Baaghi TV

Tag: امریکا

  • گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر  تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف دائر فوجداری دھوکہ دہی کے مقدمات ختم کرنے کی کارروائی شروع کردی، جنہوں نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رکھا ہے،جبکہ ان کی ایک کمپنی سے متعلق ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی طے کرلیا گیا ہےیہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ان ہائی پروفائل فوجداری مقدمات کو ترک کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جو ان کے ڈیموکریٹ پیشرو جو بائیڈن کے دور میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے شروع کیے تھے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے گوتم اڈانی کے خلاف زیر التوا مقدمات کے خاتمے کا یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا جو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے وکیل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اڈانی امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تاہم مقدمات جاری رہنے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    فوربز میگزین کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی کی مجموعی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بناتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق گوتم اڈانی پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ اڈانی گروپ کی ذیلی کمپنی اڈانی گرین انرجی کو بھارت کے سب سے بڑے سولر پاور پلانٹ کی تعمیر کی منظوری مل سکے۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسداد بدعنوانی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کن اور تسلی بخش معلومات فراہم کی گئیں،

    نومبر 2024 میں، بروکلی کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اڈانی پر ایک مبینہ اسکیم کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکار ی حکام کو تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ ان کی کمپنی کو بھارت کا سب سے بڑا سولر پاور پلانٹ تیار کرنے کی منظوری مل سکے، اڈانی اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے اپنی کرپشن چھپا کر 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے اور بانڈز حاصل کیے اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز بتایا کہ اڈانی گروپ کی کمپنی ادانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تصفیے کے لیے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کرلیا ہے الزام تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں قائم ایک تاجر سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کی کھیپیں خریدیں، جنہیں عمانی اور عراقی گیس ظاہر کیا گیا، لیکن وہ دراصل ایران سے آئی تھیں، اڈانی انٹرپرائزز نے بھارت میں ایل پی جی کی درآمد بھی روک دی ہے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہیڈ آف کمپلائنس کا عہدہ بھی قائم کردیا ہے-

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق گوتم اڈانی کو ایس ای سی کے ایک متعلقہ سول فراڈ کیس کا بھی سامنا تھا، جسے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے جمعرات کو عدالتی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے طے کر لیا تھا گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی کو بھی ایس ای سی کے سول کلیمز کا سامنا تھا۔

    ریکارڈ کے مطابق اڈانی اور ان کے بھتیجے 18 ملین ڈالر کے سول جرمانے ادا کریں گے، اگرچہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی غلط کام کا اعتراف یا تردید نہیں کرے گا۔ اڈانی گرین انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افراد اور ایس ای سی نے نیویارک کی ایک عدالت میں حتمی فیصلے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کر دی ہے، جس کا اب انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    گوتم اڈانی کے وکلاء نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے موکلین اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ایس ای سی کی جانب سے مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کی پیشکش میں اڈانی کی عدم شمولیت اور دھوکہ دہی کی نیت یا غفلت کی عدم موجودگی کیس کی برخاستگی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ایس ای سی کے دعوؤں کو غیر قانونی طور پر ماورائے علاقہ بھی قرار دیا، جس سے مراد یہ ہے کہ اڈانی اور تمام مبینہ غلط طرز عمل بھارت میں تھا اور وہ بانڈز کبھی بھی امریکی ایکسچینج پر ٹریڈ نہیں ہوئے تھے۔

    پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

  • ٹرمپ نے آخری لمحے میں  ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ روکنے کی وجہ اسرائیلی صحافی نے بے نقاب کر دی-

    اسرائیلی صحافی براک راویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج اور نقصان خلیجی ممالک کو برداشت کرنا پڑیں گے، صدر ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر تمیم بن حماد اور یو اے ای کے صدر زائد النیہان سے رابطے کیے۔

    اسرائیلی صحافی کے مطابق دوحہ، ریاض اور ابوظبی نے مشترکہ طور پر امریکی صدر پر زور دیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا جائے کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک کی آئل اور انرجی تنصیبات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں اور ایران پر حملے کے حامی ساتھیوں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی اتحادی خطے میں مزید تباہی اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے بچنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    امریکی نشریاتی ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حامی سیاستدانوں اور مشیروں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر وہ فی الحال سفارتی مذاکرات کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاہم، معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں امریکی افواج کو کسی بھی بڑے حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر طے شدہ فوجی حملہ مؤخر کیا جا رہا ہے ان رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو امریکی صدر نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، انہوں نے سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کردی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملہ فی الحال نہ کیا جائے۔

    پیٹ ہیگستھ کی انتخابی مہم میں شرکت سے سیاسی حلقوں میں ہلچل

  • پیٹ ہیگستھ  کی انتخابی مہم میں شرکت سے سیاسی حلقوں میں ہلچل

    پیٹ ہیگستھ کی انتخابی مہم میں شرکت سے سیاسی حلقوں میں ہلچل

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کے روز ایک سابق نیوی سیل اہلکار کی انتخابی مہم میں حصہ لیا، ہیگستھ نے ریاست کینٹکی میں منعقدہ ایک ریلی میں ریپبلکن امیدوار ایڈ گالرین کی حمایت کا اعلان کیا-

    رائٹرز کے مطابق ریپبلکن امیدوار ایڈ گالرین کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم ریپبلکن مخالفین میں شمار کیے جانے والے رکن کانگریس تھامس میسی کے مدمقابل ہیں، دونوں امیدواروں کے درمیان منگل کو ہونے والا مقابلہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی تاریخ کا مہنگا ترین پرائمری انتخاب بن چکا ہے-

    تھامس میسی حالیہ عرصے میں صدر ٹرمپ سے اہم قانون سازی کے معاملات پر اختلافات رکھتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حکومتی فائلیں جاری کرنے کی مہم کی بھی قیادت کی تھی۔

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اکثر ایسا ہوا کہ تھامس میسی نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کو مضبوط بنانے کے بجائے خود کو اس سے الگ رکھنے کی کوشش کی انہوں نے میسی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے وقت میں جب تحریک کو اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے، ڈیموکر یٹس کے ساتھ ووٹ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    ہیگستھ نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ کینٹکی میں ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے ہیں، کیونکہ وفاقی ملازمین کی سیاسی سرگرمیوں پر قانونی پابندیاں موجود ہیں، انہوں نے حاضر تمام وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کی شرکت ذاتی نوعیت کی ہے۔

    امریکا نے روسی تیل تک رسائی کے لئے لائسنس جاری کردیا

    پینٹاگون نے بھی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے ہیچ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، جو وفاقی ملازمین کو اپنی سرکاری حیثیت استعمال کرکے انتخابات پر اثرانداز ہونے سے روکتا ہے جبکہ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بیان میں کہا کہ اس دورے کے لیے ٹیکس دہندگان کا کوئی پیسہ استعمال نہیں ہوگا اور قانونی ماہرین نے مکمل جانچ پڑتال کے بعد اس شرکت کی منظوری دی ہے۔

    امریکی وزیرِ دفاع کا کسی سیاسی جلسے میں شریک ہونا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا مختلف عالمی تنازعات میں مصروف ہے اور امریکی فوج کو روایتی طور پر غیر سیاسی ادارہ تصور کیا جاتا ہےتاہم ہیگستھ نے گزشتہ برس عہدہ سنبھالنے کے بعد متعدد روایات سے ہٹ کر اقدامات کیے، جن میں پینٹاگون میں مسیحی دعائیہ تقاریب کا انعقاد، صحافیوں کو حضرت عیسیٰؑ کے دشمنوں سے تشبیہ دینا، اور ایک ڈیموکریٹ سینیٹر کے خلاف کارروائی کی کوشش شامل ہے جس نے فوجی اہلکاروں سے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کرنے کا کہا تھا۔

    سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 5 افراد ہلاک

  • امریکا نے روسی تیل  تک رسائی کے لئے لائسنس جاری کردیا

    امریکا نے روسی تیل تک رسائی کے لئے لائسنس جاری کردیا

    امریکا نے روسی تیل تک رسائی کے لیے 30 دن کا جنرل لائسنس جاری کردیا۔

    امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہناہے کہ سمندر میں پھنسے روسی تیل تک رسائی کے لیے 30 دن کا جنرل لائسنس جاری کررہے ہیں، ممالک کے ساتھ مل کر ضرورت کے مطابق مخصوص لائسنس دینےکے لیے کام کریں گے جنرل لائسنس خام تیل کی مادی مارکیٹ کو مستحکم کرنے مدد کرے گا، یہ لائسنس توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک تک تیل پہنچانے کو یقینی بنائے گا ابتدائی طورپر یہ سہولت تیل سپلائی اور قیمتوں میں کمی کے لیے دی گئی ہے۔

    چین کی جانب سے سستا روسی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ سپلائی زیادہ ضرورت مند ممالک کی طرف موڑی جائےگی، ایرانی تیل کے لیے ایک بار ملنے والی خصوصی رعایت کی تجدید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایران پر ناکہ بندی برقرار ہے، تہران سے کسی قسم کا تیل باہر نہیں آنے دیا جائے گا، روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کا امریکا کا کوئی ارادہ نہیں ہے، سمندر میں موجود زیادہ تر روسی تیل پہلے ہی فروخت ہو چکا ہے، اس لیے اسے مزید چھوٹ نہیں دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا نے سمندر میں موجود روسی تیل کی خریداری کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ روسی تیل کی خریداری پر دی گئی رعایت میں توسیع نہیں کی جائے گی-

  • ایران قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

    ایران قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ہمیشہ وقار، خودمختاری اور قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوتا ہے اور کسی بھی صورت عوام اور ملک کے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا،ایرانی قیادت پوری طاقت اور عزم کے ساتھ آخری دم تک عوام کی خدمت جاری رکھے گی جبکہ ایران کے مفادات اور قومی وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو انہوں نے فوج کو ایک سیکنڈ کے نوٹس پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے، تاہم اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ڈیل ہونے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مشرق وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو کارروائی مؤخر کرنے کا حکم دیا، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی قیادت نے اپیل کی کہ ایران کو سفارتی راستہ دینے کی کوشش کی جائے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور کارروائی کل بھی ہوسکتی تھی، تاہم انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ طے پانے کا اچھا موقع موجود ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے قابل قبول ہوگا ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین اور عسکری قیادت کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔ ان کے بقول اگر ایسی ڈیل طے پا جاتی ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے تو امریکا مطمئن ہوسکتا ہے ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہوچکی ہے اور اب وہاں تیسرے درجے کی قیادت باقی رہ گئی ہے، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔

    ٹرمپ نے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی اور امریکی میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ اگر ایران کی پوری فوج ہتھیار ڈال دے، تمام فوجی سرنڈر کردیں اور ایرانی قیادت باضابطہ طور پر شکست تسلیم کرتے ہوئے سرنڈر دستاویزات پر دستخط بھی کردے، تب بھی امریکی میڈیا ایران کی شاندار فتح کی ہی سرخیاں لگا ئے گا صدر ٹرمپ نے خاص طور پر دی وال اسٹریٹ جرنل، دی نیویارک ٹائمز اور سی این این کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جعلی میڈیا قرار دیا،کہا کہ امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹس مکمل طور پر حواس باختہ ہوچکے ہیں اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • امریکا نے دہشتگردی کیخلاف کوششوں میں پاکستان کو کلیدی شراکت دار قرار دے دیا

    امریکا نے دہشتگردی کیخلاف کوششوں میں پاکستان کو کلیدی شراکت دار قرار دے دیا

    پاکستان کی خطے میں ایک اہم اور مستحکم کردار کے طور پر اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے، جہاں امریکا نے دہشتگردی کے خلاف کوششوں میں پاکستان کو اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دے دیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان انسداد دہشتگردی میں ایک قابلِ اعتماد شرا کت دار ہے پاکستان خطے میں داعش خراسان کے خلاف جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اسلام آباد کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے نتیجے میں دہشتگردوں کے خلاف ٹھوس کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ باہمی کامیابیاں پاکستان اور امریکا کی دیرینہ دوستی اور مشترکہ عزم کا واضح عکس ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وسط ایشیائی شراکت دار بھی افغانستان سے پنپتی دہشتگردی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں دہشتگردانہ سرگرمیوں اور علاقائی سیکیورٹی خطرات کے باعث افغانستان اب بھی واشنگٹن کی توجہ کا مرکز ہے جبکہ دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے افغانستان امریکی نگرانی کی فہرست میں بدستور سرفہرست ہے۔

  • ایرانی میڈیا نے امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات کی فہرست جاری کر دی

    ایرانی میڈیا نے امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات کی فہرست جاری کر دی

    ایران کی خبر ایجنسی نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق اہم تفصیلات اور دونوں ممالک کے مطالبات کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے مذاکرات کیلئے کئی سخت شرائط پیش کی ہیں، جن میں ایران کو کسی قسم کا ہرجانہ یا جنگی معاوضہ نہ دینے کی شرط بھی شامل ہے امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرے اس کے علاوہ امریکا نے تجویز دی ہے کہ ایران کو صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے کی اجازت دی جائے امریکی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کیے جائیں، جبکہ جنگ بندی کو بھی مستقبل کے مذاکرا ت سے مشروط رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی بنیادی شرط ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونی چاہیے ایران نے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، بیرون ملک منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے ایرانی مؤقف میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے، جسے خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور امن کے امکانات بھی انہی بات چیت پر منحصر ہیں۔

  • ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

    اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے، ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

    اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا، میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

    امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے-

  • امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے  نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور اگلے ہفتے حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے دو نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور حملے جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر ’زیادہ شدید فضائی حملے‘ شامل ہیں، جبکہ ایک آپشن ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کی کارروائی بھی بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیے گئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو ’بیکار‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو ’انتہائی کمزور‘ کہا۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا پر اعتماد کی کوئی وجہ نہیں، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ شدید متاثر ہو رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تیل کی قلت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

  • ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر  شئیر کردی

    ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شئیر کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایران میں موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    مسعود پزشکیان نے درخت کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "سرو” کا یہ درخت ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے یہ اس دھرتی پر ہے جب ساڑھے 4 ہزار سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔

    واضح رہے امریکی صدر کے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے باغ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے۔’

    دوسری جانب ایرانی صدر کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ کیا جارہا ہےسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان نے ساڑھے چارہزار سال پرانے درخت کی تصویر اس لیے بھی شئیرکی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تہذیب اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔