Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران نے پاکستان کے ذریعے  امریکی تجاویز پر باضابطہ جواب بھجوا دیا، ایرانی میڈیا

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکی تجاویز پر باضابطہ جواب بھجوا دیا، ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن ارسال کر دیا ہے۔

    ایرانی خبر ایجنسی ’اِرنا‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے فریم ورک کے تحت آئندہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں صرف جنگ کے مستقل خاتمے کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔

    رائٹرز کے مطابق دونوں جانب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نئی پیش رفت کا مقصد ایک عارضی مفاہمتی یادداشت طے کرنا ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی، اس ابتدائی فریم ورک کے بعد ایک مکمل معاہدے پر بات چیت ہوگی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ اور دیرینہ اختلافات کے حل پر بھی بات چیت ہوگی۔

    اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی موقف داخلی جائزے اور اعلیٰ سطح کے مشوروں کے بعد ہی پاکستانی حکام کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ہی 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کرائی تھی جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی تقریباً 40 روز سے جاری مشترکہ جارحیت کا سلسلہ تھم گیا تھا۔

  • پینٹا گون نے خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کر دیا

    پینٹا گون نے خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کر دیا

    امریکی محکمہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلائی مخلوق سے متعلق دہائیوں پرانے خفیہ دستاویزات اور تصاویر عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں-

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کو یو ایف اوز (نامعلوم اڑنے والی اشیا) المعروف اڑن طشتری سے متعلق پہلے سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات کا پہلا مجموعہ جاری کر دیا جن میں بعض رپورٹس سنہ 1940 کی دہائی تک پرانی ہیں، یہ مواد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے آسمان میں نظر آنے والے پراسرار مناظر سے متعلق نئی فائلوں کا اجرا کا آغاز کر دیا ہے ان ریکارڈز کے ذریعے عوام کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ خود اس حوالے سے دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں ،اس عمل میں صرف محکمہ دفاع ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس، قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر، محکمہ توانائی، خلائی تحقیق کا ادارہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی شامل ہیں۔

    محکمہ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بعض معلومات کو کم اہم ظاہر کرنے یا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم موجودہ انتظامیہ عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہےمزید دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔

    امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بیان میں کہا ہے کہ یہ فائلیں برسوں سے خفیہ درجہ بندی میں چھپی رہیں جس کی وجہ سے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود یہ معلومات دیکھ سکیں۔

    امریکی محکمہ جنگ کی ویب سائٹ پر 160 سے زائد فائلیں جاری کی گئی ہیں پینٹاگون یو ایف اوز کو باضابطہ طور پر ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پیز) قرار دیتا ہے،جاری کی گئی ایک فائل جو دسمبر 1947 کی ہے میں ’اڑنے والی ڈِسکس‘ سے متعلق رپورٹس شامل ہیں جبکہ سنہ 1948 کی ایک انتہائی خفیہ فضائیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ’نامعلوم طیاروں‘ اور ’فلائنگ ساسرز‘ کو دیکھے جانے کے دعوؤں کا ذکر موجود ہے۔

    ایک اور فائل میں سنہ 2023 کے ایک واقعے کی تفصیل دی گئی ہے جس میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 مختلف اہلکاروں نے آسمان پر نارنجی رنگ کے گول دائروں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جن سے چھوٹے سرخ رنگ کے گولے نکلتے دکھائی دیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا عندیہ فروری سے دینا شروع کیا تھا وہ اس سے قبل بھی اہم شخصیات کے قتل سے متعلق ریکارڈز جاری کر چکے ہیں، جن میں سابق صدر جان ایف کینیڈی، سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی اور شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے متعلق دستاویزات شامل ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر وہی معلومات سامنے آئیں جو پہلے سے معلوم تھیں۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما نے ایک پوڈکاسٹ میں ماورائے زمین زندگی سے متعلق ’خفیہ معلومات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اوباما نے اس گفتگو میں کہا تھا کہ وہ حقیقی ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا اور انہیں ایریا 51 میں نہیں رکھا گیا تاہم اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

    محکمہ دفاع گزشتہ کئی برسوں سے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق ریکارڈز کو غیر خفیہ کرنے پر کام کر رہا ہے، جب کہ امریکی کانگریس نے 2022 میں اس مقصد کے لیے ایک خصوصی دفتر قائم کیا تھا۔ 2024 کی ایک رپورٹ میں سیکڑوں نئے واقعات کا ذکر کیا گیا، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ امریکی حکومت نے کسی بھی مرحلے پر خلائی مخلوق یا ان کی ٹیکنالوجی کی تصدیق کی ہو۔

    کانگریس نے 2022 میں پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ دہائیوں پرانے ایسے تمام ریکارڈز کو عوام کے لیے جاری کیا جائے، کیونکہ بعض فوجی اہلکاروں نے غیر واضح فضائی مشاہدات کی رپورٹس دی تھیں۔

    دوسری جانب بعض ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پینٹاگون بعض دستاویزات کو روک رہا ہے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے مارچ میں 46 ویڈیوز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ مرحلے میں جاری کی جا سکتی ہیں۔

    ریپبلکن رکنِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شفافیت کے وعدے کو پورا کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام معلومات ایک ساتھ جاری نہیں کی جا سکتیں بل کہ یہ عمل وقت کے ساتھ مکمل ہوگا۔

    ماہرین نے ان فائلوں کے اجرا کے حوالے سے احتیاط کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نامعلوم فضائی مظاہر کی ویڈیوز اکثر غلط تشریح کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 2024 کی سرکاری رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ اب تک کسی بھی غیر زمینی ٹیکنالوجی یا خلائی مخلوق کے وجود کے شواہد نہیں ملے۔

  • تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،مارکو روبیو

    تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو آج ایران کی جانب سے جواب موصول ہونا چاہئیے، تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول +نہیں ہوا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نےروم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے سنجیدہ تجاویز کا منتظر ہے اور امید کرتا ہے کہ ایران موجودہ صورتِ حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا،ایران کا داخلی نظام اس وقت شدید تقسیم اور غیر مؤثر صورتِ حال کا شکار ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ سازی میں تاخیر ہو سکتی ہے،امید کی جا رہی ہے کہ ایران کی جانب سے ایسا مؤقف سامنے آئے جو سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کا باعث بنے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کی رپورٹس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نیا ادارہ قائم کرنے یا اس کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ ان کے بقول ناقابلِ قبول اور سنگین مسئلہ ہوگا، واشنگٹن چاہتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ایک ایسے سفارتی عمل میں تبدیل ہو جس کے ذریعے کشیدگی کم ہو اور بامعنی مذاکرات شروع کیے جا سکیں، عالمی برادری نہیں چاہتی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، جب کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی تجارت اور انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف گزشتہ روز کی گئی امریکی فوجی کارروائی، پہلے سے جاری آپریشن ایپک فیوری سے الگ اور مختلف تھی امریکا کی تازہ کارر وائی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی تھی آپریشن ایپک فیوری ایک جارحانہ کارروائی تھی جس کا مقصد ایران کے میزائل لانچنگ نظام، بحریہ اور فضائیہ کو نشانہ بنانا تھا اور ان کے بقول یہ آپریشن پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔

    مارکو روبیو نےکہا کہ ایران کی یہ حرکت بحری قزاقی ہے اور تہران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہےہرمز میں کشیدگی کے باعث کارگو کے ساتھ انسانی زندگیاں بھی ضائع ہو رہی ہیں کئی ممالک نے امریکا سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی درخواست کی، اسی لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان ممالک کی مدد کے لیے کھڑے ہوئے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز امریکی جنگی جہاز بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایرانی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں امر یکا نے اپنے دفاع میں کارروائی کی،ہم نے صرف دفاع میں جواب دیا تاکہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں صرف احمق ممالک ہی اس وقت جواب نہیں د یتے جب ان پر فائرنگ ہو رہی ہو اور ہم کوئی احمق ملک نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں یا مفادات کو خطرے میں ڈالا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گاہم ان پر حملے نہیں کر رہے بلکہ حملوں کا جواب دے رہے ہیں، جو کچھ بھی ہو رہا ہے دفاع میں ہو رہا ہے صرف ہمارے پاس یہ اقدام کرنے کی قوت ہے اور امر یکا خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دو امریکی مرچنٹ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں اور اگر امریکی جہازوں پر فائرنگ کی گئی تو امریکا بھی بھرپور جواب دے گا امریکی فورسز پہلے ہی ایران کی 7 فاسٹ بوٹس تباہ کر چکی ہیں ایران میں مہنگائی 70 فی صد تک پہنچ چکی ہے جب کہ ایرانی کرنسی شدید بحران کا شکار ہے آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کی 90 فی صد ایکسپورٹ متاثر ہو چکی ہے صدرٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، آبنائے ہرمز پر ایران کا کوئی حق نہیں۔

  • ایران امریکی تجویز کے بارے میں  کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ،اسماعیل بقائی

    ایران امریکی تجویز کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ،اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران ابھی تک امریکی تجویز پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا اور معاملہ تاحال زیر غور ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکی تجویز کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے مرحلے میں نہیں پہنچا اس وقت تہران کی جانب سے امریکا کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا ہے اور معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے جب ایران کسی حتمی فیصلے پر پہنچے گا تو اس سے متعلق پیغامات ثالثی کے ذریعے متعلقہ فریقین تک پہنچا دیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پیغامات کے تبادلے کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ کے اقدامات کا تعین کیا جائے گا سفارتی سطح پر رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور ایران اپنی قومی پالیسی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا ایران اس معاملے پر تفصیلی غورکر رہا ہے اورحتمی مؤقف بعد میں سامنے لایا جائے گا،ایران اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کرے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    بدھ کے روز اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا تصور کم از کم اس بات کا متقاضی ہے کہ تنازع کے حل کے لیے حقیقی نیت کے ساتھ بات چیت کی جائے، جیسا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے 1 اپریل 2011 کے فیصلے (پیرا 157) میں بھی کہا گیا ہے، مذاکرات کے لیے نیک نیتی ضروری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات محض بحث و تکرار نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں حکم مسلط کرنے، دھوکا دہی، بلیک میلنگ یا جبر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز بھی ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ تہران امریکا کی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا-

  • اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے،جیفری ایپسٹین کا سوسائیڈ نوٹ منظرعام پر

    اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے،جیفری ایپسٹین کا سوسائیڈ نوٹ منظرعام پر

    بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خفیہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر انٹر نیٹ پر گردش کر رہی ہے-

    امریکا میں ایک وفاقی جج نے بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خفیہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا ہے جو ان کی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھی گئی تھی۔

    جولائی 2019 کی اس تحریر میں دعویٰ کیا گیا کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں ان کے خلاف کچھ نہیں مل جبکہ نوٹ میں ایک جملہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا جو یہ تھا ’اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے، تم چاہتے ہو میں پھوٹ پھوٹ کر روؤں؟ کوئی فائدہ نہیں، یہ اس کے قابل نہیں‘۔

    امریکی اخباردی نیویارک ٹائمز نے عدالت سے نوٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اب اس دستاویز کو خفیہ رکھنے کی کوئی قانونی وجہ باقی نہیں رہی،جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس نوٹ کو منظر عام پر لانا شفافیت اور احتساب کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

    یہ نوٹ ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیونے کے مطابق ایک کتاب کے اندر چھپا ہوا ملا تھا ٹارٹاگلیونے کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تحریر جولائی 2019 میں ایپسٹین کی پہلی مبینہ خودکشی کی کوشش کے بعد دریافت کی۔

    ٹارٹاگلیو ایک سابق پولیس افسر اور 4 افراد کے قتل میں سزا یافتہ مجرم ہیں وہ پہلے بھی اس نوٹ کا ذکر ایک پوڈکاسٹ میں کرچکے ہیں اگرچہ ایپسٹین نے کبھی ان پر جیل سیل میں حملے کا الزام لگایا تھا تاہم ٹارٹاگلیونے نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

    عدالت کے مطابق یہ دستاویز پہلے ٹارٹاگلیونے کے مجرمانہ مقدمے کے باعث خفیہ رکھی گئی تھی تاہم اب جج نے اسے جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے،امریکی حکام اور میڈیا اداروں نے اب تک اس نوٹ کی تحریر یا اس کی مکمل صداقت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے مقدما ت کا سامنا کر رہے تھےامریکی حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس واقعے کے بعد سے متعدد سازشی نظریات اور سوالات زیرِ گردش رہے ہیں۔

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان ملاقاتیں جمعرات اور جمعے کو ہوں گی، جن کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوگی۔

    صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ایک تاریخی ملاقات کرانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں تاہم لبنانی صدر نے اسرائیلی حملوں کے دوران نیتن یاہو سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کو کہا تھا کہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں اور یہ عمل تمام لبنانی عوام کے مفاد میں ہے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی تھی تاہم اس دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور اسرائیلی افواج پر حزب اللہ کی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے جنگ بندی معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہے بدھ کے روز اسرائیل نے بیروت میں جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ بھی کیا، جس کے بعد امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کے لیے کہیں بھی کوئی ‘استثنیٰ نہیں ہے،حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط یہ سمجھتے تھے کہ وہ بیروت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے حملوں کی ہدایت دے سکتے ہیں، لیکن اب وہ محفوظ نہیں رہے۔

    یاد رہے کہ رواں برس 2 مارچ کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد 16 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے مذاکراتی عمل سے قبل موجودہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

  • ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    ٹرمپ نےآئندہ ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

    فوکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں تاہم اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے،دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام اور مزید مذا کرا ت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان، آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے اقدامات اور30 روزہ مذاکراتی دور (جس میں بڑے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی) شامل ہیں۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران اپنا باضابطہ ردعمل جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے۔

    پاکستان حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا،اگر معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ملک کے لیے اعزاز ہوگانائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے، ایران نے پاکستان کے “تعمیر ی اور ثالثی کردار” کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔

  • ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل  سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور گروہوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے-

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق علی معارج البہادلی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئےعراقی تیل کو ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے فائدے کے لیے منتقل کرنے میں معاونت کرتے رہے ہیں۔

    واشنگٹن نے عراق میں ایران سے منسلک گروہوں کے تین سینئر عہدیداروں اور چار عراقی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان افراد میں مصطفیٰ ہاشم لازم البہادلی، احمد خدیر مکسوس اور محمد عیسیٰ کاظم الشوائلی شامل ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گا جب ایران عراق کے تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے شراکت داروں کے خلاف سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہو۔ یہ کارروائیاں ایران کے تیل اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی ’اکانومک فیوری‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو مالی وسائل تک رسائی سے روکنا ہے امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر رسمی مالی نیٹ ورکس استعمال کرتا ہے، اسی تناظر میں عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی امریکا ایک اہم سیکیورٹی اور سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ماضی میں بغداد کی حکومتی شخصیات اور اداروں پر بھی متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

  • مارکو روبیو کی  ویٹیکن میں پوپ لیو سے اہم ملاقات

    مارکو روبیو کی ویٹیکن میں پوپ لیو سے اہم ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو ویٹیکن میں پوپ لیو چہارم سے ملاقات کی، ملاقات میں ایران جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، امن اور دیگر عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ’این بی سی نیوز‘ کے مطابق اس ملاقات کو واشنگٹن اور ویٹی کن کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، بند کمرے میں ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی اور اس دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، ایران جنگ، مغربی نصف کرہ کے معاملات اور مذہبی آزادی سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ ملاقات نے امریکا اور ویٹی کن کے درمیان مضبوط تعلقات اور امن و انسانی وقار کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر لفظی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ ملاقات نے امریکا اور ویٹی کن کے درمیان مضبوط تعلقات اور امن و انسانی وقار کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر لفظی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔

    ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران پوپ لیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ اور جرائم کے معاملے میں کمزور قرار دیا تھا کہا تھا کہ وہ ایسا پوپ نہیں چاہتے جو ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کا حامی ہو اس کے جواب میں پوپ لیو نے واضح کیا کہ کیتھولک چرچ ہمیشہ سے تمام جوہری ہتھیاروں کے خلاف آواز اٹھاتا آیا ہے اور ان کا مؤقف صرف امن اور انجیل کی تعلیمات پر مبنی ہے پوپ نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظا میہ سے خوفزدہ نہیں اور امن کے لیے اپنی اپیلیں جاری رکھیں گے۔

    ویٹی کن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پیرولین نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوپ پر اس انداز میں حملے کرنا غیر معمولی بات ہے ٹرمپ نے اس ہفتے بھی اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پوپ ایران کے جوہری پروگرام کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔

    پوپ لیو نے حالیہ مہینوں میں ایران جنگ، عالمی عسکریت اور طاقت کے استعمال پر کھل کر تنقید کی ہے انہوں نے دنیا کو چند آمرانہ ذہن رکھنے والے رہنماؤں کے باعث تباہی کے دہانے پر قرار دیا تھا واضح رہے کہ پوپ لیو چہارم امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں اور وہ گزشتہ ایک برس سے ویٹی کن کی قیادت کر رہے ہیں ان کے دور میں امریکا اور ویٹی کن کے تعلقات ایران جنگ، امیگریشن پالیسی اور عالمی تنازعات پر اختلافات کے با عث کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔

  • عالمی  مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے ڈیل کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرگئیں،اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں بحری ناکہ بندی کے با عث قیمتیں 126 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں-

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بدھ اور جمعرات کو اچانک 100 ڈالر کی سطح سے نیچے گر گئی ہیں جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیشرفت کی خبریں اور توانائی کے طویل بحران کے خدشات میں کمی آنا ہے عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 11 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد یہ 97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے جو اپریل کے بعد سب سے کم قیمت ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت گر کر 91 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں یہ بڑی گراوٹ ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن کے مطابق دونوں ممالک حالیہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک ‘یک صفحاتی مفاہمت کی یادداشت’ پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں،صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں تنازع کے خاتمے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ‘ایپک فیوری’ اپنے اختتام کو پہنچے گی اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھول دی جائے گی۔