Baaghi TV

Tag: امریکا

  • میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

    میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دستبرداری کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے زیرِ اہتمام دوحہ میں غزہ کے معاملے پر منعقدہ فورم میں کئی ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی حال ہی میں عمان میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے بعد فورم میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایک اچھا آغاز ضرور ہیں تاہم اعتماد سازی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہےحالیہ بات چیت بالواسطہ تھی اور اس میں میزائل یا دیگر دفاعی معاملات شامل زیرِ غور نہیں آئے یورینیم افزودگی پر پابندی ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبو ل نہیں، یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور یہ عمل جاری رہے گا، امریکا بمباری کے ذریعے بھی ایران کی اس صلاحیت کو ختم نہیں کرسکا ہے۔

    عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جوہری معا ملہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے تاہم میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

    امریکی حملے کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں میں فرق کرتا ہے اور پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا جنگ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے اور ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے کی صبح عمان کی ثالثی میں اس کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوا تھا یہ بات چیت چند گھنٹے جاری رہی، اس دوران دونوں فریقین نے اپنے مؤقف عمان کے وزیرِ خارجہ کےذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے دونوں ملکوں کے وفود نے مشا ورت کے لیے ایک دن کا وقفہ لیا ہے عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوسرے دور میں بھی عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

  • ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر بارک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشعل اوباما سے متعلق ایک تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کیے جانے پر امریکا میں شدید ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

    ویڈیو کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ مختصر ویڈیو شیئرکی، جس میں بارک اوباما اورمشعل اوباما کو جنگل میں بندروں کے روپ میں دکھایا گیا ہےویڈیو کے اختتام پر اوباما جوڑے کی اصل تصاویر کو بندروں کے جسموں پر فِٹ کیا گیا، جسے سیاہ فام افراد کے خلاف توہین آمیز اور نسل پرستانہ تصور قرار دیا جا رہا ہے۔

    ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق بے بنیاد الزامات بھی شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابی نتائج چرائے گئے پس منظر میں چند لمحوں کے لیے گانا ’’دی لائن سلیپس ٹونائٹ‘‘ بھی سنائی دیتا ہے۔

    ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں نے ویڈیو کو کھلے الفاظ میں نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے صدرٹرمپ سے فوری طور پر پوسٹ ہٹانے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس سے اس سے زیادہ توہین آمیز مواد انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس تنقید کو ’’جعلی غصہ‘‘ قرار دیتے ہوئے صدر کے اقدام کا دفاع کیا ہے،لیکن ویڈیو کے وائرل ہونے کے 12 گھنٹے بعد اسے حذف کر دیا۔

    جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے عملے کے کسی رکن کی طرف سے پوسٹ کرنے سے پہلے ویڈیو کا آغاز ہی دیکھا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس میں اوباما کی تصویر کشی ہے۔

    متعدد ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے شدید تنقید کے بعد ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے پوسٹ ہٹا دی گئی۔

    جیسے ہی تنقید بڑھ رہی تھی، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اوباما کے کلپ کو ایک منٹ طویل ویڈیو کے آخر میں شامل کیا گیا تھا جس میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے دوران مشی گن میں ووٹنگ کی سازش کے دعوے شامل تھے۔

    ٹرمپ کی اوبامہ پر تنقید کرنے کی ایک تاریخ ہے جو صدر کے طور پر ان کی پہلی مدت سے پہلے کی ہے۔ اس نے باقاعدگی سے یہ جھوٹ پھیلایا کہ ہوائی میں پیدا ہونے والا اوباما دراصل کینیا میں پیدا ہوا تھا اور اس لیے وہ صدر بننے کے لیے نااہل تھا۔

    این اے اے سی پی کے قومی صدر ڈیرک جانسن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو "صاف نسل پرست، نفرت انگیز اور سراسر حقیر ہے۔”

  • تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر  کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ تائیوان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں اہم دفاعی نظام شامل ہیں۔

    چین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فروخت بیجنگ،واشنگٹن تعلقات میں سنجیدہ رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے اپریل میں بیجنگ جانے والے دورے کے تناظر میں،تائیوان کے حوالے سے امریکا کو “احتیاط سے کام لینے” کی ضرورت ہے ورنہ دوطرفہ تعلقات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو فون پر خبردار کیا ہے کہ اسلحے کی فروخت جیسے اقدامات تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں،چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی اسلحے کی فروخت کو اس کی خودمختاری پر برا اثر اور امن کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔

  • سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری  امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما قاسم خان سوری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان دنوں امریکا میں آن لائن ٹیکسی ’اوبر‘ چلا کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔

    قاسم سوری نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اس طرح کا کام کرنا پڑے گاوہ چوری کرنے کے بجائے محنت مزدوری اور ایمانداری کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے وہ امریکا کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے ہیں،وہ عمران خان کے نظریے کے سپاہی ہیں اور ہمیشہ اسی سوچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    قاسم سوری نے اپنے موجودہ حالات کو ملک میں جاری مبینہ ناانصافیوں اور سختیوں کے تناظر میں بیان کیا اور خاص طور پر عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو درپیش قانونی مسائل کا ذکر کیاانہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے جیسے اہم ادارے میں ذمہ دار عہدے پر فائز رہے مگر انہوں نے کبھی وہاں سے ذاتی مال نہیں بنایا، 2018 سے پہلے وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پر عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی جیسی اہم شخصیات کی میزبانی کرتے رہے ہیں اور وہ ہمیشہ سے ایک متوسط طبقے کے ایماندار پاکستانی رہے ہیں۔

  • امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو محدود رکھنے والا آخری اہم معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ 5 فروری کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے میں توسیع یا کسی نئے متبادل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے اب عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےیہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا جس کا مقصد دنیا کو کسی بڑی ایٹمی جنگ سے بچانا تھا اس معاہدے کے تحت امریکا اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ بھی کر سکتے تھے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کوئی دھوکہ نہ دے سکے1991 میں جب پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا تھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی حد 6ہزار رکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ کم کیا گیا۔

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سفارتی ذرائع سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا، تاہم، روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ معاہدے کی کسی پابندی کے پابند نہیں رہے اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اگرچہ دونوں ممالک نے حالیہ سالوں میں ہتھیاروں کی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کیا لیکن اب معاہدہ نہ ہونے سے یہ صورتحال بدل سکتی ہے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق روس کے پاس اس وقت تقریباً 5459 اور امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے سے اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکیں گے جس سے غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے اور دونوں طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم دفاعی معاہدے ختم ہو چکے ہیں جن میں یورپ میں ٹینکوں اور فوج کی تعداد محدود رکھنے کا معاہدہ بھی شامل ہےاب دنیا کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس پر ہیں جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

  • امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار اور ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کی صبح تقریبا دس بجے منعقد ہوں گے امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح کیا کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر ایران اس فارمیٹ میں واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مذاکرات سے باہر دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تہران کے مطابق غیر قابلِ مذاکرہ ہیں ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف متفقہ دائرہ کار کے اندر، نیوکلیئر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی تجویز کیا گیا تھا، جس میں ترکی نے ثالثی کرکے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی عمان پہلے بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرچکا ہے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی فوج کی خلیج فارس میں تعیناتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

    امریکا اور اس کا اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔

  • بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بن گیا

    بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بن گیا

    مریکی حکام کی تحقیقات میں بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارتی کال سینٹرز کے ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارت سے چلنے والے منظم فراڈ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے تین بھارتی کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا، جنہیں مجموعی طور پر 48 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصا ن پہنچا ان کال سینٹرز سے وابستہ افراد خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جعل ساز ای میلز، فون کالز اور جعلی پاپ اپ پیغامات کے ذریعے امریکی شہریوں کو خوفزدہ کر کے رقم وصول کرتے رہے امر یکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے کارروائی کرتے ہوئے فراڈ نیٹ ورک کے چھ سرغنہ گرفتار کر لیے جبکہ بڑی مقدار میں الیکٹرانک سازوسامان بھی ضبط کیا گیا۔

    ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز سے منسلک فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی ہے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا استعمال ریاستی نگرانی کی کمزوری اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق بھارت میں حالیہ منظم سائبر فراڈ کے واقعات کمزور ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں-

  • خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزام

    خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزام

    ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ فسادات کو امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل بغاوت کی ایک منظم کوشش تھی، جسے ایرانی قوم نے ناکام بنا دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ یہ محض الزام نہیں بلکہ شواہد سے ثابت ہے کہ ان واقعات کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک کی گئی امریکی صدر کے بیانات خود اس بات کا ثبوت ہیں، جن میں انہوں نے فسادی عناصر کو آگے بڑھنے اور مدد فراہم کرنے کے اشارے دیےحالیہ فسادات بیرونِ ملک سے کنٹرول کی جانے والی بغاوت کی کوشش تھے، جنہیں ہوا دینے کے لیے سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے تمام وسائل استعمال کیے، تاہم یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جارح طاقتوں کے مفادات سے ٹکرا رہا ہے، اسی لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک دشمن مکمل طور پر مایوس نہ ہو جائےدکانداروں اور تاجروں کے بعض مطالبا ت جائز تھے، مگر فسادی عناصر نے پُرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی تاجروں کو صورتِ حال کا ادراک ہوا، انہوں نے خود کو ان عناصر سے الگ کر لیا ایرانی قوم کی بیداری، اتحاد اور شعور نے اس سازش کو ناکام بنایا اور ثابت کر دیا کہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

  • انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے انکشافات ، بھارتی اسمگلرز کے خلاف امریکی کارروائی

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے انکشافات ، بھارتی اسمگلرز کے خلاف امریکی کارروائی

    دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے واقعات میں بھارتی اسمگلرز کے ملوث ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں-

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک میں ملوث بھارتی شہری شیوم لنو کو امریکی عدالت کی جانب سے سزا سنا دی گئی ہے مذکورہ ملزم درجنوں افراد کو غیرقانونی طور پر امریکا داخل کرانے میں ملوث رہا اور گزشتہ برس کئی غیرقانونی آپریشنز کا حصہ تھا۔

    حکام کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں، بلکہ حالیہ برسوں میں بھارتی شہریوں کی جانب سے غیرقانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کے متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں،بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری امریکا میں غیرقانونی داخلے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرقانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور جعلی دستاویزات کے نیٹ ورکس عالمی سیکیورٹی کے لیے تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں،امریکا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک بھارتی شہریوں کی غیرقانونی سرگرمیوں کے باعث اپنی امیگریشن اور سیکیورٹی پالیسیوں کو مزید سخت کر رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں معاشی دباؤ اور امیگریشن پالیسیوں کی ناکامی کے باعث کئی شہری غیرقانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے میزبان ممالک میں جرائم اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے۔

    انقلاب ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای نے، بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے مزارپر حاضری دی اور دعا کی۔

    سپریم لیڈر نے مزار میں آیت اللہ خمینی کے پوتےحسن خمینی سے ملاقات کی اس دوران سپریم لیڈر نے آیت اللہ خمینی کے مزار کے احاطے میں نماز ادا کی،ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اپنی کابینہ کےساتھ آیت اللہ خمینی کےمزار پر آئے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کا سامنے آنا ان خبروں کی تردید کا ایک پیغام لگتا ہے جو پہلے لیک ہوئی تھیں کہ امریکی حملے کے خوف سے سپریم لیڈر کو زیر زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑی قوت جمع کرنے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

    ’’ وال سٹریٹ جنرل‘‘ نے باخبر امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر اہم آپشنز کا ایک مجموعہ رکھا گیا ہے جو ان کے حتمی فیصلے کا منتظر ہے۔ رکھے گئے آپشنز میں ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنانا، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے پر حملہ کرنا، حکومت کو گرانے کا سبب بننا اور سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانا، یا ان تمام چیزوں کے مجموعے پر عمل کرنا شامل ہے۔