Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • پنجاب میں انتخابات ، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کردیا

    پنجاب میں انتخابات ، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کردیا

    پنجاب میں عام انتخابات کا معاملہ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ گیا،اجلاس میں ممبران ، سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری شریک تھے ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اجلاس کی صدارت کی،الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق بریفنگ دی ، اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں اہم فیصلے کئے گئے، الیکشن کمیشن نے متعلقہ ونگز کو پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے تیاریاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی، الیکشن کمیشن نے جلد فنڈز اور دیگر متعلقہ امور کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،

    پنجاب میں انتخابات ، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق شیڈول جاری کیا،پنجاب میں پولنگ 14 مئی کو ہوگی ، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 10 اپریل ہے ،الیکشن ٹربیونل 17 اپریل تک اپیلوں پر فیصلہ کرے گا،

    نوٹیفکیشن کے مطابق اپیلیٹ ٹریبونل اپیلوں پر فیصلے 17 اپریل تک کرے گا اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 18 اپریل کو جاری ہو گی کاغذات نامزدگی واپس لینےکی آخری تاریخ 19 اپریل ہوگی اور امیدواروں کو انتخابی نشانات 20 اپریل کو جاری ہوں گے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    دوسری جانب انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومتی لیگل ٹیم کا مشاورتی اجلاس جاری ہے ،اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ، اکرم شیخ اور اٹارنی جنرل شریک ہیں، اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف آئینی و قانونی آپشنز پر غور کیا جائے گا،اجلاس میں فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں بعد کی صورتحال پر بھی غور ہوگا،اجلاس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی مشاورت ہو گی

  • سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے  ،وکیل الیکشن کمیشن

    سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کے وکیل اور سینئر قانون دان عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پنجاب میں الیکشن کا امکان رد کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرفان قادر نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے الیکشن کمیشن اس فیصلے کا پابند نہیں ہے، یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے ۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا-

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم …

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے افواج، رینجرز، ایف سی اور دیگر اہلکار فراہم کرے، وفاقی حکومت 17 اپریل تک الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان فراہم کرے، وفاقی حکومت اور نگران حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو کمیشن عدالت کو آگاہ کرے۔

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

  • پنجاب اور کے پی کے انتحابات سے متعلق آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراپی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی،وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کےوکیل عرفان قادر روسٹرم پر آگئے،الیکشن کمیشن کےوکیل عرفان قادر کے دلائل شروع ہو گئے، عرفان قادر نے کہا کہ کوشش ہے اپنی بات مختصر رکھوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کتنی دیر دلائل دینگے، عرفان قادر نے کہا کہ میں کوشش کرونگا 30 منٹ میں تک اپنی بات مکمل کرلوں،اگر جج پر اعتراض ہو تو وہ بنچ سے الگ ہوجاتے ہیں،ایک طرف ایک جماعت دوسری طرف تمام جماعتیں ہیں،بنچ سے جانبداری منسوب کی جارہی ہے،پوری پی ڈی ایم ماضی میں بھی فل کورٹ کا مطالبہ کرچکی ہے فل کورٹ پر عدالت اپنی رائے دے چکی ہے،پتہ پتہ بوٹا بوٹا باغ تو سارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عدالت پر عدم اعتماد نہیں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیئے میری نظر میں انصاف نہیں ہو رہا، ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو،الیکشن کی تاریخ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑنا چاہیے فیصلہ تین دو کا تھا یا 4/3 کا اس پر بات ہونی چاہیے ،9 میں سے 4 ججز نے درخواستیں خارج کیں3 ججز نے حکم جاری کیا، عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے، سرکولر سے عدالتی فیصلے کا اثر ذائل نہیں کیا جاسکتا،چیف جسٹس اپنے سرکولر پر خود جج نہیں بن سکتے،عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا لازمی ہے،یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا،ایک گروپ کے بنیادی حقوق پر اکثریت کے حقوق کو ترجیح دینی چاہیے،قومی مفاد آئیں اور قانون پر عملدرآمد میں یے، آئین میں 90 دن میں انتخابات ہونا الگ چیز ہے، ملک میں کئی سال سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوتے ہیں، ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونا چاہئیں ،ایک ساتھ انتخابات سے مالی طور پر بھی بچت ہو گی،قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی نگران حکومت ضروری یے،صوبائی اسمبلی چند ماہ پہلے تحلیل ہوئی ہے دو سال پہلے نہیں.

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دیدی ہے، پنجاب میں صدر کو تاریخ دینے کا حکم قانون کے مطابق نہیں، صدر آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاذ نہیں، صدر کو تاریخ دینے کا حکم دینا خلاف آئین ہے، صدر ہر کام میں کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہے، الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار صرف عام انتخابات کیلئے ہے، ملک بھر میں عام انتخابات ایک ساتھ ہی ہونے ہیں 184/3 تنازعہ حل کرنے تک مقدمے پر سماعت روکی جائے۔جسٹس فائز عیسی سینئر جج ہیں انکے فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی سے پرسوں ملاقات ہوئی ہے۔ان معاملات پر تمام ججز جلد ملیں گیے، جسٹس فائز عیسی ملاقات میں کچھ ایشوز ہائی لائٹ کیے ہیں، رولز بنانے کے لیے عنقریب فل کورٹ اجلاس بلائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ والے فیصلے کے نتیجے میں ایک جج نے سماعت سے معذرت کی، عرفان قادر نے کیس سے متعلق نکات اٹھائے ہیں، آپ نے ایک اہم نقطہ اٹھایا ہے جو میں دوبارہ نہیں اٹھاوں گا،

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ میں سوشل میڈیا کی بات کر رہا تھا، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جناب چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں، چیف جسٹس کے حق میں درخواستوں پر دستخط ہو رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مولا سے خیر مانگتے ہیں، آپ سوشل میڈیا کی بات کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں،عرفان قادر نے کہا کہ آپ اس وقت عوامی چیف جسٹس ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سوشل میڈیا نہیں دیکھتے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ججز کی رائے کے بعد 3 رکنی بینچ سماعت نہیں کرسکتا، جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی تحلیل درست تھی یا نہیں،وزیر اعلی پرویز الٰہی کی آڈیو لیک آئی جو فواد چوہدری سے متعلق تھی،پرویز الٰہی نے کہا کہ فواد چوہدری پہلے گرفتار ہوتے تو اسمبلی نہ ٹوٹتی، پنجاب اسمبلی نہ وزیر اعلی نے توڑی نہ گورنر نے، جسٹس اعجاز الاحسن کو پانچ رکنی بینچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، مناسب ہوتا شفافیت کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو بینچ میں شامل نہ کیا جاتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو وجہ میں نے سوچ کر بینچ بنایا وہ بتانے کا پابند نہیں ہوں ، عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کا بہت مداح ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مداحی پر آپ کا مشکور ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل ریکارڈ سے دکھائیں جسٹس اعجاز الاحسن کب بینچ سے الگ ہوئے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک جج صاحب نے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے معذرت کی، چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ بینچ سے الگ نہیں ہوئے تھے دو ججز کے نوٹ کے خلاف ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن ججز نے سماعت سے معذرت کی ان کے حکمنامے ریکارڈ کا حصہ ہیں، بینچ سے کسی جج کو نکالا نہیں جاسکتا یہ قانون کا اصول ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر مرتبہ ججز کی معذرت کرنے کا آرڈر نہیں ہوتا،کئی مرتبہ تین ججز اٹھ کر جاتے تھے اور دو ججز واپس آتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تجویز عدالت کو کبھی نہ دیں،وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ آپ نے عزت سے اپنا دور گزارا ہے، ون مین شو کس کو کہا گیا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پوچھا تھا ون مین شو کس کو کہا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا عمومی بات کی آپ کو نہیں کہا تھا، ماحول پورے ملک کی طرح عدالت اور باہر خراب ہے، ماحول ٹھنڈا کرنے میں اٹارنی جنرل نے مدد نہیں کی، یہ ایشو پارلیمنٹ کو خود حل کرنا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل سے محظوظ ہوئے ہیں،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت میں دلائل دینا چاہتا ہوں، پی ڈی ایم کے اعلامیے میں بائیکاٹ کا ذکر نہیں ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں؟ اظہر صدیق نے کہا کہ کہا گیا لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التوا ہیں،کسی ہائیکورٹ میں مقدمہ زیر التوا نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سیکرٹری دفاع دستاویزات کب تک دیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کسی بھی وقت عدالت کو دستاویزات دے دیں گے،گورنر کے پی کے وکیل پیروی سے معذرت کر چکے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کے پی کے کا ذکر نہیں ہے،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کے جواب الجواب دلائل شروع ہو گئے،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر کسی نے بات نہیں، الیکشن کمیشن نے نہیں بتایا کہ اسے الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار کہاں سے ملا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سجیل سواتی نے سیکشن 58 کا حوالہ دیا تھا ،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا، الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں آرٹیکل 218/3 کا حوالہ دیا، آرٹیکل 218/3 الیکشن کروانے کا پابند بناتا ہے، الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر کوئی کام نہیں کر سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ کون دے گا ،عرفان قادر نے کہا صدر حکومت کی سفارش کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا ،کیا صدر الیکشن کی تاریخ ایڈوائس کے بغیر دے سکتے ہیں،عدالت آئین اور قانون کے مطابق انصاف کے لیے بیٹھی ہے، سیاسی مقدمات میں سیاسی ایجنڈا سامنے آتا ہے، اکرم شیخ تیاری سے آئے تھے ان کے موکل نے ان کو بولنے نہیں دیا، اکرم شیخ کے موکل کو نظر انداز نہیں کر سکتے،اٹارنی جنرل نے اس نقطے پر گفتگو نہیں کی،اٹارنی جنرل سے گلہ ہے کہ وہ 3/4 پر ہی زور دیتے رہے،اس نقطے پر اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں ،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر انتخابات کی تاریخ تبدیل نہیں کر سکتا،کے پی کے میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دینی ہے،کیا الیکشن کمیشن گورنر کی تاریخ بدل سکتا ہے؟میری نظر میں الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر اقدامات نہیں کرسکتا، بلدیاتی انتخابات میں الیکشن کمیشن تاریخ مقرر کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے سارا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ڈالا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات بھی ہوسکتے ہیں جب انتخابات ملتوی ہوسکیں،وفاقی حکومت نے ایسا کوئی مواد نہیں دیا جس پر الیکشن ملتوی ہوسکیں، انتخابات کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا،عدالت نے توازن قائم کرنا ہوتا ہے، حکومت اور دیگر فریقین کی درست معاونت نہیں ملی، حکومت نے الیکشن کروانے کی آمادگی ہی نہیں ظاہر کی، ماضی میں عدالت اسمبلی کی تحلیل کالعدم قرار دے چکی ہے،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ،فیصلہ کل سنایا جائے گا ،فیصلہ کل ساڑھے گیارہ بجے فیصلہ سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ میں وقفے سے قبل کی سماعت کے بارے میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے-

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق خیبرپختوںخوا میں عام انتخابات 8 اپریل کو ہوں گے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے گورنر خیبرپختونخوا سے تاریخ کے حوالے سے مشاورت کی اور پھر غور کے بعد تاریخ کا اعلان کردیا۔

    دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے 8 اکتوبر کی تاریخ الیکشن کیلئے تجویز کی تھی نہوں نے مشاورت کے بعد 24 مارچ کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا جس میں 8 اکتوبر کو صوبے میں انتخابات کے انعقاد کی تجویز دی تھی۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نےپنجاب میں انتخابات کیلیے 30 مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا تھاجس کو ملتوی کرکے نئی تاریخ 8 اپریل دی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات کے التوا پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔

    ایم کیو ایم قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات،مردم شماری پر تحفظات کا اظہار

  • نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

    نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

    قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظورکیا ہے

    اسمبلی اجلاس میں محسن داوڑ کی بل میں ترمیم بھی منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے ،نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ منظور شدہ بل کے تحت اپیل کا یہ حق ون ٹائم پرویژن کے تحت ہو گا از خود نوٹس پر فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق نوازشریف کو بھی حاصل ہو گیا ہے ،یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور دیگر متاثرہ فریق بھی ایک ماہ میں اپیل کر سکیں گے

    بل کے متن کے مطابق از خود نوٹس مقدمات میں فیصلوں پر اپیل کا حق پہلے ہونے والے فیصلوں پر بھی ہو گا، ماضی میں مقدمات کے فیصلوں کے خلاف ایک ماہ کی اپیل کر سکیں گے ،184 تھری کے تحت ماضی کے فیصلوں پر اپیل کے حق کیلئے ایک ماہ جا وقت ملے گا ۔ ترمیمی بل(سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ) میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ اکثریت رائے سے ہو گا۔آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقرر ہو گی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہو گا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • آخری موقع دے رہے ہیں،توہین الیکشن کمیشن کیس میں رکن کے ریمارکس

    آخری موقع دے رہے ہیں،توہین الیکشن کمیشن کیس میں رکن کے ریمارکس

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی،

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، دیگر رہنماؤں اسد عمر اور دیگر افراد الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے ،عمران خان اور فواد چودھری کی جانب سے وکیل فیصل چودھری نے پیش ہو کر بتایا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے تک عمران خان کی ذاتی حیثیت میں پیشی کا فیصلہ واپس لیا جائے،الیکشن کمیشن میں التواء کی درخواست بھی دائرکی گئی،

    ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی نے کہا کہ آج تو آپ نے دلائل دینے تھے؟ ایڈووکیٹ انور منصور نے کہا کہ اسد عمر آج انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، ہم پر 150 کیسز ہیں کہاں کہاں پیش ہوں؟ ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ درخواستوں میں اٹھائے نکات پر کبھی تو فیصلہ کرنا ہوگا، بنچ کے رکن شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ بالکل آخری موقع دے رہے ہیں ،الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر دلائل نہ دیئے تو چارج فریم کر دیں گے، کیس کی سماعت 18 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

  • مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

    مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما مریم نواز نے مالی اثاثوں کی تفصیلات کاغذات نامزدگی کے ساتھ الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ہے

    مریم نواز مجموعی طور پر 84 کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کی مالک ہیں،مریم نواز 2 کروڑ 89 لاکھ روپے سے زائد کی مقروض ہیں،مریم نواز نے قرض اپنے بھائی حسن نواز سے لے رکھا ہے، مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر بھی دوستوں کے 6 کروڑ روپے کے مقروض ہیں، مریم نواز رائیونڈ کے علاقے میں 1 ہزار 400 کنال سے زائد اراضی کی مالک ہیں، مریم نواز کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں، مریم نواز نے 3 برس میں 1 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد زرعی آمدن ظاہر کی، مریم نواز نے 3 برس میں زرعی اراضی سے آمدن پر 12 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا، حدیبیہ پیپر ملز میں 54 لاکھ 69 ہزار روپے سے زائد کے شیئرز خرید رکھے ہیں

    مریم نواز محمد بخش ٹیکسٹائل ملز میں 48 لاکھ 21 ہزار روپے کی شیئر ہولڈر ہیں، مریم نواز حمزہ سپننگ ملز میں 16 لاکھ اور جنید پولٹری فارمز میں 90ہزار روپے مالیت شیئرز کی مالک ہیں ،مریم نواز کے پاس اپنی ذاتی گاڑی نہیں، مریم نواز کے بینک اکاؤنٹس میں 78 لاکھ روپے سے زائد کی رقم موجود ہے مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں تعلیمی قابلیت ایم اے انگلش لٹریچر ظاہر کی

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر 27 مارچ کی سماعت کا تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ آئین کے تحت عام انتخابات وقت پر ہونا لازم ہیں-

    باغی ٹی وی: 3 صفحات پر مشتمل حکم نامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا ہے عدالتی حکم نامےمیں کہاگیا ہے کہ آئین کےتحت عام انتخابات وقت پرہونا لازم ہیں، بروقت عام انتخابات کا ایمانداری، منصفانہ اورقانون کےمطابق انعقاد جمہوریت کےلیے ضروری ہے-

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کی انتخابات کی تاریخ منسوخ کی الیکشن کمیشن صدرکی تاریخ منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا،الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرکے آرٹیکل 254 کے پیچھے پناہ لی عدالتی نظائرمیں آرٹیکل 254 کسی عمل کا مقررہ وقت گزرنے کے بعد اس کو غیر مؤثر ہونے سے تحفظ دیتا ہے، آرٹیکل254 مقررہ وقت پر ہونے والے عمل میں التوا کا تحفظ نہیں دیتا-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کے مطابق 8 اکتوبر تک انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی آئینی پشت پناہی نہیں سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے، الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن درخواست میں اٹھائے گئے قانونی سوالات پر جواب دے کیس کی مزید سماعت آج دن ساڑھے11 بجے ہوگی۔

  • نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کیخلاف شیخ رشید کی درخواست مسترد

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کیخلاف شیخ رشید کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری کے خلاف عوامی لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت کی عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

    عوامی مسلم لیگ کےسربراہ شیخ رشید کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیئے کہ الیکشن کمیشن نے کس بنیاد پر محسن نقوی کا نام فائنل کیا اس کی وجوہات نہیں بتائی گئیں ، محسن نقوی کو خاص مقاصد کے لئے تعینات کیا گیاالیکشن کمیشن کا کام شفاف انتخابات کرانا ہے، سابق وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد میں نگراں وزیراعلیٰ کا بڑا کردار تھا، نگراں وزیراعلیٰ نے آتے ہی ایڈووکیٹ جنرل آفس میں برطرفیاں کیں اور من پسند لاء افسر لگائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ان تعیناتیوں کو کالعدم بھی تو قرار دیا ہے وکیل نے بتایا کہ ابھی تک عدالتی فیصلے پر عمل نہیں ہوا اور ایک بھی افسر اپنے عہدے پر نہیں آیا عدالت نے کہا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے عدالت کا فیصلہ تو اپنی جگہ موجود ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات

    جج نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار نے خود کوئی نام دیئے تھے، جس پر وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار ایک ووٹر ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ فریقین کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ کےلیے کون کون سے نام دیئے گئے تھے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ احد چیمہ اور احمد نواز سکھیرا کے نام دیئے گئے تھے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ نام دیکھ کر فریقین کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے دن سے سب کو پتا تھا کہ محسن نقوی وزیر اعلیٰ ہوں گےعدالت نے کہا کہ ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ محسن نقوی کی تقرری کے لیے کیا پراسس اختیار کیا گیا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کے پاس نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری کےلیے مکمل اختیار ہے۔ نگراں وزیر اعلیٰ کا کام صرف الیکشن کرانا ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محسن نقوی کی تقرری پر پہلے دن سے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نگران وزیر اعلی پنجاب کو طریقہ کار کے مطابق تعینات کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن،قیادت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    بعد ازاں الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور آئین کےتحت کام کرتا ہے الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری کی۔ فریقین دیئے گئے وقت میں نگراں وزیر اعلیٰ کا تقرر نہیں کر سکے تھے الیکشن کمیشن نے آئین کے تحت محسن نقوی کی تقرری کی۔ وکیل نے استدعا کی کہ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کیا جائے۔

    دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ اگر نگراں وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو الیکشن کمیشن اور عدالتیں موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعلیٰ کے متعدد فیصلوں پر عملدرآمد روکا ہے۔ نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری کا حتمی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

    پیمرا نے اسلام آباد کی حدود میں جلسوں اور ریلیوں کی کوریج پر پابندی عائد …

    عدالت نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نیوٹرل اور خود مختار ہے تو کوئی نگراں وزیر اعلیٰ کچھ نہیں کرسکتا۔ فریقین آپس میں تجویز کردہ ناموں سے کسی ایک پر اتفاق کرلیتے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فریقین میں سے کسی نے چیلنج نہیں کیا۔

    بعد ازاں عدالت نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تعیناتی کے خلاف شیخ رشد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا تاہم بعد ازاں دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو لاہور ہائیکورٹ نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری کے خلاف شیخ رشید کی درخواست مسترد کردی-

    واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے محسن نقوی کے تقرر کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • سندھ کے 15 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی ری پولنگ،پی پی نے میدان مار لیا

    سندھ کے 15 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی ری پولنگ،پی پی نے میدان مار لیا

    سندھ کے 15 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی ری پولنگ کے تمام 59 نشستوں کے نتائج موصول ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 39 نشستیں جیت کر میدان مار لیا 6 نشستوں پر جی ڈی کے امیدوار کامیاب کامیاب رہے، تحریک انصاف نے 2 جبکہ جے یو آئی اور ایم کیو ایم پاکستان نے ایک ایک نشست حاصل کی۔

    امیر جماعت اسلامی عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا

    الیکشن کمیشن کے مطابق 9 سیٹوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں بلدیاتی انتخابات میں چیئرمین، وائس چیئرمین، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل اور جنرل ممبر کی نشستوں پر مقابلہ ہوا تھا۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل کی 11، چیئرمین وائس چیئرمین کی 16 اور جنرل ممبر کی 32 نشستوں پر پولنگ ہوئی جن کے مطابق پیپلز پارٹی نے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل کی 6، چیئرمین وائس چیئرمین کی 8 اور جنرل ممبر کی 21 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ جی ڈی اے 6، ایم کیو ایم 1 اور مختلف کیٹگریز کی 4 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے فتح حاصل کی۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    سندھ کے 15 اضلاع کے مختلف بلدیاتی حلقوں میں جھگڑے، عدالتی فیصلوں، غلط بیلٹ پیپر پرنٹ ہونے پر ری پولنگ اتور کو ہوئی جن اضلاع کے مختلف پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ پولنگ ہوئی ان میں حیدرآباد، جامشورو، بدین سانگھڑ، عمرکوٹ، سکھر، جیکب آباد، کشمور، شکارپور، خیرپور، قمبر شہداد کوٹ، میر پور خاص، لاڑلانہ، تھرپارکر اور بینظیر آباد شامل ہیں-