Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام  ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام سے متعلق الزامات ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن چکے ہیں ، خاص طور پر امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان کے بعد،روس اور چین جیسے ممالک مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ امریکا دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں ایسی لیبارٹریز فنڈ کر رہا ہے، جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری یا ممنوعہ تحقیق کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

    تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا کہ امریکی معاونت سے 30 ممالک میں 120 سے زائد بائیولوجیکل لیبارٹریاں قائم ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ یوکرین میں موجود ہیں امریکی ادارے اب ان لیبارٹریوں، ان میں موجود جراثیم اور وہاں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطرناک ’گین آف فنکشن‘ ریسر چ کو روکا جا سکے۔

    روس گزشتہ قریباً ایک دہائی سے امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب خفیہ حیاتیاتی تحقیق، ممکنہ حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور غیر قانونی تجربات میں ملوث ہے، تاہم امریکا اور مغربی ممالک ان دعوؤں کو مسلسل ’روسی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے رہے۔

    یہ الزامات خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر گئے جب یوکرین کے تنازع کے دوران روس نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی فنڈنگ سے چلنے والی ایسی لیبارٹریوں کے ثبوت اکٹھے کیے ہیں چین نے بھی ان الزامات کی توثیق کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنے ان غیر ملکی منصوبوں پر عالمی برادری کو شفاف جواب دینا چاہیے۔

    یہ معاملہ پہلی بار 2017 میں اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی فضائیہ نے روسی شہریوں کے جینیاتی نمونے حاصل کرنے کے لیے مشتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔ بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کہا تھا کہ مختلف نسلی گروہوں کے حیاتیاتی نمونے منظم انداز میں جمع کیے جا رہے ہیں۔

    2018 میں جارجیا کے سابق وزیرِ سلامتی ایگور گیورگادزے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی معاونت سے قائم رچرڈ لوگر سینٹر میں مشتبہ حیاتیاتی تجربات کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے روسی وزارت دفاع نے ان الزامات کی تحقیقات بھی کیں، تاہم امریکا اور جارجیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روس نے یوکرین میں قائم مختلف لیبارٹریوں سے ہزاروں دستاویزات قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ امریکا عالمی حیاتیاتی تحفظ کے نام پر دوہرے استعمال کی تحقیق کر رہا تھا، جس میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے اجزا بھی شامل تھے۔

    ماضی میں امریکی حکومت، محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور اقوام متحدہ میں امریکی نمائندوں نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے واشنگٹن کا اصرار ہے کہ یہ لیبارٹریز عالمی سطح پر صحت کے تحفظ، وبائی امراض کی روک تھام اور پرامن سائنسی تحقیق کے لیے بنائی گئی ہیں اور یہ ‘حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن’ (Biological Weapons Convention) کے عین مطابق ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر غیر جانبدار آزاد سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی اب تک ان الزامات کے حق میں کسی ٹھوس ثبوت کی تصدیق نہیں کی۔ آزاد مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ سہولیات زیادہ تر خطے کے حیاتیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے معیارات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    یہ تنازع اس لیے بھی عروج پر ہے کیونکہ امریکا کے اندر خود حکومتی سطح پر یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بیرونِ ملک چلنے والے ایسے منصوبوں میں کتنی شفافیت اور حفاظتی اقدامات موجود ہیں امریکی اور یورپی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بارہا ’پروپیگنڈا‘، ’مضحکہ خیز‘ اور ’غلط معلومات‘ قرار دیا، تاہم تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان نے اس تنازع کو دوبارہ عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

  • دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    دورۂ چین: امریکی وفد کا کھانا پانی امریکا سے آیا، ٹرمپ اور ٹیم نے چینی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد سوشل میڈیا پر امریکی وفد سے متعلق مختلف دعوے زیرِ گردش ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا-

    ریاستیں ایک دوسرے کیساتھ تعلقات بھی رکھتی ہیں اپنا مفاد بھی رکھتی ہیں اور اپنی اناء بھی رکھتی ہیں بظاہر چین اور امریکہ میں بہت سرد مہری پائی جاتی ہے لیکن دونوں ممالک کی آپس میں تجارت بھی ہے دونوں ممالک کئی معاملات میں ایک دوسرے سے متفق بھی ہیں اور کئی معاملات کیں ایک دوسرے سے اختلاف بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے سربراہان اپنے اپنے ملک کی سفارتی، عسکری، تجارتی اور ریاستی خودمختاری کو بھی سامنے رکھتی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر گئے اور اپنے ساتھ امریکہ کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون سے لے کر ٹیکنالوجی کمپنی تک کے سربراہان تک کو ساتھ لیکر گئے لیکن جب واپس اپنے ملک جانے لگے تو ائیرپورٹ پر پہنچ کر موبائل سے لے کر سوئی اور چین کی طرف سے دئیے گئے تمام تحائف ائیرپورٹ کے باہر ایک باسکٹ میں ڈالتے گئے جبکہ امریکی وفد اپنا کھانا اور پینے کا پانی امریکا سے ساتھ لے کر گیا تھا جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے چینی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا-

    رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق امریکی وفد نے دورے کے دوران تمام خوراک اور پانی امریکا سے منگوایا جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے تحائف بھی اپنے ساتھ واپس نہیں لے جائے گئے، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے تحائف کو سیکیورٹی خدشات کے باعث قبول کرنے سے گریز کیا۔

    تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا ہو کہ وفد نے چینی کھانا استعمال نہیں کیا یا پانی امریکا سے ایئر لفٹ کیا گیا تاہم امریکی وفد نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چین میں استعمال ہونے والی بعض عارضی ڈیوائسز، بیجز اور دیگر سامان واپس روانگی سے قبل تلف ضرور کیے تھے مبصرین کے مطابق یہ اقدام سائبر سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ ہوسکتا ہے۔

    وجہ صرف اتنی تھی کہ چین کے دورے سے واپسی پر ہمارے پاس ایسا کچھ نہ ہو جو ہماری سیکیورٹی کو رسک میں ڈال دے اور جواب میں چین نے بھی اپنی ریاستی انا برقرار رکھی اور جیسے ہی آخری امریکی جہاز کیں بیٹھا چین نے ریڈ کارپٹ سے لیکر واپسی استقبالیہ ٹھہرے بچوں سمیت اپنی پروٹوکول فورس تک کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں لپیٹ کر چل دئیے جبکہ امریکی جہاز ابھی بھی ائیرپورٹ پر موجود تھا۔

    ریاستیں اپنی سیکیورٹی کو اس حد تک محفوظ کرتی ہیں کہ امریکی وفد نے چین سے واپسی پر سوائے اپنے کپڑوں کے باقی سب وہیں چین میں ہی چھوڑ دیا اور خود دار ریاستیں اپنی عزت اور اناء کا اس حد تک خیال کرتی ہیں کہ ابھی امریکی جہاز ائیرپورٹ پر موجود ہے جبکہ چین نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ائیرپورٹ کو خالی کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر ان خبروں کو امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نیا میکینزم تیار کر لیا،میکینزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائے گی ، یہ راستہ نام نہاد ‘فریڈم پروجیکٹ’ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے ، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا، اس سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے نہ ہونے کی ٹھو س ضمانت کے بغیر باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی،

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکا کے قرض میں اضافہ ہوگا اور مارگیج کی شرح بڑھے گی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم امریکا کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات کی پختہ ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے ماضی میں جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران امریکا دو مرتبہ ایران پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں اگر سنجیدہ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا گیا تو ایران سفارتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہوگا۔

  • امریکا کی  کیوبا کے سابق صدر کو گرفتار کرنے کی تیاری

    امریکا کی کیوبا کے سابق صدر کو گرفتار کرنے کی تیاری

    امریکا 1996 میں دو طیارے مار گرائے جانے کے واقعے میں کیوبا کے سابق صدر 94 سالہ راول کاسترو کے خلاف ممکنہ فوجداری فردِ جرم کی تیاری کررہا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف نے اس مقصد کے لیے حال ہی میں سی آئی اے کے سربراہ کو کیوبا بھی بھیجا تھا،سی آئی اے کے سربراہ جان ریڈ کلف نے ہوانا میں کیوبا کے حکام سے ملاقات کی جس میں راول کاسترو کے پوتے راول روڈریگیز کاسترو بھی موجود تھے۔

    تاہم اس ملاقات کے حوالے سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، خدشہ ہے وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی طرح راول کاسترو کو بھی گرفتار کرکے امریکا لایا جائے گا،ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ راول کاسترو پر فردِ جرم کے لیے گرینڈ جیوری کی منظوری درکار ہوگی اور تمام تر قانونی تقاضوں کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔

    فلوریڈا کے اٹارنی جنرل نے مارچ میں راول کاسترو کے خلاف تحقیقات دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا جس پر فلوریڈا کے گورنر کا بھی کہنا تھا کہ قانونی چارہ جوئی بہت دیر سے شروع کی گئی لیکن یہ ضروری ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر محکمۂ انصاف تبصرہ کرے گا تاہم انھوں نے کیوبا کو زوال پذیر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام کو مدد کی ضرورت ہے۔

    امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ مقدمہ 24 فروری 1996 کے اُس واقعے سے متعلق ہے جس میں امریکی جلاوطن کیوبنز کی تنظیم ’’ برادرز آف ریسکیو‘‘ کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے گئے تھے جس میں 4 ہلاکتیں ہوئی تھیں یہ تنظیم کیوبا سے امریکا جانے والے تارکینِ وطن کی قانونی اور مالی مدد کرتی تھی اور ماضی میں کیوبا کے ساحل کے قریب حکومت مخالف پمفلٹس بھی گرائے جاتے رہے تھے۔

    کیوبا میں اُس وقت حکومت عالمی شہرت یافتہ انقلابی رہنما فیدل کاسترو کی تھی جن کا مؤقف تھا کہ یہ طیارے بارہا کیوبا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے تاہم بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم نے اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ طیاروں کو بین الاقوامی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔

    ادھر کیوبا نے باضابطہ طور پر ممکنہ فردِ جرم پر ردِعمل تو نہیں دیا تاہم وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود کیوبا خودمختاری اور سوشلسٹ راستے پر قائم رہے گا۔

    واضح رہے کہ 94 سالہ راول کاسترو کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کے بھائی ہیں اور ان کے بعد ملک کے صدر بھی بنے تھے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار، امریکی رکنِ کانگریس  کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار، امریکی رکنِ کانگریس کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں پاکستان کے اہم کردار پر امریکی رکنِ کانگریس جیک برگمین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام ایک تعریفی خط ارسال کیا ہے۔

    کانگریشنل پاکستان کاکس کی جانب سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے گہرے تشکر اور مستقل قدردانی کا اظہار کیا گیا ہے،کانگریشنل پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین جیک برگمین نے اپنے خط میں کہاکہ پاکستان کا امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک مؤثر اور بصیرت پر مبنی سفارتی اقدام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جاری امن کوششوں میں پاکستانی قیادت کی رہنمائی قابلِ ستائش ہے پاکستان اور امریکا کے تعلقات طویل المدتی اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس پہلے ہی پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کا اعتراف کر چکے ہیں وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ پاک امریکا اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کے لے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہےوزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنگ بندی کی تھی، جو اب تک برقرار ہے، اور صدر ٹرمپ کئی بار اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے کہنے پر جنگ بندی کی۔

  • چین اور امریکا  کےتعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے،چینی صدر

    چین اور امریکا کےتعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے،چینی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد اب صدر ٹرمپ کے اعزاز میں سرکاری تقریب سے قبل گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف پیپل‘ میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرٹرمپ کےساتھ تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، چین اور امریکا مل کر ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔

    شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی ’ری جوینیشن آف چائنہ‘ اور ’میگ امریکا گریٹ اگین‘ پالیسی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں، چین اور امریکا کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی کےلیے مدد کرنی چاہیئے،دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے اور ان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے درمیان انتہائی مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہےامریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو 24 ستمبر کو امریکا آنے کی دعوت بھی دی-

    رائٹرز کے مطابق اس موقع پر گفتگو کے دوران ٹرمپ کا رویہ بالکل الگ تھا، ان کی تقریر نسبتاً روایتی، محتاط اور اسکرپٹڈ انداز میں تھی، جو ان کے عمومی غیر رسمی اور براہِ راست طرزِ خطاب کے برعکس تھی۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان  ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے،دفتر خارجہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے،دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہےپاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو ورلڈ اربن فورم کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

    ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و استحکام اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا، پاکستان نے خطے میں ڈی اسکیلیشن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مختلف فریقین سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کردار بھی شامل ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ 8 مئی کو نائب وزیراعظم نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں پاکستانی اور ایرانی بحری عملے کی واپسی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا 11 مئی کو سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو میں بھی خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئےسعودی عرب نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کی حمایت کا اظہار کیا اسی طرح 12 مئی کو آسٹریا کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی سہولت کاری کی کوششو ں کو سراہا گیا۔

    دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، بحری سلامتی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔

  • چینی صدر کی تائیوان معاملے میں ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

    چینی صدر کی تائیوان معاملے میں ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

    بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ،جس میں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی؟جس پر صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا،لیکن ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔

    تاہم، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دورا ن چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے، اگر اس مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم رہیں گے، لیکن اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو دونوں ممالک کے در میان ٹکراؤ اور بڑے تنازعات جنم لے سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔

    ماؤ ننگ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن دو ایسی چیزیں ہیں جو آگ اور پانی کی طرح ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اس خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہی چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ نکتہ ہونا چاہیے۔

  • ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

    برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جار ہی ہیں ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہےیہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا،دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر، امریکی حکام، مشیروں اور حفاظتی عملے کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپ واشنگٹن میں چھوڑ آئے،چینی سیکیورٹی اور سائبر جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر امریکی حکام نے اس دورے کے لیے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی اپنائی ہے۔

    چینی حکام کی جانب سے نگرانی، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری کے خدشات کے پیش نظر امریکی وفد "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کے تحت چین گیا اہلکار اپنے ذاتی فونز کی جگہ "صاف” (clean) یا عارضی فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں، جن میں حساس معلومات نہیں ہوتیں۔

    امریکی سیکیورٹی حکام کا ماننا ہے کہ چین میں موجود الیکٹرانک ڈیوائسز، نیٹ ورکس اور ہوٹل کے کمروں کی نگرانی کی جا سکتی ہے، اور فون چارج کرنا بھی ڈیٹا چوری (جوس جیکنگ) کا خطرہ بن سکتا ہے یہ احتیاطی تدابیر صرف سرکاری اہلکاروں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جانے والے ایپل ، بوئنگ اور کوالکوم جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز پر بھی لاگو تھیں۔

    یہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی ہے جس کے تحت چین (یا دیگر حساس ممالک) کے دورے پر جانے والے اہلکاروں کو اپنی معمول کی ڈیجیٹل ڈیوائسز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی