مدت ماننے کو تیار نہیں ہے۔ میری رائے ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات صرف پنجاب میں نہیں خیبرپختونخوا میں بھی ہونا ہیں۔انتخابات کو صرف پنجاب کا بیانیہ نہ بنایا جائے۔

    سینیٹر سید فیصل علی سبزواری نے کہا کہ اتحادی حکومت کی اپنی سوچ ہے۔سپریم کورٹ نے انتخابات کیلئے 90 دن نہیں 120 دن رکھے ہیں۔ قانون سازی پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔ پنجاب کے انتخابات 14 مئی کو ہوں گے۔خیبرپختونخوا کے انتخابات کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ باقی اسمبلیوں کی مدت 13 اگست کو ختم ہو جائے گی۔میں اس بل کو مسترد کرتا ہوں۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے منی بل متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز مصدق مسعود ملک، محسن عزیز، سید فیصل علی سبزواری، محمد طلحہ محمود، دلاور خان، انوار الحق کاکڑ کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    مارگلہ ہلز پرآگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

  • خیبرپختونخواانتخابات:وفاقی وصوبائی حکومتوں، صدرمملکت ،گورنرکے پی اورالیکشن کمیشن کونوٹس جاری

    خیبرپختونخواانتخابات:وفاقی وصوبائی حکومتوں، صدرمملکت ،گورنرکے پی اورالیکشن کمیشن کونوٹس جاری

    خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق کیس، پشاورہائیکورٹ نےوفاقی و صوبائی حکومتوں، صدر مملکت ، گورنر خیبرپختونخوا اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی:پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی الیکشن کی تاریخ کے لئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس پر جسٹس اعجاز انور اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ،پنجاب،کے پی الیکشن کیلئے فنڈ دینےکا بل مسترد

    ہڑتال کے باعث پی ٹی آئی کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوسکے تاہم پی ٹی آئی رہنما اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی خود عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    مشتاق غنی نے عدالت سے استدعا کی کہ ہڑتال کے باعث وکلا پیش نہیں ہوسکتے لیکن انتخابات کا اہم معاملہ ہے اس لئے میری پیشی پر ہی فریقین کو نوٹس جاری کرکے جلد آئندہ سماعت کے لئے تاریخ دی جائے۔

    عبوری ضمانت کیلئےعثمان بزدار کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم

    عدالت نے استدعا منظور کرکے گورنر خیبرپختونخوا، الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاقی حکومت، خیبرپختونخوا حکومت اور صدر مملکت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لئے 19 اپریل کی تاریخ دے دی۔

  • انتخابات کیلئے فنڈز کی عدم فراہمی،سپریم کورٹ نے ” بڑوں” کو طلب کر لیا

    انتخابات کیلئے فنڈز کی عدم فراہمی،سپریم کورٹ نے ” بڑوں” کو طلب کر لیا

    پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کی عدم فراہمی کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل،گورنر اسٹیٹ بینک کو نوٹس جاری کر دیا

    عدالت نے سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کر دیا، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے فنڈز فراہم نہیں کئے فنڈز کی عدم فراہمی عدالتی احکامات کی حکم عدولی ہے عدالتی حکم عدولی کے نتائج قانون میں واضح اور سب کو معلوم ہیں چیف جسٹس نے تمام افسران کو 14 اپریل کو چیمبر میں طلب کر لیا

    نوٹس میں کہا گیا کہ الیکشن کیلئے فنڈز کی فراہمی توہین عدالت کی کارروائی سے زیادہ اہم ہے،گورنر اسٹیٹ بینک کو دستیاب وسائل سے متعلق تمام تفصیلات بھی ہمراہ لانے کا حکم دے دیا گیا، عدالت نے سیکرٹری خزانہ کو بھی تمام ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کر دی، نوٹس میں کہا گیا کہ بتایا جائے کہ سپریم کورٹ نے احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا ،عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کے حوالے سے تمام ریکارڈ بھی فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے نوٹس میں کہا کہ وفاقی حکومت کا عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا "نافرمانی” ہے،جو شخص بھی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل روکے، رکاوٹ ڈالے یا خلاف ورزی کرے تو وہ ذمہ دار اور جوابدہ ہوگا،

    واضح رہے کہ پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی کا معاملہ ،الیکشن کمیشن حکام نے ایک روز قبل سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا ئی ،الیکشن کمیشن حکام نے سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں ایک صفحہ پرمشتمل رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم نہیں کیے، پنجاب کی نگران حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے صرف 75 ہزار اہلکار دے سکتے ہیں، پنجاب میں انتخابات کے لیے3 لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی کمی ہے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

  • انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی،الیکشن کمیشن نے رپورٹ جمع کروا دی

    انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی،الیکشن کمیشن نے رپورٹ جمع کروا دی

    پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی کا معاملہ ،الیکشن کمیشن حکام نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں انتخابات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے،الیکشن کمیشن حکام نے سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے ، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز فراہمی کی ہدایت کر رکھی تھی تاہم حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم نہیں کئے گئے آج الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب میں انتخابات سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی گئی

    سپریم کورٹ کے ججز اپنے چیمبر میں الیکشن کمیشن کی طرف سے فنڈز مہیا نہ کیے جانے پر سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کا جائزہ لین گے اور پھر فیصلہ کیا جائے گا کہ کاروائی کو آگے کیسے بڑھایا جائے

    الیکشن کمیشن حکام رپورٹ جمع کرانے کے بعد سپریم کورٹ سے روانہ ہوئے، الیکشن کمیشن حکام نے رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرائی ہے،الیکشن کمیشن حکام نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ رپورٹ کے مندرجات کا علم نہیں ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں ایک صفحہ پرمشتمل رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم نہیں کیے، پنجاب کی نگران حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے صرف 75 ہزار اہلکار دے سکتے ہیں، پنجاب میں انتخابات کے لیے3 لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی کمی ہے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    واضح رہے کہ الیکشن اخراجات کے لئے وفاقی کابینہ نے معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا تھا، گزشتہ روز پارلیمنٹ اجلاس میں بل پیش کیا گیا، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے الیکشن اخراجات بل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات دن دو بجے تک ملتوی کردیا ،بل کا نام لازمی اخراجات برائے جنرل الیکشن پنجاب اور کے پی 2023 ہے۔5 شقوں پر مبنی بل اب قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر بحث آئے گا۔کے پی اور پنجاب میں الیکشن کمیشن کو اخراجات کی ادائیگی فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں ہو گی۔قومی اسمبلی، بلوچستان اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے بغیر پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کے بعد یہ قانون ختم ہو جائے گا۔یہ حکم قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات کے بغیر دیا گیا۔ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 81 کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں رقم جاری کی جائے،بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا

  • پی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرادی

    پی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرادی

    پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی رہنما اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نےپشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائرکردی ہےاس موقع پر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت بھی وکلاء بھی ہمراہ تھےممتازقانون دان بیرسٹرگوہر کی ثالثی سےاب یہ درخواست معمولی تبدیلیوں کے بعد پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی-

    آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس، پاکستانی وفد امریکا پہنچ گیا

    دائر درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہےکہ گورنر خیبرپختونخوا نے انتخابات کے لیے 8 اکتوبرکی تاریخ دی ہے، گورنر نے پہلے 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا لیکن الیکشن کمیشن نے اسے نوٹیفائی نہیں کیا،گورنر کی جانب سے 8 اکتوبر کی تاریخ غیرقانونی و غیر آئینی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا ہے اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد کا پابند ہے،گورنر کو فوری الیکشن کے لیے تاریخ دینےکا حکم دیا جائے، درخواست میں الیکشن کمیشن، وفاقی وصوبائی حکومت، گورنر کے پی اور صدر مملکت کو فریق بنایا گیا ہے۔

    عمران خان کی بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    خیال رہےکہ گزشتہ روز رجسٹرار سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کردی تھی پی ٹی آئی نے اپنی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، ہائیکورٹ سے داد رسی نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائےگا-

    اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے، تاہم حکومت الیکشن سے بھاگ کرآئین کی سنگین خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے ہم آئین کے تحفظ کے لئے ہر عدالت میں جائیں گے کیونکہ آئین کا تحفظ عدلیہ ہی کر سکتی ہے انتخابات میں تاخیر سے ملک سنگین بحران کا شکار ہے، مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔

    عمران خان توشہ خانہ کیس: جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج

  • عمران خان توشہ خانہ کیس: جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج

    عمران خان توشہ خانہ کیس: جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج

    اسلام آباد :عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست درخواست خارج کردی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کی جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کی الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز اور سعد حسن جبکہ عمران خان کے وکلا خواجہ حارث اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

    آسٹریلوی کرکٹر کا پی ایس ایل کھیلنے کی خواہش کا اظہار

    جج نے عمران خان کے وکلا سے استفسار کیا کہ توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت مقررکرنےکی درخواست پر کیا کہتے ہیں؟ جس پر عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جلد سماعت مقرر کرنے کا جواز کیا ہے؟ پیسہ ضائع ہوتا ہے، آج کل تحریکِ انصاف کے کیسز کی وجہ سے بہت مصروفیات ہیں، کیسز کی بھر مار کے باعث وکلا کو تیاری کے لئے بھی وقت چاہیئے ہوتا ہے، گزشتہ سماعت پر وکلا کی جانب سے ہڑتال بھی تھی۔

    وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی مرضی سے 29 اپریل کی تاریخ لی، 2 دن بعد خیال آیا ہے کہ تاریخ جلد مقررکروانی ہے الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہم تو 2 دن کی تاریخ مانگ رہے تھے، ایک ماہ کی نہیں۔

    امریکی رکن کانگریس کا عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کیس ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے دائر کیا، علی حیدرگیلانی کے خلاف بھی الیکشن کمیشن نے پرائیویٹ شکایت دائرکی ہوئی ہے، علی حیدرگیلانی کے خلاف کیس گزشتہ سال دائر کیا گیا تھا، ایک سال ہوگیا اور علی حیدر گیلانی پر اب تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی، کیا بات ہے الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف کیس میں زیادہ دلچسپی ظاہر کررہا ہے-

    خواجہ حارث نے کہا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ عمران خان پر جرم عائد کی جائے، پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان پر کیسز درج ہیں، وہ تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، نیب کے کیسز کے حوالے سے تو کسی ملزم کو درخواست نہیں گئی، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ جلد فیصلہ نہ ہوا تو ہمارا پیشہ ورانہ کام متاثر ہو گاعمران خان کو آج بھی سیکیورٹی کےخدشات ہیں، جس کے لیے درخواستیں ہائی کورٹ میں دائر ہیں، حکومت یہ بھی نہیں بتاتی کہ عمران خان کو سیکیورٹی کب دینی ہے؟-

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    دوران سماعت وکیل خواجہ حارث نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی کہا کہ عمران خان کے خلاف 100 سے زائد کیس درج ہو چکے ہیں ۔ عمران خان کو حفاظتی ضمانت لے کر عدالتوں میں پیش ہونا پڑ رہا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی ضرورت نہیں، مقصد یہ تھا کہ عمران خان یا وکیل عدالت میں پیش ہوں ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کیس میں ڈیڑھ ماہ کی تاریخ پڑ گئی تو کچھ نہیں ہوا ۔ عمران خان کیس میں ایک ماہ کی تاریخ ہوئی تو ان کو تکلیف ہو گئی ہے ابھی تو کیس کے قابل سماعت ہونے پر بھی بات ہونا ہے ۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ تین چار ماہ سے الیکشن کمیشن کے کیس کو جھوٹا کہہ رہے، سچے ہیں تو عدالت آئیں عمران خان کی بریت کی کوئی درخواست اب تک نہیں آئی۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    بعدازاں عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ فیصلہ 10 منٹ میں سنایا جائےگاعدالت نے مقررہ وقت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کیجانب سےجلد سماعت مقرر کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

    واضح رہے کہ توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت 29 اپریل کو مقرر ہے اور الیکشن کمیشن نے کیس کی جلد سماعت کی درخواست دائر کی تھی-

  • الیکشن کی تاریخوں کا اعلان، الیکشن ایکٹ میں ترامیم تجویز،چیف الیکشن کمشنر کا خط

    الیکشن کی تاریخوں کا اعلان، الیکشن ایکٹ میں ترامیم تجویز،چیف الیکشن کمشنر کا خط

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے معاملے پر الیکشن ایکٹ میں ترامیم تجویز کر دیں

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 57 اور سیکشن 58 میں ترامیم تجویز کر دیں۔

    خط میں چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون اور 58 میں ترامیم تجویز کی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ترامیم پارلیمنٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائیں۔چیف الیکشن کمشنر نے ترامیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کی درخواست کر دی، مجوزہ ترمیم کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا، آفیشل گزٹ میں نوٹیفیکیشن جاری ہو گا،الیکشن کمیشن حلقوں سے کہے گا کہ وہ اپنے نمائندے منتخب کریں،وقتا فوقتا الیکشن کمیشن اس نوٹیفیکیشن کے اجرا کے بعد اس میں ترامیم کر سکے گا جو الیکشن پروگرام مختلف مراحل میں اعلان کیا گیا ہو گا،الیکشن کمیشن ایک نیا الیکشن پروگرام اور نئی تاریخ بھی دے سکے گا، کمیشن تحریری طور پر اس کی وجوہات اور اپنی رائے بھی دے گا،

    خط میں چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد پر تنازع پیدا ہوا عدلیہ نے آرٹیکل 224/2 کی تشریح میں کہا کہ 90 دنوں میں الیکشن آئینی طور پر ضروری ہے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا دوران سماعت عدالت نے کہا کہ دوسری درخواست کس طرح سنی جا سکتی ہے،وکیل نے کہا کہ اس میں دو استدعا کی گئی ہیں-

    وفاقی حکومت نےتوشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنےکا فیصلہ چیلنج کر دیا

    عدالت نے کہا کہ آپ پارٹی چیئرمین کو ہٹانے کے کس طرح متاثرہ فریق ہیں،وکیل نے کہا کہ میں ایک ووٹر اور ملک کا شہری ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ کو اعتراض ہے تو کسی دوسری پارٹی میں چلے جائیں،آپ کی یہ پہلی پٹیشن ہےوکیل نے کہا کہ جی یہ میری پہلی پٹیشن ہے-

    دائر درخواست میں عمران خان،چیف الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کو این اے 95 میانوالی سے نااہل قرار دے چکی ہے،الیکشن کمیشن نے 7 دسمبر 2022 کو عمران خان کے خلاف قانون کاروائی کا آغاز کیا-

    ایم ڈی واٹر بورڈ میرے انڈر دیں، پانی نہ آئے تو کہیے گا،گورنر سندھ

    درخواست میں کہا گیا کہ توشہ خانہ کےحقائق چھپانے پر الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر 2022 کو عمران خان کو نااہل قرار دیا،اس سے قبل نواز شریف کو بھی عدالت نااہل کر چکی ہے،جس کے بعد نواز شریف پارٹی صدر نہیں رہے، نااہلی کے بعد کوئی پارٹی ہیڈ نہیں رہ سکتا، الیکشن کمیشن سے رجوع کیا مگر عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی-

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت عمران خان کو چیئرمین تحریک انصاف کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے-

    جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں،رانا مشہود

  • عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ہے

    عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہو گی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں لارجر بینچ 12 اپریل کو درخواست پر سماعت کرے گا، درخواست میں عمران خان ، چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر فریق ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن عمران خان کو این اے 95 میانوالی سے نااہل قرار دے چکا ہے الیکشن کمیشن نے 7 دسمبر 2022 کو قانونی کارروائی کا آغاز کیا اور 21 اکتوبر 2022 کو عمران خان کو نااہل قرار دیا، اس سے قبل نواز شریف کو بھی عدالت نااہل کر چکی ہے نااہلی کے بعد نواز شریف پارٹی صدر نہیں رہے نااہلی کے بعد کوئی پارٹی ہیڈ نہیں رہ سکتا الیکشن کمیشن سے رجوع کیا مگر درخواست پر کارروائی نہیں کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عمران خان کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی الیکشن کمیشن نےعمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ