پاکستان نے اپنی علاقائی تجارت کو وسعت دینےکے لیے پاک ایران سرحد پر واقع ’گبد بارڈر ٹرمینل‘ کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت فعال کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب پاکستان، افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکے گا، جو کہ نہ صرف ایک مختصر راستہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ اور جدید متبادل بھی ہے اس نئے تجارتی راستے کے زریعے کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے کسٹمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے را ستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔
یہ تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کی جانب سے فعال کی گئی ہے جو اس سے قبل بھی چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک متعدد تجارتی راہداریاں فعال کر چکی ہے گبد بارڈر کا فعال ہونا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو متبادل راستوں کی شدید ضرورت تھی۔
گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بار بار سرحد کی بندش کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھاافغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات رک گئی تھیں، جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے صرف 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مستقبل میں علاقائی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہمیشہ سے ایک مضبوط غیر رسمی تجارت پہلے سے ہی جاری ہے حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو آسان بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں بھی عارضی نرمی کی ہےعام طور پر برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھیں، لیکن ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بعض اشیا بشمول خوراک، ادویات اور خیموں کی برآمد پر یہ شرط جون 2026 تک ختم کر دی گئی ہے اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کرنا ہے تاکہ تاجر جلد از جلد اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔
ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔مالی سال 2025 کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات (26 فیصد) سے بھی زیادہ ہے اسی اہمیت کے پیشِ نظر ایران کے ذریعے متبادل راستہ بنانا پاکستان کی معاشی ضرورت بن گیا تھا۔
