Baaghi TV

Tag: ایران

  • مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کے خواہاں نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق اس سے پورے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بہت زیادہ پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں ممالک فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز سے گریز چاہتے ہیں واشنگٹن کو یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے’ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔

    وینس نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، جس میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی مقصد کے تحت ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ضروری سمجھا جا رہا ہے، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک پر امریکا کے ساتھ تعاون کرے جس کے ذریعے مستقبل میں تہران دوبارہ اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بحال نہ کر سکے،ہم مذاکرات کے ذریعے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری  جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 روز بعد امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے، 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا،پینسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چند ری پبلیکن ارکان نے اس کی حمایت کی۔

    اس پیشرفت کو ان قانون سازوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ چھیڑنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے، اگرچہ یہ صرف ابتدائی منظوری ہے، تاہم قرارداد کو مکمل قانون بننے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظوری درکار ہوگی جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے 2 تہائی اکثریت بھی ضروری ہوگی۔

    قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کانگریس کے سامنے رکھیں صدر کو ایران کی جانب سے امن تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں قانون سازوں سے شیئر نہیں کر رہے۔

    1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، کیونکہ امریکی آئین جنگ کا اختیار صرف کانگریس کو دیتا ہے۔

  • صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار

    صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار

    تہران پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ تہران پولیس نے دارالحکومت کے مغربی اور شمالی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر صحافیوں کے بھیس میں جاسوسی کر رہے تھے ان افراد پر الزام ہے کہ وہ حساس فوجی اور انٹیلی جنس مراکز سے متعلق خفیہ معلومات اکٹھی کر کے ایران مخالف نیٹ ورکس کو منتقل کر رہے تھے۔

    تسنیم کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گرفتار افراد نے بیرونِ ملک رابطے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے روابط قائم کیے تھے، کاررو ا ئی کے دوران اسٹارلنک کا ایک ریسیور بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لیا گیا ان افراد کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ معاون نیٹ ورکس کی شناخت کے لیے تکنیکی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ معاملے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

    تسنیم کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ایرانی پولیس نے 13 ہزار ڈالر کی رشوت مسترد کرتے ہوئے دماوند میں 3 سٹار لنک ڈیوائسز ضبط کر لیں یہ علاقہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 66 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے دماوند میں پولیس نے انٹیلی جینس معلومات پر ایک رہائشی عمارت پر چھاپہ مارا اور تین غیر قانونی اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز برآمد کرلیں اس موقع پر افسران کو 13 ہزار ڈالرز کی رشوت کی پیشکش بھی گئی تاہم افسران نے اسے مسترد کردیا۔

  • کسی بھی نئی  جارحیت کی صورت میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

    کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

    ایران کی اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ نے امریکا اور اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی غلطی یا جارحیت کی صورت میں انہیں ایران کے سخت ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف غلط اندازے لگانے اور غلط فہمیوں کو دور کرلیں، ایران اور اس کی مسلح افواج پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیار، مضبوط اور ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں،اگر ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، فیصلہ کُن اور وسیع ہوگا۔

    میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکا اور صہیونی فوج ماضی میں کئی بار ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کا امتحان لے چکے ہیں، تاہم ایران نے اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ دکھایا ہے،یران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اگر دشمن نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا اور اپنے دفاع میں جارح کا ہاتھ کاٹنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

  • ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی نے تہران روانگی سے قبل ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے تجارت، علاقائی روابط، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت سفارتی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی رابطہ اور باہمی اعتماد انتہائی اہم ہے،انہوں نے خطے میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو بھی اجاگر کیا اور امید ظاہر کی کہ نامزد سفیر عمران احمد صدیقی پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے،نائب وزیر اعظم نے انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

  • ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام  کا منصوبہ

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    ایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قتل پر 5 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 5 کروڑ 82 لاکھ ڈالر انعام مقرر کرنے کا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ کمیٹی ایک بل تیار کر رہی ہے جس کا عنوان اسلامی جمہوریہ کی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی رکھا گیا ہے۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فرد یا گروہ کو 5 کروڑ یورو ادا کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جان سے مارے گاایرانی پارلیمنٹ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اس بل پر ووٹنگ کرے گی ان حملوں میں ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔

    ابراہیم عزیزی نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں مبینہ کردار پر جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جانا چاہیے،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اور رکن محمود نباوین نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ جلد ایسے انعام کی منظوری پر ووٹ کرے گی جو اُس شخص یا گروہ کو دیا جائے گا جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جہنم واصل کرے۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ایران کے حامی میڈیا ادارے مساف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ”کِل ٹرمپ“ مہم کے لیے 5 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل مختص کر دیے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری حمایت یافتہ سائبر وارفیئر گروپ ہندالہ نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ظلم اور کرپشن کے بنیادی معمارو ں، یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے 5 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، یہ رقم اُس فرد یا تنظیم کو دی جائے گی جو دونوں رہنماؤں کے خلاف عملی کارر وائی کرے گا، یہ اقدام امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ہندالہ گروپ کے ارکان کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے مجوزہ انعامی قانون ماضی کی دھمکیوں، مذہبی فتوؤں اور پروپیگنڈا مہمات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین پیش رفت ہے، جو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جبکہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا انتہائی سخت احکامات جاری کرے گا اور ایران کو “زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

  • ایران قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

    ایران قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ہمیشہ وقار، خودمختاری اور قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوتا ہے اور کسی بھی صورت عوام اور ملک کے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا،ایرانی قیادت پوری طاقت اور عزم کے ساتھ آخری دم تک عوام کی خدمت جاری رکھے گی جبکہ ایران کے مفادات اور قومی وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو انہوں نے فوج کو ایک سیکنڈ کے نوٹس پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے، تاہم اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ڈیل ہونے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مشرق وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو کارروائی مؤخر کرنے کا حکم دیا، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی قیادت نے اپیل کی کہ ایران کو سفارتی راستہ دینے کی کوشش کی جائے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور کارروائی کل بھی ہوسکتی تھی، تاہم انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ طے پانے کا اچھا موقع موجود ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے قابل قبول ہوگا ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین اور عسکری قیادت کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔ ان کے بقول اگر ایسی ڈیل طے پا جاتی ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے تو امریکا مطمئن ہوسکتا ہے ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہوچکی ہے اور اب وہاں تیسرے درجے کی قیادت باقی رہ گئی ہے، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔

    ٹرمپ نے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی اور امریکی میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ اگر ایران کی پوری فوج ہتھیار ڈال دے، تمام فوجی سرنڈر کردیں اور ایرانی قیادت باضابطہ طور پر شکست تسلیم کرتے ہوئے سرنڈر دستاویزات پر دستخط بھی کردے، تب بھی امریکی میڈیا ایران کی شاندار فتح کی ہی سرخیاں لگا ئے گا صدر ٹرمپ نے خاص طور پر دی وال اسٹریٹ جرنل، دی نیویارک ٹائمز اور سی این این کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جعلی میڈیا قرار دیا،کہا کہ امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹس مکمل طور پر حواس باختہ ہوچکے ہیں اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • ایرانی میڈیا نے امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات کی فہرست جاری کر دی

    ایرانی میڈیا نے امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات کی فہرست جاری کر دی

    ایران کی خبر ایجنسی نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق اہم تفصیلات اور دونوں ممالک کے مطالبات کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے مذاکرات کیلئے کئی سخت شرائط پیش کی ہیں، جن میں ایران کو کسی قسم کا ہرجانہ یا جنگی معاوضہ نہ دینے کی شرط بھی شامل ہے امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرے اس کے علاوہ امریکا نے تجویز دی ہے کہ ایران کو صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے کی اجازت دی جائے امریکی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کیے جائیں، جبکہ جنگ بندی کو بھی مستقبل کے مذاکرا ت سے مشروط رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی بنیادی شرط ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونی چاہیے ایران نے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، بیرون ملک منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے ایرانی مؤقف میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے، جسے خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور امن کے امکانات بھی انہی بات چیت پر منحصر ہیں۔

  • یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز  میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    ایران نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے تہران سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزارنے کے معاملے پر تہران سے رابطے میں ہیں مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد اطلاعا ت ملی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسد ارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہوسکے-

    تاہم ایرانی میڈیا نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے،ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کردیا تھا، اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم تہران اب بھی آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق اس گزرگاہ پر کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ایران کو اہم سفارتی اور معاشی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے، جبکہ دوسری جا نب امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے،امن کے دنوں میں آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدر تی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دیگر اہم تجارتی سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جن میں چینی جہاز بھی شامل تھےیہ اجازت ”آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول“ پر معاہدے کے بعد دی گئی، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک ”جنگ سے پہلے والی صورتحال“ میں واپس نہیں جائے گی، گزشتہ ماہ تہران نے اس راستے سے حاصل ہونے وا لی فیس کی پہلی آمدن موصول ہونے کا بھی اعلان کیا تھا۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کیلئے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کرلیا ہے، جسے جلد متعارف کرایا جائے گا، اس نئے نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک یا فریقین ہی سہولت حاصل کرسکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کیلئے باقاعدہ فیس بھی وصول کی جائے گی، نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کیلئے یہ راستہ بند رہے گا، ایران اس اصطلاح کو امریکی فوجی آپریشن کیلئے استعمال کرتا ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا۔

  • ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

    اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے، ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

    اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا، میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

    امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے-