Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار  کیا ہے،ایرانی میڈیا

    امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے،ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے-

    ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اہم ایرانی قیادت کو ہدف بنانے، بڑے شہروں اور ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے، اور ممکنہ زمینی و محدود ایٹمی کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ ایران کے شمال مغر ب سے 4 ہزار افراد پر مشتمل اپوزیشن فورسز کے ساتھ زمینی حملہ کیا جائے گا، ایران کے جنوب مشرق سے 2 ہزار 500 امریکی فوجی داخل ہوں گے، فوجی اتا رنے کے لیے بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جائے گا میزائل حملوں کے لیے 5 سے 15 فوجیوں پر مشتمل جنگی یونٹس پیرا شوٹ کے ذریعے شہری اور ایٹمی تنصیبات میں اتارے جائیں گے بعض فوجی اور ایٹمی مقامات پر محدود ایٹمی حملوں کی تیاری بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں جاری جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہ۔ اتوار کو بھی ایرانی شہروں پر بمباری جاری رہی اور اسرائیلی فوج نے ایران سے فائر کیے گئے راکٹوں کا سراغ لگایا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں ہفتوں طویل زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام ضروری آپشنز فراہم کرنے کی تیاری میں ہے، امریکی انتظامیہ نے ایرانی جزیرے خارگ پر کنٹرول اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقو ں پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا ہے۔

    اخبار کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے پینٹاگون کی تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے تاہم ایک امریکی ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ زمینی کارروائی کی مدت دو ماہ ہو سکتی ہے امریکی منصوبوں میں سپیشل آپریشنز اور روایتی پیادہ فوج کے حملے شامل ہو سکتے ہیں، ایران میں جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی میرینز تعینات کر دیے گئے ہیں، اور امریکی فوج کی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے دعوؤں پر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی صدر قریب الوقوع امن کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونے سے لیا جاتا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معقول قرار دینے اور مذاکرات کے قریب ہونے کے بیانات کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، یہ امریکی پالیسی، خصوصاً ٹرمپ کے دور میں، ایک مخصوص طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایرانی حکام اس وقت اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ زمینی حملے کے خدشے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کے بیانات کا مرکز بھی زیادہ تر ایران کی دفاعی تیاریوں اور زمینی جنگ کے لیے آمادگی پر ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بجائے یہی صورتحال زیادہ متوقع ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل جائے گی،صورتحال ٹرمپ کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی کانگریس نے بھی تاحال اس جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔

    ایرانی حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ ایک براہِ راست اور برابر کی لڑائی ہوگی ایران کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور بڑی تعداد میں بسیج نیم فوجی فورس موجود ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، ایسی کسی بھی زمینی جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ اسے امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ کے لیے سیا سی طور پر نقصان دہ بھی بنا دے گا۔

  • عراق میں امریکی ملٹری بیس پر راکٹ حملہ، عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو آگ لگ گئی

    عراق میں امریکی ملٹری بیس پر راکٹ حملہ، عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو آگ لگ گئی

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹ فائر کے زور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں-

    الجزیرہ کے مطابق یہ راکٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال وکٹری بیس کو نشانہ بنا کر داغے گئے، جو بغداد سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے فضائی دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایک ’اے 32 بی‘ عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا یہ پہلا موقع ہے کہ وکٹری بیس کو اس طرح براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس وقت اس اڈے پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھے کیونکہ امریکا پہلے ہی اس فوجی تنصیب کو خالی کر چکا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ حملہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ عراق پر امریکی حملے کے عروج کے دوران یہی علاقہ ملک کا سب سے محفوظ اور سخت سیکیورٹی والا مقام سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسی جگہ پر حملہ ہونا سیکیورٹی صورتحال میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

    دوسری جانب کرد خودمختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں بھی ایک ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جہاں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہاں موجود فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو بروقت تباہ کر دیا۔

  • ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ثابت ہوگی۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکیں تاہم ماہرین کے مطا بق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔

    رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ لاکھوں مقامی فورسز بھی موجود تھیں، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا اسی طرح افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکے۔

    تجزیہ کار کے مطابق ایران کا رقبہ اور آبادی دونوں بہت بڑے ہیں، اور وہاں کی فوجی طاقت بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں ایسے میں کسی بھی زمینی جنگ کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہم اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم جزائر پر کنٹرول، تاہم بعد میں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دے گا۔

    برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

  • ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ایک امریکی سرویلنس طیارہ تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں امریکی ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارہ کو نشانہ بنایا گیا یہ طیارہ جدید ریڈار سسٹمز سے لیس ہوتا ہے اور سیکڑوں میل دور تک دشمن طیاروں اور ڈرونز کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی انوینٹری میں کل 16 AWACS ہیں۔ جن میں سے 1 یا ممکنہ طور پر 2 تباہ ہو چکے ہیں، امریکی فوج میں فی الحال کوئی دوسرا AWACS نہیں ہے، اس کا متبادل E7A ابھی بھی آرڈرز پر ہے ابھی تک ڈیلیور نہیں ہوا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ فضائی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور بروقت معلومات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،سابق امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ای تھری طیارے کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے خلیج فارس کے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات جاری کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    تاہم اس واقعے سے متعلق ابھی تک امریکی یا سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اور ماہرین اس خبر کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

  • ایران اور امریکا  کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر ایران غور کر رہا ہے-

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 15 نکات شیئر کیے ہیں، جن پر تہران غور کر رہا ہے،اس عمل میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب پیغامات کی ترسیل جاری ہے، مصر، ترکی اور دیگر مما لک بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اسحاق ڈار نے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سفارتی سطح پر پیشرفت جاری ہے، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے موجودہ صورتحال میں مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں امریکی اور ایرانی حکام سمیت دیگر عالمی شخصیات کو بھی مخاطب کیا، جن میں عباس عراقچی، مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکاف شامل ہیں۔

  • ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے انہوں نے (ایران نے) کہا آپ سپریم لیڈر بن جائیں، میں نے کہا ’نو تھینک یو‘ (معذرت)“۔

    ٹرمپ کے مطابق کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ایران کے خلاف کارروائیوں کو اس ملک کی ’مکمل تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے، ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں،ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ نہیں کرے گا۔

  • ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ایف ایٹین لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے خبررساں ادارے آر ٹی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے،اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے-

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس قسم کے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس میں غلط یا غیر مصدقہ ویڈیوز اور خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ معلوماتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں دونوں فریق اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی ہے-

    53 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذ ہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے، ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے،ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقا می قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔

    اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہےاس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔

    ویڈیو میں جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہےیہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہوگئے تھےویڈیو کے آخر میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

  • ایران نے اسرائیل اورامریکا پر  400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران نے اسرائیل اورامریکا پر 400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے،کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد 2 سو تک پہنچ گئی ہے ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی، یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھاایران نے 40 منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ 20 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

    اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا،لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔