Baaghi TV

Tag: امریکا

  • سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ’سینٹرل کمانڈ‘ نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بحری راستوں سے ایران آنے اور جانے والی تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑ کر خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کا رخ کیا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے پریس ٹی وی کے مطابق امریکی دھمکی کے باوجود کم از کم چار جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا، جن میں سے دو جہاز باقاعدہ طور پر اس اہم گزرگاہ کو عبور کر گئے۔

    ایرانی میڈیا نے میرین ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا بحری جہاز ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی پر 74 ہزار ٹن مکئی اتارنے کے بعد 13 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ جہاز نے آبنائے میں ایرانی جزیرے لارک کے قریب کا راستہ اختیار کیا،اسی طرح کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا اور بعد ازاں آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ یہ جہاز 31 ہزار ٹن میتھانول لے کر 31 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بوشہر سے روانہ ہوا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین کا ایک ٹینکر ’رچ اسٹاری‘ بھی رات کے وقت لارک جزیرے کے جنوب میں ایران کے منظور شدہ روٹ سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جہازوں کے سگنلز میں خلل اور ممکنہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث در ست ٹریکنگ مشکل ہو گئی ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں پورے خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

  • وزیر خزانہ کی امریکی وزیر تجارت سے ملاقات

    وزیر خزانہ کی امریکی وزیر تجارت سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں 2026 کے موقع پر امریکہ کے وزیر تجارت اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ملاقات ہوئی،اس ملاقات میں تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

    گفتگو میں کان کنی، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو بھی زیرِ بحث لایا گیا جبکہ باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع بروئے کار لانے پر بھی زور دیا گیا۔

  • عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی بغیر توسیع کے بھی ختم ہو سکتی ہے، تاہم ان کے نزدیک ایک مستقل معاہدہ زیادہ موزوں ہے، یہ کسی بھی طرح ختم ہو سکتی ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدہ بہتر ہے کیونکہ اس کے بعد وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں اس سے قبل ہونےوالےپہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام کےمعاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی، جو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    آئندہ مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے جوناتھن کارل سے گفتگو میں کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ اگلے دو دنوں میں حیران کن پیشرفت دیکھیں گے امریکی صدر نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران میں مؤثر طور پر حکومت میں تبدیلی آ چکی ہے اور ان کے بقول ’شدت پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہےاب وہاں ایک مختلف حکومت ہے، ہم نے شدت پسندوں کو ہٹا دیا ہے، وہ اب موجود نہیں ہیں۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    واشنگٹن: امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں-

    ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،جبکہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے-

    سینٹ کام نے کہا تھا کہ ہرمز کی بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوئی بھی ایرانی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ایئر مین تعینات کیے گئے ہیں، جو اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں یہ پابندی خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں پر لاگو ہےایران کے علاوہ خلیج کی دیگر تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں، تاہم ایران سے متعلق نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔

  • ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے، امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے،اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے-

    سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے،انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے،ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ، مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے-

  • ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ (جے ڈی) وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی چھوٹے موٹے سمجھوتے کے بجائے ایک بڑا اور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جے ڈی وینس نے بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو چھ سات دن ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی برقرار ہے،اگر ایران ایک نارمل ملک کی طرح رویہ اپنانے پر راضی ہو جائے تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کی بنیادی پالیسی تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

    جے ڈی وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا گزشتہ 49 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس قدر اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔

    وینس نے اعتراف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں کا عدم اعتماد ایک رات میں دور نہیں ہو سکتا، لیکن انہیں یقین ہے کہ مذاکرات کی میز پر دوسری طرف بیٹھے ایرانی حکام بھی ڈیل چاہتے تھے اگر ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرے تو امریکا اسے معاشی طور پر ترقی دینے میں مدد کرے گا، تاہم وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو اپنی پراکسیوں کی مالی معاونت سے بھی روک دے۔

    تقریب کے دوران نائب صدر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب مظاہرین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا ایک شخص نے نعرہ لگایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے، جس پر وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی نسل کشی کی حمایت نہیں کریں گے۔

    انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے اور ان کی انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل کیا ہے وینس نے نوجوان ووٹرز کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ناراضی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ کسی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو انہیں الگ تھلگ ہونے کے بجائے عمل میں مزید شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔

    جے ڈی وینس نے پوپ لیو کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ سیا سی رہنماؤں کو کبھی تلوار یا طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نازیوں سے فرانس کو آزاد کروانے والے امریکیوں کے ساتھ خدا نہیں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کا جواب یقیناً ہاں میں ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان ایران کے خلاف جنگی دھمکیوں پر لفظی جنگ جاری ہے،اس تمام صورتحال میں امریکی کیمپ سے مثبت اشارے مل رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ آنے والے دنو ں میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

  • ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور،  امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

    سی این این کی خبر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شریک ہوں گے یہ دونوں شخصیات جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہی تھیں-

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے 3 قریبی مشیروں کو سونپی ہے اور وہ اب بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام اور ثالثوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکی حکام ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر غور کر رہے ہیں، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ملاقات واقعی ہوگی یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم سی این این کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیر غور ہیں، تاہم فی الحال کسی بھی ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود چینی بحری ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود چینی بحری ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب

    آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کا شکار ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہےبحری آمد و رفت پر نظر رکھنے والے اداروں ’میرین ٹریفک‘ اور ’ایل ایس ای جی‘ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ’رچ اسٹاری‘ نامی یہ ٹینکر امریکی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد خلیج سے باہر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔

    اس ٹینکر اور اس کی مالک کمپنی ’شنگھائی شوان رن شپنگ‘ پر امریکا نے پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگا رکھی تھیں،اس بار اس جہاز نے اپنا سفر متحدہ عرب امارات کی حمریہ بندرگاہ سے شروع کیا جہاں سے اس پر سامان لادا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکا نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ وہ اس راستے کو پوری طرح کنٹرول کر رہا ہے، لیکن اس چینی جہاز کے گزر جانے سے اب اس ناکہ بندی کی سختی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک اور امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ’مرلی کشن‘ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے اور آج اس کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا امکان ہے یہ جہاز 16 اپریل کو عراق سے خام تیل لینے والا ہے یہ وہی جہاز ہے جو ماضی میں ’ایم کے اے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور روس و ایران کے تیل کی ترسیل میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

  • اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    امریکا کے شہر نیویارک میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور جاری جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرگئے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید نعرے بازی کی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا مظاہرین نے امریکی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنگی اقدامات کی حمایت فوری طور پر بند کی جائے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹین کے دفاتر کے باہر دھرنا بھی دیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اور اس میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔