Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے،روئٹرز

    امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے،روئٹرز

    برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ہفتوں پر محیط ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے مقابلے میں بدترین کشیدگی کا باعث ہوسکتی ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے اس منصوبے کی حساسیت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ امریکی فوج تیاریوں میں مصروف ہے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گاعہدیداروں نے اس اقدام کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارت کاری کے عمل کو خطرات قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم میں امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاست اور سلامتی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔

    مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کے جوابی حملے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے جوابی حملوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق سوال وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں، وہ کسی بھی مسئلہ پر مختلف پہلوؤں پر خیالات سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتےہیں کہ ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے کیا بہترین ہے۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم امریکا نے گزشتہ برس دو ایئرکرافٹ کیریئرز بھیج دیے تھے جب جون میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین کا خیال ہے امریکی فوج کو ایران کے خلاف اس طرح کے آپریشن سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا کیونکہ ایران کے پاس میزائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ایران کے جوابی حملوں میں خطے کا تنازع وسیع ہونے کا خدشہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مسلسل حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے بمباری کی دھمکی بھی دی تھی اور جمعرات کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا سفارتی حل کے برعکس اقدام انتہائی دلخراش ہوگا۔

    ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر حملوں کی صورت میں وہ امریکا کے کسی بھی فوجی مرکز پر حملہ کرسکتے ہیں امریکا کے فوجی بیسز پورے مشرق وسطیٰ میں بشمول اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا عمان کی ثالثی میں منگل کو جنیوا میں مذاکرات کریں گے جہاں امریکی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔

  • امریکی ناظم الامور   امریکا-پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

    امریکی ناظم الامور امریکا-پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

    امریکی ناظم الامور نیٹالی اے بیکرنے صبح کی کافی کے دوران اپنی ذاتی زندگی اور کام کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں شیئر کیں۔

    نیٹالی اے بیکر نے کہا کہ سفارتی مصروفیات کے باوجود عوام کے قریب رہنا پسند کرتی ہوں۔ امریکی ناظم الامورنے نئے سلسلے NBExplores Pakistan ‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا،نیٹالی بیکر نے پاکستانی عوام سے اپنے تعلق کو "دل سے قریب” قرار دیا انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کاروبارکرنے والی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ اجلاس کی تیاری کر رہی ہوں، امریکی کمپنیاں پاکستان میں روزگا رکے مواقع پیدا کریں گی پاکستان بھرمیں لنکن کارنرکے ذریعے امریکامیں تعلیم اور ثقافت کے حوالے سے آگاہی فراہم کررہے ہیں،م یں عربی، ہسپانو ی ،کچھ فارسی اور تھوڑی تھوڑی اردوبھی بول لیتی ہوں۔

  • معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔

    تہران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا، ایران کی میزائل صلاحیت ملک کی ریڈ لائن ہے اور اسے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا امریکا کو چاہیے کہ وہ دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے –

    ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات اور خطے میں ایک اور بحری بیڑے کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیت قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے اور اس پر کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

  • ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    اسرائیل نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس حد سے تجاوز کرتا ہے جسے وہ ایک حساس سیکیورٹی ریڈ لائن قرار دیتا ہے تو وہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    انڈیا ٹوڈے نے اسرائیلی اخبار دی یروشلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے اپنے امریکی عہدیداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتیں اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور انہیں بغیر کسی نتیجے کے مزید آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے ایران کی میزائل تیاری اور لانچنگ انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا اسرائیلی منصوبہ حالیہ ہفتوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی اور فوجی رابطوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیاحکام نے مبینہ طور پر آپریشنل تصورات بھی پیش کیے، جن میں پروگرام سے منسلک اہم پیداواری اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر ہدفی حملے شامل ہیں۔

    ایک ذرائع نے دی یروشلم پوسٹ کے حوالے سے کہا کہ ہم نے امریکیوں کو بتا دیا ہے کہ اگر ایران بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے ہماری مقرر کردہ ریڈ لائن عبور کرتا ہے تو ہم اکیلے حملہ کریں گے اسرائیل کے مطابق ایران ابھی اس حد تک نہیں پہنچا، تاہم وہ مسلسل نگرانی میں ہے۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    ایک اور سینئر دفاعی شخصیت نے بتایا کہ اسرائیل تہران کو ایسے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں، اور اس بات پر زور دیا کہ یروشلم مکمل فوجی آزادیِ عمل محفوظ رکھتا ہے۔

    ایک عہدیدار نے موجودہ صورتحال کو ایران کے میزائل انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے اور اسرائیل اور ہمسایہ ریاستوں کے خلاف خطرات کو ناکارہ بنانے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا، حالیہ بات چیت کے دوران اس سے منسلک مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔

    پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    کئی اسرائیلی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر محدود فوجی ردعمل کو ترجیح دے سکتے ہیں، جیسا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حالیہ امریکی کارروائیاں تھیں ان کا خدشہ ہے کہ ایسا طریقہ کار ایران کی بنیادی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گادفاعی ذرائع کے مطابق جزوی اقدامات اس بڑے اسٹریٹجک خطرے کو ختم کرنے میں ناکام رہیں گے جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے مرکزی خطرہ سمجھتا ہے۔

  • امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.

    امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں اور ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہیں تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے،زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

    ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو،مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہواگزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

    امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔

    واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

  • صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بات این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو بدھ کے روز ریکارڈ کیا گیا اسی دن ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تجارت، تائیوان، یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی،جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں جب دنیا کی 2 بڑی معیشتیں تجارتی جنگ سے متاثرہ تعلقات کو ازسرِنو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے، جس کے بعد صدر شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔

    انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر سال کے آخر میں وائٹ ہاؤس آئیں گے م دنیا کے 2 طاقتور ترین ممالک ہیں اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیںصدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو اسی طرح برقرار رکھا جائے۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابقشی جن پنگ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تجارت سمیت دوطرفہ مسائل بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں شی جن پنگ نے کہا کہ مسائل کو ایک ایک کر کے حل کرتے ہوئے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے، ہم دونوں ممالک کے درمیان درست طرزِ تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ نے مختلف شعبوں پرٹیرف عائد کیے، جن میں اسٹیل، گاڑیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں، جبکہ وسیع تر معاشی اقدامات بھی کیے گئے اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر کشیدگی رہی، تاہم گزشتہ موسم بہارمیں بڑے تصادم کے بعد دونوں ممالک ایک وسیع تر مفاہمت پر پہنچے۔

    امریکا کی جانب سے چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، دونوں ممالک کی معیشتیں اب بھی گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں آخری بار 2023 میں امریکا کا دورہ کرنیوالے چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز ٹرمپ کو خودمختار تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر ’احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

    ادھر جمعے کے روز امریکا نے روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جوہری ہتھیاروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی، تاہم بیجنگ نے فی الحال ان مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

  • پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہزاروں افغان شہری کئی برس سے امریکا میں آبادکاری کے منتظر ہیں، تاہم طویل تاخیر کے باعث اب ان کی واپسی کا عمل شروع کیے جانے کا امکان ہے پاکستان میں موجود تقریباً 19 ہزار سے زائد افغان شہری امریکا منتقلی کے انتظار میں ہیں، تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد کئی سال گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے ان کی مکمل آبادکاری ممکن نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان نے افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے صوبوں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس سربراہان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان پہلے بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کر چکا ہے، اور ماضی میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات دی گئی تھیں پاکستان نے اس سے قبل مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، پر زور دیا تھا کہ وہ ان افغان شہریوں کی بروقت آبادکاری یقینی بنائیں، بصورت دیگر انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے تھے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کے باعث خطرات لاحق تھے اب کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے کیسز مکمل نہ ہونے سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا  سخت ردعمل

    امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا سخت ردعمل

    امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔

    امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

    واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔

    شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔

  • امریکا کا پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری

    امریکا کا پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا۔

    اسلام آباد ترلائی کلاں میں خود کش دھماکے کے بعد امریکا نے پاکستان سے متعلق نیا سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہےامریکی محکمہ خارجہ نے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستان میں سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہری عوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں اور اپنی ذاتی سیکیورٹی منصوبہ بندی کے بارے میں نئے سرے سے جائزہ لیں،سیکیورٹی ایڈوائزی میں کہا گیا کہ امریکی شہری مقامی میڈیا پر صورت حال سے متعلق تازہ معلومات سے آگاہ رہیں۔

  • امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، بھارتی شہری بھی شامل

    امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، بھارتی شہری بھی شامل

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کی گئی خطرناک مجرموں کی تازہ فہرست جاری کی گئی ہے جس میں 89 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

    اس ڈیٹا بیس میں قریباً 25 ہزار ایسے جرم کرنے والے غیر قانونی شہری شامل ہیں، جن میں قتل، جنسی جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات میں ملو ث افراد شامل ہیں، جنہیں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ اور امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے گرفتار کرکے سزا دی۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ کی جانب سے جاری کردہ عوامی ڈیٹا بیس میں مجرموں کے نام، تصاویر، جرائم اور قومیت کی تفصیلات شامل ہیں،ویب سائٹ (WOW.DHS.GOV) اس لیے متعارف کرائی گئی تاکہ امریکی عوام یہ دیکھ سکیں کہ وہ کون سے غیر قانونی شہری گرفتار کررہے ہیں، ان کے جرائم کیا ہیں۔

    محکمے نے مزید کہاکہ یہ ڈیٹا بیس 25 ہزار افراد کی معلومات فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک جھلک ہے ان جرائم پیشہ غیر قانونی شہریوں کی، جنہیں گرفتار کیا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کمیونٹیز میں دہشت پھیلائی،’امریکی عوام کو ایسے افراد کا شکار نہیں ہونا چاہیے جو قانونی طور پر بھی ہمارے ملک میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔

    یہ تمام افراد ایسے ہیں جنہیں امریکا میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور جن پر جرائم کا الزام ثابت ہو چکا ہے ویب سائٹ میں سرچ فلٹر کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین نام، ملک یا ریاست کے لحاظ سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔