Baaghi TV

Tag: امریکا

  • اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے-

    ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھی ہے جو باہمی اعتماد اور نیک نیتی کے فروغ سے مزید مضبوط ہو سکتا ہےایرانی سفیر نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ برادر ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کے انعقاد میں مثبت کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کاوشوں سے مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو ئے، جہاں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں،ایرانی اعلیٰ سطح مذاکراتی وفد نے وقار، خود اعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ مذاکرات کیے، تاکہ ایرا نی عوام کے قومی مفادات اور جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو تمام فریقین کے مفاد ات کے لیے پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔

  • برطانیہ  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔

    ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ہرمز کھلنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ عالمی معیشت پر اور ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا ،تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 10 بجے پا کستانی وقت کےمطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج شام 7 بجے سے شروع ہوگی ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمدورفت پر ہوگا ناکہ بندی کا نفاذ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والےجہازوں پربھی ہوگا۔دیگر ملکوں کے پورٹس سے جہازو ں کی آمدورفت کی ناکہ بندی نہیں ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  • امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔

    برینٹ کروڈ، اتوار کے روز 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے داخل یا خارج ہونے والے تمام بحری جہازوں کو روک دے گی۔

    تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا،جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔

    امریکا کے اس اعلان کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 0.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک فیصد سے زائد گر گیا، امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے

  • مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فضائی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد ایران کے خلاف محدود نوعیت کے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں، جبکہ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھا جائے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اقدام کو ایران پر دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کے طریقہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے،ایک اور زیر غور آپشن یہ ہے کہ امریکا وقتی نوعیت کی ناکہ بندی برقرار رکھے اور اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے طویل المد تی فوجی حفاظتی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بڑے پیمانے پر حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں طویل فوجی تنازعات سے گریز کی پالیسی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

  • آج 10 بجے سے  آبنائے ہرمز میں  ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    آج 10 بجے سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے،ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطا بق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

    سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے، تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گااس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا، جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے-

  • ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہر صورت کامیاب ہوں گے-

    وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر جہاں سے وہ میامی میں ایک مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ دیکھنے جا رہے تھےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، اور ہم ہر صورت میں کامیاب ہوں گے، ہم نے انہیں عسکری طور پر شکست دی ہے-چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی ممکنہ اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اسے ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا-

    ادھر امریکا اور ایران کے درمیان نصف صدی کے دوران اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات پاکستان میں ہوئے، جن میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 6 ہفتوں پر مشتمل جنگ کا خاتمہ ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا میں جنگ بندی کوششوں کو سراہا،کہا کہ جے ڈی وینس نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

    جنگ بندی کے نازک ماحول کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر رہی ہے۔

  • ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے واقف حکام کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جنہیں زیرِ زمین اسٹوریج سے لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا مقصد نہ صرف بحری راستوں کی بحالی ہے بلکہ ایران، امریکی افواج اور خطے کی ریاستوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اس وقفے کو اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لانچرز و میزائل ناکار ہو گئے ہیں تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے سے جزوی طور پر مختلف تصویر پیش کرتی ہیں اگرچہ ایران کے نصف سے زائد میزائل لانچرز یا تو تباہ، نقصا ن زدہ یا زیر زمین پھنس چکے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد کو مرمت کر کے یا زیر زمین کمپلیکس سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کا میزائل ذخیرہ مجموعی طور پر تقریباً آدھا رہ گیا ہے، تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ میزائل زیر زمین چھپائے گئے مقامات یا خفیہ اسٹوریج سے دوبارہ استعمال میں لائے جا سکتے ہیں اسی طرح ایران کے پاس موجود ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم رہ گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں اور ایران کی پیداواری صلا حیت کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے متاثر کیا ہے۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی پر ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر کے اپنے دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس اب بھی محدود تعداد میں کروز میزائل موجود ہیں جو خلیج فارس میں بحری جہازوں یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تقریباً دو تہائی بیلسٹک میزائل لانچرز جنگ کے دوران ناکارہ ہو چکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی اب بھی مرمت یا زیر زمین سے نکالے جا سکتے ہیں ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود تقریباً 2500 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے اب بھی 1000 سے زائد باقی ہیں، جبکہ باقی استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور اعلیٰ امریکی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کیا ہےامریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ حالیہ حملوں نے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، امریکا نے 13 ہزار سے زائد بم استعمال کیے جن کے ذریعے میزائل اور ڈرون اسٹوریج مراکز،بحری اثاثے اور دفاعی صنعت کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کے اظہار کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔

    اُدھر واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر جون آلٹر مین کے مطابق ایران اپنی محدود صلاحیت کے باوجود خلیج کے خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،ہر دن جب ایران شکست نہیں کھاتا وہ اس کے لیے فائدہ ہے، اور ہر دن جب مخالفین مکمل کامیابی حاصل نہیں کرتے وہ ان کے لیے نقصان ہے۔

  • امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد کا فقدان برقرار ہے-

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم 2 سابقہ جنگوں کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد موجود نہیں،ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، جبکہ اب امریکا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

    قالیباف کے مطابق ایران سفارتکاری کو اپنی طاقت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، جو عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعما ل ہوتی ہے، ایران اپنی قومی دفاعی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کسی بھی لمحے اپنی کوششیں ترک نہیں کرے گاانہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر اپنے برادر اور دوست ملک پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشا ت کا اظہار کرتا ہے۔

    ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران 9 کروڑ عوام پر مشتمل ایک مضبوط قوم ہے، جس نے سپریم لیڈر کی رہنمائی میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیاعوام کی حمایت نے وفد کو حوصلہ دیا اور طویل 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں شریک ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے ایران کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔