Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور دشمن کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں فعال اور منظم ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا اور اسرائیل کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے علاقوں میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔

    دوسری جانب حالیہ پیش رفت میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • خلیجی ممالک کا امریکی ہتھیاروں پر انحصار  کے بجائے متبادل منڈیوں سے رجوع

    خلیجی ممالک کا امریکی ہتھیاروں پر انحصار کے بجائے متبادل منڈیوں سے رجوع

    سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات اب صرف امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرنے کے بجائے جنوبی کوریا کے میزائل ڈیفنس سسٹمز، یوکرین کے ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیاروں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

    یہ انکشاف امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے رپورٹ کے مطابق ان خلیجی ممالک نے برطانیہ کی بعض دفاعی اسٹارٹ اپ کمپنیوں سے بھی رابطہ کیا ہے جو کم قیمت اور تیز رفتار ردعمل والے اینٹی ڈرون میزائل تیار کر رہی ہیں۔

    خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے جوابی حملوں اور کم قیمت والے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر استعمال نے دفاعی حکمتِ عملی کو کمزور کر دیا ہے، جس کے باعث فوری طور پر نئے اور مؤثر دفاعی نظام کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی دفاعی صنعت پہلے ہی روس-یوکرین جنگ کے بعد شدید دباؤ میں ہے اور پیداوار طلب کے مطابق نہیں بڑھ سکی،امریکی دفاعی صنعت بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے امریکا کی جانب سے خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے تو کیے گئے ہیں، تاہم ان کی ترسیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

    سعودی عرب نے جاپان سے بھی رابطہ کیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کی کمپنیوں سے M-SAM میزائل سسٹم کی جلد فراہمی پر بات چیت جاری ہے یہ سسٹم ڈرونز، میزائل اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے قبل متحدہ عرب امارات اسے استعمال کر چکا ہے۔

    اسی طرح سعودی عرب اور قطر نے یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے بھی کیے ہیں، جن میں ہتھیاروں کی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر بات چیت شامل ہے۔

    یوکرینی حکام کے مطابق خلیجی ممالک نے انٹرسیپٹر ڈرونز اور الیکٹرانک وارفیئر آلات میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم یوکرین خود بھی جنگی حالات کے باعث اپنی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مصروف ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کے پاس متعدد جدید اور مربوط فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، جبکہ سعودی حکام کے مطابق وہ امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی دیگر شراکت داروں سے بھی دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

  • ہارورڈ میں پاکستان کا بڑا ایونٹ،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی

    ہارورڈ میں پاکستان کا بڑا ایونٹ،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی

    امریکا کی معروف درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس 2026 منعقد کی گئی-

    ہارورڈ یونیورسٹی نے 12 اپریل 2026 کو پاکستان کانفرنس-2026 کے عنوان سے ایک بڑے سمپوزیم کی میزبانی کی، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، حنا ربانی کھر، معید یوسف، اسماء شیرازی، حسن شہریار یاسین، اور دیگر کئی شخصیات نے شرکت کی ممتاز غیر ملکی مندوبین میں مائیکل کوگل مین، کرس وان ہولن اور ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز شامل تھےپینل مباحثوں میں معیشت، خارجہ پالیسی، ڈیجیٹل تبدیلی، ثقافت، اختراع، غیر ملکی پاکستانیوں کی تخلیقی شراکت، ہنر، تعلیم، صحت، میڈیا اور بہت سے دیگر موضوعات شامل تھے۔

    700 سے زائد شرکاء، 50 مقررین، اور 17 پینلز کے ساتھ، یہ کانفرنس پاکستان کی رفتار میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہےایران میں امریکہ/اسرائیل جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی ملی پاکستان کی مستقل مزاجی پر مبنی خارجہ پالیسی کو سراہا گیا پینلز نے ہندوستان کی بالادستی کی خارجہ پالیسی کو جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں حقیقی رکاوٹ کے طور پر شناخت کیا۔

    ڈاکٹر معید یوسف نے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کے درمیان علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، بھارت کی بالادستی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی امن کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔

    سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور علاقائی امن کے لیے اس کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ-ایران جنگ بندی کی کوششوں اور بات چیت میں سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستان کی متوازن، عملی اور مستقبل کی طرف نظر آنے والی خارجہ پالیسی کا خاکہ پیش کیا۔

    رضا بکر نے پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کے سیشن کو ماڈریٹ کیا جس میں مقررین پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، ماہر اقتصادیات عاطف میاں اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر درون آسموگلو شامل تھے۔ پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا گیا پینل نے اتفاق کیا کہ مسلسل اصلاحات نے اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی تھی۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے معاشی نقطہ نظر، اصلاحات کی رفتار اور مستقبل میں ترقی کے امکانات کا خاکہ پیش کیا، پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے حالیہ سفارتی فوائد سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کی لچک اور ترقی کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا۔

    امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے پاکستان کی صلاحیت کی تعریف کی اور علاقائی کشیدگی میں ثالثی کے کردار کو سراہا عاطف میاں نے پاکستان کے اقتصادی نقطہ نظر پر سیشن کے دوران ساختی اصلاحات اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیا امجد ثاقب نے انٹرپرائز اور کمیونٹی سے چلنے والی ترقی پر بات چیت کے دوران جامع ترقی اور سماجی اختراع پر زور دیا۔

    پاکستان کانفرنس کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت اور کلیدی ملک قرار دے دیا، کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی بدولت دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں انسانی صلاحیتیں اور نوجوان نسل سب سے بڑی طاقت ہیں۔

    سفیر نے محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے پاکستان کو عالمی محور بننے کی پیشگوئی کی تھی جو آج حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے،پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں کے باعث اسے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ملا، جو عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی، تاہم قوم اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

    رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگاانہوں نے امریکی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

  • کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے نہیں، ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا دفاع ان کا ایک فطری اور قانونی فریضہ ہے، اور اسی بنیاد پر ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی دیا جائے گا۔

    ایرانی افواج کے مطابق دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایران کے قواعد و ضوابط کے مطابق دی جائے گی دشمن کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی، ایران آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے ایک مستقل اور سخت نظام نافذ کرے گا۔

    مسلح افواج نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ سمندری قزاقی کے مترادف ہے اگر ایران کی بندرگاہوں اور سمندری سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی خطے میں بحری راستوں کی حفاظت ایران کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور جو جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

  • آبنائے ہرمز میں  پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے آمنے سامنے آںے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں کو سخت فوجی وارننگ دے کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے گزر گئے۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کی جانب سے نشر کی گئی فوٹیج میں مبینہ طور پر ایرانی بحریہ اور امریکی نیوی کے درمیان ریڈیو پر ہونے والی گفتگو دکھائی گئی ہے اس ویڈیو اور آڈیو میں سمندر میں کشیدہ ماحول کی عکاسی کی گئی، جس میں ایرانی فورسز کی جانب سے بار بار دی گئی وارننگ کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نیوی نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک امریکی میزائل ڈسٹرائر کو فوری طور پر راستہ بدلنے اور بحر ہند کی جانب واپس جانے کا حکم دیا آڈیو میں ایک ایرانی اہلکار کو کہتے سنا گیا کہ آپ کو فوراً اپنا راستہ تبدیل کرنا ہوگا، بصورت دیگر آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے جاری کردہ آڈیو میں امریکی جہاز کی طرف سے محتاط مگر واضح جواب بھی سنائی دیتا ہے، جس میں کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی کارروائی انجام دے رہا ہے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ وارننگ صرف ایک جہاز تک محدود نہیں تھی بلکہ خلیج عمان میں موجود تمام جہازوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ ایرانی جنگی جہازوں سے کم از کم 10 میل کا فاصلہ رکھیں، بصورت دیگر بغیر کسی مزید اطلاع کے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اس دوران بار بار حتمی وارننگ بھی جاری کی اور کہا کہ اگر احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی پاسدارانِ انقلاب نے بعد ازاں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • دنیا کا معمر ترین کبوتر انتقال کر گیا

    دنیا کا معمر ترین کبوتر انتقال کر گیا

    دنیا کے معمر ترین پالتو کبوتروں میں شمار ہونے والا سفید کبوتر ’شوگر‘ 44 سال 72 دن کی عمر میں انتقال کر گیا –

    رپورٹس کے مطابق “شوگر” نامی یہ کبوتر اپنے مالک کے ساتھ کئی دہائیوں تک رہا اور غیر معمولی عمر پانے کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا، عام طور پر کبوتروں اور فاختاؤں کی اوسط عمر تقریباً 20 سال ہوتی ہے تاہم شوگر نے اس سے دگنی سے بھی زیادہ عمر پائی،23 جون 1981 کو امریکا میں پیدا ہونے والا شوگر اپنے 77 سالہ مالک ڈیوین اورینڈر کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتا اور ان کے ساتھ ٹی وی دیکھتا اور موسیقی سنتا تھا۔

    مالک کے مطابق شوگر نہایت خوش اور مطمئن رہتا تھا اور دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی یہاں تک کہ جب ڈیوین اسپتال گئے تو شوگر نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بے چین رہا جبکہ واپسی پر دوبارہ معمول پر آ گیا۔

    شوگر نے قید میں سب سے زیادہ عمر پانے والے کبوتر کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا جبکہ شوگر نے یہ ٹائٹل جرمن فاختہ ‘میتھوسیلا’ سے 15 سال سے زائد کے فرق سے پیچھے چھوڑ دیااگرچہ مالک کی خواہش تھی کہ وہ 50 سال کی عمر تک پہنچے اور اس کے لیے ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے تاہم شوگر ایسٹر کے روز انتقال کر گیا وہ اپنے مالک اور دنیا بھر کے لوگوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا شوگر کی عمر پر سوشل میڈیا صارفین حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں اور مالک کے ساتھ اس کی محبت کو سراہا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسی طرح 2025 میں ماسکو کے چڑیا گھر میں ایک لمبی عمر پانے والا ٹیپر بھی 37 سال کی عمر میں ہلاک ہوا تھا، جبکہ عام طور پر ایسے جانور جنگل میں کم عمر پاتے ہیں۔

  • امریکا کی بحری راستے پر پابندی لگانے کی دھمکی،ایران نے جواب میں کا پچیدہ ایکویشن شئیر کر دی

    امریکا کی بحری راستے پر پابندی لگانے کی دھمکی،ایران نے جواب میں کا پچیدہ ایکویشن شئیر کر دی

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سمندری راستوں پر پابندی لگانے کی امریکی دھمکی خود امریکا کے لیے مہنگی پڑ سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے سے متعلق امریکی انتباہ پر کہا کہ یہ اقدام الٹا امریکی عوام کے لیے معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب پیٹرول کی قیمتوں کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور خبردار کیا کہ موجودہ قیمتیں جلد ہی لوگوں کو سستی محسوس ہونے لگیں گی موجودہ پیٹرول کی قیمتوں سے لطف اٹھائیں، اور خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکی عوام جلد ہی فی گیلن 4 سے 5 ڈالر کی قیمتوں کو یاد کریں گے۔

    قالیباف نے اپنے پیغام میں ایک پیچیدہ ایکویشن بھی شیئر کی ”O_BSOH > 0 f(f(O)) > f(O)“ جسے سوشل میڈیا صارفین نے ان کے انجینئرنگ پس منظر کی عکاسی کرنے والا طنزیہ انداز قرار دیا اس میں ’BSOH‘ سے مراد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے، جبکہ ’O_BSOH > 0‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناکہ بندی کے اثرات میں اضافہ تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالے گا۔

    یہ ایکویشن اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی ابتدائی دھچکے پر عالمی منڈی کا ردعمل (f(O)) بعد کے اثرات (f(f(O))) کے ذریعے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ممکن ہےسادہ الفاظ میں آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھانے سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ اس کے اثرات تسلسل کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں کو موجودہ سطح 4 سے 5 ڈالر فی گیلن سے کہیں زیادہ لے جا سکتے ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان بالخصوص اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ گزشتہ 47 سالوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان انتہائی اہم مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی،جب ہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے، تو ہمیں حد سے بڑھے ہوئے مطالبات، بدلتے ہوئے مؤقف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

    عباس عراقچی نے امریکا کے لیے طنزیہ کہا کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔