Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

    جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

    استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

    اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

    چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

    دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

    صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

    بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

    دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

  • چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں، جن میں تائیوان کا مسئلہ، سمندری حدود (جنوبی چین کا سمندر)، انسانی حقوق اور چین کی سیاسی نظام کو چیلنج نہ کرنا شامل ہیں-

    رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں، چین اپنی سمندر ی حدود میں امریکی فوجی موجودگی اور نیویگیشن آپریشنز کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،چین کے ترقیاتی اہداف کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی یا دیگر تجارتی پابندیوں کا نفاذ، جسے چین اپنی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے-

    صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ایران کے معاملے، عالمی تجارت، اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے یہ دورہ ایران جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

  • پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام

    پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام

    امریکا نے پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام رکھ دیا۔

    واشنگٹن نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مالیاتی ڈھانچے سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے بڑا انعامی پروگرام جاری کردیا ہے جس کے تحت قابل اعتماد معلومات دینے والے کو 15 ملین امریکی ڈالر تک انعام دیا جاسکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے تحت کام کرنے والے ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب، اس کے مالیاتی نیٹ ورک، غیرقانونی آئل شپمنٹس اور ان سرگرمیوں میں ملوث افراد یا اداروں سے متعلق معلومات دینے والوں کو 15 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔

    پروگرام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کی ذیلی شاخ ’’قدس فورس‘‘ دنیا بھر میں دہشتگرد سرگرمیوں کی معاونت اور ان میں ملوث رہی ہے آئی آر جی سی اپنی سرگرمیوں کیلئے فنڈز کے حصول میں مختلف خفیہ مالیاتی ذرائع استعمال کرتی ہے، جن میں فرنٹ کمپنیاں، خفیہ کاروباری نیٹ ورکس اور ایسے ادارے شامل ہیں جو امریکی اور عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی شخص کے پاس ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی تیل ترسیل، اس میں استعمال ہونے والے ٹینکرز، معاون کمپنیوں یا متعلقہ افراد سے متعلق معلومات موجود ہیں تو وہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا سگنل کے ذریعے معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

    امریکا 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے واشنگٹن کا الزام ہے کہ آئی آر جی سی مختلف سائبر حملوں اور بیرونِ ملک ایرا نی شہریوں کو دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہی ہے، جن میں برطانیہ میں قائم ایران انٹرنیشنل کے عملے کو دی جانے والی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ بھی جنوری 2023 میں ایک قرارداد منظور کرچکی ہے جس میں یورپی یونین اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے تاہم جرمنی سمیت بعض یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفا ر تی مذاکرات کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔

  • امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو  یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

    ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور ایران کے ساتھ ہونے والی موجودہ جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ اس وقت لائف سپورٹ پر ہے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی امن تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران نے ایک فضول دستاویز بھیجی ہے جسے پڑھنے کا بھی میرا دل نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے اپنا یورینیم دینے پر راضی تھا لیکن اب وہ اس سے مکر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف امریکا اور چین ہی جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کر کے رہیں گے۔

    ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے کمر کس لی ہے اور بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی چھوٹی آبدوزیں روانہ کر دی ہیں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں آبنائے ہرمز کی چھپی ہوئی محافظ ثابت ہوں گی اور کسی بھی دشمن کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملی کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے،ہم ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو اسے وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جو اسے حیران کر دیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے،ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہےماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

    ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    محمد اکبرزادہ نےکہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدما ت مفت مہیا کی گئیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گیانہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

  • ایران سے مذاکرات کی ناکامی،ٹرمپ  نے آج قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیا

    ایران سے مذاکرات کی ناکامی،ٹرمپ نے آج قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیا

    ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد واشنگٹن میں فوجی آپشن دوبارہ سنجیدگی سے زیر غور آ گیا ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران جنگ اور آئندہ حکمت عملی پر اہم اجلاس کریں گے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر غور متوقع ہے،صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے،صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے امریکی مطالبات مسترد کیے جانے اور جوہری پروگرام پر بامعنی رعایت نہ دینے کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    زیر غور آپشنز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتی تھی، ایک آپشن ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کرنا ہے، جس کے تحت پہلے سے نشان زد تقریباً 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن پر اب تک حملہ نہیں کیا گیا۔

    اسرائیلی حکومت بھی امریکا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز آپریشن کیا جائے، تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس آپریشن کے خطرناک نتائج کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ایران سے متعلق آئندہ فیصلوں میں صدر ٹرمپ کا متوقع دورۂ چین بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ ایران، تجارت اور خطے کی صورتحال پر بات کریں گے۔

  • امریکی ائیر پورٹ پر  ٹیک آف کے دوران مسافر طیارے کی ٹکر سے شخص ہلاک

    امریکی ائیر پورٹ پر ٹیک آف کے دوران مسافر طیارے کی ٹکر سے شخص ہلاک

    امریکا کے ڈینور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فرنٹیئر ایئرلائنز کے ایک مسافر طیارے نےٹیک آف کے دوران رن وے عبور کرنے والے ایک شخص کو ٹکر مار کر ہلاک کردیا ۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق حادثہ جمعہ کی رات اس وقت پیش آیا جب فرنٹیئر ایئرلائنز کی لاس اینجلس جانے والی پرواز روانگی کے لیے ٹیک آف کر رہی تھی،طیارے کے عملے نے رن وے پر ایک شخص سے ٹکرانے کی اطلاع دی جس کے بعد پرواز فوری طور پر روک دی گئی، نامعلوم شخص ائیرپورٹ کی حفاظتی باڑ پھلانگ کر رن وے تک پہنچا تھا اور صرف 2 منٹ بعد رن وے عبور کرتے ہوئے طیارے کی زد میں آگیا ہلاک ہونے والا شخص ایئرپورٹ کا ملازم نہیں تھا۔

    حادثے کے بعد ایئربس اے 321 طیارے کے انجن میں مختصر آگ بھڑک اٹھی جبکہ کیبن میں دھواں بھر گیا،طیارے میں سوار 224 مسافروں اور عملے کے 7 ارکان کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا 12 افراد کو معمولی زخمی ہونے کی شکایات ہوئیں جبکہ 5 افراد کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔

    فرنٹیئر ایئرلائنز نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ انتظامیہ اور دیگر حفاظتی اداروں کے تعاون سے مزید معلومات جمع کر رہی ہے، واقعے کے مقام کو کلیئر کرنے کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 55 منٹ پر متعلقہ رن وے دوبارہ کھول دیا گیا جس باڑ کو عبور کیا گیا تھا اس کا معائنہ کیا گیا اور وہ درست حالت میں پائی گئی۔

    امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے کہا ہے کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کی معاونت سے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • پاکستان نےنور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ  مسترد کر دی

    پاکستان نےنور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ مسترد کر دی

    پاکستان نے ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی رپورٹ مسترد کر دی-

    دفترِ خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے کیے گئے تھے ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رپورٹ گمراہ کن، سنسنی خیز اور علاقائی امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا کے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے تاکہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظا می اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی مراحل کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے۔

    بیان کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے جاری ہیں اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کے لیے موجودہ انتظامی اور لاجسٹک سہولیات استعمال کی گئیں پاکستان میں موجود ایرانی طیاروں کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظا م سے کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیر ی اور ذمہ دار سہولت کار کا کردار ادا کیا ہےاور کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیےاپنی کوششیں جاری رکھےگا-

  • امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    ہر چار میں سے ایک امریکی سمجھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی تھا،امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اس شک میں مبتلا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے واقعی حقیقت تھے یا انہیں محض سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔

    امریکا میں خبروں اور معلوماتی ویب سائٹس کی ریٹنگ جاری کرنے والے ادارے نیوز گارڈ نے 28 اپریل سے 4 مئی تک سروے جاری کردیا سروے میں ایک تہائی ڈیموکریٹس نے حصہ لیا سروے میں 18 سے 29 سال کی عمر کے امریکیوں نے قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیا ، جبکہ عمر رسیدہ امریکی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ پر حملہ اصلی تھا۔

    ‘نیوز گارڈز ریئلٹی چیک‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اس سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

    نیوز گارڈ کی سینئر ایڈیٹر صوفیہ روبنسن کے مطابق، اس حملے کے ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایسی پوسٹس کی گئیں جنہیں 9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھےسروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 18 سے 29 سال کے نوجوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ان حملوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔

    ڈیموکریٹس میں سے 42 فیصد کا خیال ہے کہ جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ہونے والا ’بٹلر حملہ‘ ایک ڈرامہ تھا، جبکہ 34 فیصد نے وائٹ ہاؤس کے ڈنر والے واقعے کو جعلی قرار دیا جبکہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی یعنی ریپبلکنز کے اندر بھی شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے، جہاں 13 فیصد ووٹرز نے حالیہ حملے کو اسٹیجڈ قرار دیا۔

    صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تحریک کے اندر کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ ایران کے ساتھ جنگ یا ایپسٹین فائلوں جیسے معاملات ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے اپنے حامی بھی اب ان سازشی نظریات پر یقین کرنے لگے ہیں“۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ان لوگوں کو ”بیمار“ قرار دیا جو ان حملوں کو ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جیسے کہ بٹلر حملے میں حملہ آور مارا گیا اور وفاقی اداروں نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔

    میامی یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف اسکنکسی کے مطابق جن لوگوں کا عالمی نقطہ نظر سازشی ہوتا ہے، انہیں ہر کونے میں سائے نظر آتے ہیں،ان کا ماننا ہے کہ چاہے حکومت کتنے ہی ثبوت پیش کر دے، ایسے نظریات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے، جیسے کہ جان ایف کینیڈی کے قتل یا ویکسین کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا تھا بعد ازاں ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔

  • وائٹ ہاؤس نے  ایلون مسک  کو  دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی

    وائٹ ہاؤس نے ایلون مسک کو دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی

    وائٹ ہاؤس نے ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اور ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے ہونے والے دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی۔

    بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایک وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا ہے کہ گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین، بلیک راک کے لیری فنک، سٹی گروپ کی جین فریزر اور میٹا پلیٹ فارمز کی ڈینا پاول میک کارمک بھی ٹرمپ کے وفد میں شامل ہونے والے اہم کاروباری رہنماؤں میں شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایک درجن سے زائد اعلیٰ کاروباری شخصیات پر مشتمل یہ وفد صدر ٹرمپ کے ساتھ چین جا رہا ہے، جہاں امریکی صدر کو امید ہے کہ بیجنگ کے ساتھ مختلف کاروباری معاہدے اور خریداری کے سمجھوتے طے پائیں گے متعلقہ کمپنیوں نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 13 سے 15 مئی کے دوران چین کا دورہ کریں گے، جسے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے باوجود سفارتی روابط کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے،جبکہ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکی فضائیہ کے C-17 گلوب ماسٹر III طیارے بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بڑے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے ٹرمپ کے دورے کے لیے درکار گاڑیاں، سکیورٹی آلات اور دیگر لاجسٹک سامان لے کر آئےہیں یہ طیارے امریکی صدور کے دوروں کے لیے سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔

  • امریکی صدر نے نیٹو کو ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا

    امریکی صدر نے نیٹو کو ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران میں موجود تمام اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کو صرف 2 ہفتے درکار ہوں گے۔

    انڈیپنڈنٹ جرنلسٹ شریل اٹکنسن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران میں اب تک تقریباً 70 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جب کہ مزید اہداف اب بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہےاگر کارروائی جاری رہی تو دو ہفتوں میں تمام اہداف کو مکمل طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہےایران اپنے ذہن میں شاید صورت حال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ فوجی لحاظ سے شکست کھا چکا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ صرف آخری مراحل ہوں گے۔

    امریکی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ”پیپر ٹائیگر“ قرار دیا اور کہا کہ مغربی اتحاد کے اتحادی ایران کے خلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں، یہ اتحاد توقع کے مطابق کردار ادا نہیں کر سکا۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں برس فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا ان حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے تھے جن میں خواتین، بچے، فوجی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جنگ کے 40 روز بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تاہم اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔