Baaghi TV

Tag: ایران

  • یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز  میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    ایران نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے تہران سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزارنے کے معاملے پر تہران سے رابطے میں ہیں مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد اطلاعا ت ملی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسد ارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہوسکے-

    تاہم ایرانی میڈیا نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے،ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کردیا تھا، اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم تہران اب بھی آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق اس گزرگاہ پر کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ایران کو اہم سفارتی اور معاشی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے، جبکہ دوسری جا نب امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے،امن کے دنوں میں آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدر تی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دیگر اہم تجارتی سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جن میں چینی جہاز بھی شامل تھےیہ اجازت ”آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول“ پر معاہدے کے بعد دی گئی، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک ”جنگ سے پہلے والی صورتحال“ میں واپس نہیں جائے گی، گزشتہ ماہ تہران نے اس راستے سے حاصل ہونے وا لی فیس کی پہلی آمدن موصول ہونے کا بھی اعلان کیا تھا۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کیلئے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کرلیا ہے، جسے جلد متعارف کرایا جائے گا، اس نئے نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک یا فریقین ہی سہولت حاصل کرسکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کیلئے باقاعدہ فیس بھی وصول کی جائے گی، نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کیلئے یہ راستہ بند رہے گا، ایران اس اصطلاح کو امریکی فوجی آپریشن کیلئے استعمال کرتا ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا۔

  • ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

    اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے، ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

    اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا، میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

    امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے-

  • امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے  نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور اگلے ہفتے حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے دو نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور حملے جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر ’زیادہ شدید فضائی حملے‘ شامل ہیں، جبکہ ایک آپشن ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کی کارروائی بھی بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیے گئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو ’بیکار‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو ’انتہائی کمزور‘ کہا۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا پر اعتماد کی کوئی وجہ نہیں، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ شدید متاثر ہو رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تیل کی قلت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

  • ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر  شئیر کردی

    ایرانی صدر نے ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر شئیر کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےایران میں موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    مسعود پزشکیان نے درخت کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "سرو” کا یہ درخت ساڑھے 4 ہزار سال پرانا ہے اور ایشیا کا قدیم ترین جاندار ہے یہ اس دھرتی پر ہے جب ساڑھے 4 ہزار سال پہلے بھی ایران کے نام سے جانی جاتی تھی۔

    واضح رہے امریکی صدر کے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ کا دورہ کروایا تھا اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے باغ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے۔’

    دوسری جانب ایرانی صدر کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ کیا جارہا ہےسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان نے ساڑھے چارہزار سال پرانے درخت کی تصویر اس لیے بھی شئیرکی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تہذیب اجاڑنے کی دھمکی دی تھی۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نیا میکینزم تیار کر لیا،میکینزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائے گی ، یہ راستہ نام نہاد ‘فریڈم پروجیکٹ’ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے ، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا، اس سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے نہ ہونے کی ٹھو س ضمانت کے بغیر باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی،

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکا کے قرض میں اضافہ ہوگا اور مارگیج کی شرح بڑھے گی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم امریکا کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات کی پختہ ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے ماضی میں جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران امریکا دو مرتبہ ایران پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں اگر سنجیدہ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا گیا تو ایران سفارتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہوگا۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار، امریکی رکنِ کانگریس  کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار، امریکی رکنِ کانگریس کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں پاکستان کے اہم کردار پر امریکی رکنِ کانگریس جیک برگمین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام ایک تعریفی خط ارسال کیا ہے۔

    کانگریشنل پاکستان کاکس کی جانب سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے گہرے تشکر اور مستقل قدردانی کا اظہار کیا گیا ہے،کانگریشنل پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین جیک برگمین نے اپنے خط میں کہاکہ پاکستان کا امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک مؤثر اور بصیرت پر مبنی سفارتی اقدام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جاری امن کوششوں میں پاکستانی قیادت کی رہنمائی قابلِ ستائش ہے پاکستان اور امریکا کے تعلقات طویل المدتی اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس پہلے ہی پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کا اعتراف کر چکے ہیں وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ پاک امریکا اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کے لے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہےوزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنگ بندی کی تھی، جو اب تک برقرار ہے، اور صدر ٹرمپ کئی بار اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے کہنے پر جنگ بندی کی۔

  • برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری ’برکس‘ وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارا ت کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا، انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں، ہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

    تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانا ئی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنیٰ کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان  ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے،دفتر خارجہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے،دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہےپاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو ورلڈ اربن فورم کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

    ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و استحکام اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا، پاکستان نے خطے میں ڈی اسکیلیشن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مختلف فریقین سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کردار بھی شامل ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ 8 مئی کو نائب وزیراعظم نے سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں پاکستانی اور ایرانی بحری عملے کی واپسی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا 11 مئی کو سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو میں بھی خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئےسعودی عرب نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کی حمایت کا اظہار کیا اسی طرح 12 مئی کو آسٹریا کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی سہولت کاری کی کوششو ں کو سراہا گیا۔

    دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، بحری سلامتی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔

  • ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

    برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جار ہی ہیں ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہےیہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا،دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    ایرانی نژاد اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    ایرانی نژاد اداکارہ اور ماڈل مندانا کریمی نے موجودہ ایران امریکا کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت چھوڑنے کا اعلان کیا مندانا کریمی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تقریباً 16 برس بھارت میں گزارنے کے بعد اب اپنے دوسرے گھر کو الوداع کہنے کا فیصلہ کر رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور ایران کی صورتحال نے انہیں جذباتی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بالی وڈ اداکارہ نے 18 برس کی عمر میں ایران چھوڑا تھا اور وہ اداکاری کی غرض سے ہندوستان آگئی تھیں لیکن اب امریکا ایران حالیہ تنازع اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اداکارہ نے بھارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انسٹاگرام اسٹوری پر حالیہ سوال و جواب کے سیشن کے دوران ایک مداح نے اداکارہ سے ممبئی چھوڑ کر جانے کا سوال کیا جس پر مندانا نے جواب دیا ‘میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں بھارت کو یوں الوداع کہوں گی یہ یقیناً مشکل ہوگا لیکن ہندوستان میں تقریباً 16 سال گزارنے کے بعد، آخر کار میں اپنا دوسرا گھر (بھارت) چھوڑ کر جا رہی ہوں، اب سب کچھ نیا ہوگا، یہ ایک نئی شروعات ہے’۔

    البتہ مندانا کریمی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ بھارت چھوڑ کر کہاں جارہی ہیں۔

    انہوں نے اپنے پیغام میں مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے انہیں شہرت، محبت اور نئی شناخت دی تاہم موجودہ حالات کے باعث انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہےمیرا بیگ تیار ہے اور میں بھارت سے جانے کی تیاری کررہی ہوں، اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ممبئی میں احتجاج میں حصہ لینے کے بعد اپنے بہت سے دوستوں کو کھو دیا ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ بھارت نے مجھے دھوکہ دیا ہےمیں 16 سال تک یہاں رہی ہوں، میں نے ممبئی میں خود کو کبھی اتنا اکیلا محسوس نہیں کیا جتنا ان دو مہینوں کے دوران کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق مارچ میں مندانا کریمی نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ 10 سال قبل ان پر ایران میں پابندی عائد کردی گئی تھی، لہٰذا وہ وہاں واپس نہیں جا سکتیں، وہ بھارت سے مایوس ہیں’مجھے ہندوستان میں کسی قسم کی سپورٹ نہیں ملی اور اچانک جب آیت اللہ خامنہ ای کا انتقال ہوگیا، ہندوستان میں سب کی رائے ہے، ہر کوئی سڑکوں پر ہے اور وہ حقیقت میں خامنہ ای کے لیے ماتم کر سکتے ہیں، جو میں نہیں کر سکی’۔

    اداکارہ نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر میں ایک جگہ پھنس کر رہ گئی ہوں اور میرے قریب ترین دوستوں میں سے کسی کے پاس میرا پتہ نہیں ہے، اور پھر بھی میں میڈیا سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ ایرانیوں کی آواز کو بلند کرسکوں میں پچھلے 6 سالوں سے فلموں میں اداکاری نہیں کر رہی، یہ میرا فیصلہ تھا کہ میں فلموں میں کام کرنا چھوڑ دوں، میں جانتی ہوں کہ میرے ملک (ایران) میں کیا ہو رہا ہے، میری پیدائش اور پرورش وہیں ہوئی، میں 18 سال تک ایران میں قیام پذیر تھی’۔