Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    امریکا کی ریاست مشی گن میں شدید برفانی طوفان نے تباہی مچا دی-

    مشی گن میں ایک ہی شاہراہ پر 100 سے زائد گاڑیاں، جن میں کم از کم 30 بھاری ٹرک شامل تھے، خوفناک چین ری ایکشن حادثے کا شکار ہو گئیں حادثہ اتنا شدید تھا کہ موٹروے مکمل طور پر بند کر دی گئی اور ہر طرف الٹی ہوئی گاڑیاں اور جیک نائف ٹرک بکھرے نظر آئے-

    حکام کے مطابق حادثے کے وقت 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں اور علاقے میں ایک فٹ سے زائد برف جمع ہو چکی تھی، مشی گن اسٹیٹ پولیس کے مطابق حادثے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا پولیس نے موٹروے کو دونوں اطراف سے بند کر دیا جبکہ گاڑیوں کو ہٹانے اور سڑک صاف کرنے میں کئی گھنٹے لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے مسلسل برفباری کے باعث وہاں پھنسے مسافروں کو بسوں کے ذریعے قریبی ہائی اسکول منتقل کیا گیا، جہاں عارضی پناہ کا انتظام کیا گیا۔

    
وزیراعظم شہباز شریف کا سی پیک 2.0 کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کا اظہار

    ادھر امریکا کے وسیع علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک گر چکا ہ غیر معمولی طور پر فلوریڈا پین ہینڈل تک برفباری ریکارڈ کی گئی، جہاں کئی شہری رات بھر جاگ کر برف کے نایاب نظارے دیکھتے رہےنیشنل ویدر سروس نے شمالی مینیسوٹا سے لے کر وسکونسن، انڈیانا، اوہائیو، پنسلوانیا اور نیویارک تک شدید سردی اور برفانی طوفانوں کی وارننگ جاری کر دی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں موسم مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ڈیلی میل کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت ، شہزادہ ہیری کی لندن ہائیکورٹ میں پیشی

  • ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی-

    سوشل ٹرتھ پر اپنے اکاؤنٹ میں ٹرمپ مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی ایک تصویر لگائی ہے جس میں گرین لینڈ کو امریکی حصہ بتایا گیا ہے اور ٹرمپ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر کے ساتھ فتح کا جھنڈا لہرا رہے ہیں،ٹرمپ نے حال ہی میں یورپی ممالک کو گرین لینڈ نہ دینے پر ٹیرف کی دھمکی بھی دی جس پر یورپی ممالک کی طرف سے سخت ردعمل بھی آیا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئےامریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوراڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ امریکی جنگی طیارے جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچیں گےگرین لینڈ کی حکومت کو بھی منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیا گیا ہےامریکی طیاروں کی نئی کھیپ پہنچانے میں ڈنمارک حکومت سے ہم آہنگی ہے، امریکی فورسز کو ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔

    واضح رہے کہ گرین لینڈ دراصل ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے، 1951 میں امریکا اور ڈنمارک نے گرین لینڈ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھےمعاہدے کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ جارحیت سے بچانے کا عزم کیا تھا جب کہ امریکا اور کینیڈا نے 1958 میں سرد جنگ کے آغاز پر دفاعی معاہدے نوراڈ پر دستخط کیے تھے، نوراڈ کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کی بروقت اطلاع دینا ہے۔

  • امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع

    امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع

    امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں-

    امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوراڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائیہ کے جنگی طیارے جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچیں گے اس عمل میں ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور امریکی فورسز کو تمام ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں، تعیناتی دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اس کا مقصد خطے میں فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

    واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ امریکا اور ڈنمارک کے درمیان 1951 میں گرین لینڈ کے دفاع سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا نے ممکنہ بیرونی جارحیت کی صورت میں گرین لینڈ کے دفاع کا عزم کیا تھابعد ازاں 1958 میں امریکا اور کینیڈا نے سرد جنگ کے دوران نوراڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا بنیادی مقصد شمالی امریکا کو درپیش فضائی خطرات اور بیلسٹک میزائل لانچنگ کی بروقت نگرانی اور اطلاع فراہم کرنا ہے۔

  • سپریم لیڈر پر حملہ  ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا،ایرانی صدر

    سپریم لیڈر پر حملہ ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا،ایرانی صدر

    تہران : ایران نے امریکا کو واضح خبردار کیا ہے کہ رہبر اعلیٰ آیت اللٰہ علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے وہ پوری جنگ کا سبب سمجھیں گے-

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ناانصافی پر مبنی جارحیت کا سخت اور افسوسناک جواب دے گا سپریم لیڈر پر حملہ دراصل ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں اور ممکنہ پھانسیوں پر سختی سے خبردار کیا تھاٹرمپ نے ہفتے کو پولیٹیکو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران میں نئی قیادت لانے کا وقت آ گیا ہے، جس پر ایرانی قیادت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہےعلاوہ ازیں، ایرانی صدر نے ملک میں جاری معاشی بحران کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیا اور کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنی نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

    ’دی لائن کنگ‘ اور ’الہٰ دین‘ کے تخیلق کار انتقال کر گئے

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

  • امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    عراق کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مغربی عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل طور پر انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عراقی فوج نے اس اہم فضائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق عین الاسد ایئربیس کا مکمل کنٹرول عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے یہ اڈہ طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج کے زیرِ استعمال تھا، تاہم اب تمام عسکری اور انتظامی اختیارات عراقی فورسز کے پاس منتقل ہو چکے ہیں، یہ پیش رفت عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کنٹرول کے عمل کا حصہ ہے یاد رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک مفاہمت طے پائی تھی ،اب امریکی افواج اپنی توجہ شام میں موجود داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز کریں گی۔

    عراق کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ قیس المحمداوی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ حکومت کی اہم ترجیح ملک سے بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی ختم کرنا اور دو طرفہ سکیورٹی معاہدوں کی طرف بڑھنا ہے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ستمبر میں کہا تھا کہ اب 86 ممالک کی افواج کی عراق میں موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ اتحاد کے قیام کا مقصد ختم ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان امریکی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے تدریجی انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے قیام پر مفاہمت ہو چکی تھی ابتدائی منصوبے کے مطابق سیکڑوں فوجیوں نے ستمبر 2025 تک واپس جانا تھا جبکہ مکمل انخلا 2026 کے آخر تک ہونا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد عمل تیز دکھائی دیتا ہے۔

    عین الاسد ایئربیس کئی برسوں سے امریکی اور اتحادی افواج کا اہم مرکز رہی ہے اور اسے ماضی میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا بھی رہا، خاص طور پر 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کے دوران۔

    ایک عراقی فوجی کرنل نے بھی تصدیق کی کہ امریکی افواج نے بیس چھوڑ دی ہے، تاہم چند اہلکار لاجسٹک معاملات کی وجہ سے عارضی طور پر موجود ہیں، عراق میں داعش کو 2017 میں شکست دی جا چکی ہے لیکن عراقی فورسز اب بھی اس کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • امریکی جریدے  نے مودی حکومت کے شائننگ انڈیا دعوے بےنقاب کر دیئے

    امریکی جریدے نے مودی حکومت کے شائننگ انڈیا دعوے بےنقاب کر دیئے

    مودی حکومت کے شائننگ انڈیا دعوے عالمی تجزیے میں بے نقاب ہو گئے،امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط بھارت کے لیے سفارتی سطح پر سبکی کا باعث بنے-

    امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ بھارت کا خود کو امریکا کا ایک مضبوط ’’اسٹریٹجک ستون‘‘ قرار دینے کا دعویٰ حالیہ واقعات کے بعد کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہےمئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے شدید ترین تناؤ سے گزر رہے ہیں۔

    فارن افیئرز کے مطابق جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا، جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط بھارت کے لیے سفارتی سطح پر سبکی کا باعث بنے، امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہوئے ان اقدامات کے باعث امریکا میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

    ناقص ڈیوٹی روسٹر منصوبہ بندی،انڈیگو پر ریکارڈ جرمانہ عائد

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت معمولی سفارتی اختلافات پر امریکا سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایک پراعتماد اور مستحکم شرا کت دار نہیں، 25 سالہ تعلقات کا صرف انا اور بیانیے کے دباؤ پر متزلزل ہونا اس شراکت داری کی ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، پاک بھارت جنگ بندی درحقیقت بھارتی درخواست پر امریکی مداخلت سے ممکن ہوئی، تاہم بھارت داخلی سیاسی وجوہات کی بنا پر اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے مسئلہ امریکی ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی بھارتی خواہش ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے جبکہ دوسری جانب چین کے مقابلے میں امریکا سے غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے، جو ایک واضح تضاد ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوہرے معیار کے بجائے برابری اور حقیقت پسندانہ سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے۔

    ہم اب بھی ساتھ رہتے ہیں، سنیتا آہوجا کی گووندا سے طلاق کی تردید

  • امریکا اور اسرائیل کا ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے،امریکی پروفیسر

    امریکا اور اسرائیل کا ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے،امریکی پروفیسر

    امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس نے ایران میں ہوئے حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ۔

    پروفیسر جیفری سیکس کا کہنا تھا کہ ایران میں ایک غیر معمولی، پُرتشدد اور سفاک کھیل جاری ہے، خریدا ہوا اور جانبدار مین اسٹریم امریکی میڈیا بتاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر کنٹرول کھو دیا ، یہ نہیں بتایا جاتا کہ دراصل ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا ہی امریکا ہےہمیشہ کی طرح عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے، امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے بدتر بنائیں اور ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے۔

    دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہر سینیٹر مشاہد حسین سید نے پروفیسر جیفری سیکس کے بیان کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور لکھا ایران کے بارے میں مغربی میڈیا اتنا کمزور، جعلی اور خریدا ہوا ہے کہ وہ سچ بتانے سے انکار کر رہا۔

    کمالیہ: شادی سے انکار پر لڑکی کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا

    اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کر دی

    ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

  • اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کر دی

    اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کر دی

    اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے رابطہ نہیں کیا گیااسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کا معاملہ امریکی وزیرخارجہ مارکو رُوبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔

    واضح رہے وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھاغزہ میں ‘بورڈ آف پیس’ کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

    امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    وائٹ ہاؤس کے مطابق غزہ بورڈ میں میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کیے گئے ہیں وزیرخارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل کیا گیا ہےآریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر ہوئے ہیں جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گےبرطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بن گئے۔

    سکردو: پنجاب سے آنے والی خاتون ٹک ٹاکر نجی ہوٹل سےگرفتار

  • امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیحدگی

    امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیحدگی

    امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا لگ گیا۔

    بھارتی میڈیا کےمطابق بھارت ایران کی چا بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کررہاہےبھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کردی ہے جس کے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کےمطابق چابہاربندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی اجتماعی طورپر مستعفی ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ IPGL کی آفیشل ویب سائٹ کو بھی غیر فعال کردیا گیا ہےچابہار بندرگاہ سے خاموشی کے ساتھ علیحدگی کےمعاملے پر اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے مودی سرکارپرسخت تنقید کی جارہی ہے۔

    کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوال چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ مودی امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟ امریکی دباؤ پر چابہار سے غیر رسمی طور پر پیچھے ہٹنا خارجہ پالیسی میں نئی کمزور کو ظاہر کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ سال 2024 میں میں بھارت نے 10 سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا تھا بھارت کا چابہار بندرگاہ میں منصوبہ ایک معمول کی سرمایہ کاری نہیں، بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہ راست سمندری رسائی کے لیے ایک طویل المدتی اور اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہے، جس سے پاکستان کو بائی پاس کرکے تجارت کو فروغ دیا جا سکے یہ منصوبہ 2003 میں شروع ہوا اور 2016 میں ایک طویل مدتی معاہدے کی صورت اختیار کر گیا، جس کا مقصد اس خطے میں بھارت کی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی رسائی کو بڑھانا ہے۔

    اسٹریٹجک اہمیت: چابہار بندرگاہ بھارت کو بحیرہ عرب کے راستے ایران کے ذریعے زمینی طور پر افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑتی ہے، جس سے تجارتی راستوں میں بہتری آتی ہے۔

    پاکستان کا متبادل: یہ منصوبہ دراصل پاکستان کی کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے اور نئے تجارتی راستے کھولنے کی ایک کوشش ہے بھارت نے اس منصوبے میں 2003 سے دلچسپی لینا شروع کی اور 2016 میں ایران کے ساتھ 10 سالہ معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد سے اس پر کام جاری ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ نے حال ہی میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ بھارت نے چابہار سے پیچھے ہٹ گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کا اس بندرگاہ پر کنٹرول برقرار ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل کی وجہ سے ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے،سپریم لیڈر

    امریکا اور اسرائیل کی وجہ سے ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے،سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات، نقصانات اور ایرانی عوام پر بہتان لگانے کے لیے امریکی صدر ذمہ دار ہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ تازہ ہونے والے ایران مخالف فسادات مختلف تھے جس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھے امریکی مداخلت نے حالات مزید خراب کیےاور ایرانی عوام کو نقصان پہنچایا، امریکا اور اسرائیل کی وجہ سے ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئےایران ملک کو جنگ میں نہیں دھکیلے گا تاہم اندرونی اور بیرونی مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ایران میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کسی بھی وقت حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائےگا، تاہم ساتھ ہی حکومت کے حامی افراد بھی سڑکوں پر نکل آئے اور اظہار یکجہتی کیا۔

    سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر امریکی جریدے کی پاکستان کی حمایت

    ادھر ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تشدد اور دہشتگردی کے واقعات میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں،وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا کہ ایران میں ہونے والے پُرامن مظاہروں کو صہیونی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر نے پرتشدد شکل دی، 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

    اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیاکہ ایران آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور شہری آزادیوں کا پابند ہے، تاہم ریاست شہریوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔