Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد کا فقدان برقرار ہے-

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم 2 سابقہ جنگوں کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد موجود نہیں،ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، جبکہ اب امریکا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

    قالیباف کے مطابق ایران سفارتکاری کو اپنی طاقت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، جو عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعما ل ہوتی ہے، ایران اپنی قومی دفاعی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کسی بھی لمحے اپنی کوششیں ترک نہیں کرے گاانہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر اپنے برادر اور دوست ملک پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشا ت کا اظہار کرتا ہے۔

    ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران 9 کروڑ عوام پر مشتمل ایک مضبوط قوم ہے، جس نے سپریم لیڈر کی رہنمائی میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیاعوام کی حمایت نے وفد کو حوصلہ دیا اور طویل 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں شریک ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے ایران کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان  سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ’’فیس ٹو فیس‘‘ بات چیت جاری ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان برسوں بعد ہونے والی سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، اس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر ’’فیس ٹو فیس‘‘ مذاکرات ہو رہے ہیں ،متعلقہ شعبوں کے تمام امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ اضافی ماہرین واشنگٹن سے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایران امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں، سینئر مشیران میں ڈاکٹر اینڈریو بیکر اور مائیکل وینس بھی وفد کا حصہ ہیں جو مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

  • آج امریکی  بحریہ کے کئی جنگی جہاز  آبنائے  ہرمز  سے گزرے  ہیں،امریکی ویب سائٹ

    آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں،امریکی ویب سائٹ

    امریکی نیوز ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار پیش آیا ہے اور یہ اقدام ایران کے ساتھ کسی قسم کی ہم آہنگی کے بغیرکیا گیا اس کارروائی کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کے لیے اعتماد بڑھانا تھا تاکہ وہ اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ آپریشن بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، اہلکار کے مطابق امریکی بحری جہاز مشرق سے مغرب کی سمت آبنائے ہرمز سے خلیج کی طرف گئے اور پھر واپس اسی راستے سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب کی طرف روانہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ سے آبنائے ہرمز روانہ ہوا تھا لیکن ایرانی فورسز کی دھمکی پر امریکی جنگی بحری جہاز واپس لوٹ گیا ایرانی فوج نے اسلام آباد میں وفدکو امریکی جنگی جہاز کی پیش قدمی سے آگاہ کر دیا تھا اور ایران نےثالث کو جنگی جہازکو آگے بڑ ھنے کی صورت میں نشانہ بنانے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی باضابطہ وارننگ موصول نہیں ہوئی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب ہم آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں، ہرمز سے بارودی سرنگوں ہٹانے سے چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی بھی مستفید ہوں گے۔

  • اقوام متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    اقوام متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین شروع ہونے والے مذاکرات کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

    یو این ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ ان مذاکرات کو آگے بڑھائیں سیکریٹری جنرل نے ان مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک ‘اہم پیش رفت’ قرار دیا ہے انہوں نے فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور تعمیری بات چیت کے ذریعے ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے جو پائیدار ثابت ہو۔

    واضح رہے کہ یہ تاریخی مذاکرات پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں اسلام آباد میں منعقد ہو رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کو ختم کرنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے،مریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق نہایت اہم اور حساس مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے دلچسپ بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا –

    ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو پوسٹ میں ایران کے صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ایرانی صحافی اسلام آباد میں ایران-امریکا جنگ بندی مذاکرات کے لیے موجود ہیں اور ہمیں ہوٹل کی ویڈیوز ایسے بھیج رہے ہیں جیسے یہ کوئی ٹریول ولاگ ہو،آیا یہ رپورٹنگ ہے یا چھٹیوں کی ویڈیوز؟

    کچھ ہی دیر بعد ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے ایکس پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ایرانی صحافی نے رپورٹنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی رپورٹنگ کرتے ہیں، صرف ریلز نہیں بناتے-

    ایرانی قونصلیٹ جنرل ممبئی کے ایکس ہینڈل پر شئیر کی گئی ویڈیو میں اسلام آباد میں قائم جناح کنونشن سینٹر دکھایا گیا تھا جہاں دنیا بھر سے صحافی، تکنیکی عملہ اور دیگر حکام اسلام آباد ٹاک کی کوریج کے لیے موجود ہیں –

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات جاری ہیں، ان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد پہنچے جبکہ ایرانی وفد رات کو ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔