Baaghi TV

Tag: امریکا

  • پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات، امریکا کا بھارت پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے، عالمی جریدہ

    پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات، امریکا کا بھارت پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے، عالمی جریدہ

    بین الاقوامی جریدے ایشیا ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے بعد امریکا کے لیے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

    ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اہم سفارتی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی حیثیت اختیار کی، اس کے برعکس انڈیا کی سفارت کاری کو اس معاملے میں غیر فعال اور خاموش قرار دیا گیا، بھارتی وزیراعظم مودی نے امریکی صدر ٹرمپ سے زیادہ تر بات چیت تیل اور سپلائی کے نظام تک محدود رکھی، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف رہا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان مسلسل سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے رابطے رکھ کر مذاکرات کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا،عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کئی بار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔

    دوسری جانب بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں اور میڈیا کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا سامنا ہے جہاں ان کی خارجہ پالیسی کو موجودہ صورتحال میں غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    امریکا میں 66 سال قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کا معمہ آخر کار چھ دہائیوں کے بعد حل ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست اوریگون کے دریائے کولمبیا کے قریب پیش آیا، جہاں دسمبر 1958 میں کینتھ مارٹن، ان کی اہلیہ باربرا اور تین بیٹیاں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے ہریالی جمع کرنے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا کئی دہائیوں تک اسے ریاست کے سب سے بڑے حل طلب کیسز میں سے ایک سمجھا جاتا رہا۔

    گمشدگی کے چند ماہ بعد ہی طویل تلاش کے بعد دو بیٹیوں، ورجینیا اور سوزن کی لاشیں دریا سے مل گئی تھیں، لیکن والدین اور بڑی بیٹی کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس کی وجہ سے یہ کیس کئی دہائیوں تک ایک راز بنا رہااس کیس میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 2024 میں ایک غوطہ خور آرچر میو نے دریائے کولمبیا کی تہہ میں ایک پرانی گاڑی دریافت کی یہ 1954 کا ’فورڈ اسٹیشن ویگن‘ ماڈل تھا جو ریت اور مٹی میں دھنسا ہوا تھا تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ گاڑ ی مارٹن خاندان ہی کی تھی۔

    غوطہ خور آرچر میو کے مطابق میر ے خیال میں گاڑی موڑتے وقت کسی رکاوٹ میں پھنس گئی ہوگی اور ریورس کرتے وقت اچانک بے قابو ہو کر دریا میں جا گری،بعد ازاں 2025 میں گاڑی کے ملبے کے قریب سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک لیب بھیجا گیا، جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ باقیات کینتھ، باربرا اور ان کی بڑی بیٹی باربی کی ہیں، یوں خاندان کے تمام افراد کا سراغ مل گیا۔

    جینیٹکس لیب کی چیف ڈویلپمنٹ آفیسر کرسٹن مٹل مین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو وہ سکون اور جواب مل گیا ہے جس کا وہ دہائیوں سے انتظار کر رہے تھےہڈ ریور کاؤنٹی شیرف آفس نے تمام شواہد کی بنیاد پر اس کیس کو باقاعدہ بند کر دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا، جس میں گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی تھی۔

  • جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا،ا یران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار رد عمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

  • اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق غیرملکی وفود کی آمد کے باعث غیرمعمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک طرف اسلام آباد میں سخت حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تو دوسر ی جانب راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں اسلام آباد میں آنے والے معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار نفری پنجاب سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے اسلام آباد کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹئیر فورس بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جبکہ پاکستان آرمی اسلام آباد پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر تعینات ہوگی ائیرپورٹ سے سرینا ہوٹل تک اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے اور روٹ کے اطراف گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔

    سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ روٹ پر بغیر سروس کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجاز ت نہیں ہوگی سرینا ہوٹل کے اطراف پولیس اور آرمی کی مشترکہ 24 چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسپیشل برانچ کی جانب سے بھی انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور شہر بھر خصوصاً روٹ ایریا میں سڑکوں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی میں بھی غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تمام بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز، کاروباری مراکز اور پارکس آج رات 12 بجے سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی سمیت تمام بوائز اور گرلز ہاسٹلز بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    اس سے قبل سٹی پولیس آفیسر خالد حمدانی کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • امریکی  کار ساز کمپنیاں بھی  اب ہتھیار بنائیں گی

    امریکی کار ساز کمپنیاں بھی اب ہتھیار بنائیں گی

    امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

    اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔

  • نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔

    سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔

  • امریکا بین الاقوامی سمندروں میں ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل

    امریکا بین الاقوامی سمندروں میں ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو رعایتیں دے دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا تمام تجارتی جہاز ایران کی جانب سے طے کیے گئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے، جبکہ غیر ملکی جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دراصل ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات ختم نہیں کرتا، اس وقت تک یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔

    ماہرین کے مطابق اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،قالیباف

    امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار باقر قالیباف نے واشنگٹن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسرے ممالک کے جہاز تو اس اہم راستے سے گزر سکیں مگر ایران کو اس کی اجازت نہ ہو باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ان کا ایک بھی بحری جہاز (مائن سوئپر) ایک انچ بھی آگے بڑھا تو ایران براہِ را ست فائرنگ کرے گا، اور یہ بات وہ امریکی وفد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا چکے ہیں۔

    باقر قالیباف نے حالیہ جنگی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب تک دشمن کے 170 سے 180 ڈرونز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکا کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیارے کو مار گرانا کوئی معمولی بات نہیں ہے دشمن اب زمینی حقیقت اور ایران کی طاقت کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوگاامریکا کے ساتھ بات چیت میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بہت بڑا فاصلہ موجود ہے جسے ختم کرنا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز صرف اسی صورت میں ہوگا جب امریکا اپنے حد سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹے گا۔

    کونسل کے مطابق جنگ کے شروع میں ہی امریکا نے جنگ بندی کے لیے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دس نکات پر مبنی ایک فریم ورک بھی تسلیم کیا تھا، جس کے بعد ایران پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔ تاہم اب امریکا نے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا کیونکہ تہران اپنی قوم کے مفاد پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔

    سیکیورٹی کونسل نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان کی ترسیل ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جب تک امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولا جائے گا، اب اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کے بتائے ہوئے روٹس پر چلنا ہوگا اور مخصوص فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔

    اس کشیدگی کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک 23 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دو ٹوک کہا ہے کہ جب تک تمام نکات پر سو فیصد اتفاق نہیں ہو جاتا، امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کا محاصرہ ختم نہیں کرے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اس سخت موقف کی وجہ سے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

  • ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی،ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

    اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی،لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیابین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

    اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا،باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں-

    بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

  • امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکی نیوی نے خلیج فارس میں اپنے جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی تصدیق کردی-

    ایرانی نیوز ایجنسی ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکی نیوی کے مطابق MQ-4C ٹرائٹن نامی بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والا طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے علاقے میں تباہ ہوا، حکام نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے، تاہم اس کے اسباب کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ڈرون کے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے غائب ہونے کے بعد متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واقعے نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ایک انتہائی جدید اور قیمتی ڈرون ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت کے باعث اب تک صرف 20 طیارے ہی سروس میں شامل کیے گئے ہیں یہ ڈرون طویل فاصلے تک سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے ساتھ وسیع علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس میں جدید ریڈار سسٹم، الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز نصب ہوتے ہیں جو سمندر میں جہازوں اور دیگر اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ڈرون کے غائب ہونے سے قبل اس کی پرواز میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے کم سطح پر پہنچ گیااس دوران ڈرون نے ہنگامی سگنل بھی نشر کیے، جن میں پہلے کمیونیکیشن کی خرابی کا کوڈ اور بعد میں مکمل ایمرجنسی کا کوڈ شامل تھا امریکی نیوی کےمطابق یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائےہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کرنے کےبعد اٹلی کے نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا میں اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا۔

    واضح رہے کہ 2019 میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔