Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس صلاحیت کے حصول کی کوشش ضرور کر رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکا پر حملے کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات زیادہ تر اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ سفارت کاری کبھی مکمل طور پر ختم ہوتی یا میز سے ہٹتی ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے ایران کے جواہری معاہدے کے لیے مذاکرات سے قبل ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں۔

    30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے ، جن پر ایرانی پیٹرولیم کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت کرنے کا الزام ہے،ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ میں شامل جہازوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی تیل و پیٹرولیم مصنوعات کو بیرونی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں،اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مالیاتی نظام کا استعمال غیر قانونی تیل فروخت کرنے، اس کی آمدنی چھپانے، اپنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے پرزہ جات حاصل کرنے اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کیلیے کرتا ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت اور دہشتگردی کی حمایت کو ختم کرنے کیلئےٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے گی۔

  • سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف طاقت کا آپشن موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس

    سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف طاقت کا آپشن موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس

    واشنگٹن:امریکہ نےعندیہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو فوجی آپشن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کا فیصلہ بھی ان کے اختیار میں ہے۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے جہاں خطے میں بڑھتی کشیدگی اور جوہری پروگرام کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران کو معاہدے کے لیے محدود مہلت دے چکے ہیں جبکہ توقع ہے کہ وہ آئندہ خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کریں گے۔

    ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب

    بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    بھارتی حیدرآباد:رمضان کے دوران5 خصوصی پکوان ، جن کے بغیر سحری ممکن نہیں

  • میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کا طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ 48 منٹ جاری رہا اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ک ہمیں پاکستان اور انڈیا جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور انڈیا ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 35 ملین انسانوں کی جانیں بچائیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر مرکوز رکھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 4جولائی کی تقریبات غیر معمولی ہوں گی، ‘ٹیکساس کے سرحدی قصبوں سے لے کر مشی گن کے دیہات تک اور فلوریڈا کے ساحلوں سے ڈکوٹا کے کھلے میدانوں تک، امریکا کا سنہری دور آ چکا ہے،صدر نے اپنی دوسری حلف برداری کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘گولڈن ایج’ کا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو ایران میں حکومت نے 32 ہزار مظاہرین کو قتل کیا، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے گزشتہ برس کی کارروائی ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کا ذکر کیا جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا،ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا، تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ‘آمرانہ دور کا خاتمہ’ قرار دیا انہوں نے میکسیکو میں بدنام زمانہ منشیات فروش ایل مینچو کی ہلاکت اور جنوبی امریکا کے ساحلی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو بھی سراہا ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکا میں منشیات کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    صدر نے کہا کہ ان کی ‘امن بذریعہ طاقت’ حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنایا جا رہا ہے انہوں نے ریپبلکن ارکان کو دفاعی بجٹ میں اضافے پر سراہا اور نیٹو اتحادیوں پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا۔

    صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکاغیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں، فینٹانائل کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور غیر قانونی سرحدی عبور کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

    معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے اسٹاک مارکیٹ نے درجنوں ریکارڈ قائم کیےانہوں نے کہا کہ ‘امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک ایک سال میں ‘تاریخی تبدیلی’ سے گزرا ہے۔

    ٹرمپ نے ‘جرائم کے حامی سیاست دانوں’ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس سے سخت قوانین منظور کرنے کا مطالبہ کیا خطاب کے دوران متعدد ڈیمو کریٹ ارکان نے احتجاج کیاٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایل گرین کو احتجاجی پلے کارڈ اٹھانے پر ایوان سے باہر لے جایا گیا مینیسوٹا سے کانگریس کی رکن الہان عمر نے بھی نعرے بازی کی،صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ‘دھوکہ دہی کے خلاف جنگ’ کی قیادت سونپنے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے دوران صدر نے واشنگٹن میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نیشنل گارڈ رکن کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکار کو ‘پرپل ہارٹ’ تمغہ دینے کا اعلان کیاانہوں نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی امریکی مردوں کی ہاکی ٹیم کو بھی متعارف کرایا اور گول کیپر کو صدارتی تمغۂ آزادی دینے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ریاستِ متحدہ مضبوط ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور امریکا دوبارہ جیت رہا ہےملک ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے،صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

  • جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    تہران: ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا اور اسرائیل کا نام لیے بغیر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ جنگ کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ایران کے دشمن کو مبینہ 12 روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اب افراتفری اور بدامنی پھیلا کر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دشمن جنگ شروع کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں تاہم اسے اپنے انجام تک پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات سفارتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع تیاریوں میں مصروف ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے اہم اختیارات بڑی حد تک نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔

    امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے چھ اعلیٰ حکام، پاسداران انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں نے بتایا کہ جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں اور امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد علی لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں 67 سالہ علی لاریجانی ماضی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں اور سپریم لیڈر کو ان پر مکمل اعتماد حاصل ہے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب اسٹیو وٹکوف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو اس کے لیے بھی علی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی۔

    اخبار کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل جانشینی کا نظام بھی ترتیب دے دیا ہے ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے، جس پر تقرری ان کے اختیار میں ہے، چار چار متبادل افراد نامزد کیے گئے ہیں تمام کمانڈروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ جانشینوں کے نام پہلے سے طے کریں اس کے علاوہ سپریم لیڈر نے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے تو وہ فیصلے کر سکیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہو سکتے ہیں، جبکہ محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی زیر غور بتائے گئے ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق ایرانی حکام اس خدشے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ ممکنہ حملے میں سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کیے جانے اور افواج کو ہائی الرٹ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم ایرانی قیادت بدترین صورتحال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ریاستی نظام کے تسلسل کے لیے مختلف منظرنامے تیار کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت ہلاک ہو جائے تو ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو کون سا رہنما بیرونی دنیا سے مذاکرات کی قیادت کرے گا، جیسا کہ وینزویلا میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر نکولس مادورو کے معاملے میں کیا تھا موجودہ حالات میں صدر مسعود پزشکیان بظاہر اہم اختیارات علی لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، اور ایرانی قیادت دونوں امکانات کو سامنے رکھ کر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے-

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ’ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے تھے۔

    ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    17 فروری کو مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیاد ی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے،ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے،واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔

  • امریکا میں  بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ

    امریکا میں بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ

    امریکا کی 6 ریاستوں میں برفانی طوفان کے باعث ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اس برفیلے ہواؤں کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے اور طوفان کی شدت کی وجہ سے دو کروڑ سے زائد انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہے میری لینڈ سے لے کر میسا چوسٹس تک برفانی طوفان کی وارننگ جاری کی گئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں 2 فٹ تک برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے نیو یارک اور نیو جرسی میں سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کنیکٹی کٹ اور میسا چوسٹس سمیت دیگر ریاستوں میں بھی ایمرجنسی نافذ ہے۔

    شدید موسم کے باعث ملک بھر میں تقریباً 11 ہزار پروازیں منسوخ جبکہ متعدد تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر روانہ ہونے والی 42 فیصد اور آنے والی 63 فیصد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ لاگارڈیا ائیرپورٹ پر بھی 47 فیصد پروازوں کی روانگی منسوخ ہو چکی ہے،سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں نیویارک، بوسٹن، نیو جرسی، فلاڈیلفیا، بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی کے ایئرپورٹس شامل ہیں۔

    فیڈرل ایوی ایشن نے نیویارک کے ائیر پورٹس پر گراؤنڈ اسٹاپ کی وارننگ جاری کر دی ہے حکام کے مطابق بڑے طوفان کے باعث 24 انچ تک برف باری اور تیز ہواؤں کا امکان ہے جس سے فضائی اور زمینی سفر شدید متاثر ہو رہا ہے-

    غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے شمال مشرقی علاقے شدید برفانی طوفان کی زد میں ہونے کی وجہ سے 5 کروڑ40 لاکھ افراد کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، نیویارک میں 18 سے 24 انچ اور بعض علاقوں میں 28 انچ تک برفباری ہونے کی توقع ہے، نیویارک، نیو جرسی، کنیکٹی کٹ اور میساچوسٹس میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

  • عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

    ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوااگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیابعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیاجنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہےحالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

    ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائےایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

  • اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    جنیوا:اقوامِ متحدہ نے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل کر دی۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی پر تشویش ہے۔

    جبکہ گز شتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں لڑاکا طیاروں سے بھرا امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران پر حملے میں امریکا ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنائے گا، امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔

  • امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیئے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نےایران کیجانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں، پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

    دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

    ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ میں اضافے کے اشاروں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر واشنگٹن سے ’ثبوت‘ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، جب کہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ احتجاجی واقعات میں 3,117 افراد کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں انہوں نے دہشتگرد کارروائیوں کا شکار‘ قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں اگر کوئی فریق سرکاری اعدادوشمار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنے شوا ہد پیش کرے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ایرانی عوام جہنم جیسی زندگی گزار رہے ہیں،اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائی ساتو سمیت 30 ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اصل تعداد کا تعین ممکن نہیں کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں امریکی تنظیم HRANA نے 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق اور مزید ہزاروں کیسز کی تحقیقات کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ہفتوں پر مشتمل ممکنہ فضائی حملے کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح جواز عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا-

    وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں کے مطابق انتظامیہ کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں دوسری جانب ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگی ماحول ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ میں مہنگائی اور معاشی مسائل اولین ترجیح ہیں۔

    ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی اور ’منصفانہ معاہدہ‘ کرنا ہوگا، بصورت دیگر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • پاکستان اور امریکا کا رواں برس سرمایہ کاری فورم کا اعلان

    پاکستان اور امریکا کا رواں برس سرمایہ کاری فورم کا اعلان

    پاکستان اور امریکا نے اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    وزارت خزانہ پاکستان کے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ اے لٹنک سے ملاقات کی، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا، اور امریکی جانب سے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا، رواں سال 31 مارچ کو پاک امریکا تجارتی و سرمایہ کاری فورم منعقد ہوگا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ نے فورم کے انعقاد میں یو ایس چیمبر آف کامرس کے کردار کو سراہا، اس فورم میں دونوں ممالک کی معروف کمپنیوں کے علاوہ وزارتی سطح کی نمائندگی بھی متوقع ہے اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی کہ امریکی وزیر تجارت کا دفتر بھی فورم میں شرکت کرے گا، اور دونوں ممالک نے سرمایہ کاری کے شعبے میں روابط مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔